🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3049
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، حُجِّي عَنْ أَبِيكِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس وقت سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہو چکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کیا وہ ادا ہوجائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اپنے والد کی طرف سے تم حج کر سکتی ہو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3049]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، محمد بن مصعب متابع، خ: 4399
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3050
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ، وَقَالَ:" إِنَّ لَهُ دَسَمًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ ”اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3050]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، محمد بن مصعب متابع، خ: 211، م: 358
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3051
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ، فَقَالَ:" أَلَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِجِلْدِهَا؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ. قَالَ:" إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھا لیا؟“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ مردہ ہے، فرمایا: ”اس کا صرف کھانا حرام ہے (باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہو سکتی ہے)۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3051]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1492، م: 363
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3052
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوران سفر) حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3052]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1837
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3053
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ ضُبَاعَةَ أَنْ تَشْتَرِطَ فِي إِحْرَامِهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعہ کو حکم دیا کہ ”اپنے احرام میں شرط لگا لے۔“ فائدہ: وضاحت کے لئے حدیث نمبر 3117 دیکھئے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3053]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الراوي عن ابن عباس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3054
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ بَعْضِ إِخْوَانِهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ رَجُلًا قَدِمَ عَلَيْنَا يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ. فَقَالَ: دُلُّونِي عَلَيْهِ. وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ عَمِيَ، قَالُوا: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ يَا أَبَا عَبَّاسٍ؟، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَئِنْ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ، لَأَعَضَّنَّ أَنْفَهُ حَتَّى أَقْطَعَهُ، وَلَئِنْ وَقَعَتْ رَقَبَتُهُ فِي يَدَيَّ، لَأَدُقَّنَّهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" كَأَنِّي بِنِسَاءِ بَنِي فِهْرٍ يَطُفْنَ بِالْخَزْرَجِ تَصْطَكُّ أَلْيَاتُهُنَّ مُشْرِكَاتٍ" هَذَا أَوَّلُ شِرْكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَنْتَهِيَنَّ بِهِمْ سُوءُ رَأْيِهِمْ حَتَّى يُخْرِجُوا اللَّهَ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ خَيْرًا، كَمَا أَخْرَجُوهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ شَرًّا.
محمد بن عبید مکی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لوگوں نے عرض کیا: ہمارے یہاں آج کل ایک آدمی آیا ہوا ہے جو تقدیر کا انکار کرتا ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے اس کا پتہ تھا، اس وقت تک سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی جا چکی تھی، لوگوں نے پوچھا کہ اے ابوالعباس! آپ اس کا کیا کریں گے؟ فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! اگر مجھے اس پر قدرت مل گئی تو میں اس کی ناک کاٹ دوں گا، اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آ گئی تو اسے توڑ دوں گا، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”میں اس وقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں جب بنو فہر کی مشرک عورتیں خزرج کے لوگوں کے ساتھ طواف کریں گی اور ان کی سرین حرکت کرتے ہوں گے، یہ اس امت میں شرک کا آغاز ہوگا، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ان لوگوں تک ان کی رائے کی برائی پہنچ کر رہے گی یہاں تک کہ اللہ انہیں اس کیفیت سے نکال دے گا جس میں وہ خیر کا فیصلہ کرتا ہے، جیسے انہیں اس کیفیت سے نکالا تھا جس میں وہ شر کا فیصلہ کرتا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3054]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف محمد بن عبيد المكي، ثم هو لم يرو عن ابن عباس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3055
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِيَ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَكِّيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ. قُلْتُ: أَدْرَكَ مُحَمَّدٌ ابْنَ عَبَّاسٍ؟، قَالَ: نَعَمْ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3055]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3056
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ إِنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَهُ جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَصَابَهُ احْتِلَامٌ، فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ، فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" قَتَلُوهُ قَتَلَهُمْ اللَّهُ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءَ الْعِيِّ السُّؤَالُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عہد نبوت میں ایک آدمی کو کوئی زخم لگ گیا، اتفاق سے اسے خواب بھی آ گیا، لوگوں نے اسے غسل کرنے کا حکم دے دیا، جس کی وجہ سے وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو فرمایا: ”انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں قتل کرے، کیا جہالت کا علاج ”پوچھنا“ نہ تھا؟“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3056]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وفي إسناده انقطاع بين الأوزاعي و بين عطاء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3057
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ عَلَى دَابَّتِهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا، كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا، وَسَبَّحَ اللَّهَ ثَلَاثًا، وَهَلَّلَ اللَّهَ وَاحِدَةً، ثُمَّ اسْتَلْقَى عَلَيْهِ، فَضَحِكَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ:" مَا مِنَ امْرِئٍ يَرْكَبُ دَابَّتَهُ، فَيَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ، إِلَّا أَقْبَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَضَحِكَ إِلَيْهِ، كَمَا ضَحِكْتُ إِلَيْكَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا، اور جب اس پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو تین مرتبہ اللہ اکبر، تین مرتبہ الحمدللہ، تین مرتبہ سبحان اللہ اور ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ کہا، پھر چت لیٹ گئے اور ہنسنے لگے، پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”جو شخص بھی اپنی سواری پر سوار ہو کر اسی طرح کرے جیسے میں نے کیا تو اللہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اس کی طرف اسی طرح مسکرا کر دیکھتا ہے جیسے میں نے تمہیں مسکرا کر دیکھا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3057]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أبوبكر بن عبدالله ضعيف، وعلي بن أبى طلحة لم يدرك ابن عباس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3058
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ: سُئِلَ الزُّهْرِيُّ هَلْ فِي الْجُمُعَةِ غُسْلٌ وَاجِبٌ؟ فَقَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ، فَلْيَغْتَسِلْ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ وَقَالَ طَاوُسٌ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : ذَكَرُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ، وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا، وَأَصِيبُوا مِنَ الطِّيبِ" فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَمَّا الْغُسْلُ، فَنَعَمْ، وَأَمَّا الطِّيبُ، فَلَا أَدْرِي.
امام زہری رحمہ اللہ سے کسی شخص نے پوچھا: کیا جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے؟ انہوں نے اپنی سند سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث سنائی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”تم میں سے جو شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہیے کہ غسل کر لے۔“ اور طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم اگرچہ حالت جنابت میں نہ ہو پھر بھی جمعہ کے دن غسل کیا کرو اور اپنا سر دھویا کرو اور خوشبو لگایا کرو“؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ خوشبو کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ غسل کی بات صحیح ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3058]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 884
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں