مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2461
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ:" دَخَلْنَا بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْنَا فِيهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، فَذَكَرْنَا الْوُضُوءَ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْكُلُ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ" , فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا: أَنْتَ رَأَيْتَهُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ، فَقَالَ: بَصُرَ عَيْنَيَّ.
محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو وہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مل گئے۔ چنانچہ ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آگ پر پکے ہوئے کھانے کے بعد وضو کا حکم دریافت کیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، ہم میں سے کسی نے پوچھا کہ واقعی آپ نے یہ دیکھا ہے؟ انہوں نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کی طرف اٹھایا - اس وقت وہ نابینا ہوچکے تھے - اور فرمایا کہ میں نے اپنی ان دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2461]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن، م: 354 ،359
حدیث نمبر: 2462
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسُوقُ غَنَمًا لَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا لِيَتَعَوَّذَ مِنْكُمْ، فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ، وَأَخَذُوا غَنَمَهُ، فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا سورة النساء آية 94 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا، اس نے انہیں سلام کیا، وہ کہنے لگے کہ اس نے ہمیں سلام اس لئے کیا ہے تاکہ اپنی جان بچا لے، یہ کہہ کر وہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر دیا، اور اس کی بکریاں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا . . . . .﴾ [النساء: 94] » ”ایمان والو! جب تم اللہ کے راستے میں نکلو تو خوب چھان بین کر لو اور جو تمہیں سلام پیش کرے اسے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں . . . . .۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2462]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2463
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ سورة آل عمران آية 110 , قَالَ:" هُمْ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ" , قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ « ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ . . . . .﴾ [آل عمران: 110] » والی آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2463]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 2464
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ , سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" لَمْ يَنْزِلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ عَرَفَاتٍ وَجَمْعٍ إِلَّا لِيُهَرِيقَ الْمَاءَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات اور مزدلفہ کے درمیان صرف اس لئے منزل کی تھی تاکہ پانی بہا سکیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2464]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن ابن عباس
حدیث نمبر: 2465
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا , وَسَبْعًا جَمِيعًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں، اور (مغرب و عشا کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2465]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 562، م: 705
حدیث نمبر: 2466
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَهْدَى فِي بُدْنِهِ بَعِيرًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ، فِي أَنْفِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سو) اونٹوں کی قربانی دی، جن میں ابوجہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا، جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2466]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لتدليس جرير بن حازم
حدیث نمبر: 2467
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" انْتَهَسَ عَرْقًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2467]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 207
حدیث نمبر: 2468
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا قَذَفَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ امْرَأَتَهُ، قِيلَ لَهُ: وَاللَّهِ لَيَجْلِدَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِينَ جَلْدَةً , قَالَ: اللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَضْرِبَنِي ثَمَانِينَ ضَرْبَةً، وَقَدْ عَلِمَ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ حَتَّى اسْتَيْقَنْتُ، وَسَمِعْتُ حَتَّى اسْتَيْقَنْتُ، لَا وَاللَّهِ لَا يَضْرِبُنِي أَبَدًا , قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگایا تو لوگ ان سے کہنے لگے کہ اب تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں اسی کوڑے ضرور ماریں گے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ بڑا عادل ہے، وہ مجھے ان اسی کوڑوں سے بچا لے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں نے دیکھا یہاں تک کہ مجھے یقین ہو گیا اور میں نے اپنے کانوں سے سنا یہاں تک کہ مجھے یقین ہو گیا، واللہ! اللہ مجھے سزا نہیں ہونے دے گا، اس پر آیت لعان نازل ہوئی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2468]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2469
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ جاريةً بِكْراً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح ایسی جگہ کر دیا ہے جو اسے پسند نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2469]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2470
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ أَحْمَدُ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَكُونُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَخْضِبُونَ بِهَذَا السَّوَادِ، قَالَ حُسَيْنٌ: كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ، لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آخر زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے جو کالا خضاب لگائیں گے، یہ لوگ جنت کی بو بھی نہ پا سکیں گے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2470]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح