🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10611
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ , وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الْإِبِلِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لینا اونٹوں کے باڑے میں مت پڑھنا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10611]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10612
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :" لَا تَقُولُوا لِلْعِنَبِ: الْكَرْمَ , فَإِنَّ الْكَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ الصَّالِحُ" , حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِنَحْوِهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انگور کے باغ کو " کرم " نہ کہا کرو، کیونکہ اصل کرم تو مرد مومن ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10612]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 6182، م: 2247، وهذا الإسناد فيه محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10613
حَدَّثَنَا يَزِيدُ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِنَحْوِهِ
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10613]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4182، م:2247
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10614
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَهِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُدْخِلُ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ" , قِيلَ: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا , إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ" , وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلاسکتا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہہ کر اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھ لیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10614]

الحكم على الحديث:
ھذا الحدیث لہ إسنادان : الأول: حسن، والثانی : صحيح، خ: 5673، م: 2816
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10615
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ , سَمِعَ أَبَاهُ , قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا، قَالَ: " يَا جِبْرِيلُ، إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا , فَأَحِبُّوهُ , فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي السَّمَاوَاتِ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ فُلَانًا , فَأَحِبُّوهُ، فَيُلْقَى حُبُّهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَيُحَبُّ , وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا , قَالَ: يَا جِبْرِيلُ، إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا , فَأَبْغِضُوهُ , فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي السَّمَاوَاتِ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ فُلَانًا , فَأَبْغِضُوهُ , فَيُوضَعُ لَهُ الْبُغْضُ لِأَهْلِ الْأَرْضِ , فَيُبْغَضُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) سے کہتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ جبرائیل اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جبرائیل (علیہ السلام) آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے محبت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ سارے آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے بعد زمین والوں میں اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے۔ اور جب کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تب بھی جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے کہ اے جبریل! میں فلاں بندے سے نفرت کرتا ہوں تم بھی اس سے نفرت کرو اور جبرائیل (علیہ السلام) آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے نفرت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے نفرت کرو۔ چنانچہ سارے آسمان والے اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں پھر یہ نفرت زمین والوں کے دل میں ڈال دی جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10615]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح،خ: 7485، م:2637
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10616
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى أُمِّ بُرْثُنٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْجُمُعَةَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَنَا , فَاخْتَلَفُوا فِيهَا , وَهَدَانَا اللَّهُ لَهَا , فَالنَّاسُ لَنَا فِيهَا تَبَعٌ , فَالْيَوْمُ لَنَا , ولِلْيَهُودِ غَدًا , وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ہم سے پہلے لوگوں پر بھی جمعہ فرض کیا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں کل کا دن (ہفتہ) کا ہے اور پر سوں کا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10616]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م:856
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10617
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا جُهَيْرُ بْنُ يَزِيدَ الْعَبْدِيُّ , عَنْ خِدَاشِ بْنِ عَيَّاشٍ , قََالَ: كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ بِالْكُوفَةِ , فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ , قََالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ , فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ شَهِدَ عَلَى مُسْلِمٍ شَهَادَةً لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ , فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" .
خداش بن عیاش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ کوفہ کے ایک حلقہ درس میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں ایک آدمی احادیث بیان کررہا تھا اس نے کہا کہ ہم لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کے متعلق ایسی گواہی دے جس کا وہ اہل نہ ہو تو اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10617]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن أبى هريرة، ولضعف خداش
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10618
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أُمِّ صَفِيَّةَ , وَقَالَ يَعْقُوبُ: صُبَيَّةَ , وَهُوَ الصَّوَابُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي , لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ , وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ , فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ , هَبَطَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ , يَقُولُ قَائِلٌ: أَلَا دَاعٍ يُجَابُ؟ أَلَا سَائِلٌ يُعْطِيهِ؟ أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرَ لَهُ؟" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا۔ کیونکہ تہائی یا نصف رات گذرنے کے بعد اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطاء کروں؟ ہے کوئی گناہوں کی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کروں؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کروں؟ ہے کوئی پکارنے والا کہ اس کی پکار کو قبول کروں؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10618]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1145، م: 758، وهذا إسناد ضعيف، عطاء المدني، ومحمد بن إسحاق مدلسان وقد عنعنا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10619
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ , عَنْ أَنَسٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَال: يَعْنِي الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ: " إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنِّي شِبْرًا , تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا , وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا , تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بُوعًا أَوْ بَاعًا , وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي بُوعًا أَوْ بَاعًا أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے فرمایا بندہ جب بھی ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10619]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7537، م:2675
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10620
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِي السَّلِيلِ , عَنْ أَبِي حَسَّانَ , قََالَ: تُوُفِّيَ ابْنَانِ ليِ , فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا تُحَدِّثُنَاهُ تُطَيِّبُ بِنَفْسِنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ , " صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ , يَلْقَى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ أَوْ أَبَوَيْهِ , فَيَأْخُذُ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ أَوْ يَدِهِ كَمَا آخُذُ بِصَنِفَةِ ثَوْبِكَ هَذَا , فَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ" .
ابوحسان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں رکا میرا ایک بیٹا فوت ہوگیا تھا جس کا مجھے بہت غم تھا میں نے ان سے عرض کیا کہ کیا آپ نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث سنی ہے جو ہمیں اپنے مردوں کے حوالے سے خوش کردے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں کے چھوٹے بچے (جو بچپن ہی میں فوت ہوجائیں) جنت کے ستون ہوتے ہیں۔ جب ان میں سے کوئی بچہ اپنے والدین سے ملے گا تو ان کے کپڑے کا کنارہ پکڑ لے گا جیسے میں نے تمہارے کپڑے کا کنارہ پکڑا ہوا ہے اور اس وقت تک ان سے جدا نہ ہوگا جب تک اللہ اسے اور اس کے باپ کو جنت میں داخل نہ کردے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10620]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2635
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں