🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. باب بعث أبى موسى ومعاذ إلى اليمن قبل حجة الوداع:
باب: حجۃ الوداع سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4343
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْرِبَةٍ تُصْنَعُ بِهَا، فَقَالَ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ:" الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ"، فَقُلْتُ لِأَبِي بُرْدَةَ: مَا الْبِتْعُ؟ قَالَ: نَبِيذُ الْعَسَلِ، وَالْمِزْرُ نَبِيذُ الشَّعِيرِ، فَقَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ". رَوَاهُ جَرِيرٌ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ.
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے، ان سے شیبانی نے، ان سے سعید بن ابی بردہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان شربتوں کا مسئلہ پوچھا جو یمن میں بنائے جاتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ وہ کیا ہیں؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ بتع اور مزر (سعید بن ابی بردہ نے کہا کہ) میں نے ابوبردہ (اپنے والد) سے پوچھا بتع کیا چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ شہد سے تیاری کی ہوئی شراب اور مزر جَو سے تیار کی ہوئی شراب۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز پینا حرام ہے۔ اس کی روایت جریر اور عبدالواحد نے شیبانی سے کی ہے اور انہوں نے ابوبردہ سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4343]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردةثقة
👤←👥سليمان بن فيروز الشيباني، أبو إسحاق
Newسليمان بن فيروز الشيباني ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← سليمان بن فيروز الشيباني
ثقة
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسى
Newعبد الله بن قيس الأشعري ← جرير بن عبد الحميد الضبي
صحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي بردة الأشعري
Newسعيد بن أبي بردة الأشعري ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن فيروز الشيباني، أبو إسحاق
Newسليمان بن فيروز الشيباني ← سعيد بن أبي بردة الأشعري
ثقة
👤←👥خالد بن عبد الله الطحان، أبو محمد، أبو الهيثم
Newخالد بن عبد الله الطحان ← سليمان بن فيروز الشيباني
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← خالد بن عبد الله الطحان
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4343
كل مسكر حرام
صحيح البخاري
4345
كل مسكر حرام
صحيح البخاري
6124
كل مسكر حرام
صحيح مسلم
5216
أنهى عن كل مسكر أسكر عن الصلاة
صحيح مسلم
5215
كل ما أسكر عن الصلاة فهو حرام
صحيح مسلم
5214
كل مسكر حرام
سنن النسائى الصغرى
5598
كل مسكر حرام
سنن النسائى الصغرى
5601
كل مسكر حرام
سنن النسائى الصغرى
5606
كل مسكر حرام
سنن النسائى الصغرى
5606
لا تشرب مسكرا فإني حرمت كل مسكر
سنن النسائى الصغرى
5608
كل مسكر حرام
سنن ابن ماجه
3391
كل مسكر حرام
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4343 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4343
حدیث حاشیہ:
جوچیزیں کھانے کی ہوں یاپینے کی نشہ آور ہوں ان کا استعمال حرام ہے۔
افیون مدک چنڈو شراب وغیرہ یہ سب اسی میں داخل ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4343]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4343
حدیث حاشیہ:

جو چیزیں کھانے کی ہوں یا پینے کی، جب نشہ آور ہوں تو حرام ہیں۔
افیون، بھنگ اورچرس وغیرہ سب اس میں شامل ہیں۔

جس کے زیادہ استعمال سے نشہ آئے اس کی کم مقدار بھی حرام ہے۔

حدیث میں مذکور جوس یا مشروبات اس وقت حرام ہوں گے جب وہ نشہ آور ہوں۔
اس سے معلوم ہوا کہ کھجور، جو، شہد اور مکئی وغیرہ کا نبیذ پیناجائزہے بشرط یہ کہ وہ نشہ آور نہ ہو، اگران میں نشہ پیدا ہوجائے تو ان کا پیناحرام ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4343]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5601
نشہ لانے والے ہر مشروب کی حرمت کا بیان۔
اسود بن شیبان سدوسی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطا سے سنا ایک شخص نے ان سے پوچھا: ہم لوگ سفر پر نکلتے ہیں تو ہمیں بازاروں میں مشروب نظر آتے ہیں، ہمیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ وہ کن برتنوں میں تیار ہوئے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے، انہوں نے (اپنا سوال) دہرایا تو انہوں نے کہا: جو چیزیں نشہ لانے والی ہوں وہ سب حرام ہیں، انہوں نے پھر دہرایا تو انہوں نے کہا: جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اصل وہی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5601]
اردو حاشہ:
حضرت عطا کا مقصود یہ تھا کہ برتن کسی چیز کو حرام یا حلال نہیں کرتا۔ اگر مشروب نشہ آور ہو تو وہ جس برتن میں بھی بنایا گیا ہو، حرام ہے اور اگر اس میں نشہ نہیں تو حلال ہے، خواہ کسی برتن میں تیار کیا گیا ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5601]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5606
بتع اور مزر کی شرح و تفسیر۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں مشروب بہت ہوتے ہیں، تو میں کیا پیوں اور کیا نہ پیوں؟ آپ نے فرمایا: وہ کیا کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا: «بتع» اور «مزر» ، آپ نے فرمایا: «بتع» اور «مزر» کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: «بتع» تو شہد کا نبیذ ہے اور «مزر» مکئی کا نبیذ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نشہ لانے والی چیز مت پیو، اس لیے کہ میں نے ہر نشہ ل [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5606]
اردو حاشہ:
(1) حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ خود یمنی تھے، لہٰذا اس علاقے کے مشروب کو خوب جانتےتھے۔
(2) ہر علاقے کے کھانے اور مشروب الگ الگ ہوتے ہیں۔ دوسرے علاقے کے لوگ ان سے واقف نہیں ہوتے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بتع اور مزر کے بارے میں پوچھنا پڑا کیو نکہ ہر علاقے کی اصطلاحات اپنی ہوتی ہیں۔ یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔
(3) مزر کے معنیٰ مکئی اور جو کی شراب کے کیے گئے ہیں۔ شرح مسلم میں امام نووی ؒ فرماتے ہیں کہ گندم سے بھی یہ شراب بنائی جاتی ہے۔
(4) حرام قرار دے چکا ہوں یعنی اللہ تعالی کے حکم سے کیونکہ حلت وحرمت کا اختیار اللہ تعالی کوہے۔ وحی کے ذریعے سے بتائے یا وحی خفی کے ذریعے سے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5606]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5606
بتع اور مزر کی شرح و تفسیر۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں مشروب بہت ہوتے ہیں، تو میں کیا پیوں اور کیا نہ پیوں؟ آپ نے فرمایا: وہ کیا کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا: «بتع» اور «مزر» ، آپ نے فرمایا: «بتع» اور «مزر» کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: «بتع» تو شہد کا نبیذ ہے اور «مزر» مکئی کا نبیذ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نشہ لانے والی چیز مت پیو، اس لیے کہ میں نے ہر نشہ ل [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5606]
اردو حاشہ:
(1) حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ خود یمنی تھے، لہٰذا اس علاقے کے مشروب کو خوب جانتےتھے۔
(2) ہر علاقے کے کھانے اور مشروب الگ الگ ہوتے ہیں۔ دوسرے علاقے کے لوگ ان سے واقف نہیں ہوتے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بتع اور مزر کے بارے میں پوچھنا پڑا کیو نکہ ہر علاقے کی اصطلاحات اپنی ہوتی ہیں۔ یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔
(3) مزر کے معنیٰ مکئی اور جو کی شراب کے کیے گئے ہیں۔ شرح مسلم میں امام نووی ؒ فرماتے ہیں کہ گندم سے بھی یہ شراب بنائی جاتی ہے۔
(4) حرام قرار دے چکا ہوں یعنی اللہ تعالی کے حکم سے کیونکہ حلت وحرمت کا اختیار اللہ تعالی کوہے۔ وحی کے ذریعے سے بتائے یا وحی خفی کے ذریعے سے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5606]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5214
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور معاذ بن جبل کو یمن بھیجا، تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری سرزمین (یمن) میں جو سے ایک مشروب تیار کیا جاتا ہے، جسے مِزُر کہا جاتا ہے اور ایک مشروب ہے جسے بتع کہتے ہیں، شہد سے تیار کیا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5214]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
مزر:
یہ شراب مکئی یا جو گندم سے تیار کی جاتی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5214]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5216
حضرت ابوبردہ اپنے باپ (حضرت ابوموسیٰ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور معاذ کو یمن بھیجا تو فرمایا: لوگوں کو دین کی دعوت دو اور بشارت سناؤ اور نفرت نہ دلاؤ اور آسانی پیدا کرو، تنگی پیدا نہ کرو۔ تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں ان دو مشروبوں کے بارے میں بتائیں، جو ہم یمن میں تیار کرتے تھے، بتع وہ شہد کا نبیذ ہے جو گاڑھا کر لیا جاتا ہے اور مِزُر ہے، جو مکئی اور جَو کا نبیذ ہے، حتیٰ کہ وہ گاڑھا ہو جاتا ہے،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5216]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
أعطي جوامع الكلم بخاتمه:
انتہائی کم الفاظ جو بہت ساے مفہوم ومعنی پر مشتمل ہوں،
کوئی چیز اس سے خارج نہ ہو،
یعنی جامع اور مانع کلمات سے نوازے گئے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5216]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4345
4345 [صحيح بخاري، حديث نمبر:4345]
حدیث حاشیہ:
عقدی کی روایت کو امام بخاری ؒ نے احکام میں اوروہب کی روایت کو اسحاق بن راہویہ نے وصل کیا ہے۔
وکیع کی روایت کو امام بخاری ؒ نے جہاد میں اور ابو داؤد طیالسی کی روایت کوامام نسائی نے اور نضر کی روایت کو امام بخاری نے ادب میں وصل کیا ہے۔
مطلب امام بخاری کا یہ ہے کہ وکیع اور نضر اور ابو داودنے شعبہ سے اس حدیث کو موصولاً روایت کیا اور مسلم بن ابراہیم اور عقدی اور جریر نے مرسلاًروایت کیا۔
اس میں مبلغین کے لیے خاص ہدایات ہیں کہ لوگوں کو نفرت نہ دلائیں، دشوار باتیں ان کے سامنے نہ رکھيں، آپس میں مل جل کر کام کریں۔
اللہ یہی توفیق بخشے۔
آمین یا رب العالمین مگر آج کل ایسے مبلغین بہت کم ہیں۔
الاماشاءاللہ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4345]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6124
6124. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور معاذ بن جبل ؓ کو (یمن) بھیجا تو ان سے فرمایا: لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، انہیں تنگی میں نہ ڈالنا انہیں خوشخبری سنانا اور نفرت نہ دلانا اور آپس میں اتفاق سے کام کرنا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم ایسی سرزمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب تیار کی جاتی ہے جسے تبع کہا جاتا ہے اور جو سے بھی شراب کشید کی جاتی ہے جسے مزر کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نشہ لانے والی ہر چیز حرام ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6124]
حدیث حاشیہ:
کوئی بھی شراب ہوجو نشہ کرے وہ حرام ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6124]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4345
4345 [صحيح بخاري، حديث نمبر:4345]
حدیث حاشیہ:

لفظ (أَتَفَوَّق)
، فواق، ناقة سے ماخوذ ہے، مطلب یہ ہے کہ میں دن رات تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ہمیشہ قرآن پڑھتا رہتا ہوں، چنانچہ فواق ناقہ یہی ہے کہ ایک مرتبہ اونٹنی کا دودھ لیا جائے، پھر اسے چھوڑدیا جائے تاکہ وہ باقی ماندہ دودھ اتارلے، پھر اس کا دودھ نکال لیا جائے، اس طرح وقفے وقفے سے اس کادودھ نکالاجاتا ہے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ اس انداز سے قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور اسی کو اپنا معمول بنایا تھا جبکہ حضرت معاذ بن جبل ؓ نے رات کے حصے متعین کررکھے تھے، کچھ سونے کے لیے اور کچھ تلاوت قرآن کے لیے۔
الغرض ان کا سونا بھی اس غرض کے لیے ہوتا تھا کہ وہ قیام کے لیے معاون ثابت ہو۔
اس نیت سے سونا بھی عبادت ہے۔

واضح رہے کہ نرمی کا مطلب حدودوقصاص میں نرمی کرنا نہیں بلکہ دنیوی اور انتظامی امورمیں نرمی کرنا ہے کیونکہ حدود کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اور اگرتم اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتے ہوتو اللہ کے دین کے معاملے میں تمھیں ان(مرد،عورت)
دونوں پرترس نہیں آنا چاہیے۔
(النور: 2: 24)

مبلغین کے لیے اس میں خاص ہدایت ہے کہ وہ لوگوں کو نفرت نہ دلائیں، مشکل اور سخت باتیں ان کے سامنے نہ رکھیں، آپس میں مل جل کر کام کریں، اتفاق واتحاد سے رہیں، ایک دوسرے کی بات مانیں، مگرآج کل ایسے مبلغین بہت کم ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4345]

Sahih Bukhari Hadith 4343 in Urdu