Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب بيان وقت انقضاء الصوم وخروج النهار:
باب: روزہ کا وقت تمام ہونے، اور دن کے ختم ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1101 ترقیم شاملہ: -- 2560
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَعَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ، قَالَ لِرَجُلٍ: " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ، قَالَ: " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا "، قَالَ: إِنَّ عَلَيْنَا نَهَارًا، فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ، فَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ "،
علی بن مسہر، عباد بن عوام، شیبانی، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہو گیا تو آپ نے ایک آدمی سے فرمایا: اتر اور ہمارے لیے ستو ملا۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ شام ہونے دیں؟ تو آپ نے فرمایا: اتر اور ہمارے لیے ستو ملا۔ اس نے عرض کیا: ابھی تو دن ہے وہ اترا اور اس نے ستو ملایا آپ نے ستو پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دیکھو کہ رات اس طرف آگئی ہے۔ اور آپ نے مشرق کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا: تو روزہ دار کو روزہ افطار کر لینا چاہیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2560]
حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب سورج غروب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےایک آدمی سے کہا: اتر کر ہمارے لیے ستو تیار کر۔ تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اے کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتر کر ہمارے لیے ستو گھول۔ اس نے کہا: ابھی ہمارے سر پردن باقی ہے پھر وہ اترا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ستو بھگوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دیکھو رات ادھر سے آ گئی ہے (اور آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا) تو روزے دار افطار کے وقت میں داخل ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2560]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1101
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي، أبو محمد، أبو إبراهيم، أبو معاويةصحابي
👤←👥سليمان بن فيروز الشيباني، أبو إسحاق
Newسليمان بن فيروز الشيباني ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي
ثقة
👤←👥عباد بن العوام الكلابي، أبو سهل
Newعباد بن العوام الكلابي ← سليمان بن فيروز الشيباني
ثقة
👤←👥علي بن مسهر القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن مسهر القرشي ← عباد بن العوام الكلابي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← علي بن مسهر القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5297
رأيتم الليل قد أقبل من ها هنا فقد أفطر الصائم
صحيح البخاري
1958
إذا رأيت الليل قد أقبل من هاهنا فقد أفطر الصائم
صحيح البخاري
1956
إذا رأيتم الليل أقبل من هاهنا فقد أفطر الصائم وأشار بإصبعه قبل المشرق
صحيح البخاري
1941
إذا رأيتم الليل أقبل من هاهنا فقد أفطر الصائم
صحيح مسلم
2559
إذا غابت الشمس من ها هنا وجاء الليل من ها هنا فقد أفطر الصائم
صحيح مسلم
2560
إذا رأيتم الليل قد أقبل من ها هنا وأشار بيده نحو المشرق فقد أفطر الصائم
سنن أبي داود
2352
رأيتم الليل قد أقبل من ها هنا فقد أفطر الصائم وأشار بأصبعه قبل المشرق
مسندالحميدي
731
انزل فاجدح لي
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2560 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2560
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
چونکہ غروب افتاب کے بعد شفق کی سرخی اور روشنی کے کچھ آثارباقی ہوتے ہیں اس لیے اس صحابی نے یہ سمجھا کہ افطار کا وقت ان آثار کے ختم ہونے کے بعد ہو گا کیونکہ یہ اس کے خیال میں دن کا حصہ ہے اس لیے اس نے خیال کیا شاید آپ کی نظر ان آثارپر نہیں ہے۔
آپ کو آگاہ کرنے کی خاطر عرض کیا ابھی دن باقی ہے شام نہیں ہوئی۔
تو آپ نے سب ساتھیوں کی آگاہی کے لیے فرمایا کہ روزہ کھولنے کا تعلق اور مدار غروب آفتاب پر ہے کیونکہ اسی سے دن انتہا کو پہنچ جاتا ہے لہٰذا روزے دار کو غروب شمس کے ساتھ ہی روزہ کھول دینا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2560]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2352
روزہ افطار کرنے کے وقت کا بیان۔
سلیمان شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے آپ روزے سے تھے، جب سورج غروب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال! (سواری سے) اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر اور شام ہو جانے دیں تو بہتر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو، بلال رضی اللہ عنہ نے پھر کہا: اللہ کے رسول! ابھی تو دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو، چنانچہ وہ اترے اور ستو گ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2352]
فوائد ومسائل:
(1) سورج غروب ہوتے ہی افطار کا وقت ہو جاتا ہے۔
بعد از غروب انتظار یا احتیاط کے کوئی معنی نہیں۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا تعمیل ارشاد نبوی میں تردد فضا میں سفیدی وغیرہ کی وجہ سے تھا اور وہ سمجھ رہے تھے کہ سورج شاید کسی پہاڑ وغیرہ کی اوٹ میں ہے۔
حالانکہ فی الواقع سورج غروب ہو چکا تھا جیسا کہ راوی حدیث نے بیان کیا۔

(2) اس حدیث سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ بعض اوقات ظاہر امور کی وضاحت کروا لینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا، تاکہ امکانی شبہے کا ازالہ ہو جائے۔

(3) نیز صاحب علم کو یاد دلانا کوئی معیوب بات نہیں نہ یہ سوء ادبی ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2352]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1941
1941. حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ (شام کے وقت) آپ نے ایک شخص سے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو تیار کر۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تو آفتاب کی روشنی ہے۔ آپ نے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو گھول۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ابھی تک سورج کی روشنی باقی ہے۔ آپ نے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو تیار کر۔ چنانچہ وہ اترا اور آپ کے لیے ستو تیار کیے۔ آپ نے انھیں نوش کیا۔ پھر اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: جب ادھر سے رات کا اندھیرا شروع ہوجائے تو روزہ دار کو روزہ افطار کرنا چاہیے۔ جریر اور ابو بکر عیاش نے ابو اسحاق سے روایت کرنے میں سفیان کی متابعت کی ہے۔ وہ ابن ابی اوفیٰ ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1941]
حدیث حاشیہ:
حدیث اور باب میں مطابقت ظا ہر ہے، روزہ کھولتے وقت اس دعا کا پڑھنا سنت ہے اللهم لكَ صُمتُ و علی رزقكَ أفطرتُ یعنی یا اللہ! میں نے یہ روزہ تیری رضا کے لیے رکھا تھا اور اب تیرے ہی رزق پر اسے کھولا ہے۔
اس کے بعد یہ کلما ت پڑھے ذهبَ الظمأُ و ابتلتِ العروقُ و ثبت الأجر إن شاءاللہ یعنی اللہ کا شکر ہے کہ روزہ کھولنے سے پیاس دور ہو گئی اور رگیں سیراب ہو گئیں اور اللہ نے چاہا تو اس کے پاس اس کا ثواب عظیم لکھا گیا۔
حدیث للصائم فرحتان الخ یعنی روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں پر حضرت شاہ ولی اللہ مرحوم فرماتے ہیں کہ پہلی خوشی طبعی ہے اور رمضان کے روزہ افطار کرنے سے نفس کو جس چیز کی خواہش تھی وہ مل جاتی ہے اور دوسری روحانی فرحت ہے اس واسطے کہ روزہ کی وجہ سے روزہ دار حجاب جسمانی سے علیحدہ ہونے اور عالم بالا سے علم الیقین کا فیضان ہونے کے بعد تقدس کے آثار ظاہر ہونے کے قابل ہوجاتاہے، جس طرح نماز کے سبب سے تجلی کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں۔
(حجة اللہ البالغة)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1941]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1956
1956. حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر کیا۔ آپ نے روزہ رکھاہوا تھا۔ جب سورج غروب ہو گیا تو آپ نے(کسی سے) فرمایا: اتر کر ہمارے لیے ستو تیار کر۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! شام تو ہونے دیجئے آپ نے فرمایا: اتر کر ہمارے لیے ستو تیار کر۔ اس نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی دن باقی ہے۔ آپ نے فرمایا: اتر اور ہمارے لیے ستو بنا۔ وہ اترا اور آپ کے لیے ستو تیار کیے، پھر آپ نے فرمایا: جب تم رات کو دیکھو کہ وہ ادھر سے آگئی ہے تو روزے دار اپنا روزہ افطار کردے۔ آپ نے ا پنی انگشت مبارک سے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1956]
حدیث حاشیہ:
حدیث کی مناسبت ترجمہ باب سے یوں ہے کہ ستو پانی سے گھولے گئے تھے اور اس وقت یہی حاضر تھا تو پانی وغیرہ ماحضر سے روزہ کھولنا ثابت ہوا۔
ترمذی نے مرفوعاً نکالا کہ کھجور سے روزہ افطار کرے اگر کھجور نہ ملے تو پانی سے۔
(وحیدی)
حضرت مسدد بن مسرہد امام بخاری کے جلیل القدر اساتذہ میں سے ہیں اور جامع الصحیح میں ان سے بکثرت روایات ہیں۔
یہ بصرہ کے باشندے تھے۔
حماد بن زید اور ابوعوانہ وغیرہ سے حدیث کی سماعت فرمائی۔
ان سے امام بخاری ؒ کے علاوہ اور بھی بہت سے محدثین نے روایت کی ہے۔
228ھ میں انتقال ہوا۔
رحمهم اللہ تعالیٰ علیهم أجمعین (آمین)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1956]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1958
1958. حضرت ابن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ آپ نے روزہ رکھا۔ جب شام ہوئی تو ایک شخص سے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو تیار کر۔ اس نے عرض کیا: اگر آپ شام تک انتظار کرتے تو بہتر ہوتا۔ آپ نے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو تیار کر۔ جب تو دیکھے کہ رات ادھر سے آگئی ہے تو روزہ دار کو افطار کردینا چاہیے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1958]
حدیث حاشیہ:
یا روزہ کھل گیا۔
بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ دلیل لی ہے کہ جب افطار کا وقت آجائے تو خود بخود روزہ کھل جاتا ہے گو افطار نہ کرے۔
ہم کہتے ہیں کہ اس حدیث سے ان کا رد ہوتا ہے کیوں کہ اگر وقت آنے سے روزہ خود بخود کھل جاتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ستو گھولنے کے لیے کیوں جلدی فرماتے۔
اسی طرح دوسری حدیثوں میں روزہ جلدی کھولنے کی ترغیب کیوں دیتے۔
اور اگر وقت آنے سے روزہ خود بخود ختم ہوجاتا تو پھر طے کے روزے سے کیوں منع فرماتے۔
یہی حدیث پیچھے اسحاق واسطی کی سند سے بھی گذر چکی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کو ستو گھولنے کا حکم فرمایا تھا وہ حضرت بلال ؓ تھے۔
جنہوں نے روشنی دیکھ کر خیال کیا کہ ابھی سورج غروب ہونے میں کسر ہے، اسی لیے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسا عرض کیا۔
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں و فیه تذکرة العالم بما یخشی أن یکون نسیه و ترك المراجعة له بعد ثلاث یعنی اس حدیث میں واقعہ مذکورہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی عالم کو ایک عامی بھی تین بار یاد دہانی کراسکتا ہے۔
اگر یہ گمان ہو کہ عالم سے بھول ہو گئی ہے، جیسا کہ حضرت بلال ؓ نے اپنے خیال کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ یاد دہانی کرائی، مگر چوں کہ حضرت بلال ؓ کا خیال صحیح نہ تھا۔
لہٰذا آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسئلہ کی حقیقت سے آگاہ فرمایا اور انہوں نے ارشاد گرامی کی تعمیل کی، معلوم ہوا کہ وقت ہو جانے پر روزہ کھولنے میں پس و پیش کرنا قطعاً مناسب نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1958]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1941
1941. حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ (شام کے وقت) آپ نے ایک شخص سے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو تیار کر۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تو آفتاب کی روشنی ہے۔ آپ نے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو گھول۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ابھی تک سورج کی روشنی باقی ہے۔ آپ نے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو تیار کر۔ چنانچہ وہ اترا اور آپ کے لیے ستو تیار کیے۔ آپ نے انھیں نوش کیا۔ پھر اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: جب ادھر سے رات کا اندھیرا شروع ہوجائے تو روزہ دار کو روزہ افطار کرنا چاہیے۔ جریر اور ابو بکر عیاش نے ابو اسحاق سے روایت کرنے میں سفیان کی متابعت کی ہے۔ وہ ابن ابی اوفیٰ ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1941]
حدیث حاشیہ:
(1)
دوران سفر میں روزہ رکھنے کے متعلق مختلف آراء ہیں:
ظاہری حضرات کا خیال ہے کہ سفر میں روزہ چھوڑنا واجب ہے۔
اگر کوئی دوران سفر میں روزہ رکھے گا تو اسے کوئی اجروثواب نہیں ملے گا، جبکہ بعض دوسرے کہتے ہیں کہ سفر میں روزہ رکھنا اور چھوڑنا دونوں برابر ہیں، ان میں کوئی بھی افضل نہیں۔
بعض حضرات کا خیال ہے کہ دونوں صورتوں میں جو آسان ہو اسے اختیار کر لینا چاہیے۔
چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا ہے، اس لیے ہمارے نزدیک روزہ رکھنا افضل ہے اور نہ رکھنا رخصت ہے بشرطیکہ روزہ رکھنے میں کوئی دشواری یا مشقت نہ ہو اور نہ فخر و غرور میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہی ہو۔
(2)
جو شخص رخصت قبول کرنے سے اعراض کرتا ہو یا اس کے لیے روزہ نقصان دہ ہو تو اس کے لیے روزہ چھوڑ دینا بہتر ہے۔
(3)
صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے کہ مذکورہ سفر ماہ رمضان میں تھا (صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2559(1101)
اور رمضان میں سفر غزوۂ بدر یا فتح مکہ کے وقت ہوا ہے۔
حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ غزوۂ بدر میں شریک نہیں تھے، اس لیے یہ سفر فتح مکہ کے وقت ہی تھا۔
واللہ أعلم۔
(عمدةالقاري: 131/8) (4)
سورج غروب ہو چکا تھا لیکن اس کے آثار ابھی باقی تھے، اس بنا پر صحابی نے گمان کیا کہ سورج ابھی غروب نہیں ہوا، اس لیے انہوں نے دوبارہ، سہ بارہ اپنا سوال دہرایا، اس کا بار بار تکرار کسی مفاد کی وجہ سے نہیں تھا۔
واضح رہے کہ یہ صحابئ رسول حضرت بلال ؓ تھے۔
(عمدةالقاري: 131/8) (5)
حضرت جریر کی متابعت امام بخاری ؒ نے خود بیان کی ہے۔
(صحیح البخاري، الطلاق، حدیث: 5297)
نیز ابوبکر بن عیاش کی متابعت بھی امام بخاری نے ذکر کی ہے۔
(صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 1958)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1941]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1956
1956. حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر کیا۔ آپ نے روزہ رکھاہوا تھا۔ جب سورج غروب ہو گیا تو آپ نے(کسی سے) فرمایا: اتر کر ہمارے لیے ستو تیار کر۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! شام تو ہونے دیجئے آپ نے فرمایا: اتر کر ہمارے لیے ستو تیار کر۔ اس نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی دن باقی ہے۔ آپ نے فرمایا: اتر اور ہمارے لیے ستو بنا۔ وہ اترا اور آپ کے لیے ستو تیار کیے، پھر آپ نے فرمایا: جب تم رات کو دیکھو کہ وہ ادھر سے آگئی ہے تو روزے دار اپنا روزہ افطار کردے۔ آپ نے ا پنی انگشت مبارک سے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1956]
حدیث حاشیہ:
(1)
ستو چونکہ پانی میں تیار کیے جاتے ہیں اور اس وقت یہی کچھ موجود تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تیار کرنے کا حکم دیا۔
امام بخاری ؒ نے اسی سے عنوان ثابت کیا ہے۔
اس کے علاوہ ترمذی میں ہے کہ روزے دار کو چاہیے کہ وہ کھجور سے روزہ افطار کرے اور اگر کھجور نہ ملے تو پانی سے روزہ کھول لے۔
(سنن الترمذي، الصیام، حدیث: 694) (2)
چونکہ افطاری کے وقت روزے دار کی دعا قبول ہوتی ہے، اس لیے مندرجہ ذیل دعا پڑھنا مسنون ہے:
(ذهب الظمأُ وابتلتِ العروقُ وثبت الأجرُ إن شاءالله)
پیاس ختم ہو گئی اور رگیں تر ہو گئیں اور اللہ کے ہاں اجر، ان شاءاللہ، ثابت ہو گیا۔
(سنن أبي داود، الصیام، حدیث: 2357) (3)
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب حضرت بلال ؓ تھے جیسا کہ ابوداود کی روایت میں صراحت ہے۔
(سنن أبي داود، الصیام، حدیث: 2352)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا بندوبست کرنے والے کو بلایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ خدمت سرانجام دینے والے حضرت بلال ؓ ہیں جیسا کہ دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے۔
(4)
اس حدیث سے اظہار خیال کی آزادی ثابت ہوتی ہے اگرچہ وہ خیال امر واقعہ کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، اس لیے ہر شخص کو اپنے اظہار خیال کا حق ہے مگر جب وہ غلط ثابت ہو جائے تو حق کو تسلیم کرنا انتہائی ضروری ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1956]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1958
1958. حضرت ابن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ آپ نے روزہ رکھا۔ جب شام ہوئی تو ایک شخص سے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو تیار کر۔ اس نے عرض کیا: اگر آپ شام تک انتظار کرتے تو بہتر ہوتا۔ آپ نے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو تیار کر۔ جب تو دیکھے کہ رات ادھر سے آگئی ہے تو روزہ دار کو افطار کردینا چاہیے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1958]
حدیث حاشیہ:
:
(1)
غروب آفتاب کے بعد جب مشرقی افق پر سیاہی آ جائے تو روزے دار کو روزہ افطار کر لینا چاہیے۔
(2)
ہمارے دور میں شیعہ اور روافض روزہ افطار کرنے کے لیے ستاروں کے چمکنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے عمل کو خیروبرکت سے خالی قرار دیا ہے۔
اس سلسلے میں آپ کا واضح فرمان ہے کہ میری امت کے لوگ اس وقت تک میرے طریقے پر گامزن رہیں گے جب تک افطاری کرنے میں ستاروں کے چمکنے کا انتظار نہیں کریں گے۔
(صحیح ابن حبان: 278/6)
اس بنا پر روزہ افطار کرنے میں جلدی کرنی چاہیے۔
(3)
روزہ افطار کرتے وقت مندرجہ ذیل دعا پڑھنا کتاب و سنت سے ثابت نہیں:
(اللهم إني لك صُمتُ وبك آمنت وعليكَ توكلتُ وعلی رزقكَ أفطرتُ)
روزہ افطار کرتے وقت مسنون دعا کا اہتمام کرنا چاہیے جسے ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1958]