🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب لزوم السنة
باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4612
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: كَتَبَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْقَدَرِ. ح وحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ دُلَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يُحَدِّثُنَا، عَنِ النَّضْرِ. ح وحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ أَبِي الصَّلْتِ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ كَثِيرٍ وَمَعْنَاهُمْ، قَالَ: كَتَبَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْقَدَرِ، فَكَتَبَ:" أَمَّا بَعْدُ أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالِاقْتِصَادِ فِي أَمْرِهِ وَاتِّبَاعِ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ مَا أَحْدَثَ الْمُحْدِثُونَ بَعْدَ مَا جَرَتْ بِهِ سُنَّتُهُ وَكُفُوا مُؤْنَتَهُ، فَعَلَيْكَ بِلُزُومِ السُّنَّةِ فَإِنَّهَا لَكَ بِإِذْنِ اللَّهِ عِصْمَةٌ، ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّهُ لَمْ يَبْتَدِعِ النَّاسُ بِدْعَةً إِلَّا قَدْ مَضَى قَبْلَهَا مَا هُوَ دَلِيلٌ عَلَيْهَا أَوْ عِبْرَةٌ فِيهَا، فَإِنَّ السُّنَّةَ إِنَّمَا سَنَّهَا مَنْ قَدْ عَلِمَ مَا فِي خِلَافِهَا، وَلَمْ يَقُلِ ابْنُ كَثِيرٍ: مَنْ قَدْ عَلِمَ مِنَ الْخَطَإِ وَالزَّلَلِ وَالْحُمْقِ وَالتَّعَمُّقِ فَارْضَ لِنَفْسِكَ مَا رَضِيَ بِهِ الْقَوْمُ لِأَنْفُسِهِمْ، فَإِنَّهُمْ عَلَى عِلْمٍ وَقَفُوا وَبِبَصَرٍ نَافِذٍ كَفُّوا وَهُمْ عَلَى كَشْفِ الْأُمُورِ كَانُوا أَقْوَى وَبِفَضْلِ مَا كَانُوا فِيهِ أَوْلَى، فَإِنْ كَانَ الْهُدَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ لَقَدْ سَبَقْتُمُوهُمْ إِلَيْهِ وَلَئِنْ قُلْتُمْ إِنَّمَا حَدَثَ بَعْدَهُمْ مَا أَحْدَثَهُ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَ غَيْرَ سَبِيلِهِمْ، وَرَغِبَ بِنَفْسِهِ عَنْهُمْ فَإِنَّهُمْ هُمُ السَّابِقُونَ فَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ بِمَا يَكْفِي وَوَصَفُوا مِنْهُ مَا يَشْفِي، فَمَا دُونَهُمْ مِنْ مَقْصَرٍ وَمَا فَوْقَهُمْ مِنْ مَحْسَرٍ وَقَدْ قَصَّرَ قَوْمٌ دُونَهُمْ فَجَفَوْا، وَطَمَحَ عَنْهُمْ أَقْوَامٌ فَغَلَوْا وَإِنَّهُمْ بَيْنَ ذَلِكَ لَعَلَى هُدًى مُسْتَقِيمٍ، كَتَبْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْإِقْرَارِ بِالْقَدَرِ فَعَلَى الْخَبِيرِ بِإِذْنِ اللَّهِ، وَقَعْتَ مَا أَعْلَمُ مَا أَحْدَثَ النَّاسُ مِنْ مُحْدَثَةٍ وَلَا ابْتَدَعُوا مِنْ بِدْعَةٍ هِيَ أَبْيَنُ أَثَرًا وَلَا أَثْبَتُ أَمْرًا مِنَ الْإِقْرَارِ بِالْقَدَرِ، لَقَدْ كَانَ ذَكَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْجُهَلَاءُ يَتَكَلَّمُونَ بِهِ فِي كَلَامِهِمْ وَفِي شِعْرِهِمْ يُعَزُّونَ بِهِ أَنْفُسَهُمْ عَلَى مَا فَاتَهُمْ ثُمَّ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ بَعْدُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَقَدْ ذَكَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ وَلَا حَدِيثَيْنِ وَقَدْ سَمِعَهُ مِنْهُ الْمُسْلِمُونَ، فَتَكَلَّمُوا بِهِ فِي حَيَاتِهِ وَبَعْدَ وَفَاتِهِ يَقِينًا وَتَسْلِيمًا لِرَبِّهِمْ وَتَضْعِيفًا لِأَنْفُسِهِمْ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ لَمْ يُحِطْ بِهِ عِلْمُهُ وَلَمْ يُحْصِهِ كِتَابُهُ وَلَمْ يَمْضِ فِيهِ قَدَرُهُ، وَإِنَّهُ مَعَ ذَلِكَ لَفِي مُحْكَمِ كِتَابِهِ مِنْهُ اقْتَبَسُوهُ وَمِنْهُ تَعَلَّمُوهُ، وَلَئِنْ قُلْتُمْ لِمَ أَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ كَذَا؟ لِمَ قَالَ كَذَا؟ لَقَدْ قَرَءُوا مِنْهُ مَا قَرَأْتُمْ وَعَلِمُوا مِنْ تَأْوِيلِهِ مَا جَهِلْتُمْ، وَقَالُوا بَعْدَ ذَلِكَ كُلِّهِ بِكِتَابٍ وَقَدَرٍ وَكُتِبَتِ الشَّقَاوَةُ وَمَا يُقْدَرْ يَكُنْ وَمَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ، وَلَا نَمْلِكُ لِأَنْفُسِنَا ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ثُمَّ رَغِبُوا بَعْدَ ذَلِكَ وَرَهِبُوا".
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ ایک شخص نے خط لکھ کر عمر بن عبدالعزیز سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے (جواب میں) لکھا: امابعد! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور اس کے دین کے سلسلہ میں میانہ روی اختیار کرنے، اس کے نبی کی سنت کی پیروی کرنے کی اور بدعتیوں نے جو بدعتیں سنت کے جاری اور ضروریات کے لیے کافی ہو جانے کے بعد ایجاد کی ہیں ان کے چھوڑ دینے کی وصیت کرتا ہوں، لہٰذا تم پر سنت کا دامن تھامے رہنا لازم ہے، اللہ کے حکم سے یہی چیز تمہارے لیے گمراہی سے بچنے کا ذریعہ ہو گی۔ پھر یہ بھی جان لو کہ لوگوں نے کوئی بدعت ایسی نہیں نکالی ہے جس کے خلاف پہلے سے کوئی دلیل موجود نہ رہی ہو یا اس کے بدعت ہونے کے سلسلہ میں کوئی نصیحت آمیز بات نہ ہو، اس لیے کہ سنت کو جس نے جاری کیا ہے، (اللہ تعالیٰ یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ جانتا تھا کہ اس کی مخالفت میں کیا وبال ہے، کیا کیا غلطیاں، لغزشیں، حماقتیں اور انتہا پسندیاں ہیں (ابن کثیر کی روایت میں «من قد علم» کا لفظ نہیں ہے) لہٰذا تم اپنے آپ کو اسی چیز سے خوش رکھو جس سے قوم (سلف) نے اپنے آپ کو خوش رکھا ہے، اس لیے کہ وہ دین کے بڑے واقف کار تھے، جس بات سے انہوں نے روکا ہے گہری بصیرت سے روکا ہے، انہیں معاملات کے سمجھنے پر ہم سے زیادہ دسترس تھی، اور تمام خوبیوں میں وہ ہم سے فائق تھے، لہٰذا اگر ہدایت وہ ہوتی جس پر تم ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم ان سے آگے بڑھ گئے، اور اگر تم یہ کہتے ہو کہ جن لوگوں نے بدعتیں نکالی ہیں وہ اگلے لوگوں کی راہ پر نہیں چلے اور ان سے اعراض کیا تو واقعہ بھی یہی ہے کہ اگلے لوگ ہی فائق و برتر تھے انہوں نے جتنا کچھ بیان کر دیا ہے اور جو کچھ کہہ دیا ہے شافی و کافی ہے، لہٰذا اب دین میں نہ اس سے کم کی گنجائش ہے نہ زیادہ کی، اور حال یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اس میں کمی کر ڈالی تو وہ جفا کار ٹھہرے اور کچھ لوگوں نے زیادتی کی تو وہ غلو کا شکار ہو گئے، اور اگلے لوگ ان دونوں انتہاؤں کے بیچ سیدھی راہ پر رہے، اور تم نے ایمان بالقدر کے اقرار کے بارے میں بھی پوچھا ہے تو باذن اللہ تم نے یہ سوال ایک ایسے شخص سے کیا ہے جو اس کو خوب جانتا ہے، ان لوگوں نے جتنی بھی بدعتیں ایجاد کی ہیں ان میں اثر کے اعتبار سے ایمان بالقدر کے اقرار سے زیادہ واضح اور ٹھوس کوئی نہیں ہے، اس کا تذکرہ تو جاہلیت میں جہلاء نے بھی کیا ہے، وہ اپنی گفتگو اور اپنے شعر میں اس کا تذکرہ کرتے تھے، اس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو کسی فوت ہو جانے والے کے غم میں تسلی دیتے ہیں۔ پھر اسلام نے اس خیال کو مزید پختگی بخشی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر ایک یا دو حدیثوں میں نہیں بلکہ کئی حدیثوں میں کیا، اور اس کو مسلمانوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، پھر آپ کی زندگی میں بھی اسے بیان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی، اس پر یقین کر کے، اس کو تسلیم کر کے اور اپنے کو اس سے کمزور سمجھ کے، کوئی چیز ایسی نہیں جس کو اللہ کا علم محیط نہ ہو، اور جو اس کے نوشتہ میں نہ آ چکی ہو، اور اس میں اس کی تقدیر جاری نہ ہو چکی ہو، اس کے باوجود اس کا ذکر اس کی کتاب محکم میں ہے، اسی سے لوگوں نے اسے حاصل کیا، اسی سے اسے سیکھا۔ اور اگر تم یہ کہو: اللہ نے ایسی آیت کیوں نازل فرمائی؟ اور ایسا کیوں کہا (جو آیات تقدیر کے خلاف ہیں)؟ تو (جان لو) ان لوگوں نے بھی اس میں سے وہ سب پڑھا تھا جو تم نے پڑھا ہے لیکن انہیں اس کی تاویل و تفسیر کا علم تھا جس سے تم ناواقف ہو، اس کے بعد بھی وہ اسی بات کے قائل تھے: ہر بات اللہ کی تقدیر اور اس کے لکھے ہوئے کے مطابق ہے جو مقدر میں لکھا ہے وہ ہو گا، جو اللہ نے چاہا، وہی ہوا، جو نہیں چاہا، نہیں ہوا۔ اور ہم تو اپنے لیے نہ کسی ضرر کے مالک ہیں اور نہ ہی کسی نفع کے پھر اس اعتقاد کے بعد بھی اگلے لوگ اچھے کام کرتے رہے اور بر ے کاموں سے ڈرتے رہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4612]
ابورجاء نے ابوصلت سے روایت کیا کہ ایک شخص نے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، جس میں اس نے ان سے تقدیر کا مسئلہ دریافت کیا، تو انہوں نے جواب لکھا: حمد و صلاۃ کے بعد، میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کیے رہو اور اللہ کے امر میں اعتدال سے کام لو۔ اللہ کے نبی کی سنت کا اتباع کرو اور بدعتیوں کی بدعات سے دور رہو بالخصوص جب امر دین میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت جاری ہو چکی اور اس میں لوگوں کی ضرورت پوری ہو چکی۔ سنت کو لازم پکڑو یقیناً یہی چیز «بِإِذْنِ اللّٰهِ» اللہ کے حکم سے تمہارے لیے (گمراہی سے) بچنے کا سبب ہو گی۔ یاد رکھو! لوگوں نے جس قدر بھی بدعات نکالی ہیں، ان سے پہلے وہ رہنمائی آ چکی جو ان (بدعات) کے خلاف دلیل ہے یا اس میں کوئی نہ کوئی عبرت ہے۔ بلاشبہ سنت اس مقدس ذات نے عطا فرمائی جنہیں علم تھا کہ اس کی مخالفت میں کیا، راوی محمد بن کثیر نے «مَنْ قَدْ عَلِمَ» جس نے جان لیا کے لفظ روایت نہیں کیے۔ خطا، ٹھوکر اور حماقت اور (ہلاکت کی) کھائی ہے۔ لہٰذا اپنے آپ کو اس چیز پر راضی اور مطمئن رکھو جس پر قوم (صحابہ) راضی رہے ہیں، بلاشبہ وہ لوگ علم سے بہرہ ور تھے۔ (جن باتوں سے انہوں نے منع کیا) گہری بصیرت کی بنا پر منع کیا اور ان حقائق کی آگہی پر (جن سے تم بزعم خویش آگاہ ہوئے ہو) وہ لوگ زیادہ قادر تھے اور اپنے فضائل کی بنا پر اس کے زیادہ حقدار تھے۔ اگر حق و ہدایت یہی ہو جسے تم نے سمجھا ہے تو تم گویا ان سے سبقت لے گئے۔ اگر تم یہ کہو کہ یہ امور ان (صحابہ) کے بعد نئے ایجاد ہوئے ہیں تو ان کے ایجاد کرنے والے ان (صحابہ) کی راہ پر نہیں ہیں، بلکہ ان سے اعراض کرنے والے ہیں۔ بلاشبہ وہ صحابہ ہی (حق اور نیکی میں) سبقت لے جانے والے تھے۔ انہوں نے ان امور میں جو بات کی وہی کافی ہے۔ جو بیان کیا اسی میں شفا ہے۔ چنانچہ ان سے کم تر پر رکنا کوتاہی (تفریط) ہے اور ان سے بڑھ کر توضیح کرنا زیادتی یا تھکاوٹ (افراط) ہے (ان کے طرز عمل سے کمی کرنا جائز ہے، نہ ان سے بڑھنا جائز) جنہوں نے کمی کی انہوں نے ظلم کیا اور جو آگے بڑھے انہوں نے غلو کیا۔ جبکہ وہ (صحابہ) ان کے بین بین (اصل) ہدایت اور راہ مستقیم پر تھے۔ تم نے تقدیر کے اقرار کے متعلق لکھ کر پوچھا ہے تو اللہ کے فضل سے تم نے ایک صاحب علم و خبر سے پوچھا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ لوگوں نے جتنی بھی نئی باتیں گھڑی ہیں اور جتنی بھی بدعات ایجاد کی ہیں ان میں تقدیر کے مسئلے سے بڑھ کر بھی کوئی مسئلہ واضح اور دلائل کی رو سے قوی تر ہو، اس کا ذکر تو قدیم ترین ایام جاہلیت میں بھی ہوتا تھا، لوگ اپنی گفتگو اور اپنے اشعار میں اس کا ذکر کرتے تھے، جو چیز انہیں حاصل نہ ہو پاتی تھی، تقدیر کا ذکر کر کے اس سے تسلی پاتے تھے۔ پھر اسلام نے ان کے بعد عقیدہ تقدیر کو مزید (واضح اور) مستحکم کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دو نہیں، متعدد احادیث میں اس کا ذکر کیا ہے۔ مسلمانوں نے آپ سے سن کر آپ کی زندگی میں اور آپ کے بعد بھی اس کے بارے میں گفتگو کی۔ جس میں اللہ رب العزت کے سامنے تسلیم و رضا اور اپنے عجز کا اعتراف کیا کہ کوئی چیز ایسی نہیں جس پر اللہ کا علم محیط نہ ہو، یا کتاب تقدیر میں اس کا شمار نہ ہو، یا اس میں اس کی تقدیر جاری نہ ہوئی ہو۔ ساتھ ہی یہ بات اس کی محکم کتاب (قرآن حکیم) میں بھی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس مسئلہ کو اسی سے اخذ کیا تھا اور یہیں سے وہ اس سے باخبر ہوئے۔ اگر تم کہو اللہ نے فلاں آیت کیوں نازل کی اور اس طرح کیوں کہا؟ تو (ذرا سوچو کہ) انہوں نے (یعنی صحابہ) بھی تو یہی آیات پڑھیں جو تم نے پڑھیں۔ البتہ وہ اس کی تفسیر و تاویل پا گئے جس سے تم جاہل رہے۔ اس کے بعد ان کا قول یہ ہے کہ: یہ سب اللہ کی طرف سے لکھا ہوا اور اس کی تقدیر سے ہے۔ شقاوت اور بدبختی بھی لکھی ہوئی ہے۔ جو کچھ مقدر ہے، ہو جاتا ہے۔ اللہ جو بھی چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ ہم اپنے نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ پھر (اسی اصل پر) وہ اللہ کی طرف راغب رہے اور اسی سے ڈرتے رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19145) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے اس جواب سے بدعت اور سنت کی راہ بالکل واضح ہو گئی اور یہ بات بھی صاف ہو گئی کہ کسی بھی عمل سے پہلے قرآن و سنت کو دیکھنا چاہئے، اگر ان میں نہ ملے تو صحابہ کرام اور تابعین عظام کو دیکھنا چاہئے کہ ان کا عمل اس پر تھا یا نہیں، اگر ہم اس معیار کو اختیار کر لیں تو اللہ کے فضل سے سارے اختلافات دور ہو جائیں اور بے شمار بدعات ہمیشہ کے لئے دم توڑ جائیں، لیکن ہم نے بعد کے لوگوں کی روش کو اپنا رکھا ہے اور بدعات کی گرم بازاری میں مگن ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو الصلت وأبو رجاء مجھولان لم يثبت تعينھما بدليل قويوالثوري مدلسوعنعن عن النضر ابن عربي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 162

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن عبد العزيز الأموي، أبو حفصثقة مأمون
👤←👥أبو الصلت، أبو الصلت
Newأبو الصلت ← عمر بن عبد العزيز الأموي
مجهول
👤←👥أبو رجاء، أبو رجاء
Newأبو رجاء ← أبو الصلت
مجهول
👤←👥قبيصة بن عقبة السوائي، أبو عامر
Newقبيصة بن عقبة السوائي ← أبو رجاء
ثقة
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← قبيصة بن عقبة السوائي
ثقة
👤←👥النضر بن عربي الباهلي، أبو روح، أبو عمرو، أبو عمر
Newالنضر بن عربي الباهلي ← هناد بن السري التميمي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← النضر بن عربي الباهلي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥حماد بن دليل المدائني، أبو زيد
Newحماد بن دليل المدائني ← سفيان الثوري
ثقة
👤←👥أسد بن موسى الأموي، أبو سعيد
Newأسد بن موسى الأموي ← حماد بن دليل المدائني
ثقة
👤←👥الربيع بن سليمان المرادي، أبو محمد
Newالربيع بن سليمان المرادي ← أسد بن موسى الأموي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← الربيع بن سليمان المرادي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري
ثقة
Sunan Abi Dawud Hadith 4612 in Urdu