سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
186. . باب : ما جاء في التطوع في البيت
باب: گھر میں نفل پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1376
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ، فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ مِنْهَا نَصِيبًا، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنی نماز ادا کر لے تو اس میں سے اپنے گھر کے لیے بھی کچھ حصہ رکھے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز کی وجہ سے اس کے گھر میں خیر پیدا کرنے والا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1376]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنی نماز پوری کر لے تو اسے چاہیے کہ اس کا ایک حصہ اپنے گھر کے لیے بھی رکھے کیوں کہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز کی وجہ سے اس کے گھر میں بھلائی عطا فرمائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3985، ومصباح الزجاجة: 483)، ومسند احمد (3/15، 59) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن جابر بن عبد الله الأنصاري ← أبو سعيد الخدري | صحابي | |
👤←👥طلحة بن نافع القرشي، أبو سفيان طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد سليمان بن مهران الأعمش ← طلحة بن نافع القرشي | ثقة حافظ | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← سليمان بن مهران الأعمش | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ جليل | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← محمد بن يحيى الذهلي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1822
| إذا قضى أحدكم الصلاة في مسجده فليجعل لبيته نصيبا من صلاته فإن الله جاعل في بيته من صلاته خيرا |
سنن ابن ماجه |
1376
| إذا قضى أحدكم صلاته فليجعل لبيته منها نصيبا فإن الله جاعل في بيته من صلاته خيرا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1376 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1376
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مردوں کے لئے فرض نماز مسجد میں ادا کرنا ضروری ہے۔
(2)
نفل نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے۔
فرض نمازوں کی سنتیں بھی نوافل میں شامل ہیں۔
(3)
نفل نماز مسجد میں ادا کرنا بھی جائز ہے۔
(4)
گھر میں نفل نماز ادا کرنا گھر میں خیروبرکت کا باعث ہے۔
(5)
عورتیں مسجد میں نمازیں ادا کرسکتی ہیں۔
تاہم ان کا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے۔
اگر وہ جماعت کا ثواب حاصل کرنا چاہیں تو گھر کی عورتیں مل کر باجماعت نماز ادا کرسکتی ہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
مردوں کے لئے فرض نماز مسجد میں ادا کرنا ضروری ہے۔
(2)
نفل نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے۔
فرض نمازوں کی سنتیں بھی نوافل میں شامل ہیں۔
(3)
نفل نماز مسجد میں ادا کرنا بھی جائز ہے۔
(4)
گھر میں نفل نماز ادا کرنا گھر میں خیروبرکت کا باعث ہے۔
(5)
عورتیں مسجد میں نمازیں ادا کرسکتی ہیں۔
تاہم ان کا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے۔
اگر وہ جماعت کا ثواب حاصل کرنا چاہیں تو گھر کی عورتیں مل کر باجماعت نماز ادا کرسکتی ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1376]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1822
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا: ”جب تم میں سے کو ئی اپنی مسجد کی نماز پوری کر لے، تو اپنی نماز سے اپنے گھر کے لیے بھی کچھ حصہ رکھے، کیونکہ اس کی اپنے گھر میں نماز پڑھنے سے اللہ ا س کے گھر میں خیروبھلا ئی پیدا کرے گا۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1822]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
فرض نماز مسجد کا حصہ ہے اور نفل ونوافل اور سنن گھر کا حصہ ہیں،
جو انسان کے گھر میں خیروبرکت اور بھلائی کا باعث بنتے ہیں۔
انسان کے اہل وعیال اس کو دیکھ کر نماز پڑھتے اور سیکھتے ہیں،
اللہ کی رحمت اور اس کے فرشتوں کے نزول سے شیطان اور اس کی ذریت وہاں سے بھاگتی ہے۔
فوائد ومسائل:
فرض نماز مسجد کا حصہ ہے اور نفل ونوافل اور سنن گھر کا حصہ ہیں،
جو انسان کے گھر میں خیروبرکت اور بھلائی کا باعث بنتے ہیں۔
انسان کے اہل وعیال اس کو دیکھ کر نماز پڑھتے اور سیکھتے ہیں،
اللہ کی رحمت اور اس کے فرشتوں کے نزول سے شیطان اور اس کی ذریت وہاں سے بھاگتی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1822]
Sunan Ibn Majah Hadith 1376 in Urdu
جابر بن عبد الله الأنصاري ← أبو سعيد الخدري