سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب : الرجل يطلق امرأته ثلاثا فتزوج فيطلقها قبل أن يدخل بها أترجع إلى الأول
باب: ایک آدمی نے اپنی عورت کو تین طلاق دی، اس نے دوسرے سے شادی کر لی پھر دوسرے شوہر نے جماع سے پہلے اسے طلاق دیدی تو کیا اب وہ پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے؟
حدیث نمبر: 1933
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ رَزِينٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ، فَيُطَلِّقُهَا، فَيَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ، فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا"، أَتَرْجِعُ إِلَى الْأَوَّلِ، قَالَ:" لَا حَتَّى يَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں، جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے، پھر دوسرا شخص اس سے شادی کرے اور دخول سے پہلے اسے طلاق دے، تو کیا وہ پہلے شوہر کے پاس لوٹ سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر اس کا مزہ نہ چکھ لے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1933]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطلاق 12 (3443)، (تحفة الأشراف: 7083)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/25، 62، 85) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3443
| لا حتى تذوق العسيلة |
سنن النسائى الصغرى |
3444
| لا تحل للأول حتى يجامعها الآخر |
سنن ابن ماجه |
1933
| لا حتى يذوق العسيلة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1933 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1933
اردو حاشہ:
فائدہ:
”لذت“ سے مراد مقاربت یعنی عمل زوجیت ہے جیسا کہ گزشتہ فوائد میں تفصیل گزری۔
فائدہ:
”لذت“ سے مراد مقاربت یعنی عمل زوجیت ہے جیسا کہ گزشتہ فوائد میں تفصیل گزری۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1933]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3443
تین طلاق والی عورت کا حلالہ اور اس کے لیے حلال و جائز کر دینے والے نکاح کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آدمی کی بیوی ہوتی ہے وہ اسے طلاق دے دیتا ہے، پھر اس سے دوسرا شخص شادی کر لیتا ہے، پھر وہ دوسرا شخص اس سے جماع کیے بغیر طلاق دے دیتا ہے، تو وہ اپنے پہلے شوہر کی طرف لوٹ جانا چاہتی ہے؟ تو اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عورت ایسا نہیں کر سکتی جب تک کہ اس (دوسرے شوہر) کے شہد کو نہ چکھ لے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3443]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آدمی کی بیوی ہوتی ہے وہ اسے طلاق دے دیتا ہے، پھر اس سے دوسرا شخص شادی کر لیتا ہے، پھر وہ دوسرا شخص اس سے جماع کیے بغیر طلاق دے دیتا ہے، تو وہ اپنے پہلے شوہر کی طرف لوٹ جانا چاہتی ہے؟ تو اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عورت ایسا نہیں کر سکتی جب تک کہ اس (دوسرے شوہر) کے شہد کو نہ چکھ لے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3443]
اردو حاشہ:
ا س سے معلوم ہوا کہ دوسرے خاو ند سے صرف نکاح کرلینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ہم بستری ضروری ہے‘ علاوہ ازیں باقاعدہ آباد ہونے کی نیت سے نکاح کرنا بھی ضروری ہے۔ ان دوشرطوں کے بغیر وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہوسکتی۔
ا س سے معلوم ہوا کہ دوسرے خاو ند سے صرف نکاح کرلینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ہم بستری ضروری ہے‘ علاوہ ازیں باقاعدہ آباد ہونے کی نیت سے نکاح کرنا بھی ضروری ہے۔ ان دوشرطوں کے بغیر وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہوسکتی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3443]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3444
تین طلاق والی عورت کا حلالہ اور اس کے لیے حلال و جائز کر دینے والے نکاح کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں (مغلظہ) دے دیتا ہے پھر اس سے دوسرا آدمی نکاح کر لیتا ہے اور (اسے لے کر) دروازہ بند کر لیتا ہے، پردے گرا دیتا ہے، (کہ کوئی اندر نہ آ سکے) پھر اس سے جماع کیے بغیر اسے طلاق دے دیتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پہلے والے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3444]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں (مغلظہ) دے دیتا ہے پھر اس سے دوسرا آدمی نکاح کر لیتا ہے اور (اسے لے کر) دروازہ بند کر لیتا ہے، پردے گرا دیتا ہے، (کہ کوئی اندر نہ آ سکے) پھر اس سے جماع کیے بغیر اسے طلاق دے دیتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پہلے والے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3444]
اردو حاشہ:
معلوم ہوا کہ اس مسئلے میں خلوت صحیحہ جماع کے قائم مقام نہیں اگرچہ بعض دیگر مسائل میں خلوت صحیحہ کو جماع سمجھا جاتا ہے۔ خلوت صحیحہ یہ ہے کہ خاوند اور بیوی علیحدہ پردے میں ہوں اور جماع سے کوئی شرعی‘ طبی یا اخلاقی رکاوٹ نہ ہو۔
معلوم ہوا کہ اس مسئلے میں خلوت صحیحہ جماع کے قائم مقام نہیں اگرچہ بعض دیگر مسائل میں خلوت صحیحہ کو جماع سمجھا جاتا ہے۔ خلوت صحیحہ یہ ہے کہ خاوند اور بیوی علیحدہ پردے میں ہوں اور جماع سے کوئی شرعی‘ طبی یا اخلاقی رکاوٹ نہ ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3444]
سعيد بن المسيب القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي