🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. باب : ما يحل للرجل إذا رمى جمرة العقبة
باب: جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد آدمی کے لیے حلال ہو جانے والی چیزوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3041
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَوَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ، فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، وَالطِّيبُ، فَقَالَ:" أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَمِّخُ رَأْسَهُ بِالْمِسْكِ، أَفَطِيبٌ ذَلِكَ أَمْ لَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب تم رمی جمار کر چکتے ہو تو ہر چیز سوائے بیوی کے حلال ہو جاتی ہے، اس پر ایک شخص نے کہا: ابن عباس! اور خوشبو؟ تو انہوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر میں مشک ملتے ہوئے دیکھا، کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3041]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الحج 231 (3086)، (تحفة الأشراف: 5397) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی سے فراغت کے بعد پہلی حلت حاصل ہو جاتی ہے یعنی محرم کے لیے خوشبو لگانے، احرام کھولنے اور سلے کپڑے پہننے وغیرہ کی اجازت ہو جاتی ہے، وہ صرف بیوی سے صحبت نہیں کرے یہاں تک کہ وہ طواف افاضہ سے فارغ ہو جائے۔ طواف کے بعد یوم النحر کو جب رمی سے فارغ ہو تو اگر قربانی اس پر واجب ہو تو قربانی کرے، پھر سر منڈوائے یا بال کترواے، اور غسل کرے، اور کپڑے بدلے اور خوشبو لگائے، اور مکہ میں جا کر بیت اللہ کا طواف کرے اس طواف کو طواف افاضہ اور طواف صدر اور طواف زیارہ کہتے ہیں، اور یہ حج کا ایک بڑا رکن ہے اور فرض ہے، پھر منیٰ میں لوٹ آئے اور ظہر منیٰ میں آ کر پڑھے، ایسا ہی حدیث میں وارد ہے، اور اب سب چیزیں حلال ہو گئیں یہاں تک کہ عورتوں سے صحبت کرنا بھی، اور مستحب ہے کہ یہ طواف، رمی، نحر اور حلق کے بعد کیا جائے اگر کسی نے اس طواف کو یوم النحر کو ادا نہ کیا تو ۱۱، یا ۱۲ ذی الحجہ کو کر لے اس پر دم نہ ہو گا، لیکن جب تک یہ طواف نہ کرے گا حج پورا نہ ہو گا، اور عورتیں حلال نہ ہوں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3086)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 486

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥الحسن بن عبد الله العرني
Newالحسن بن عبد الله العرني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥سلمة بن كهيل الحضرمي، أبو يحيى
Newسلمة بن كهيل الحضرمي ← الحسن بن عبد الله العرني
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سلمة بن كهيل الحضرمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة حافظ إمام
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن خلاد الباهلي، أبو بكر
Newمحمد بن خلاد الباهلي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← محمد بن خلاد الباهلي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← علي بن محمد الكوفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3086
رأيت رسول الله يتضمخ بالمسك أفطيب هو
سنن ابن ماجه
3041
يضمخ رأسه بالمسك أفطيب ذلك أم لا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3041 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3041
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  دس ذی الحجہ کو چار کام ہوتے ہیں:

(ا)
بڑے جمرے کو رمی کرنا۔

(ب)
قربانی کرنا
(ج)
سر منڈوانا
(د)
طواف افاضہ کرنا۔

ان چاروں کاموں کی یہ ترتیب مسنون ہے۔
تاہم اگر ان کی یہ ترتیب قائم نہ رہے تب بھی حج درست ہےکوئی فدیہ وغیرہ لازم نہیں آتا۔

(2)
  جمرے کو رمی کرنا پہلا کام ہے۔
اس کی ادائیگی سے احرام کھل جاتا ہے۔
اس لیے طواف افاضہ عام کپڑوں میں کیا جاتا ہے۔

(3)
طواف افاضہ کیے بغیر ازدواجی تعلقات جائزنہیں ہوتے۔

(4)
اگر دس تاریخ کو مغرب سے پہلے طواف افاضہ نہ کیا جاسکے تو بعد میں کیا جاسکتا ہے۔
لیکن اس کے لیے دس تاریخ کو مغرب سے پہلے دوبارہ احرام باندھنا ضروری ہوگا۔ (سنن أبي داؤد حديث: 1999)
تاہم اس طواف کی ادائیگی تک ازدواجی تعلقات پر پابندی قائم رہے گی۔

(5)
مرد کسی بھی قسم کی خوشبو استعمال کرسکتا ہےبشرطیکہ احرام کھول چکا ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3041]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3086
جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد محرم کے لیے کیا کیا چیز حلال ہو جاتی ہے؟
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آدمی نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، تو اس کے لیے سبھی چیزیں حلال ہو گئیں سوائے عورت کے، پوچھا گیا: اور خوشبو؟ تو انہوں نے کہا: ہاں خوشبو بھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشک ملتے ہوئے دیکھا، کیا وہ خوشبو ہے؟ (اگر خوشبو ہے تو خوشبو بھی حلال ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3086]
اردو حاشہ:
یہ 10 ذوالحجہ کی بات ہے۔ مزدلفہ سے منیٰ آتے ہی صرف جمرہ عقبہ کو رمی کی جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر حاجی کے پاس قربانی کا جانور ہے تو اسے ذبح کیا جائے۔ احرام ختم ہے۔ اب وہ حجامت کروائے، نہائے دھوئے خوشبو لگائے، سلے ہوئے کپڑے پہنے حتی کہ طواف زیارت (فرض طواف) بھی احرام کے بغیر کرے گا، البتہ طواف زیارت سے پہلے بیوی سے جماع حرام ہے۔ جب طواف زیارت کر لے تو اب اس کے لیے بیوی بھی حلال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم نحر اور ایام تشریق کو کھانے پینے اور ذکر اللہ کے دن قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 1141)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3086]