🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
81. باب : الوقوف للجنائز
باب: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2001
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ وَاقِدٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ الْقِيَامُ عَلَى الْجَنَازَةِ حَتَّى تُوضَعَ , فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ:" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَعَدَ".
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے جنازے کے لیے جب تک رکھ نہ دیا جائے کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) کھڑے رہتے تھے پھر بیٹھنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2001]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 25 (962)، سنن ابی داود/الجنائز 47 (3175)، سنن الترمذی/الجنائز 52 (1044)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 35 (1544)، (تحفة الأشراف: 10276)، موطا امام مالک/الجنائز 11 (33)، حصحیح مسلم/82، 83، 131، 138 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥مسعود بن الحكم الزرقي، أبو هارون
Newمسعود بن الحكم الزرقي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
له رؤية
👤←👥نافع بن جبير النوفلي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newنافع بن جبير النوفلي ← مسعود بن الحكم الزرقي
ثقة فاضل
👤←👥واقد بن عمرو الأنصاري، أبو عبد الله
Newواقد بن عمرو الأنصاري ← نافع بن جبير النوفلي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← واقد بن عمرو الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2228
قام ثم قعد
صحيح مسلم
2230
قام فقمنا قعد فقعدنا يعني في الجنازة
جامع الترمذي
1044
قام رسول الله ثم قعد
سنن أبي داود
3175
قام في الجنائز ثم قعد بعد
سنن ابن ماجه
1544
قام رسول الله لجنازة فقمنا حتى جلس فجلسنا
سنن النسائى الصغرى
1924
قام رسول الله لجنازة يهودية ولم يعد بعد ذلك
سنن النسائى الصغرى
2001
قام رسول الله ثم قعد
سنن النسائى الصغرى
2002
قام فقمنا رأيناه قعد فقعدنا
مسندالحميدي
50
مسندالحميدي
51
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم إنما قام مرة واحدة ثم لم يعد
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2001 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 2001
2001۔ اردو حاشیہ: یہ بحث پیچھے گزر چکی ہے۔ دیکھیے سنن نسائي حدیث نمبر: 1924 وما بعد۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2001]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1924
کافر اور مشرک کے جنازے کے لیے نہ کھڑے ہونے کی رخصت کا بیان۔
ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے (اتنے میں) ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہو گئے، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوموسیٰ اشعری کا حکم ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت کے جنازے کے لیے کھڑے ہوئے تھے، (پھر) اس کے بعد آپ کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1924]
1924۔ اردو حاشیہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے علم و رؤیت کی بات کر رہے ہیں ورنہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھڑے ہونے کی روایات صراحتاً آئی ہیں۔ قولی روایات اس کے علاوہ ہیں۔ جن میں ہر جنازے کا ذکر ہے۔ ان روایات کے مقابلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ روایت اصول حدیث کی رو سے مرجوح ہے۔ عمل ان روایات ہی پر ہو گا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا: جا سکتا ہے کہ قیام واجب نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1924]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1544
جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا بیان۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوئے، پھر آپ بیٹھ گئے، تو ہم بھی بیٹھ گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1544]
اردو حاشہ:
فائدہ:
حضرت اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے۔
کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونا منسوخ ہے۔
لیکن یہ اس صورت میں ہے جب (قام)
اور (قمنا)
کے لفظ میں استمرار (ایک کام بار بار کرنے)
کا مفہوم سمجھا جائے اور یوں ترجمہ کیا جائے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوتے تھے تو ہم بھی کھڑے ہوتے تھے۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنے لگے تو ہم نے بھی بیٹھنا شروع کردیا۔
لیکن اس کا ایک دوسرا ترجمہ بھی ہوسکتا ہے۔
یعنی (قام)
اور (قمنا)
سے ایک دفعہ کا واقعہ سمجھا جائے تو مطلب یہ ہوگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوگئے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو ہم بھی بیٹھ گئے۔
یعنی جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے ہم بھی کھڑے رہے۔
جب جنازہ گزر گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تب ہم بھی بیٹھ گئے۔
اس صورت میں کھڑا ہونا منسوخ نہیں سمجھاجائے گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1544]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:50
50- عبداللہ بن سخبرہ ازدی بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو لوگ اس کے لیے کھڑے ہوگئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یہ کیا طریقہ ہے؟ لوگوں نے عرض کی: سیدنا ابوموسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیتے ہیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ اس (جنازے) کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہ عمل نہیں کیا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:50]
فائدہ:
اس حدیث میں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے کہ پہلے حکم یہی تھا کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جاتے لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (جنازہ دیکھ کر) کھڑے ہوئے، تو ہم لوگ بھی کھڑے ہوئے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو ہم بھی بیٹھے رہے۔ (صحیح مسلم: 962) مسند أحمد: 82/1 میں ہے کہ «‏‏‏‏كـان رسـول الله أمرنا بالقيام فى الجنازة ثم جلس بعد ذلك وأمرنا بالجلوس» ‏‏‏‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو جناز ہ (دیکھ کر) کھڑے ہونے کا حکم فرمایا تھا، پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھتے اور ہمیں بھی بیٹھنے کا حکم فرماتے۔ ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونا ضروری نہیں ہے۔ پہلے یہ کم تھا لیکن بعد میں یہ منسوخ ہو گیا۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 50]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود3175
جنازہ گزرنے پر کھڑا ہونے والا حکم منسوخ ہے
الموطأ روایۃ ابن القاسم (الاتحاف الباسم) کی حدیث 509:
«مَالِكٌ عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيْدٍ عَنْ وَاقِدِ ابْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ نَافِعٍ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِيْ طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُوْمُ فِي الجَنَائِزِ ثُمَّ جَلَسَ بَعْدُ .»
(سیدنا) علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنازے (دیکھ کر) کھڑے ہو جاتے تھے پھر آپ (جنازہ دیکھنے کے باوجود) بیٹھے رہتے تھے۔
تحقیق: سندہ صحیح
تخریج: الموطأ (روایۃ یحییٰ 1/ 232ح 552، ک 16 ب 11 ح 33) التمہید 23/ 260، الاستذکار: 506
٭ [وأخرجه ابو داود 3175 من حديث مالك، ومسلم 962 من حديث يحييٰ بن سعيد الانصاري به]

تفقہ:
معلوم ہوا کہ جنازہ گزرنے پر کھڑا ہونے والا حکم منسوخ ہے۔ دیکھئے حافظ ابن الجوزی (متوفی 597ھ) کی کتاب: اعلام العالم بعد رسوخہ بحقائق ناسخ الحدیث ومنسوخہ [ص 297]
سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم جنازوں میں حاضر ہوتے تو کوئی آدمی بھی اجازت کے بغیر نہیں بیٹھتا تھا۔ [الموطأ 1/ 233 ح 554 وسنده صحيح]
ابو حازم سلمان الاشجعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حسن بن علی، ابو ہریرہ اور ابن الزبیر (رضی اللہ عنہم) کے ساتھ پیدل چل رہا تھا، وہ جب قبر کے پاس پہنچے تو کھڑے باتیں کرتے رہے پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو بیٹھ گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 3/ 309 ح 11516، وسنده صحيح]
سمعان ابو یحییٰ (قابل اعتماد راوی) سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر (رضی اللہ عنہ) اور ایک آدمی کو دیکھا، وہ جنازہ رکھنے سے پہلے بیٹھ جاتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 3/ 310 ح 11519، وسنده صحيح]
اصل تحریر کے لئے دیکھئے:
الاتحاف الباسم الموطأ روایۃ ابن القاسم حدیث نمبر 509
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 509]