سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. بَابُ : عِدَّةِ الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا
باب: حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3540
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، وَهِيَ حَامِلٌ، قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ: آخِرُ الْأَجَلَيْنِ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ، فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ:" وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ، فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ: أَحَدُهُمَا شَابٌّ، وَالْآخَرُ كَهْلٌ، فَحَطَّتْ إِلَى الشَّابِّ، فَقَالَ الْكَهْلُ: لَمْ تَحْلِلْ، وَكَانَ أَهْلُهَا غُيَّبًا، فَرَجَا إِذَا جَاءَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ بِهَا، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" قَدْ حَلَلْتِ، فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ".
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس عورت (کی عدت) کے بارے میں پوچھا گیا جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو اور وہ (انتقال کے وقت) حاملہ رہی ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جو آخر میں ہو یعنی لمبی ہو اور دوسری کے مقابل میں بعد میں پوری ہوتی ہو ۱؎، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جس وقت عورت بچہ جنے اسی وقت اس کی عدت پوری ہو جائے گی۔ (یہ اختلاف سن کر) ابوسلمہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا۔ تو انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے پندرہ دن بعد بچہ جنا پھر دو آدمیوں نے اسے شادی کرنے کا پیغام دیا، ان دونوں میں سے ایک جوان تھا اور دوسرا ادھیڑ عمر کا، وہ جوان کی طرف مائل ہوئی اور اسے شادی کے لیے پسند کر لیا۔ ادھیڑ عمر والے نے اس سے کہا: تو تم ابھی حلال نہیں ہوئی ہو (شادی کرنے کیسے جا رہی ہو)، اس کے گھر والے غیر موجود تھے ادھیڑ عمر والے نے امید لگائی (کہ میرے ایسا کہنے سے شادی ابھی نہ ہو گی اور) جب لڑکی کے گھر والے آ جائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کا اس کے ساتھ رشتہ کر دینے کو ترجیح دیں (اور سبیعہ کو اس کے ساتھ شادی کر لینے پر راضی کر لیں)۔ لیکن وہ تو (سیدھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم (بچہ جن کر) حلال ہو چکی ہو، تمہارا دل جس سے چاہے اس سے شادی کر لو“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3540]
حضرت ابوسلمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس کا خاوند فوت ہوگیا ہو اور وہ حاملہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ بعد والی عدت پوری کرے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب وہ بچہ جن دے تو اس کی عدت پوری ہوگئی۔ ابوسلمہ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا: حضرت سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات سے نصف ماہ بعد بچہ جن دیا تو دو آدمیوں نے انہیں شادی کا پیغام بھیجا، ان میں سے ایک جوان تھا اور دوسرا بوڑھا۔ وہ جوان کی طرف مائل ہوئیں تو وہ بوڑھا کہنے لگا: تمہاری تو ابھی عدت ہی پوری نہیں ہوئی۔ اصل بات یہ تھی کہ عورت کے گھر والے غائب تھے، اسے امید تھی کہ اگر گھر والے آگئے تو شادی کے معاملے میں اسے ترجیح دیں گے لیکن وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری عدت پوری ہوچکی ہے، جس سے پسند کرے نکاح کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3540]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آیت: «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا» (البقرة: 234) کے مطابق ایک عدت چار مہینہ دس دن کی ہے اور دوسری عدت آیت: «وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن» (الطلاق: 4) کے مطابق وضع حمل ہے۔ ۲؎: گویا ابوہریرہ رضی الله عنہ کا جواب حدیث رسول کی روشنی میں درست تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3723
| أمرها أن تتزوج |
جامع الترمذي |
1194
| أمرها أن تتزوج |
سنن النسائى الصغرى |
3539
| حللت فانكحي من شئت |
سنن النسائى الصغرى |
3540
| حللت فانكحي من شئت |
سنن النسائى الصغرى |
3541
| وضعت بعد وفاة زوجها بعشرين ليلة فأمرها أن تزوج |
سنن النسائى الصغرى |
3542
| وضعت سبيعة الأسلمية بعد وفاة زوجها بيسير فاستفتت رسول الله فأمرها أن تتزوج |
سنن النسائى الصغرى |
3543
| وضعت سبيعة بعد وفاة زوجها بأيام فأمرها رسول الله أن تزوج |
سنن النسائى الصغرى |
3544
| ولدت سبيعة بعد وفاة زوجها بليال فذكرت ذلك لرسول الله فقال قد حللت |
سنن النسائى الصغرى |
3545
| وضعت بعد وفاة زوجها بأيام فأمرها رسول الله أن تتزوج |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3540 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3540
اردو حاشہ:
کسی فتوے اور فیصلے میں ذاتی میلان کی بنا پر جانبداری سے کام نہیں لینا چاہیے۔ اگر جانبداری کا خدشہ ہو تو قاضی اس کیس کی سماعت نہ کرے بلکہ کوئی دوسرا جج جو غیر جانبداری سے فیصلہ کرسکتا ہو‘ اس کیس کی سماعت کرے۔
کسی فتوے اور فیصلے میں ذاتی میلان کی بنا پر جانبداری سے کام نہیں لینا چاہیے۔ اگر جانبداری کا خدشہ ہو تو قاضی اس کیس کی سماعت نہ کرے بلکہ کوئی دوسرا جج جو غیر جانبداری سے فیصلہ کرسکتا ہو‘ اس کیس کی سماعت کرے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3540]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3541
حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنے شوہر کے انتقال کے بیس رات بعد بچہ جنا، کیا اس کے لیے نکاح کر لینا جائز و درست ہو گا؟ انہوں نے کہا: اس وقت تک نہیں جب تک کہ دونوں عدتوں میں سے بعد میں مکمل ہونے والی عدت کو پوری نہ کر لے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: «وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن» یعنی ”جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ بچہ جن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3541]
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنے شوہر کے انتقال کے بیس رات بعد بچہ جنا، کیا اس کے لیے نکاح کر لینا جائز و درست ہو گا؟ انہوں نے کہا: اس وقت تک نہیں جب تک کہ دونوں عدتوں میں سے بعد میں مکمل ہونے والی عدت کو پوری نہ کر لے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: «وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن» یعنی ”جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ بچہ جن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3541]
اردو حاشہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ سوگ کی مدت تو ہر حال میں ضروری ہے اور وضع حمل بھی۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس سے مختلف تھا‘ اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے قول سے رجوع فرما لیا تھا۔ رَضِي اللّٰہُ عَنْه وَأَرْضَاہُ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ سوگ کی مدت تو ہر حال میں ضروری ہے اور وضع حمل بھی۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس سے مختلف تھا‘ اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے قول سے رجوع فرما لیا تھا۔ رَضِي اللّٰہُ عَنْه وَأَرْضَاہُ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3541]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3540 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أم سلمة زوج النبي