سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب : الذباب يقع في الإناء
باب: برتن میں گر جانے والی مکھی کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4267
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَمْقُلْهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اسے اچھی طرح ڈبو دو (پھر اسے نکال کر پھینک دو)“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4267]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطب 31 (3504)، (تحفة الأشراف: 4426) مسند احمد (3/24، 67) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو سعيد الخدري | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥سعيد بن خالد القارظي سعيد بن خالد القارظي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | مقبول | |
👤←👥محمد بن أبي ذئب العامري، أبو الحارث محمد بن أبي ذئب العامري ← سعيد بن خالد القارظي | ثقة فقيه فاضل | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← محمد بن أبي ذئب العامري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص عمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3504
| في أحد جناحي الذباب سم وفي الآخر شفاء فإذا وقع في الطعام فامقلوه فيه فإنه يقدم السم ويؤخر الشفاء |
سنن النسائى الصغرى |
4267
| إذا وقع الذباب في إناء أحدكم فليمقله |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4267 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4267
اردو حاشہ:
(1) کھانے پینے والی کسی چیز یا برتن میں مکھی گر جائے تو اس کا حکم یہ ہے کہ وہ چیز اور برتن پلید نہیں ہوتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکھی کی بابت حکم فرمایا ہے کہ اس کو ڈبو دیا جائے اور پھر ڈبو کو نکال پھینکا جائے۔
(2) اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ مکھی زندہ ہو یا مردہ، وہ پاک ہوتی ہے۔
(3) ”ڈبو کر“ ڈبونے سے اس کے مرنے کا امکان ہے۔ معلوم ہوا مکھی وغیرہ (جن میں خون کثیر مقدار میں نہیں ہوتا) کے مرنے سے مشروب پلید نہیں ہو گا۔
(4) رسول صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم سے دیگر روایات میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ مکھی کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہے۔ اور مکھی کسی چیز میں گرتے وقت وہ پر پہلے لگاتی ہے جس میں بیماری ہے، لہٰذا تم دوسرا پر بھی ڈبو دو تاکہ بیماری کا علاج ساتھ ہو جائے۔ (صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3320، و سنن أبي داود، الأطعمة، حدیث: 3844)
(5) بعض حضرات نے اس حدیث پر اعتراض کیا ہے کہ مکھی تو گندی چیزوں پر بیٹھتی ہے۔ پھر کھانے پینے والی چیزوں کو خراب کرتی ہے، لہٰذا مکھی کو ڈبونے سے تو مزید خرابی پیدا ہو گی۔ ان معترض حضرات کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود مکھی سے نہیں بچ سکتے اور نہ اس کی خرابی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال مہربانی فرماتے ہوئے اس کا علاج تجویز فرمایا ہے تو کیا برا کیا ہے؟ باقی رہی یہ چیز کہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ شہد کی مکھی میں شہد بھی ہے اور زہر بھی۔ جانوروں میں دودھ بھی ہے اور گوبر بھی، نیز یہ عملی تجربہ ہے کہ بھڑ وغیرہ کاٹ لے تو اس کو وہیں جسم پر مسل دینے سے زہر ختم ہو جاتا ہے۔ کیوں نہ ایک سچے نبی کی بات کو صدق دل سے مان لیا جائے؟ فداہ نفسي و روحي۔ صلی اللہ علیہ وسلم
(1) کھانے پینے والی کسی چیز یا برتن میں مکھی گر جائے تو اس کا حکم یہ ہے کہ وہ چیز اور برتن پلید نہیں ہوتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکھی کی بابت حکم فرمایا ہے کہ اس کو ڈبو دیا جائے اور پھر ڈبو کو نکال پھینکا جائے۔
(2) اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ مکھی زندہ ہو یا مردہ، وہ پاک ہوتی ہے۔
(3) ”ڈبو کر“ ڈبونے سے اس کے مرنے کا امکان ہے۔ معلوم ہوا مکھی وغیرہ (جن میں خون کثیر مقدار میں نہیں ہوتا) کے مرنے سے مشروب پلید نہیں ہو گا۔
(4) رسول صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم سے دیگر روایات میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ مکھی کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہے۔ اور مکھی کسی چیز میں گرتے وقت وہ پر پہلے لگاتی ہے جس میں بیماری ہے، لہٰذا تم دوسرا پر بھی ڈبو دو تاکہ بیماری کا علاج ساتھ ہو جائے۔ (صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3320، و سنن أبي داود، الأطعمة، حدیث: 3844)
(5) بعض حضرات نے اس حدیث پر اعتراض کیا ہے کہ مکھی تو گندی چیزوں پر بیٹھتی ہے۔ پھر کھانے پینے والی چیزوں کو خراب کرتی ہے، لہٰذا مکھی کو ڈبونے سے تو مزید خرابی پیدا ہو گی۔ ان معترض حضرات کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود مکھی سے نہیں بچ سکتے اور نہ اس کی خرابی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال مہربانی فرماتے ہوئے اس کا علاج تجویز فرمایا ہے تو کیا برا کیا ہے؟ باقی رہی یہ چیز کہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ شہد کی مکھی میں شہد بھی ہے اور زہر بھی۔ جانوروں میں دودھ بھی ہے اور گوبر بھی، نیز یہ عملی تجربہ ہے کہ بھڑ وغیرہ کاٹ لے تو اس کو وہیں جسم پر مسل دینے سے زہر ختم ہو جاتا ہے۔ کیوں نہ ایک سچے نبی کی بات کو صدق دل سے مان لیا جائے؟ فداہ نفسي و روحي۔ صلی اللہ علیہ وسلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4267]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4267 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو سعيد الخدري