🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : الإصابة في الحكم
باب: صحیح فیصلہ کرنے پر اجر و ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5383
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ، فَلَهُ أَجْرٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم فیصلہ (کا ارادہ) کرے اور اجتہاد سے کام لے پھر وہ صحیح فیصلہ تک پہنچ جائے تو اس کے لیے دو اجر ہیں، اور اگر اجتہاد کرنے میں غلطی کر بیٹھے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5383]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاعتصام 21 (7352)، صحیح مسلم/الأقضیة (1716)، سنن ابی داود/الأقضیة 2(3574)، سنن الترمذی/الاحکام 2 (1326)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 3 (2314)، (تحفة الأشراف: 10748)، مسند احمد (4/198، 204) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حاکم مراد وہ حاکم ہے جو عالم ہونے کے ساتھ ساتھ فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو، قدیم و جدید سارے علما مجتہدین کے اجتہادات کا بھی یہی حکم ہے۔ کسی غلط فیصلہ یا اجتہاد کا گناہ حاکم یا عالم یا امام پر تو نہیں ہو گا، مگر جان بوجھ کر کسی امام یا عالم کے کسی فتوے پر اڑے رہ جانے والوں کو ضرور گناہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن عمرو الأنصاري، أبو عبد الملك، أبو سليمان، أبو القاسم
Newمحمد بن عمرو الأنصاري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
له رؤية
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← محمد بن عمرو الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← سفيان الثوري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1326
إذا حكم الحاكم فاجتهد فأصاب فله أجران وإذا حكم فأخطأ فله أجر واحد
سنن النسائى الصغرى
5383
إذا حكم الحاكم فاجتهد فأصاب فله أجران وإذا اجتهد فأخطأ فله أجر
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5383 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5383
اردو حاشہ:
انسان کے بس میں کوشش ہی ہے۔ اگر وہ کوشش کرے تو اسے کوشش کا ثواب ضرور ملتا ہے، نتیجہ حاصل ہو یا نہ کیونکہ نتیجہ انسان کے اختیار میں نہیں۔ حسن نیت اور کوشش ہی اصل ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5383]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1326
قاضی صحیح فیصلے کرتا ہے، اور اس سے غلطی بھی ہوتی ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم (قاضی) خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے ۱؎ اور جب فیصلہ کرے اور غلط ہو جائے تو (بھی) اس کے لیے ایک اجر ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1326]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ایک غوروفکرکرنے اورحق تک پہنچنے کی کوشش کرنے کا اوردوسرا صحیح بات تک پہنچنے کا۔

2؎:
اسے صرف اس کی جدوجہداورسعی وکوشش کا اجرملے گاجوحق کی تلاش میں اس نے صرف کی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1326]