🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب من لم ير الوضوء إلا من المخرجين، من القبل والدبر:
باب: اس بارے میں کہ بعض لوگوں کے نزدیک صرف پیشاب اور پاخانے کی راہ سے کچھ نکلنے سے وضو ٹوٹتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 180
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ قُحِطْتَ فَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ" تَابَعَهُ وَهْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَلَمْ يَقُلْ غُنْدَرٌ، وَيَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ الْوُضُوءُ.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہمیں نضر نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے حکم کے واسطے سے بتلایا، وہ ذکوان سے، وہ ابوصالح سے، وہ ابو سعید خدری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری کو بلایا۔ وہ آئے تو ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا۔ انہوں نے کہا، جی ہاں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی جلدی (کا کام) آ پڑے یا تمہیں انزال نہ ہو تو تم پر وضو ہے (غسل ضروری نہیں)۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 180]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری آدمی کو بلایا، وہ اس حالت میں حاضر ہوا کہ اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید ہم نے تجھے جلدی میں ڈال دیا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تجھے جلدی میں مبتلا کر دیا جائے یا انزال کو روک دیا جائے تو تجھ پر صرف وضو کر لینا ضروری ہے۔ نضر کی وہب نے متابعت کی اور کہا کہ یہ حدیث ہم سے شعبہ نے بیان کی، نیز غندر اور یحییٰ نے شعبہ سے وضو نقل نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 180]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 132
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُنْذِرٍ الْثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيِّ، قَالَ:" كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: فِيهِ الْوُضُوءُ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ ابن داؤد نے اعمش کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے منذر ثوری سے نقل کیا، انہوں نے محمد ابن الحنفیہ سے نقل کیا، وہ علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایسا شخص تھا جسے جریان مذی کی شکایت تھی، تو میں نے (اپنے شاگرد) مقداد کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں۔ تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس (مرض) میں غسل نہیں ہے (ہاں) وضو فرض ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 132]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میری مذی بہت نکلا کرتی تھی، میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھیں، چنانچہ انہوں نے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مذی کے لیے وضو کرنا چاہیے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 132]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 178
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُنْذِرٍ أَبِي يَعْلَى الْثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدٍ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ:" كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: فِيهِ الْوُضُوءُ"، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے اعمش کے واسطے سے بیان کیا، وہ منذر سے، وہ ابویعلیٰ ثوری سے، وہ محمد ابن الحنفیہ سے نقل کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ایسا آدمی تھا جس کو سیلان مذی کی شکایت تھی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے مجھے شرم آئی۔ تو میں نے ابن الاسود کو حکم دیا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں وضو کرنا فرض ہے۔ اس روایت کو شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 178]
حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری مذی بکثرت خارج ہوتی تھی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کرنے میں مجھے شرم آتی تھی، اس لیے میں نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم مسئلہ دریافت کرو، انہوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں صرف وضو ہے۔ اور اس حدیث کو شعبہ نے بھی اعمش سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 178]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 269
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ رَجُلًا أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ، فَسَأَلَ، فَقَالَ:" تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے ابوحصین کے واسطہ سے، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سے، انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ مجھے مذی بکثرت آتی تھی، چونکہ میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی (فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا) تھیں۔ اس لیے میں نے ایک شخص (مقداد بن اسود اپنے شاگرد) سے کہا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق مسئلہ معلوم کریں انہوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کر اور شرمگاہ کو دھو (یہی کافی ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 269]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے مذی بکثرت آتی تھی۔ چونکہ میرے گھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں، اس لیے میں نے ایک شخص سے کہا کہ وہ آپ سے اس کے متعلق سوال کرے۔ انہوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کر لو اور اپنے عضوِ مخصوص کو دھو لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 269]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 286
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْقُدُ وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَتْ:" نَعَمْ، وَيَتَوَضَّأُ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام اور شیبان نے، وہ یحییٰ سے، وہ ابوسلمہ سے کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں گھر میں سوتے تھے؟ کہا ہاں لیکن وضو کر لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 286]
حضرت ابوسلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بحالتِ جنابت گھر میں سو جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، لیکن وضو کر لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 286]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 287
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، سَأَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْقُدْ وَهُوَ جُنُبٌ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے نافع سے، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ فرمایا ہاں، وضو کر کے جنابت کی حالت میں بھی سو سکتے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 287]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وضو کر کے بحالت جنابت سو سکتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 287]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 288
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ غَسَلَ فَرْجَهُ وَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ بن ابی الجعد کے واسطے سے، انہوں نے محمد بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے عروہ سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں ہوتے اور سونے کا ارادہ کرتے تو شرمگاہ کو دھو لیتے اور نماز کی طرح وضو کرتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 288]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بحالت جنابت سونا چاہتے تو پہلے اپنی شرمگاہ کو دھوتے، پھر وضو کرتے جو نماز کے لیے کیا جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 288]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 289
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: اسْتَفْتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِذَا تَوَضَّأَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے نافع سے، وہ عبداللہ بن عمر سے، کہا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا ہم جنابت کی حالت میں سو سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں لیکن وضو کر کے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 289]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا: آیا ہم میں سے کوئی حالتِ جنابت میں سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب وضو کر لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 289]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 290
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، ثُمَّ نَمْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ رات میں انہیں غسل کی ضرورت ہو جایا کرتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کر لیا کر اور شرمگاہ کو دھو کر سو جا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 290]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ اسے (ابن عمر رضی اللہ عنہما کو) رات کے کسی حصے میں جنابت لاحق ہو جاتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: وضو کر لو اور اپنا عضو دھو لو، پھر سو جاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 290]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 292
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ الْحُسَيْنِ، قَالَ يَحْيَى: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَلَمْ يُمْنِ، قَالَ عُثْمَانُ:" يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ"، قَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَأَمَرُوهُ بِذَلِكَ، قَالَ يَحْيَى: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے حسین بن ذکوان معلم کے واسطہ سے، ان کو یحییٰ نے کہا مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے خبر دی، ان کو عطا بن یسار نے خبر دی، انہیں زید بن خالد جہنی نے بتایا کہ انھوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ مرد اپنی بیوی سے ہمبستر ہوا لیکن انزال نہیں ہوا تو وہ کیا کرے؟ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نماز کی طرح وضو کر لے اور ذکر کو دھو لے اور عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے۔ میں نے اس کے متعلق علی بن ابی طالب، زبیر بن العوام، طلحہ بن عبیداللہ، ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا یحییٰ نے کہا اور ابوسلمہ نے مجھے بتایا کہ انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہ یہ بات انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 292]
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ہمبستری کرے مگر انزال نہ ہو تو اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ وضو کرے جیسا کہ نماز کے لیے وضو کرتا ہے اور اپنے عضو مخصوص کو دھو لے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا ہے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے پھر اس کے متعلق حضرت علی بن ابی طالب، حضرت زبیر بن عوام، حضرت طلحہ بن عبیداللہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہی فیصلہ دیا۔ یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ نے کہا: مجھے ابوسلمہ رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے بتایا، انہیں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 292]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 293
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أَيُّوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَلَمْ يُنْزِلْ؟ قَالَ:" يَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: الْغَسْلُ أَحْوَطُ وَذَاكَ الْآخِرُ، وَإِنَّمَا بَيَّنَّا لِاخْتِلَافِهِمْ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے ہشام بن عروہ سے، کہا مجھے خبر دی میرے والد نے، کہا مجھے خبر دی ابوایوب نے، کہا مجھے خبر دی ابی بن کعب نے کہ انھوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! جب مرد عورت سے جماع کرے اور انزال نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت سے جو کچھ اسے لگ گیا اسے دھو لے پھر وضو کرے اور نماز پڑھے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا غسل میں زیادہ احتیاط ہے اور یہ آخری احادیث ہم نے اس لیے بیان کر دیں (تاکہ معلوم ہو جائے کہ) اس مسئلہ میں اختلاف ہے اور پانی (سے غسل کر لینا ہی) زیادہ پاک کرنے والا ہے۔ (نوٹ: یہ اجازت ابتداء اسلام میں تھی بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 293]
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب کوئی مرد اپنی بیوی سے ہمبستر ہو اور اسے انزال نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس مقام کو دھو لے جس سے عورت کو مس کیا تھا، پھر وضو کرے اور نماز پڑھ لے۔ امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ غسل کرنے میں ہی احتیاط ہے۔ یہ آخری روایت ہم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اختلاف کی وجہ سے بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 293]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں