صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب شهادة المرضعة:
باب: دودھ کی ماں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2660
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ:" تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ دَعْهَا عَنْكَ أَوْ نَحْوَهُ".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا عمر بن سعید سے، وہ ابن ابی ملیکہ سے، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی تھی۔ پھر ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا۔ اس لیے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہیں بتا دیا گیا (کہ ایک ہی عورت تم دونوں کی دودھ کی ماں ہے) تو پھر اب اور کیا صورت ہو سکتی ہے اپنی بیوی کو اپنے سے جدا کر دے۔“ یا اسی طرح کے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2660]
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی، ایک عورت آئی اور کہنے لگی: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”جب یہ بات کہہ دی گئی ہے تو اب کیا ہو سکتا ہے؟ اس عورت کو اپنے سے علیحدہ کر دو۔“ یا اس جیسا کوئی کلمہ ارشاد فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2660]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 88
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ،" أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ، فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ: مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ أَرْضَعْتِنِي وَلَا أَخْبَرْتِنِي، فَرَكِبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ، فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ، وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ".
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہیں عبداللہ نے خبر دی، انہیں عمر بن سعید بن ابی حسین نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے عقبہ ابن الحارث کے واسطے سے نقل کیا کہ عقبہ نے ابواہاب بن عزیز کی لڑکی سے نکاح کیا تو ان کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے عقبہ کو اور جس سے اس کا نکاح ہوا ہے، اس کو دودھ پلایا ہے۔ (یہ سن کر) عقبہ نے کہا، مجھے نہیں معلوم کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تو نے کبھی مجھے بتایا ہے۔ تب عقبہ سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کس طرح (تم اس لڑکی سے رشتہ رکھو گے) حالانکہ (اس کے متعلق یہ) کہا گیا تب عقبہ بن حارث نے اس لڑکی کو چھوڑ دیا اور اس نے دوسرا خاوند کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 88]
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ابواہاب بن عزیز کی بیٹی سے نکاح کیا تو ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے عقبہ اور اس کی بیوی کو دودھ پلایا ہے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے تو علم نہیں کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ پہلے تو نے اس کی خبر دی۔ پھر حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ آ گئے اور آپ سے مسئلہ پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تو اس عورت سے) کیسے (صحبت کرے گا) جبکہ ایسی بات کہی گئی ہے؟“ آخر حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 88]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2052
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ؟، جَاءَتْ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا، فَذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَيْفَ؟ وَقَدْ قِيلَ: وَقَدْ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ أَبِي إِهَابٍ التَّمِيمِيِّ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ ایک سیاہ فام خاتون آئیں اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ان دونوں (عقبہ اور ان کی بیوی) کو دودھ پلایا ہے۔ عقبہ نے اس امر کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا اور مسکرا کر فرمایا۔ اب جب کہ ایک بات کہہ دی گئی تو تم دونوں ایک ساتھ کس طرح رہ سکتے ہو۔ ان کے نکاح میں ابواہاب تمیمی کی صاحب زادی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2052]
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان سے منہ پھیر لیا اور مسکراتے ہوئے فرمایا: ”تم اس عورت کو (بطور بیوی) کیسے رکھ سکتے ہو جبکہ تمہارے بارے میں ایسا کہا گیا ہے؟“ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کی بیوی ابواہاب تمیمی کی بیٹی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2052]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2640
حَدَّثَنَا حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ، فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ: مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ أَرْضَعْتِنِي وَلَا أَخْبَرْتِنِي، فَأَرْسَلَ إِلَى آلِ أَبِي إِهَابٍ يَسْأَلُهُمْ، فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَا أَرْضَعَتْ صَاحِبَتَنَا، فَرَكِبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ فَفَارَقَهَا وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ".
ہم سے حبان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو عمر بن سعید بن ابی حسین نے خبر دی، کہا کہ مجھے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی اور انہیں عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے ابواہاب بن عزیز کی لڑکی سے شادی کی تھی۔ ایک خاتون آئیں اور کہنے لگیں کہ عقبہ کو بھی میں نے دودھ پلایا ہے اور اسے بھی جس سے اس نے شادی کی ہے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے تو معلوم نہیں کہ آپ نے مجھے دودھ پلایا ہے اور آپ نے مجھے پہلے اس سلسلے میں کچھ بتایا بھی نہیں تھا۔ پھر انہوں نے آل ابواہاب کے یہاں آدمی بھیجا کہ ان سے اس کے متعلق پوچھے۔ انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے دودھ پلایا ہے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اب کیا ہو سکتا ہے جب کہ کہا جا چکا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں جدائی کرا دی اور اس کا نکاح دوسرے شخص سے کرا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2640]
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ابو اہاب بن عزیز کی دختر سے نکاح کیا تو ان کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی: میں نے عقبہ اور اس کی منکوحہ (دونوں) کو دودھ پلایا ہے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تو نے (اس سے پہلے) مجھے خبر دی ہے، پھر انہوں نے ابو اہاب کے خاندان کی طرف صورت حال کی وضاحت کے لیے پیغام بھیجا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا کہ اس عورت نے ہماری بیٹی کو دودھ پلایا ہو۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سوار ہو کر مدینہ طیبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم اسے کیسے رکھ سکتے ہو، جبکہ (رضاعت کی) بات کہی جا چکی ہے۔“ چنانچہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون سے علیحدگی اختیار کر لی اور اس نے کسی اور سے نکاح کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2640]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2659
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ. ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ، أَوْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ" أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ، قَالَ: فَجَاءَتْ أَمَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، قَالَ: فَتَنَحَّيْتُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: وَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنْ قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا، فَنَهَاهُ عَنْهَا".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے، وہ ابن بی ملیکہ سے، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، کہا کہ مجھ سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، یا (یہ کہا کہ) میں نے یہ حدیث ان سے سنی کہ انہوں نے ام یحیی بنت ابی اہاب سے شادی کی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ایک سیاہ رنگ والی باندی آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف سے منہ پھیر لیا پس میں جدا ہو گیا۔ میں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جا کر اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اب (نکاح) کیسے (باقی رہ سکتا ہے) جبکہ تمہیں اس عورت نے بتا دیا ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ام یحییٰ کو اپنے ساتھ رکھنے سے منع فرما دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2659]
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام یحییٰ بنت ابواہاب سے شادی کر لی تو ایک سیاہ فام لونڈی آئی اور کہنے لگی: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ نے اپنا رخ دوسری طرف پھیر لیا، چنانچہ میں بھی اس طرف سے ہٹ گیا۔ پھر میں نے دوبارہ آپ سے اسی بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”اب یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ اس عورت کا دعویٰ ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے؟“ پھر آپ نے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کو اس رشتے سے روک دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2659]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5105
وَقَالَ لَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَرُمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ، وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ، ثُمَّ قَرَأَ: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ سورة النساء آية 23 الْآيَةَ، وَجَمَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ بَيْنَ ابْنَةِ عَلِيٍّ وَامْرَأَةِ عَلِيٍّ، وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: لَا بَأْسَ بِهِ، وَكَرِهَهُ الْحَسَنُ مَرَّةً، ثُمَّ قَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ، وَجَمَعَ الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَيْنَ ابْنَتَيْ عَمٍّ فِي لَيْلَةٍ، وَكَرِهَهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ لِلْقَطِيعَةِ، وَلَيْسَ فِيهِ تَحْرِيمٌ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ سورة النساء آية 24، وَقَالَ عِكْرِمَةُ: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" إِذَا زَنَى بِأُخْتِ امْرَأَتِهِ، لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ"، وَيُرْوَى عَنْ يَحْيَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، وأَبِي جَعْفَرٍ، فِيمَنْ يَلْعَبُ بِالصَّبِيِّ، إِنْ أَدْخَلَهُ فِيهِ، فَلَا يَتَزَوَّجَنَّ أُمَّهُ، ويَحْيَى هَذَا غَيْرُ مَعْرُوفٍ وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ:" إِذَا زَنَى بِهَا لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ"، وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي نَصْرٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَرَّمَهُ، وأَبُو نَصْرٍ هَذَا لَمْ يُعْرَفْ بِسَمَاعِهِ مِنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَيُرْوَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، والْحَسَنِ، وَبَعْضِ أَهْلِ الْعِرَاقِ تَحْرُمُ عَلَيْهِ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" لَا تَحْرُمُ حَتَّى يُلْزِقَ بِالْأَرْضِ يَعْنِي يُجَامِعَ" وَجَوَّزَهُ ابْنُ الْمُسَيَّبِ، وعُرْوَةُ، والزُّهْرِيُّ، وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ عَلِيٌّ: لَا تَحْرُمُ، وَهَذَا مُرْسَلٌ.
اور امام احمد بن حنبل نے مجھ سے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، انہوں نے سفیان ثوری سے، کہا مجھ سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا خون کی رو سے تم پر سات رشتے حرام ہیں اور شادی کی وجہ سے (یعنی سسرال کی طرف سے) سات رشتے بھی۔ انہوں نے یہ آیت پڑھی «حرمت عليكم أمهاتكم» آخر تک۔ اور عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب نے علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی زینب اور علی کی بی بی (لیلٰی بنت مسعود) دونوں سے نکاح کیا، ان کو جمع کیا اور ابن سیرین نے کہا اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور امام حسن بصری نے ایک بار تو اسے مکروہ کہا پھر کہنے لگے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب نے اپنے دونوں چاچاؤں (یعنی محمد بن علی اور عمرو بن علی) کی بیٹیوں کو ایک ساتھ میں نکاح میں لے لیا اور جابر بن زید تابعی نے اس کو مکروہ جانا، اس خیال سے کہ بہنوں میں جلاپا نہ پیدا ہو مگر یہ کچھ حرام نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «وأحل لكم ما وراء ذلكم» کہ ان کے سوا اور سب عورتیں تم کو حلال ہیں۔ اور عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ اگر کسی نے اپنی سالی سے زنا کیا تو اس کی بیوی (سالی کی بہن) اس پر حرام نہ ہو گی۔ اور یحییٰ بن قیس کندی سے روایت ہے، انہوں نے شعبی اور جعفر سے، دونوں نے کہا اگر کوئی شخص لواطت کرے اور کسی لونڈے کے دخول کر دے تو اب اس کی ماں سے نکاح نہ کرے۔ اور یحییٰ راوی مشہور شخص نہیں ہے اور نہ کسی اور نے اس کے ساتھ ہو کر یہ روایت کی ہے اور عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اگر کسی نے اپنی ساس سے زنا کیا تو اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہو گی۔ اور ابونصر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حرام ہو جائے گی اور اس راوی ابونصر کا حال معلوم نہیں۔ اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے یا نہیں (لیکن ابوزرعہ نے اسے ثقہ کہا ہے) اور عمران بن حصین اور جابر بن زید اور حسن بصری اور بعض عراق والوں (امام ثوری اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ) کا یہی قول ہے کہ حرام ہو جائے گی۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا حرام نہ ہو گی جب تک اس کی ماں (اپنی خوشدامن) کو زمین سے نہ لگا دے (یعنی اس سے جماع نہ کرے) اور سعید بن مسیب اور عروہ اور زہری نے اس کے متعلق کہا ہے کہ اگر کوئی ساس سے زنا کرے تب بھی اس کی بیٹی یعنی زنا کرنے والے کی بیوی اس پر حرام نہ ہو گی (اس کو رکھ سکتا ہے) اور زہری نے کہا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کی جورو اس پر حرام نہ ہو گی اور یہ روایت منقطع ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 5105]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نسب سے سات عورتیں حرام ہیں اور سسرال کے ذریعے بھی سات عورتیں حرام ہیں“ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ﴾ [سورة النساء: 23] «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ» ”تم پر تمہاری مائیں حرام ہیں۔۔۔۔۔۔“ حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ان کی بیوی دونوں سے نکاح کر کے بیک وقت اپنے پاس رکھا۔ حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا: ”اس میں کوئی قباحت نہیں۔“ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے ایک بار تو اسے مکروہ کہا پھر کہنے لگے: ”اس میں چنداں حرج نہیں۔“ حضرت حسن بن حسن بن علی رحمہ اللہ نے اپنے دونوں چچا کی دو بیٹیوں کو ایک ساتھ اپنے نکاح میں ایک رات جمع کیا۔ حضرت جابر بن زید (تابعی) رحمہ اللہ نے اسے مکروہ خیال کیا کیونکہ اس میں قطع رحمی کا اندیشہ ہے لیکن حرام نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] «وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ» ”مذکورہ محرمات کے علاوہ باقی عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سالی سے زنا کرنے سے بیوی حرام نہیں ہوتی۔“ یحییٰ کندی، امام شعبی رحمہ اللہ اور ابو جعفر رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ ”جس نے کسی بچے کے ساتھ برا کام کیا تو اس کی ماں کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا۔“ یحییٰ کندی غیر معروف آدمی ہے اور اس مسئلے میں اس کی متابعت نہیں کی گئی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”اگر کسی نے ساس سے زنا کیا تو اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوگی“ لیکن ابو نصر نامی راوی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ”بیوی حرام ہو جائے گی“ لیکن ابو نصر کا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سماع معروف نہیں۔ البتہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، جابر بن زید رحمہ اللہ، حسن بصری رحمہ اللہ اور بعض اہل عراق سے مروی ہے کہ ”بیوی اس پر حرام ہو جاتی ہے۔“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بیوی حرام نہیں ہوگی تا آنکہ اس کی ماں کو زمین سے ملا دے، یعنی اس سے جماع کرے۔“ سعید بن مسیب رحمہ اللہ، حضرت عروہ رحمہ اللہ اور امام زہری رحمہ اللہ نے اسے (مذکورہ صورت میں بیوی کے ساتھ رہنا) جائز قرار دیا ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ”حرام نہیں ہوتی“ لیکن یہ مرسل روایت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 5105]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة