🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. باب قول الله تعالى: {ولقد يسرنا القرآن للذكر} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ القمر میں) فرمان ”اور ہم نے قرآن مجید کو سمجھنے یا یاد کرنے کے لیے آسان کر دیا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7551
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ يَزِيدُ، حَدَّثَنِي مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِيمَا يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ؟، قَالَ: كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے، ان سے یزید نے کہ مجھ سے مطرف بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عمران رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے کہا یا رسول اللہ! پھر عمل کرنے والے کس لیے عمل کرتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص کے لیے اس عمل میں آسانی پیدا کر دی گئی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7551]
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! پھر لوگ عمل کس لیے کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص کے لیے اس عمل میں آسانی پیدا کر دی گئی ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7551]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1362
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَأَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ , وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ فَنَكَّسَ فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ , ثُمَّ قَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا كُتِبَ مَكَانُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَإِلَّا قَدْ كُتِبَ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ، فَمَنْ كَانَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ، قَالَ: أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ الشَّقَاوَةِ، ثُمَّ قَرَأَ: فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى سورة الليل آية 5".
ہم سے عثمان ابن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے منصور بن معتمر نے بیان کیا ‘ ان سے سعد بن عبیدہ نے ‘ ان سے ابوعبدالرحمٰن عبداللہ بن حبیب نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم بقیع غرقد میں ایک جنازہ کے ساتھ تھے۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کریدنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہیں یا کوئی جان ایسی نہیں جس کا ٹھکانا جنت اور دوزخ دونوں جگہ نہ لکھا گیا ہو اور یہ بھی کہ وہ نیک بخت ہو گی یا بدبخت۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کیوں نہ ہم اپنی تقدیر پر بھروسہ کر لیں اور عمل چھوڑ دیں کیونکہ جس کا نام نیک دفتر میں لکھا ہے وہ ضرور نیک کام کی طرف رجوع ہو گا اور جس کا نام بدبختوں میں لکھا ہے وہ ضرور بدی کی طرف جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ جن کا نام نیک بختوں میں ہے ان کو اچھے کام کرنے میں ہی آسانی معلوم ہوتی ہے اور بدبختوں کو برے کاموں میں آسانی نظر آتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فأما من أعطى واتقى‏» الآية‏۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 1362]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم ایک جنازے کے ساتھ بقیع غرقد میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب تشریف لا کر بیٹھ گئے اور ہم لوگ بھی آپ کے گرد بیٹھ گئے۔ آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ آپ نے اپنا سر جھکا لیا اور چھڑی سے زمین کریدنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا جاندار نہیں جس کی جگہ جنت یا دوزخ میں نہ لکھی گئی ہو اور ہر شخص کا نیک بخت یا بدنصیب ہونا بھی لکھا گیا ہے۔ اس پر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر ہم اس نوشتے (لکھے ہوئے) پر اعتماد کر کے عمل چھوڑ نہ دیں، کیونکہ ہم میں سے جو شخص خوش نصیب ہوگا وہ اہل سعادت کے عمل کی طرف رجوع کرے گا اور جو شخص بدبخت ہوگا وہ اہل شقاوت کے عمل کی طرف رجوع کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سعید کو عملِ سعادت کی توفیق دی جاتی ہے اور شقی کے لیے عملِ شقاوت آسان کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى * وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى * فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى﴾ [سورة الليل: 5-7] پھر جو شخص صدقہ دے گا اور پرہیز گاری اختیار کرے گا، نیز عمدہ بات کی تصدیق کرے گا (تو ہم اسے ضرور آسانی (عملِ سعادت) کی توفیق دیں گے)۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 1362]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4945
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فِي جَنَازَةٍ، فَقَالَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَتَّكِلُ؟ فَقَالَ:" اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى إِلَى قَوْلِهِ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 5 - 10.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بقیع الغرقد (مدینہ منورہ کے قبرستان) میں ایک جنازہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا کہ تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا ٹھکانا جنت یا جہنم میں لکھا نہ جا چکا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کیوں نہ ہم اپنی تقدیر پر بھروسہ کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کہ ہر شخص کو اسی عمل کی توفیق ملتی رہتی ہے (جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «فأما من أعطى واتقى * وصدق بالحسنى‏» آخر تک پڑھی۔ یعنی ہم اس کے لیے نیک کام آسان کر دیں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4945]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بقیعِ غرقد میں ایک جنازے کے ساتھ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا نہیں مگر اس کا ٹھکانا جنت میں اور دوزخ میں لکھ دیا گیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا پھر ہم اسی پر بھروسا نہ کر لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عمل کرتے رہو، ہر انسان جس کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس کے مطابق اسے توفیق دی جائے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ * وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ * فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ * وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ * وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ * فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ﴾ [سورة الليل: 5-10] جس نے مال دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور بھلی باتوں کی تصدیق کی (تو ہم اسے آسان راہ پر چلنے کی سہولت دیں گے اور جس نے بخل کیا اور بے پروا بنا رہا اور بھلائی کو جھٹلایا تو ہم اسے تنگی کے رستے پر چلنے کی سہولت دیں گے)۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4945]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4946
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ فِي جَنَازَةٍ، فَأَخَذَ عُودًا يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ، فَقَالَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ، أَوْ مِنَ الْجَنَّةِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَتَّكِلُ؟ قَالَ:" اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى {5} وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى {6} سورة الليل آية 5-6 الْآيَةَ، قَالَ شُعْبَةُ: وَحَدَّثَنِي بِهِ مَنْصُورٌ، فَلَمْ أُنْكِرْهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ.
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان اعمش نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے، آپ نے ایک لکڑی اٹھائی اور اس سے زمین کریدتے ہوئے فرمایا کہ تم میں کوئی شخص ایسا نہیں جس کا جنت یا دوزخ کا ٹھکانا لکھا نہ جا چکا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا پھر ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کہ ہر شخص کو توفیق دی گئی ہے (انہیں اعمال کی جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے) «فأما من أعطى واتقى * وصدق بالحسنى‏» سو جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات کو سچا سمجھا آخر آیت تک۔ شعبہ نے بیان کیا کہ مجھ سے یہ حدیث منصور بن معتمر نے بھی بیان کی اور انہوں نے بھی سلیمان اعمش سے اسی کے موافق بیان کی، اس میں کوئی خلاف نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4946]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی اٹھائی اور اس سے زمین کریدنے لگے، پھر فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جس کا جنت یا دوزخ میں ٹھکانا نہ لکھا جا چکا ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا پھر ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عمل کرتے رہو، ہر شخص کو (جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے اس کی) توفیق دی گئی ہے۔ ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ * وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ * فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ﴾ [سورة الليل: 5-7] جس شخص نے دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات کی تصدیق کی تو اسے ہم آسان راستے کی سہولت دیں گے۔ شعبہ رحمہ اللہ نے کہا: مجھ سے یہ حدیث منصور نے بیان کی، انہوں نے بھی سلیمان اعمش سے مروی حدیث کے کوئی خلاف نہیں کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4946]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4947
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ"، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَتَّكِلُ؟ قَالَ:" لَا، اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى إِلَى قَوْلِهِ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 5 - 10".
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم میں کوئی ایسا نہیں جس کا جہنم کا ٹھکانا اور جنت کا ٹھکانا لکھا نہ جا چکا ہو۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ہم اسی پر بھروسہ کیوں نہ کر لیں؟ فرمایا نہیں عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص کو آسانی دی گئی ہے اور اس کے بعد آپ نے اس آیت کی تلاوت کی «فأما من أعطى واتقى * وصدق بالحسنى * فسنيسره لليسرى‏» یعنی سو جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات کو سچا سمجھا اس کے لیے راحت کی چیز آسان کر دیں گے۔ تا «فسنيسره للعسرى‏» ۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4947]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جس کا جہنم میں اور جنت میں ٹھکانا لکھا نہ جا چکا ہو۔ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! پھر ہم اسی پر بھروسا کیوں نہ کر لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تم عمل کرتے رہو کیونکہ ہر آدمی کو توفیق دی گئی ہے (جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات پڑھیں: ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ ﴿5﴾ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿6﴾ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ ﴿7﴾ وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ ﴿8﴾ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿9﴾ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ ﴿10﴾ [سورة الليل: 5-10] ۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4947]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4948
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ، فَنَكَّسَ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ وَمَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ، إِلَّا كُتِبَ مَكَانُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَإِلَّا قَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً"، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ، فَمَنْ كَانَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ، قَالَ:" أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاءِ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى {5} وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى {6} سورة الليل آية 5-6 الْآيَةَ".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے بیان کیا، اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم بقیع الغرقد میں ایک جنازہ کے ساتھ تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے۔ آپ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے چاروں طرف بیٹھ گئے۔ آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی۔ آپ نے سر جھکا لیا پھر چھڑی سے زمین کو کریدنے لگے۔ پھر فرمایا کہ تم میں کوئی شخص ایسا نہیں، کوئی پیدا ہونے والی جان ایسی نہیں جس کا جنت اور جہنم کا ٹھکانا لکھا نہ جا چکا ہو۔ یہ لکھا جا چکا ہے کہ کون نیک ہے اور کون برا ہے۔ ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کیا حرج ہے اگر ہم اپنی اسی تقدیر پر بھروسہ کر لیں اور نیک عمل کرنا چھوڑ دیں جو ہم میں نیک ہو گا، وہ نیکیوں کے ساتھ جا ملے گا اور جو برا ہو گا اس سے بروں کے سے اعمال ہو جائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ نیک ہوتے ہیں انہیں نیکوں ہی کے عمل کی توفیق حاصل ہوتی ہے اور جو برے ہوتے ہیں انہیں بروں ہی جیسے عمل کرنے کی توفیق ہوتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فأما من أعطى واتقى * وصدق بالحسنى‏» یعنی سو جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات کو سچا سمجھا سو ہم اس کے لیے نیک کاموں کو آسان کر دیں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4948]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم بقیع غرقد میں ایک جنازے کے ساتھ تھے۔ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے۔ آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ آپ نے سر مبارک جھکا لیا، پھر چھڑی سے زمین کریدنے لگے اور فرمایا: تم میں سے کوئی پیدا ہونے والی جان ایسی نہیں جس کا جنت میں اور جہنم میں ٹھکانا لکھا نہ جا چکا ہو، یعنی یہ لکھا جا چکا ہے کہ کون نیک بخت ہے اور کون بدبخت ہے۔ ایک آدمی نے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر ہم اس نوشتے (لکھے ہوئے) پر بھروسا کر لیں اور عمل چھوڑ دیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ جو ہم میں سے نیک ہو گا وہ نیکوں کے ساتھ جا ملے گا اور جو برا ہو گا وہ بروں کے سے عمل کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ نیک ہوتے ہیں انہیں نیکیوں ہی کے عمل کی توفیق ملتی ہے اور جو برے ہوتے ہیں، انہیں بروں کے عمل کرنے کی توفیق ملتی ہے۔ پھر آپ نے یہ آیات ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ ۝ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ﴾ [سورة الليل: 5-6] پڑھیں: پھر جس نے مال دیا اور پرہیزگاری اختیار کی اور بھلی باتوں کی تصدیق کی۔۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4948]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4949
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَأَخَذَ شَيْئًا فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِهِ الْأَرْضَ، فَقَالَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ؟ قَالَ:" اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ، فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى {5} وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى {6} سورة الليل آية 5-6 الْآيَةَ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سعد بن عبیدہ سے سنا، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی بیان کرتے تھے کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں تشریف رکھتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چیز لی اور اس سے زمین کریدنے لگے اور فرمایا، تم میں کوئی ایسا شخص نہیں جس کا جہنم کا ٹھکانا یا جنت کا ٹھکانا لکھا نہ جا چکا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! تو پھر ہم کیوں اپنی تقدیر پر بھروسہ نہ کر لیں اور نیک عمل کرنا چھوڑ دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیک عمل کرو، ہر شخص کو ان اعمال کی توفیق دی جاتی ہے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے جو شخص نیک ہو گا اسے نیکوں کے عمل کی توفیق ملی ہوتی ہے اور جو بدبخت ہوتا ہے اسے بدبختوں کے عمل کی توفیق ملتی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «فأما من أعطى واتقى * وصدق بالحسنى‏» آخر تک پڑھی یعنی سو جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات کو سچا سمجھا، سو ہم اس کے لیے نیک عملوں کو آسان کر دیں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4949]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں تشریف رکھتے تھے۔ پھر آپ نے کوئی چیز پکڑی اور اس سے زمین کریدنے لگے، پھر فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جس کا جہنم میں ٹھکانا یا جنت میں ٹھکانا لکھا نہ جا چکا ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! تو پھر اس نوشتہ تقدیر (تقدیر کے لکھے) پر بھروسا کر لیں اور عمل کرنا چھوڑ دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عمل کرتے رہو۔ ہر شخص کو ان اعمال کی توفیق دی جاتی ہے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ جو شخص نیک ہو گا اسے نیکوں کے عمل کی توفیق ملی ہوتی ہے اور جو بدبخت ہو گا، اسے بدبختوں کے عمل کی توفیق ملی ہوتی ہے۔ پھر آپ نے یہ آیات پڑھیں: ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ * وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ﴾ [سورة الليل: 5-6] جس نے دیا اور تقویٰ اختیار کیا، پھر اچھی بات کی تصدیق کی۔۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4949]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6217
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ الْأَرْضَ بِعُودٍ، فَقَالَ:" لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ فُرِغَ مِنْ مَقْعَدِهِ مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ"، فَقَالُوا: أَفَلَا نَتَّكِلُ. قَالَ:" اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى سورة الليل آية 5" الْآيَةَ..
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان و منصور نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس کو آپ زمین پر مار رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کا جنت یا دوزخ کا ٹھکانا طے نہ ہو چکا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: پھر کیوں نہ ہم اس پر بھروسہ کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص جس ٹھکانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کو ویسی ہی توفیق دی جائے گی۔ جیسا کہ قرآن شریف کے سورۃ واللیل میں ہے «فأما من أعطى واتقى‏» جس نے للہ خیرات کی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا آخر تک۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6217]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم ایک جنازے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ (آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی) آپ چھڑی سے زمین کریدنے لگے۔ پھر آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا جنت یا دوزخ میں ٹھکانا طے نہ ہو چکا ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: کیا ہم اس پر توکل نہ کر لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کرو، کیونکہ ہر شخص جس ٹھکانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اسے ویسی ہی توفیق دی جائے گی۔ (ارشادِ باری تعالیٰ ہے:) ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ﴾ [سورة الليل: 5] بہرحال جس نے دیا اور اللہ سے ڈر گیا۔۔۔۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6217]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6596
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، يُحَدِّثُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُعْرَفُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَلِمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ، قَالَ:" كُلٌّ يَعْمَلُ لِمَا خُلِقَ لَهُ، أَوْ لِمَا يُسِّرَ لَهُ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید رشک نے بیان کیا، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے سنا، وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ ایک صاحب نے (یعنی خود انہوں نے) عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا جنت کے لوگ جہنمیوں میں سے پہچانے جا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں انہوں نے کہا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جس کے لیے اسے سہولت دی گئی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6596]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا جنتی لوگ اہل جہنم سے پہچانے جا چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس نے عرض کی: پھر عمل کرنے والے عمل کیوں کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جو اس کے لیے آسان کیا گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6596]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6605
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عُودٌ يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ وَقَالَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا قَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ أَوْ مِنَ الْجَنَّةِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَلَا نَتَّكِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" لَا اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى سورة الليل آية 5 الْآيَةَ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اسی اثناء میں) فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص کا جہنم کا یا جنت کا ٹھکانا لکھا جا چکا ہے، ایک مسلمان نے اس پر عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کیوں نہ ہم اس پر بھروسہ کر لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں عمل کرو کیونکہ ہر شخص (اپنی تقدیر کے مطابق) عمل کی آسانی پاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فأما من أعطى واتقى‏» الآیہ پس جس نے راہ للہ دیا اور تقویٰ اختیار کیا ... الخ۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6605]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کا جنت و جہنم میں ٹھکانا لکھا جا چکا ہے۔ حاضرین میں سے ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! پھر ہم کیوں نہ اس پر بھروسا کر لیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، تم عمل کرو (جس کے لیے انسان پیدا کیا گیا ہے) اس کے لیے وہ چیز آسان کر دی گئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ﴾ [سورة الليل: 5] جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا آخر تک۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6605]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7552
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، سَمِعَا سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ فِي جَنَازَةٍ، فَأَخَذَ عُودًا، فَجَعَلَ يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ، فَقَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ، أَوْ مِنَ الْجَنَّةِ، قَالُوا: أَلَا نَتَّكِلُ؟، قَالَ: اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى سورة الليل آية 5.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور اور اعمش نے، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے سنا، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن اسلمیٰ سے اور انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے پھر آپ نے ایک لکڑی لی اور اس سے زمین کریدنے لگے۔ پھر فرمایا تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا ٹھکانہ جہنم میں یا جنت میں لکھا نہ جا چکا ہو۔ صحابہ نے کہا: پھر ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص کے لیے اس عمل میں آسانی پیدا کر دی گئی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «فأما من أعطى واتقى‏» کہ جس شخص نے بخشش کی اور تقویٰ اختیار کیا آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7552]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ایک لکڑی پکڑ لی اور اس سے زمین کریدنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی جگہ دوزخ یا جنت میں لکھ دی گئی ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: کیا ہم اسی پر بھروسا نہ کر لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عمل کرتے رہو، ہر عمل آسان کر دیا گیا ہے (جس کے لیے انسان پیدا کیا گیا ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ﴾ [سورة الليل: 5] جس شخص نے اللہ کی راہ میں دیا اور تقویٰ اختیار کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7552]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں