🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب من تسوك بسواك غيره:
باب: جو شخص دوسرے کی مسواک استعمال کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 890
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" دَخَلَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَهُ سِوَاكٌ يَسْتَنُّ بِهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَعْطِنِي هَذَا السِّوَاكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَأَعْطَانِيهِ فَقَصَمْتُهُ، ثُمَّ مَضَغْتُهُ فَأَعْطَيْتُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَنَّ بِهِ وَهُوَ مُسْتَسْنِدٌ إِلَى صَدْرِي".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سلیمان بن ہلال نے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے میرے باپ عروہ بن زبیر نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر (ایک مرتبہ) آئے۔ ان کے ہاتھ میں مسواک تھی جسے وہ استعمال کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری کی حالت میں ان سے کہا عبدالرحمٰن یہ مسواک مجھے دیدے۔ انہوں نے دے دی۔ میں نے اس کے سرے کو پہلے توڑا یعنی اتنی لکڑی نکال دی جو عبدالرحمٰن اپنے منہ سے لگایا کرتے تھے، پھر اسے چبا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دانت صاف کئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے سینے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 890]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما آئے اور ان کے پاس مسواک تھی جسے وہ استعمال کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو میں نے ان سے کہا: اے عبدالرحمٰن! یہ مسواک مجھے دے دو۔ انہوں نے مسواک مجھے دے دی۔ میں نے اسے (دانتوں سے) توڑا، پھر اسے چبا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی۔ آپ نے اس سے دانت صاف کیے جبکہ آپ اس وقت میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 890]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1389
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ هِشَامٍ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَتَعَذَّرُ فِي مَرَضِهِ، أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ؟، أَيْنَ أَنَا غَدًا اسْتِبْطَاءً لِيَوْمِ عَائِشَةَ؟، فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي قَبَضَهُ اللَّهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَدُفِنَ فِي بَيْتِي".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا اور ان سے ہشام بن عروہ نے (دوسری سند۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابومروان یحییٰ بن ابی زکریا نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں گویا اجازت لینا چاہتے تھے (دریافت فرماتے) آج میری باری کن کے یہاں ہے۔ کل کن کے یہاں ہو گی؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن کے متعلق خیال فرماتے تھے کہ بہت دن بعد آئے گی۔ چنانچہ جب میری باری آئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اس حال میں قبض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور میرے ہی گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دفن کئے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 1389]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرضِ وفات میں بار بار اظہارِ خیال فرماتے: میں آج کہاں ہوں؟ کل کہاں ہوں گا؟ ایسا عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی باری کو بہت دور خیال کرنے کی وجہ سے کرتے تھے۔ بالآخر جب میرا دن آیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے پہلو اور سینے کے درمیان قبض کیا اور آپ میرے گھر ہی میں دفن ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 1389]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3100
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: قَالَتْ: عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَفِي نَوْبَتِي وَبَيْن سَحْرِي وَنَحْرِي وَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِسِوَاكٍ فَضَعُفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ، ثُمَّ سَنَنْتُهُ بِهِ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے نافع نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر ‘ میری باری کے دن ‘ میرے حلق اور سینے کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے وفات پائی ‘ اللہ تعالیٰ نے (وفات کے وقت) میرے تھوک اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوک کو ایک ساتھ جمع کر دیا تھا ‘ بیان کیا (وہ اس طرح کہ) عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ (عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی) مسواک لیے ہوئے اندر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے چبا نہ سکے۔ اس لیے میں نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور میں نے اسے چبانے کے بعد وہ مسواک آپ کے دانتوں پر ملی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 3100]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گھر میں ہوئی اور میری باری کے دن ہوئی جبکہ آپ کا سر مبارک میری گردن اور میرے سینے کے درمیان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آخری وقت میں میرے اور آپ کے تھوک مبارک کو جمع فرما دیا۔ وہ اس طرح کہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ مسواک لے کر حاضر ہوئے، چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے استعمال سے کمزور تھے تو میں نے مسواک کو پکڑا اور اسے چبایا پھر آپ کو مسواک کرائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 3100]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3774
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ فِي مَرَضِهِ جَعَلَ يَدُورُ فِي نِسَائِهِ، وَيَقُولُ:" أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا غَدًا" , حِرْصًا عَلَى بَيْتِ عَائِشَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي سَكَنَ".
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں بھی ازواج مطہرات کی باری کی پابندی فرماتے رہے البتہ یہ دریافت فرماتے رہے کہ کل مجھے کس کے یہاں ٹھہرنا ہے؟ کیونکہ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے خواہاں تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب میرے یہاں قیام کا دن آیا تو آپ کو سکون ہوا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 3774]
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مرضِ وفات میں تھے تو ہر روز اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے گھروں میں تشریف لے جاتے اور فرماتے: «أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا؟» میں کل کہاں ہوں گا؟ میں کل کہاں ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر آنے کی خواہش تھی۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میری باری آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکون ہوا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 3774]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4438
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ:" دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي وَمَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سِوَاكٌ رَطْبٌ يَسْتَنُّ بِهِ، فَأَبَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ، فَأَخَذْتُ السِّوَاكَ فَقَصَمْتُهُ وَنَفَضْتُهُ وَطَيَّبْتُهُ، ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَنَّ بِهِ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَنَّ اسْتِنَانًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ، فَمَا عَدَا أَنْ فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَهُ أَوْ إِصْبَعَهُ، ثُمَّ قَالَ:" فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى ثَلَاثًا"، ثُمَّ قَضَى، وَكَانَتْ، تَقُولُ: مَاتَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي".
ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی نے بیان کیا۔ کہا ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، ان سے صخر بن جویریہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد (قاسم بن محمد) نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ (ان کے بھائی) عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ایک تازہ مسواک استعمال کے لیے تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسواک کی طرف دیکھتے رہے۔ چنانچہ میں نے ان سے مسواک لے لی اور اسے اپنے دانتوں سے چبا کر اچھی طرح جھاڑنے اور صاف کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی۔ آپ نے وہ مسواک استعمال کی جتنے عمدہ طریقہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسواک کر رہے تھے، میں نے آپ کو اتنی اچھی طرح مسواک کرتے کبھی نہیں دیکھا۔ مسواک سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے اپنا ہاتھ یا اپنی انگلی اٹھائی اور فرمایا۔ «في الرفيق الأعلى» تین مرتبہ، اور آپ کا انتقال ہو گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان میں تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 4438]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے ایک اور روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے کا سہارا دے کر بیٹھی تھی۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے پاس تازہ مسواک تھی جس سے وہ اپنے دانتوں کو صاف کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیر تک دیکھتے رہے۔ میں نے وہ مسواک (ان سے) لے کر چبائی اور اسے جھاڑ کر صاف اور نرم کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اپنے دانتوں کو صاف کیا۔ میں نے اس سے پہلے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح اچھی مسواک کرتے نہیں دیکھا۔ پھر مسواک سے فارغ ہوتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ یا انگلی اٹھائی اور تین مرتبہ فرمایا: اے اللہ! میں اچھے رفقاء کی رفاقت چاہتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 4438]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4446
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَبَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي، فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید بن الہاد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان (سر رکھے ہوئے) تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کی شدت سکرات) دیکھنے کے بعد اب میں کسی کے لیے بھی نزع کی شدت کو برا نہیں سمجھتی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 4446]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک وفات کے وقت میری ٹھوڑی اور سینے کے درمیان تھا۔ اور جب سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر موت کی سختی دیکھی ہے، اس کے بعد موت کی سختی کو کسی کے لیے برا نہیں سمجھتی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 4446]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4449
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ أَبَا عَمْرٍو ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَقُولُ: إِنَّ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ عَلَيَّ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ فِي بَيْتِي، وَفِي يَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَأَنَّ اللَّهَ جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ، دَخَلَ عَلَيَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَبِيَدِهِ السِّوَاكُ، وَأَنَا مُسْنِدَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ السِّوَاكَ، فَقُلْتُ: آخُذُهُ لَكَ؟ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَنْ: نَعَمْ، فَتَنَاوَلْتُهُ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: أُلَيِّنُهُ لَكَ؟ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَنْ: نَعَمْ، فَلَيَّنْتُهُ، فَأَمَرَّهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ أَوْ عُلْبَةٌ يَشُكُّ عُمَرُ فِيهَا مَاءٌ، فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْمَاءِ، فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ، يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ"، ثُمَّ نَصَبَ يَدَهُ فَجَعَلَ، يَقُولُ:" فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى"، حَتَّى قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ.
مجھ سے محمد بن عبید نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید نے، انہیں ابن ابی ملیکہ نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمرو ذکوان نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں، اللہ کی بہت سی نعمتوں میں ایک نعمت مجھ پر یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گھر میں اور میری باری کے دن ہوئی۔ آپ اس وقت میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت میرے اور آپ کے تھوک کو ایک ساتھ جمع کیا تھا کہ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ گھر میں آئے تو ان کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسواک کو دیکھ رہے ہیں۔ میں سمجھ گئی کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں، اس لیے میں نے آپ سے پوچھا، یہ مسواک آپ کے لیے لے لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے اشارہ سے اثبات میں جواب دیا، میں نے وہ مسواک ان سے لے لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے چبا نہ سکے، میں نے پوچھا آپ کے لیے میں اسے نرم کر دوں؟ آپ نے سر کے اشارہ سے اثبات میں جواب دیا۔ میں نے مسواک نرم کر دی۔ آپ کے سامنے ایک بڑا پیالہ تھا، چمڑے کا یا لکڑی کا (راوی حدیث) عمر کو اس سلسلے میں شک تھا، اس کے اندر پانی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باربار اپنے ہاتھ اس کے اندر داخل کرتے اور پھر انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے اور فرماتے «لا إله إلا الله» ۔ موت کے وقت شدت ہوتی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اٹھا کر کہنے لگے «في الرفيق الأعلى» یہاں تک کہ آپ رحلت فرما گئے اور آپ کا ہاتھ جھک گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 4449]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے ایک احسان مجھ پر یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری باری کے دن میرے گھر میں وفات پائی۔ وفات کے وقت آپ کا سر مبارک میرے سینے اور گردن کے درمیان تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے آخری وقت میرا اور آپ کا لعابِ دہن ملا دیا کیونکہ (میرے بھائی) حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ ایک تازہ مسواک پکڑے گھر میں داخل ہوئے۔ میں اس وقت آپ کو سہارا دیے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا کہ آپ مسواک کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہے ہیں اور مجھے معلوم تھا کہ آپ مسواک کو بہت پسند کرتے تھے۔ میں نے عرض کی: یہ مسواک آپ کے لیے لے لوں؟ آپ نے سر مبارک سے اشارہ کر کے فرمایا: ہاں۔ چنانچہ میں نے وہ مسواک لے کر آپ کو دی لیکن آپ کو سخت محسوس ہوئی، اس لیے میں نے کہا: میں اسے آپ کے لیے نرم کر دوں؟ آپ نے سر کے اشارے سے فرمایا: ہاں۔ لہٰذا میں نے اسے چبا کر نرم کر دیا۔ پھر آپ نے اسے دانتوں پر پھیرا اور آپ کے سامنے چمڑے یا لکڑی کا ایک بڑا پیالہ تھا۔ (راویِ حدیث) عمر کو شک ہے، اس (پیالے) میں پانی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ مبارک (بار بار) اس (پانی والے برتن) میں داخل کرتے اور (انہیں تر کر کے) اپنے چہرہ انور پر پھیرتے اور فرماتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، موت کی بڑی سختیاں ہوتی ہیں۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اٹھا کر فرمایا: «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَىٰ» اے اللہ! مجھے رفیقِ اعلیٰ سے ملا دے۔ حتٰی کہ آپ کی روح مبارک پرواز کر گئی اور ہاتھ نیچے جھک گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 4449]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4450
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، يَقُولُ:" أَيْنَ أَنَا غَدًا، أَيْنَ أَنَا غَدًا؟" يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدُورُ عَلَيَّ فِيهِ فِي بَيْتِي، فَقَبَضَهُ اللَّهُ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي، وَخَالَطَ رِيقُهُ رِيقِي، ثُمَّ قَالَتْ: دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَهُ سِوَاكٌ يَسْتَنُّ بِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَعْطِنِي هَذَا السِّوَاكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْطَانِيهِ، فَقَضِمْتُهُ، ثُمَّ مَضَغْتُهُ، فَأَعْطَيْتُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَنَّ بِهِ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى صَدْرِي.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ مرض الموت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے رہتے تھے کہ کل میرا قیام کہاں ہو گا، کل میرا قیام کہاں ہو گا؟ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے منتظر تھے، پھر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر قیام کی اجازت دے دی اور آپ کی وفات انہیں کے گھر میں ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آپ کی وفات اسی دن ہوئی جس دن قاعدہ کے مطابق میرے یہاں آپ کے قیام کی باری تھی۔ رحلت کے وقت سر مبارک میرے سینے پر تھا اور میرا تھوک آپ کے تھوک کے ساتھ ملا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما داخل ہوئے اور ان کے ہاتھ میں استعمال کے قابل مسواک تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو میں نے کہا: عبدالرحمٰن! یہ مسواک مجھے دے دو۔ انہوں نے مسواک مجھے دے دی۔ میں نے اسے اچھی طرح چبایا اور جھاڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، پھر آپ نے وہ مسواک کی، اس وقت آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 4450]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرضِ موت میں پوچھتے رہتے تھے: کل میرا قیام کہاں ہو گا؟ کل میں کہاں رہوں گا؟ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے منتظر تھے۔ آخر کار تمام ازواجِ مطہرات نے آپ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر قیام کی اجازت دے دی اور آپ کی وفات انہی کے گھر میں ہوئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ کی وفات اسی دن ہوئی جس دن قاعدے کے مطابق میرے ہاں قیام کی باری تھی۔ رحلت کے وقت آپ کا سر مبارک میرے سینے اور گردن کے درمیان تھا اور میرا لعاب آپ کے لعابِ دہن سے مل گیا تھا۔ پھر فرمایا: اس دوران میں حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور ان کے پاس مسواک تھی جسے وہ استعمال کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو میں نے کہا: عبدالرحمٰن! یہ مسواک مجھے دو۔ انہوں نے وہ مسواک مجھے دے دی تو میں نے اسے اچھی طرح چبایا اور اسے جھاڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی تو آپ نے وہ مسواک استعمال کی۔ اس وقت آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 4450]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4451
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَكَانَتْ إِحْدَانَا تُعَوِّذُهُ بِدُعَاءٍ إِذَا مَرِضَ، فَذَهَبْتُ أُعَوِّذُهُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، وَقَالَ:"فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى"، وَمَرَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ جَرِيدَةٌ رَطْبَةٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ بِهَا حَاجَةً فَأَخَذْتُهَا، فَمَضَغْتُ رَأْسَهَا وَنَفَضْتُهَا فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ، فَاسْتَنَّ بِهَا كَأَحْسَنِ مَا كَانَ مُسْتَنًّا، ثُمَّ نَاوَلَنِيهَا فَسَقَطَتْ يَدُهُ أَوْ سَقَطَتْ مِنْ يَدِهِ، فَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَةِ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گھر میں، میری باری کے دن ہوئی۔ آپ اس وقت میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ جب آپ بیمار پڑے تو ہم آپ کی صحت کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔ اس بیماری میں بھی میں آپ کے لیے دعا کرنے لگی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اور آپ کا سر آسمان کی طرف اٹھا ہوا تھا «في الرفيق الأعلى في الرفيق الأعلى» اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک تازہ ٹہنی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ وہ ٹہنی میں نے ان سے لے لی۔ پہلے میں نے اسے چبایا، پھر صاف کر کے آپ کو دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مسواک کی، جس طرح پہلے آپ مسواک کیا کرتے تھے اس سے بھی اچھی طرح سے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مسواک مجھے عنایت فرمائی اور آپ کا ہاتھ جھک گیا، یا (راوی نے یہ بیان کیا کہ) مسواک آپ کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوک کو اس دن جمع کر دیا جو آپ کی دنیا کی زندگی کا سب سے آخری اور آخرت کی زندگی کا سب سے پہلا دن تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 4451]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گھر میں اور میری باری کے دن ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے سینے اور گردن کے درمیان تھے۔ ہماری عادت تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو ہم میں سے کوئی آپ کے لیے دعائیں پڑھ کر شفا طلب کرتی تھی، چنانچہ میں آپ کے لیے شفا کی دعا کرنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمانے لگے: «فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَىٰ، فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَىٰ» رفیقِ اعلیٰ میں، رفیقِ اعلیٰ میں۔ اس دوران حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ پاس سے گزرے جبکہ ان کے ہاتھ میں کھجور کی تازہ مسواک تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نگاہ اٹھائی تو میں نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک چاہتے ہیں۔ میں نے مسواک پکڑی، اس کا کنارہ چبایا اور نرم کر کے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ مسواک کی اور بہت اچھی مسواک کی۔ پھر وہ مجھے دینے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک نیچے جھک گیا یا مسواک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے گر پڑی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے دنیا کے آخری دن اور آخرت کے پہلے دن میرے لعاب دہن اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن کو جمع کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 4451]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5217
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدُورُ عَلَيَّ فِيهِ فِي بَيْتِي فَقَبَضَهُ اللَّهُ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي وَخَالَطَ رِيقُهُ رِيقِي".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس مرض میں وفات ہوئی، اس میں آپ پوچھا کرتے تھے کہ کل میری باری کس کے یہاں ہے؟ کل میری باری کس کے یہاں ہے؟ آپ کو عائشہ کی باری کا انتظار تھا۔ چنانچہ آپ کی تمام ازواج نے آپ کو اس کی اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں بیماری کے دن گزاریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر آ گئے اور یہیں آپ کی وفات ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی دن وفات ہوئی جو میری باری کا دن تھا اور اللہ تعالیٰ کا یہ بھی احسان دیکھو اس نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میرے سینے پر تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن میرے لعاب دہن سے ملا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 5217]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس بیماری میں وفات ہوئی اس میں پوچھا کرتے تھے: کل میری باری کس کے پاس ہے؟ میں کل کہاں ہوں گا؟ آپ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار تھا، چنانچہ آپ کو تمام ازواج نے اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں آرام فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کا انتخاب کیا حتیٰ کہ ان کے ہاں آپ کی وفات ہوئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن وفات پائی جس دن میرے گھر میں آپ کے آنے کی باری تھی۔ یہ (حسن اتفاق تھا کہ) اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو وفات دی تو آپ کا سر مبارک میرے سینے اور گردن کے درمیان تھا اور آپ کا لعاب دہن میرے لعاب دہن سے مل گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 5217]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6510
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ أَبَا عَمْرٍو ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ أَوْ عُلْبَةٌ فِيهَا مَاءٌ، يَشُكُّ عُمَرُ، فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْمَاءِ، فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ وَيَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ"، ثُمَّ نَصَبَ يَدَهُ، فَجَعَلَ يَقُولُ:" فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى"، حَتَّى قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: الْعُلْبَةُ مِنَ الْخَشَبِ، وَالرَّكْوَةُ مِنَ الْأَدَمِ.
ہم سے محمد بن عبید بن میمون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابن ابی ملیکہ نے خبر دی، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمرو ذکوان نے خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی وفات کے وقت) آپ کے سامنے ایک بڑا پانی کا پیالہ رکھا ہوا تھا جس میں پانی تھا۔ یہ عمر کو شبہ ہوا کہ ہانڈی کا کونڈا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس برتن میں ڈالتے اور پھر اس ہاتھ کو اپنے چہرہ پر ملتے اور فرماتے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بلاشبہ موت میں تکلیف ہوتی ہے، پھر آپ اپنا ہاتھ اٹھا کر فرمانے لگے «في الرفيق الأعلى» یہاں تک کہ آپ کی روح مبارک قبض ہو گئی اور آپ کا ہاتھ جھک گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 6510]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کے سامنے لکڑی یا چمڑے کا ایک بڑا برتن تھا جس میں پانی تھا۔ عمر بن سعید کو شک ہے۔ آپ اپنا ہاتھ اس پانی میں ڈالتے، پھر اس ہاتھ کو اپنے چہرے پر پھیرتے اور فرماتے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، بلاشبہ موت بہت سی تکلیفوں پر مشتمل ہے۔ پھر آپ نے اپنا دست مبارک اوپر اٹھایا اور فرمایا: «فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى» رفیقِ اعلیٰ کو پسند کرتا ہوں۔ یہاں تک کہ آپ کی روح قبض کر لی گئی اور آپ کا ہاتھ مبارک نیچے ڈھلک گیا۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ علبہ لکڑی کا اور رکوہ چمڑے کا برتن ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 6510]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں