صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
31. باب الامر بتسوية القبر:
باب: قبر کو برابر کرنے کا حکم۔
ترقیم عبدالباقی: 969 ترقیم شاملہ: -- 2243
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : " أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ، وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ "،
وکیع نے سفیان سے، انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے ابوالہیاج اسدی سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”کیا میں تمہیں اس (مہم) پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روانہ کیا تھا؟ (وہ یہ ہے) کہ تم کسی تصویر یا مجسمے کو نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا اور کسی بلند قبر کو نہ چھوڑنا مگر اسے (زمین کے) برابر کر دینا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2243]
ابوالہیاج اسدی بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا میں تمہیں اس کام کے لیے نہ بھیجوں جس کام کے لیے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا؟ کہ کسی مجسمے اور تصویر کو مٹائے بغیر نہ چھوڑوں اور نہ کسی اونچی یا بلند قبر کو (عام قبروں کے) برابر کیے بغیر چھوڑوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2243]
ترقیم فوادعبدالباقی: 969
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 969 ترقیم شاملہ: -- 2244
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: " وَلَا صُورَةً إِلَّا طَمَسْتَهَا ".
یحییٰ القطان نے کہا: ہمیں سفیان نے حبیب سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث بیان کی اور انہوں نے ( «لا تدع تمثالا إلا طمسته» کے بجائے) «ولا صورة إلا طمستها» (کوئی تصویر نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2244]
مصنف یہی روایت ایک دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے کہ ”تصویر کو مٹائے بغیر نہ چھوڑوں۔“ (یعنی تمثال کی جگہ تصویر کا لفظ ہے) [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2244]
ترقیم فوادعبدالباقی: 969
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة