Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب بيع البعير واستثناء ركوبه:
باب: اونٹ کا بیچنا اور سواری کی شرط کر لینا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 1656
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، فَقَضَانِي، وَزَادَنِي، وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ لِي: " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ".
سفیان نے محارب بن وثار سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے قرض تھا، آپ نے اسے ادا کیا اور مجھے زائد رقم دی اور جب میں آپ کی مسجد میں داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: دو رکعت نماز ادا کر لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 1656]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ قرض تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ادا کیا اور مجھے رقم زائد دی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو رکعت نماز ادا کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 1656]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 1657
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ، أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ، فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ".
شعبہ نے محارب سے روایت کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک اونٹ خریدا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد میں آؤں اور دو رکعتیں پڑھوں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 1657]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک اونٹ خریدا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مسجد میں آنے کا حکم دیا اور یہ کہ میں دو رکعت نماز پڑھوں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 1657]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 1658
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ، فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: الْآنَ حِينَ قَدِمْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَعْ جَمَلَكَ، وَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ ".
وہب بن کیسان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، میرے اونٹ نے مجھے دیر کرا دی اور تھک گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے مدینہ میں آ گئے اور میں اگلے دن پہنچا، میں مسجد میں آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اب اس وقت تک پہنچے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا اونٹ چھوڑ دو اور مسجد میں داخل ہو کر دو رکعتیں پڑھو۔ میں مسجد میں داخل ہوا، نماز پڑھی، پھر واپس (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) آیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 1658]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غزوہ میں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، میرا اونٹ آہستہ آہستہ چلنے لگا اور تھک گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ میں) مجھ سے پہلے آ گئے اور میں اگلے دن صبح آیا (کیونکہ وہ مدینہ سے باہر اپنے گھر ٹھہر گئے تھے) تو میں مسجد میں آیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اب پہنچے ہو۔ میں نے کہا، جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا اونٹ چھوڑو اور مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھو۔ میں نے مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھی اور پھر واپس چلا آیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 1658]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4098
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا، فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ، قَالَ: فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا لِي وَضَرَبَهُ، فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ، قَالَ: بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ، قُلْتُ: لَا، ثُمَّ قَالَ: بِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ وَاسْتَثْنَيْتُ عَلَيْهِ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ، فَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ ثُمَّ رَجَعْتُ، فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي، فَقَالَ: أَتُرَانِي مَاكَسْتُكَ لِآخُذَ جَمَلَكَ، خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ فَهُوَ لَكَ "،
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زکریا نے عامر سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ وہ اپنے ایک اونٹ پر سفر کر رہے تھے جو تھک چکا تھا، انہوں نے ارادہ کر لیا کہ وہ اسے چھوڑ دیں، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آ کر ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا کی اور اسے (ہلکی سی) ضرب لگائی تو وہ اس طرح چلنے لگا جس طرح (پہلے) کبھی نہ چلا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مجھے ایک اوقیہ میں بیچ دو۔ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اسے میرے پاس فروخت کر دو۔ تو میں نے اسے ایک اوقیہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فروخت کر دیا اور اپنے گھر تک اس پر سواری کرنے کو مستثنیٰ کر لیا۔ جب میں (مدینہ) پہنچا (تو) اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی نقد قیمت ادا فرما دی، پھر میں واپس ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے پیغام بھیجا اور فرمایا: کیا تم میرے بارے میں سمجھتے ہو کہ میں نے تمہارا اونٹ لینے کے لیے تم سے کم قیمت پر سودا کرنے کی کوشش کی؟ اپنا اونٹ بھی لے لو اور اپنے درہم بھی، وہ (سب) تمہارا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4098]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے ایک اونٹ پر سفر کر رہے تھے، جو چلتے چلتے تھک چکا تھا، تو میں نے چاہا کہ اس کو چھوڑ دوں، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں دعا کی اور اسے مارا، تو وہ اس قدر تیز چلنے لگا، اس قدر تیز کبھی نہیں چلا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ ایک اوقیہ میں بیچ دو، میں نے کہا، نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا، یہ مجھے بیچ دو۔ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ایک اوقیہ میں بیچ دیا، اور میں نے اپنے گھر تک اس پر سوار ہونے کو مستثنیٰ کر لیا، تو میں جب گھر پہنچ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اونٹ لے کر حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت نقد ادا کر دی، پھر میں واپس پلٹا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے آدمی بھیجا، اور فرمایا، کیا تم میرے بارے میں یہ سمجھتے ہو کہ میں نے تیرا اونٹ لینے کے لیے تمہیں کم قیمت لگائی ہے؟ اپنا اونٹ اور اپنے دراہم لے لو، وہ تیرے ہی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4098]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4099
وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں زکریا سے خبر دی، انہوں نے عامر (شعبی) رحمہ اللہ سے روایت کی، کہا: مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی۔۔ ابن نمیر کی حدیث کی طرح۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4099]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4099]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4100
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ إِسْحَاق، أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَلَاحَقَ بِي وَتَحْتِي نَاضِحٌ لِي قَدْ أَعْيَا وَلَا يَكَادُ يَسِيرُ، قَالَ: فَقَالَ لِي: مَا لِبَعِيرِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: عَلِيلٌ، قَالَ: فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ، فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ، قَالَ: فَقَالَ لِي: كَيْفَ تَرَى بَعِيرَكَ؟، قَالَ: قُلْتُ: بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ، قَالَ: أَفَتَبِيعُنِيهِ؟ فَاسْتَحْيَيْتُ وَلَمْ يَكُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي عَرُوسٌ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي، فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى انْتَهَيْتُ، فَلَقِيَنِي خَالِي فَسَأَلَنِي عَنِ الْبَعِيرِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلَامَنِي فِيهِ قَالَ: وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِي حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ: مَا تَزَوَّجْتَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟، فَقُلْتُ لَهُ: تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا، قَالَ: أَفَلَا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا؟، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُوُفِّيَ وَالِدِي أَوِ اسْتُشْهِدَ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ، فَلَا تُؤَدِّبُهُنَّ وَلَا تَقُومُ عَلَيْهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْبَعِيرِ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَيَّ "،
مغیرہ نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں غزوہ لڑا، آپ پیچھے سے آ کر مجھے ملے جبکہ میں اپنے پانی ڈھونے والے اونٹ پر تھا جو تھک چکا تھا اور چل نہ پاتا تھا۔ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے اونٹ کو کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی: بیمار ہے۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہوئے، اسے دوڑایا اور اس کے لیے دعا کی۔ اس کے بعد وہ مسلسل سب اونٹوں سے آگے چلتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اپنے اونٹ کو کیسا پا رہے ہو؟ میں نے عرض کی: بہت بہتر ہے، اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت حاصل ہو چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے وہ فروخت کرو گے؟ اس پر میں نے حیاء محسوس کی (کہ ایسا اونٹ جسے میں راہ ہی میں چھوڑ دینے کا ارادہ کر چکا تھا اور جو محض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ٹھیک ہوا، اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیمت لوں۔) اور ہمارے پاس اس کے سوا پانی لانے والا اور اونٹ بھی نہ تھا (اس لیے بھی میں تردد کا شکار ہوا۔) کہا: پھر میں نے عرض کی: جی ہاں، چنانچہ میں نے آپ کو وہ اس شرط پر بیچ دیا کہ مدینہ پہنچنے تک اس کی پشت کی ہڈی (پر سواری) میری ہو گی۔ کہا: اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نیا نیا دلہا ہوں، میں نے آپ سے (تیزی سے گھر جانے کی) اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، میں لوگوں سے آگے مدینہ کی طرف چل پڑا حتیٰ کہ میں پہنچ گیا، مجھے میرے ماموں نے ملے اور انہوں نے مجھ سے اونٹ کے بارے میں پوچھا، میں نے جو کیا تھا انہیں بتا دیا تو انہوں نے مجھے اس پر ملامت کی۔ کہا: جب میں نے (گھر جانے کی) اجازت مانگی تھی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تھا: تم نے کس سے شادی کی: باکرہ سے یا دوہاجو سے؟ میں نے عرض کی: میں نے دوہاجو عورت سے شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے باکرہ سے کیوں شادی نہ کی، تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی؟ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے والد فوت۔۔ یا شہید۔۔ ہو گئے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں، مجھے اچھا نہ لگا کہ میں شادی کر کے ان کے پاس انہی جیسی (کم عمر) لے آؤں، جو نہ انہیں ادب سکھا سکے اور نہ ان کی نگہداشت کر پائے، اس لیے میں نے دوہاجو عورت سے شادی کی تاکہ وہ ان کی نگہداشت کرے اور انہیں ادب سکھائے۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، (تو) میں صبح کے وقت آپ کے پاس اونٹ لے کر حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت ادا کر دی اور وہ (اونٹ) بھی مجھے واپس کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4100]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آ ملے، جبکہ میں پانی ڈھونے والے اونٹ پر سوار تھا، جو تھک چکا تھا، اور تقریبا چلنے سے عاجز آ چکا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پوچھا، تمہارے اونٹ کو کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا، وہ بیمار ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے ہو کر اس کو ڈانٹا اور اس کے لیے دعا فرمائی، تو پھر وہ مسلسل اونٹوں کے آگے چلنے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا، اپنے اونٹ کو کیسا پا رہے ہو؟ میں نے عرض کیا، بہت بہتر، اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت پہنچ چکی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا اسے مجھے بیچو گے؟ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تکرار سے) مجھے شرم محسوس ہوئی، حالانکہ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی پانی لانے والا اونٹ نہ تھا، تو میں نے عرض کیا، جی ہاں، میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر دیا، اس شرط پر کہ مدینہ پہنچنے تک میں اس پر سوار رہوں گا، مرحمت فرمائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت عنایت فرما دی، میں مدینہ تک لوگوں کے آگے رہا، حتی کہ میں اپنی منزل پر پہنچ گیا، اور میرے ماموں مجھے ملے، تو انہوں نے مجھ سے اونٹ کے بارے میں پوچھا، تو میں نے اس کے بارے میں جو کچھ کیا، انہیں بتا دیا، اس کے بارے میں انہوں نے مجھے ملامت کی، اور جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تھا، کس سے شادی کی ہے؟ دوشیزہ (کنواری) سے یا شوہر دیدہ سے؟ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، میں نے شوہر دیدہ سے شادی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کنواری سے شادی کیوں نہیں کی! تم اس سے اٹھکیلیاں کرتے، وہ تم سے اٹھکیلیاں کرتی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد فوت ہو گئے یا شہید ہو گئے، اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں، تو میں نے ناپسند کیا، کہ ان کے پاس ان جیسی بیاہ کر لے آؤں، جو نہ ان کو ادب سکھائے اور نہ ان کی نگہداشت کر سکے، اس لیے میں نے بیوہ سے شادی کر لی تاکہ وہ ان کی دیکھ بھال کرے، اور انہیں سلیقہ سکھائے، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچ گئے، میں اونٹ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت عنایت فرمائی، اور اسے بھی مجھے لوٹا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4100]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4101
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْتَلَّ جَمَلِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " لِي بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا، قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ هُوَ لَكَ، قَالَ: لَا بَلْ بِعْنِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لَا بَلْ بِعْنِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ: " أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزِدْهُ " قَالَ: فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزَادَنِي قِيرَاطًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ فِي كِيسٍ لِي فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ،
سالم بن ابی جعد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں مکہ (کی جانب) سے مدینہ آئے، تو میرا اونٹ بیمار ہو گیا۔۔۔ اور انہوں نے (ان سے) مکمل قصے سمیت حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: مجھے اپنا یہ اونٹ فروخت کر دو۔ میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ (ویسے ہی) آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ وہ مجھے فروخت کر دو۔ میں نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! وہ آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو۔ میں نے کہا: ایک آدمی کا میرے ذمے سونے کا ایک اوقیہ (تقریبا 29 گرام) ہے، اس کے عوض یہ آپ کا ہوا۔ آپ نے فرمایا: میں نے لے لیا، تم اس پر مدینہ تک پہنچ جاؤ۔ کہا: جب میں مدینہ پہنچا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: انہیں ایک اوقیہ سونا اور کچھ زیادہ بھی دو۔ کہا: انہوں نے مجھے ایک اوقیہ سونا دیا اور ایک قیراط زائد دیا۔ کہا: میں نے (دل میں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ زائد عطیہ مجھ سے کبھی الگ نہ ہو گا۔ کہا: تو وہ میری تھیلی میں رہا حتیٰ کہ حرہ کی جنگ کے دن اہل شام نے اسے (مجھ سے) چھین لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4101]
حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف بڑھے، تو میرا اونٹ بیمار ہو گیا، آگے حدیث پورے واقعہ سمیت سنائی، جس میں یہ بھی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا، "اپنا یہ اونٹ مجھے بیچ دو،" میں نے عرض کیا، نہیں یہ آپ کا ہی تو ہے، آپ نے فرمایا، "نہیں، بلکہ مجھے اسے بیچو۔" میں نے عرض کیا، تو مجھ پر ایک آدمی کا اوقیہ سونا قرضہ ہے، اس کے عوض، یہ آپ کو دیتا ہوں، آپ نے فرمایا، "میں نے اسے لے لیا، تو اس پر مدینہ تک پہنچو،" تو جب میں مدینہ پہنچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال ؓ کو فرمایا: "اسے سونے کا ایک اوقیہ دو اور زائد بھی دو۔" تو اس نے مجھے سونے کا اوقیہ دیا، اور مجھے ایک قیراط زائد دیا، میں نے دل میں کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اضافہ کبھی مجھ سے جدا نہیں ہو گا، تو وہ میرے کیسہ (تھیلی) میں رہا، حتی کہ حرہ کے دن، اہل شام نے وہ مجھ سے لے لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4101]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4102
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَتَخَلَّفَ نَاضِحِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: فِيهِ فَنَخَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِي: " ارْكَبْ بِاسْمِ اللَّهِ " وَزَادَ أَيْضًا قَالَ: فَمَا زَالَ يَزِيدُنِي وَيَقُولُ: " وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ".
ابونضرہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک سفر میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، میرا اونٹ پیچھے رہ گیا۔۔ اور (پوری) حدیث بیان کی اور اس میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچوکا لگایا، پھر مجھ سے فرمایا: اللہ کا نام لے کر سوار ہو جاؤ۔ اور یہ اضافہ بھی کیا، کہا: آپ مسلسل مجھے زیادہ کی پیشکش کرتے اور فرماتے رہے: اللہ تمہیں معاف فرمائے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4102]
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو میرا پانی ڈھونے والا اونٹ پیچھے رہ گیا، اور مذکورہ بالا روایت بیان کی، اور اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچوکا لگایا، پھر مجھے فرمایا، "بسم اللہ پڑھ کر اس پر سوار ہو جا،" اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے، آپ مجھے زیادہ کی پیشکش کرتے رہے، اور فرماتے: "اللہ تمہیں معاف فرمائے۔" [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4102]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4103
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " لَمَّا أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي، قَالَ: فَنَخَسَهُ، فَوَثَبَ فَكُنْتُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ لِأَسْمَعَ حَدِيثَهُ، فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بِعْنِيهِ، فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ، قَالَ: قُلْتُ: عَلَى أَنَّ لِي ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ، فَزَادَنِي وُقِيَّةً ثُمَّ وَهَبَهُ لِي "،
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرا اونٹ تھک چکا تھا تو آپ نے اسے کچوکا لگایا، وہ اچھل پڑا۔ اس کے بعد میں اس کی لگام کھینچتا تاکہ آپ کی بات سنوں لیکن میں اس پر قابونہ پا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے تو فرمایا: یہ مجھے بیچ دو۔ میں نے وہ (اونٹ) آپ کو پانچ اوقیہ (چاندی جو ایک اوقیہ سونے کے برابر تھی) کے عوض فروخت کر دیا۔ میں نے کہا: اس شرط پر کہ مدینہ تک اس کی پیٹھ (پر سواری) میرے لیے ہو گی۔ آپ نے فرمایا: مدینہ تک اس کی پیٹھ (پر سواری) تمہاری ہو گی۔ کہا: جب میں مدینہ پہنچا، اس (اونٹ) کو آپ کے پاس لایا تو آپ نے مجھے ایک اوقیہ (طے شدہ قیمت کا چوتھا حصہ) زائد دیا، پھر آپ نے مجھے (اونٹ بھی) ہبہ کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4103]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ تک پہنچے اور میرا اونٹ تھک چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچوکا لگایا، تو وہ اچھل پڑا، اس کے بعد میں اس کی نکیل کھینچتا تھا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن سکوں، لیکن وہ میرے قابو نہیں آتا تھا یا اس کی تیز سے بات سن نہیں سکتا تھا، تو مجھ تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ گئے، اور فرمایا، اسے مجھے بیچ دو۔ تو میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ اوقیہ میں بیچ دیا، اور میں نے کہا، اس شرط پر کہ مدینہ تک اس پر میں سوار ہوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ تک تم ہی اس پر سوار رہو گے۔ تو جب میں مدینہ پہنچا، اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک اوقیہ زیادہ دیا، پھر وہ اونٹ بھی مجھے ہبہ کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4103]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4104
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ أَظُنُّهُ، قَالَ: غَازِيًا وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ: " يَا جَابِرُ أَتَوَفَّيْتَ الثَّمَنَ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ ".
ابومتوکل ناجی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کیا۔۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے جنگی سفر کہا۔۔ اور حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! کیا تم نے پوری قیمت لے لی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیمت بھی تمہاری، اونٹ بھی تمہارا، (پھر فرمایا:) قیمت بھی تمہاری، اونٹ بھی تمہارا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4104]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا، راوی کا خیال ہے، وہ جنگی سفر تھا، آگے مذکورہ بالا حدیث بیان کی، اور اس میں یہ اضافہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے جابر، کیا تو نے پوری قیمت وصول کر لی ہے؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیمت بھی تیری، اونٹ بھی تیرا، قیمت بھی تیری، اونٹ بھی تیرا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4104]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4105
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ : أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بِوُقِيَّتَيْنِ وَدِرْهَمٍ أَوْ دِرْهَمَيْنِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ، فَذُبِحَتْ فَأَكَلُوا مِنْهَا، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَوَزَنَ لِي ثَمَنَ الْبَعِيرِ، فَأَرْجَحَ لِي "،
معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے محارب سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دو اوقیہ اور ایک یا دو درہموں میں اونٹ خریدا۔ جب آپ صرار (کے مقام پر) آئے تو آپ نے گائے (ذبح کرنے) کا حکم دیا، وہ ذبح کی گئی، لوگوں نے اسے کھایا، جب آپ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد آؤں اور دو رکعتیں پڑھوں۔ آپ نے میرے لیے اونٹ کی قیمت (کے برابر سونے یا چاندی) کا وزن کیا اور میرے لیے پلڑا جھکا دیا۔ فائدہ: قیمت کے حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے راوی محارب (بن وثار) کو وہم ہوا ہے جس طرح اگلی حدیث سے ثابت ہوتا ہے، وہ اصل قیمت کو صحیح طور پر یاد نہیں رکھ سکے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے جب چاندی کے حساب سے اونٹ کی قیمت بتائی تو اس وقت چاندی کا ایک اوقیہ زائد دیے جانے کی بات کی ہے۔ (دیکھیے، حدیث: 4103) چاندی کے اس اوقیے کو غلطی سے سونے کے ایک اوقیے کے ساتھ ملا کر دو اوقیے کر دیا گیا ہے، ان احادیث میں قیمت یا سونے میں بیان کی گئی ہے یا اس کی قیمت کے برابر چاندی میں یا اسی کے برابر دیناروں میں۔ بعض نے اضافے کو قیمت کے ساتھ شامل کر دیا ہے جس سے التباس پیدا ہوا ہے۔ البتہ سب احادیث اصل مسئلہ میں ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4105]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اونٹ دو اوقیہ اور ایک درہم یا دو درہم میں خریدا، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ کے قریب) صرار نامی جگہ پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے گائے ذبح کی گئی، سب نے اسے کھایا، تو جب ہم مدینہ پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، مسجد میں پہنچ کر دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا، اور مجھے اونٹ کی قیمت تول دی اور پلڑا جھکا کر دی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4105]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4106
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا مُحَارِبٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِثَمَنٍ قَدْ سَمَّاهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْوُقِيَّتَيْنِ وَالدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ، وَقَالَ: أَمَرَ بِبَقَرَةٍ، فَنُحِرَتْ ثُمَّ قَسَمَ لَحْمَهَا.
خالد بن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے محارب نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی قصہ بیان کیا، مگر انہوں نے کہا: آپ نے مجھ سے اونٹ قیمتاً خرید لیا جس کی انہوں (جابر رضی اللہ عنہ) نے تعیین بھی کی، (اس روایت میں) انہوں نے دو اوقیہ، ایک درہم اور دو درہموں کا تذکرہ نہیں کیا اور کہا: آپ نے گائے کا حکم دیا تو اسے ذبح کیا گیا، پھر آپ نے اس کا گوشت تقسیم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4106]
امام صاحب، حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مذکورہ واقعہ بیان کرتے ہیں، اس میں یہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اونٹ متعین قیمت پر خریدا، دو اوقیہ اور ایک درہم یا دو درہم کا تذکرہ نہیں کیا، اور یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے گائے نحر کی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو گوشت تقسیم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4106]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4107
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " قَدْ أَخَذْتُ جَمَلَكَ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ".
عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں نے تمہارا اونٹ چار دینار (جو سونے کے ایک اوقیہ کے برابر ہے) میں لیا اور مدینہ تک اس کی پیٹھ (پر سواری) کا حق تمہارا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4107]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: میں نے تیرا اونٹ چار دینار میں لے لیا، اور مدینہ تک تم اس پر سوار ہو گے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4107]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4964
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، فَقَالَ: " أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَاءً كَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ".
ہشیم نے سیار سے، انہوں نے (عامر) شعبی سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم گھروں کے اندر داخل ہونے کے لیے جانے لگے تو آپ نے فرمایا: رک جاؤ، حتی کہ ہم (کچھ تاخیر سے) رات کے وقت، یعنی عشاء کے وقت جائین تاکہ بکھرے بالوں والی اپنے بال سنوار لے اور شوہر کی غیر موجودگی میں رہنے والی اپنی صفائی کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4964]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو جب ہم مدینہ پہنچے، ہم نے گھروں میں داخل ہونا چاہا، تو آپ نے فرمایا: ٹھہر جاؤ، تاکہ ہم رات کو (عشاء کے وقت) داخل ہوں، تاکہ پراگندہ بالوں والی بال درست کر لے اور جس عورت کا شوہر غائب تھا، وہ زیر ناف بال صاف کر لے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4964]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4965
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَدِمَ أَحَدُكُمْ لَيْلًا، فَلَا يَأْتِيَنَّ أَهْلَهُ طُرُوقًا حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ ".
عبدالصمد نے کہا: ہمیں شعبہ نے سیار سے حدیث بیان کی، انہوں نے عامر (شعبی) سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص رات کے وقت گھر واپس آئے تو رات کو (اچانک) اپنے گھر میں داخل نہ ہو (بلکہ اتنی دیر توقف کرے) کہ شوہر کی غیر موجودگی میں رہنے والی اپنی صفائی کر لے اور الجھے بالوں والی بال سنوار لے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4965]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات کو سفر سے آئے، تو اچانک رات کو دروازہ کھٹکھٹائے (اتنا توقف کرے) تاکہ جس عورت کا خاوند غائب تھا، وہ زیر ناف بال صاف کر لے اور پراگندہ بال کنگھی پٹی کر لے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4965]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4966
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
روح بن عبادہ نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سیار نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4966]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4966]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4967
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَطَالَ الرَّجُلُ الْغَيْبَةَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ طُرُوقًا ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عاصم سے حدیث بیان کی، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب کوئی انسان لمبا وقت گھر سے دور رہا ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رات کو اچانک گھر میں داخل ہونے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4967]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ جب آدمی طویل عرصہ تک غائب رہے (پھر اچانک) رات کو اپنے گھر آ جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4967]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4968
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
روح نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4968]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4968]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4969
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَال: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا يَتَخَوَّنُهُمْ أَوْ يَلْتَمِسُ عَثَرَاتِهِمْ ".
وکیع نے سفیان سے، انہوں نے محارب سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان رات کو (اچانک) گھر والوں کے پاس جا پہنچے اور ان کو خیانت (جس طرح خاوند نے کہا ہوا ہے، اس طرح نہ رہنے) کا مرتکب سمجھے اور ان کی کمزوریاں ڈھونڈے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4969]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو اس غرض سے گھر آنے سے منع فرمایا، کہ وہ ان کی خیانت پکڑنا چاہے یا ان کی لغزشوں کا تجسس کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4969]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4970
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: قَالَ سُفْيَانُ: لَا أَدْرِي هَذَا فِي الْحَدِيثِ أَمْ لَا يَعْنِي أَنْ يَتَخَوَّنَهُمْ أَوْ يَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ.
عبدالرحمٰن نے کہا: ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ عبدالرحمٰن نے کہا: سفیان نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ ان کو خیانت کا مرتکب سمجھے اور ان کی کمزوریاں تلاش کرے کے الفاظ حدیث میں ہیں یا نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4970]
امام صاحب یہی حدیث ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں یہ ہے، سفیان کہتے ہیں، مجھے معلوم نہیں، یہ ٹکڑا حدیث میں ہے یا نہیں، گھر والوں کا تجسس کرے یا ان کمزوریوں سے آگاہ کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4970]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 4971
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا: جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِكَرَاهَةِ الطُّرُوقِ وَلَمْ يَذْكُرْ يَتَخَوَّنُهُمْ أَوْ يَلْتَمِسُ عَثَرَاتِهِمْ.
ہمیں شعبہ نے محارب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (اچانک) رات کو گھر آنے کی کراہت بیان کی اور یہ جملہ بیان نہیں کیا: ان کو خائن سمجھے اور ان کی کمزوریاں تلاش کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4971]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے "اچانک رات کو گھر آنے کی کراہت بیان کرتے ہیں، لیکن اس حدیث میں یہ نہیں ہے، ان کی خیانت کی جستجو کرے اور ان کی لغزشوں، کوتاہیوں سے آگاہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4971]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں