سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب صفة وضوء النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان۔
حدیث نمبر: 108
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَذِّنُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْوُضُوءِ، فَقَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ سُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ،" فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأُتِيَ بِمِيضَأَةٍ فَأَصْغَى عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي الْمَاءِ، فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَأَخَذَ مَاءً فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ فَغَسَلَ بُطُونَهُمَا وَظُهُورَهُمَا مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُونَ عَنِ الْوُضُوءِ؟ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَحَادِيثُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الصِّحَاحُ كُلُّهَا تَدُلُّ عَلَى مَسْحِ الرَّأْسِ أَنَّهُ مَرَّةٌ فَإِنَّهُمْ ذَكَرُوا الْوُضُوءَ ثَلَاثًا وَقَالُوا فِيهَا: وَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا عَدَدًا كَمَا ذَكَرُوا فِي غَيْرِهِ.
عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے پانی منگایا، پانی کا لوٹا لایا گیا، آپ نے اسے اپنے داہنے ہاتھ پر انڈیلا (اور اس سے اپنا ہاتھ دھویا) پھر ہاتھ کو پانی میں داخل کیا، تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی ڈالا، تین بار منہ دھویا، پھر اپنا داہنا ہاتھ تین بار دھویا، تین بار اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر پانی میں اپنا ہاتھ داخل کیا اور پانی لے کر اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے اندر اور باہر کا ایک ایک بار مسح کیا، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے پھر کہا: وضو سے متعلق سوال کرنے والے کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے وضو کے باب میں جو صحیح حدیثیں مروی ہیں، وہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سر کا مسح ایک ہی بار ہے کیونکہ ناقلین حدیث نے ہر عضو کو تین بار دھونے کا ذکر کیا ہے اور سر کے مسح کا ذکر مطلقاً کیا ہے اس کی کوئی تعداد ذکر نہیں کی جیسا کہ ان لوگوں نے اور چیزوں میں ذکر کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: ”میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان سے وضو کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے پانی منگوایا، چنانچہ ایک برتن لایا گیا۔ انہوں نے اسے اپنے دائیں ہاتھ پر جھکایا، پھر اپنا دایاں ہاتھ پانی میں ڈالا اور تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی ڈال کر جھاڑا، تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ دھویا تین بار اور بایاں ہاتھ تین بار، پھر اپنا ہاتھ (برتن میں) ڈالا اور پانی لیا اور سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا، ان کے اندر اور باہر سے ایک بار، پھر اپنے پاؤں دھوئے اور فرمایا: کہاں ہیں وضو کے بارے میں سوال کرنے والے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی وضو کرتے دیکھا تھا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تمام صحیح روایات دلالت کرتی ہیں کہ انہوں نے سر کا مسح ایک ہی بار کیا تھا۔ سب راوی وضو کو تین تین بار ذکر کرتے ہیں مگر (مسح کے بارے میں اتنا ہی) کہتے کہ ”انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا۔“ اور اس میں عدد کا ذکر نہیں کرتے جیسے کہ باقی اعضاء میں کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9820) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن زياد المؤذن: مجھول الحال،وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
إسناده ضعيف
سعيد بن زياد المؤذن: مجھول الحال،وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
حدیث نمبر: 111
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَ: أَتَانَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ صَلَّى، فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقُلْنَا: مَا يَصْنَعُ بِالطَّهُورِ، وَقَدْ صَلَّى؟ مَا يُرِيدُ إِلَّا لِيُعَلِّمَنَا، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ فَأَفْرَغَ مِنَ الْإِنَاءِ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، فَمَضْمَضَ وَنَثَرَ مِنَ الْكَفِّ الَّذِي يَأْخُذُ فِيهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا، ثُمَّ جَعَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَرِجْلَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ هَذَا".
عبد خیر کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے آپ نماز پڑھ چکے تھے، پانی منگوایا، ہم لوگوں نے (آپس میں) کہا آپ پانی منگوا کر کیا کریں گے، آپ تو نماز پڑھ چکے ہیں؟ شاید (پانی منگوا کر) آپ ہمیں وضو کا طریقہ ہی سکھانا چاہتے ہوں گے، خیر ایک برتن جس میں پانی تھا اور ایک طشت لایا گیا، آپ نے برتن سے اپنے داہنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو (کلائی تک) تین بار دھویا پھر کلی کی اور تین بار ناک جھاڑی، آپ کلی کرتے پھر اسی چلو سے آدھا پانی ناک میں ڈال کر اسے جھاڑتے، پھر آپ نے اپنا چہرہ تین بار دھویا پھر دایاں اور بایاں ہاتھ تین تین بار دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور (پانی نکال کر) اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، اس کے بعد اپنا دایاں پیر پھر بایاں پیر تین تین بار دھویا پھر فرمایا: جو شخص اس بات سے خوش ہو کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ معلوم ہو جائے تو (جان لے کہ) وہ یہی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 111]
عبد خیر کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے اور وہ نماز پڑھ چکے تھے، انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا تو ہم نے کہا کہ وہ پانی کا کیا کریں گے، حالانکہ نماز پڑھ چکے ہیں، یہ شاید ہمیں سکھانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ایک برتن میں پانی لایا گیا اور ساتھ ایک تسلا (کھلا برتن) بھی تھا۔ انہوں نے برتن سے اپنے دائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور ہاتھوں کو تین بار دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر جھاڑا تین بار، آپ نے اسی چلو سے کلی کی اور ناک جھاڑی، جس میں کہ پانی لیا تھا، پھر اپنا چہرہ دھویا تین بار اور دایاں بازو تین بار، پھر بایاں بازو تین بار، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اپنے سر کا مسح کیا ایک بار، پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا تین بار، پھر بایاں تین بار، پھر فرمایا: ”جس کو پسند آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو معلوم کرے تو وہ یہی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 74 (91)، 75 (92)، 76 (93)، 77 (94)، (تحفة الأشراف: 10203)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة 37 (48)، مسند احمد (1/122)، سنن الدارمی/الطھارة 31 (728) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 116
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو تَوْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ. ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ، فَذَكَرَ وُضُوءَهُ كُلَّهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، قَالَ: ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّمَا أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ طُهُورَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوحیہ (ابن قیس) کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، پھر ابوحیہ نے آپ کے پورے (اعضاء) وضو کے تین تین بار دھونے کا ذکر کیا، وہ کہتے ہیں: پھر آپ نے اپنے سر کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پیر ٹخنوں تک دھوئے، پھر کہا: میری خواہش ہوئی کہ میں تم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دکھلاؤں (کہ آپ کس طرح وضو کرتے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 116]
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا، اور ابوحیہ نے بتایا کہ انہوں نے سارا وضو تین تین بار کیا۔ اور کہا: پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ اس کے بعد اپنے دونوں پاؤں دھوئے ٹخنوں تک۔ پھر فرمایا: ”میں نے چاہا کہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دکھلا دوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 37 (48)، سنن النسائی/الطہارة 79 (96)، 93 (115)، (تحفة الأشراف: 10321)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/120،125، 127، 142، 148) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (410)
ورواه شعبة عن أبي إسحاق السبيعي به عند النسائي (136) وسنده حسن، وغسل الرجلين عن علي: رواه أحمد (1/110) وسنده حسن
مشكوة المصابيح (410)
ورواه شعبة عن أبي إسحاق السبيعي به عند النسائي (136) وسنده حسن، وغسل الرجلين عن علي: رواه أحمد (1/110) وسنده حسن
حدیث نمبر: 117
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ وَقَدْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأَتَيْنَاهُ بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ حَتَّى وَضَعْنَاهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَلَا أُرِيكَ كَيْفَ كَانَ يَتَوَضَّأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" فَأَصْغَى الْإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَهَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى الْأُخْرَى، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ جَمِيعًا فَأَخَذَ بِهِمَا حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ أَلْقَمَ إِبْهَامَيْهِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفِّهِ الْيُمْنَى قَبْضَةً مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ فَتَرَكَهَا تَسْتَنُّ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَظُهُورَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ جَمِيعًا فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى رِجْلِهِ وَفِيهَا النَّعْلُ فَفَتَلَهَا بِهَا، ثُمَّ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ شَيْبَةَ، يُشْبِهُ حَدِيثَ عَلِيٍّ لِأَنَّهُ قَالَ فِيهِ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُرَيْجٍ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ فِيهِ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ استنجاء کر کے میرے پاس آئے، اور وضو کے لیے پانی مانگا، ہم ایک پیالہ لے کر ان کے پاس آئے جس میں پانی تھا یہاں تک کہ ہم نے انہیں ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے ابن عباس! کیا میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، ضرور دکھائیے، تو آپ نے برتن جھکا کر ہاتھ پر پانی ڈالا پھر اسے دھویا پھر اپنا داہنا ہاتھ (برتن میں) داخل کیا (اور پانی لے کر) اسے دوسرے پر ڈالا پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی، پھر اپنے دونوں ہاتھ (ملا کر) ایک ساتھ برتن میں ڈالے اور لپ بھر پانی لیا اور اسے اپنے منہ پر مارا پھر دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اندر یعنی سامنے کے رخ پر پھیرا، پھر دوسری اور تیسری بار (بھی) ایسا ہی کیا، پھر اپنی داہنی ہتھیلی میں ایک چلو پانی لے کر اپنی پیشانی پر ڈالا اور اسے چھوڑ دیا، وہ آپ کے چہرے پر بہہ رہا تھا، پھر دونوں ہاتھ تین تین بار کہنیوں تک دھوئے، اس کے بعد سر اور دونوں کانوں کے اوپری حصہ کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پانی میں ڈال کر ایک لپ بھر پانی لیا اور اسے (دائیں) پیر پر ڈالا، اس وقت وہ پیر میں جوتا پہنے ہوئے تھے اور اس سے پیر دھویا پھر دوسرے پیر پر بھی اسی طرح پانی ڈال کر اسے دھویا ۱؎۔ عبیداللہ خولانی کہتے ہیں کہ میں نے (عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے) پوچھا: علی رضی اللہ عنہ نے دونوں پیر میں جوتا پہنے پہنے ایسا کیا؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے کیا، میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے، پھر میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں چپل پہنے پہنے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن جریج کی حدیث جسے انہوں نے شیبہ سے روایت کیا ہے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مشابہ ہے اس لیے کہ اس میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے «مسح برأسه مرة واحدة» کہا ہے اور ابن وہب نے اس میں ابن جریج سے «ومسح برأسه ثلاثا» روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 117]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے، آپ استنجاء کر چکے تھے، آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا، ہم ایک چھوٹے برتن میں پانی لائے اور آپ کے سامنے رکھ دیا تو آپ نے فرمایا: ”اے ابن عباس! کیا تمہیں دکھلاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کیا کرتے تھے؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں!“ چنانچہ انہوں نے برتن کو اپنے ہاتھ پر ٹیڑھا کیا اور ہاتھ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ اس میں ڈالا اور دوسرے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی، پھر اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے ہی برتن میں ڈالے اور دونوں ہاتھوں سے ایک لپ پانی لیا اور اپنے چہرے پر ڈالا، پھر اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں میں ڈالا یعنی جو حصہ چہرے کی جانب تھا، (اسے بھی دھویا) پھر دوسری بار، پھر تیسری بار ایسے ہی کیا۔ پھر دائیں ہاتھ سے ایک چلو پانی لیا اور اسے پیشانی پر ڈالا اور اسے اپنے چہرے پر بہنے دیا، پھر اپنی دونوں کلائیاں کہنیوں تک دھوئیں تین تین بار، پھر اپنے سر کا مسح کیا اور کانوں کے باہر کا (بھی) پھر اپنے دونوں ہاتھ برتن میں ڈالے اور پانی کی ایک لپ لے کر اپنے پاؤں پر ڈالی اور اس میں (چپل کا سا) جوتا تھا، اپنے پاؤں کو اس پانی کے ساتھ ملا، پھر دوسرے پاؤں کو بھی ایسے ہی۔ عبداللہ خولانی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے کہا: ”جوتوں سمیت؟!“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”جوتوں سمیت!“ میں نے پھر کہا: ”جوتے پہنے پہنے ہی؟“ میں نے پھر کہا: ”جوتوں سمیت؟“ انہوں نے کہا: ”(ہاں) جوتوں سمیت۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن جریج کی شیبہ (شیبہ بن نصاح) سے روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مشابہ ہے۔ اس روایت میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے نقل کیا ہے: ”اور اپنے سر کا ایک بار مسح کیا۔“ اور ابن وہب نے یہی روایت ابن جریج سے نقل کی تو کہا: ”سر کا مسح تین بار کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، تحفة الأشراف (10198)، وحدیث ابن جریج عن شیبة أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة 78 (95)، تحفة الأشراف (10075)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/82) (ضعیف)» (بتصریح امام ترمذی: امام بخاری نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے)
وضاحت: ۱؎: متن حدیث میں «ففتلها» کا لفظ وارد ہوا ہے جس کے معنی ” بہت تھوڑی چیز کے ہیں “ یعنی ” بہت ہلکا دھویا “ شیعہ اس حدیث سے ننگے اور کھلے پاؤں پر مسح کی دلیل پکڑتے ہیں، حالانکہ ایک نسخہ میں «ففتلها» کی جگہ «فغسلها» وارد ہوا ہے، نیز یہ حدیث بتصریح امام بخاری ”ضعيف“ ہے اس میں کوئی علت خفیہ ہے، بفرض صحت امام خطابی اور ابن القیم نے چند تاویلات کی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ابن اسحاق صرح بالسماع عند احمد: 1/ 82
ابن اسحاق صرح بالسماع عند احمد: 1/ 82
حدیث نمبر: 118
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ: نَعَمْ،" فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ".
یحییٰ مازنی کہتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم (جو عمرو بن یحییٰ مازنی کے نانا ہیں) سے کہا: کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو فرماتے تھے؟ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پس آپ نے وضو کے لیے پانی منگایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو دو بار دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا، ان دونوں کو آگے لے آئے اور پیچھے لے گئے اس طرح کہ اس کی ابتداء اپنے سر کے اگلے حصے سے کی، پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے پھر انہیں اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 118]
عمرو بن یحییٰ مازنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد (یحییٰ مازنی) نے سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے کہا، اور یہ عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں: ”کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیسے کیا کرتے تھے؟“ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہاں!“ چنانچہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالا اور ہاتھ دھوئے، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر جھاڑا تین بار، پھر چہرہ دھویا تین بار، پھر دونوں ہاتھ دھوئے کہنیوں تک دو دو بار، پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح کیا اور انہیں آگے لائے اور پیچھے لے گئے، سر کے اگلے حصے سے شروع کیا اور گدی تک لے گئے، پھر انہیں واپس لائے اور وہاں تک لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 38 (185)، 39 (186)، 41 (191)، 42 (192)، 45 (197)، صحیح مسلم/الطھارة 7 (235)، سنن الترمذی/الطھارة 22 (28)، 24 (32)، 36 (47)، سنن النسائی/الطھارة 80 (97)، 81 (98)، 82 (99)، (تحفة الأشراف: 5308)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة 1 (1)، مسند احمد (4/38، 39، سنن الدارمی/الطھارة 28 (721) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (185) صحيح مسلم (235)
مشكوة المصابيح (393)
مشكوة المصابيح (393)
حدیث نمبر: 120
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ حَبَّانَ بْنَ وَاسِعٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيَّ يَذْكُرُ:" أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ وُضُوءَهُ، وَقَالَ: وَمَسَحَ رَأْسَهُ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدَيْهِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا".
عبداللہ بن زید بن عاصم ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (وضو کرتے ہوئے) دیکھا، پھر آپ کے وضو کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح اپنے ہاتھ کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ نئے پانی سے کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں صاف کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 120]
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو بیان کیا اور کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا مسح ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ (نئے پانی) سے کیا اور اپنے پاؤں دھوئے حتیٰ کہ انہیں خوب صاف کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 7(236)، سنن الترمذی/الطہارة 27 (35) مختصراً (تحفة الأشراف: 5307) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (236)
حدیث نمبر: 121
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ الْحَضْرَمِيُّ، سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ، قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا".
عبدالرحمٰن بن میسرہ حضرمی کہتے ہیں کہ میں نے مقدام بن معد یکرب کندی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا تو آپ نے وضو کیا، اپنے دونوں پہونچے تین بار دھلے، پھر کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر دونوں ہاتھ (کہنیوں تک) تین تین بار دھلے، پھر اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے باہر اور اندر کا مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 121]
سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ اپنی دونوں ہتھیلیاں دھوئیں تین بار، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا تین بار، چہرہ دھویا تین بار، کلائیاں دھوئیں تین تین بار، پھر سر کا مسح کیا اور ساتھ ہی کانوں کے باہر اور اندر کا (بھی)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود: (تحفة الأشراف: 11573)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 52 (442) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وھو في المسند للامام احمد: 4/ 132 ح 7320
وھو في المسند للامام احمد: 4/ 132 ح 7320
حدیث نمبر: 122
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ، لَفْظَهُ قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، فَلَمَّا بَلَغَ مَسْحَ رَأْسِهِ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ فَأَمَرَّهُمَا حَتَّى بَلَغَ الْقَفَا ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ"، قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ: أَخْبَرَنِي حَرِيزٌ.
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کے مسح پر پہنچے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا، پھر انہیں پھیرتے ہوئے گدی تک پہنچے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے مسح شروع کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 122]
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، جب سر کے مسح تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں سر کے اگلے حصے پر رکھیں اور انہیں سر پر پھیرا حتیٰ کہ گدی تک لے گئے۔ پھر اپنے ہاتھوں کو اسی جگہ واپس لے آئے، جہاں سے شروع کیا تھا۔“ محمود کی روایت میں «أَخْبَرَنِي حَرِيزٌ» کی تصریح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 52 (442)، (تحفة الأشراف: 11572) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الوليد بن مسلم صرح بالسماع عند الطحاوي في معاني الآثار (1/32) وسنده صحيح وحريز بن عثمان وعبد الرحمن بن ميسرة صرح بالسماع كما تقدم (121) وانظر الحديث الآتي (122، 135) ولبعض الحديث شواهد عند أحمد (1/123 ح 1005) وغيره
الوليد بن مسلم صرح بالسماع عند الطحاوي في معاني الآثار (1/32) وسنده صحيح وحريز بن عثمان وعبد الرحمن بن ميسرة صرح بالسماع كما تقدم (121) وانظر الحديث الآتي (122، 135) ولبعض الحديث شواهد عند أحمد (1/123 ح 1005) وغيره
حدیث نمبر: 124
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَزْهَرِ الْمُغِيرَةُ بْنُ فَرْوَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ،" أَنَّ مُعَاوِيَةَ تَوَضَّأَ لِلنَّاسِ كَمَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَلَمَّا بَلَغَ رَأْسَهُ، غَرَفَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَتَلَقَّاهَا بِشِمَالِهِ حَتَّى وَضَعَهَا عَلَى وَسَطِ رَأْسِهِ حَتَّى قَطَرَ الْمَاءُ أَوْ كَادَ يَقْطُرُ، ثُمَّ مَسَحَ مِنْ مُقَدَّمِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ وَمِنْ مُؤَخَّرِهِ إِلَى مُقَدَّمِهِ".
عبداللہ بن علاء کہتے ہیں کہ ابوالازہر مغیرہ بن فروہ اور یزید بن ابی مالک نے ہم سے بیان کیا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو دکھانے کے لیے اسی طرح وضو کیا جس طرح انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا، جب وہ اپنے سر (کے مسح) تک پہنچے تو بائیں ہاتھ سے ایک چلو پانی لیا اور اسے بیچ سر پر ڈالا یہاں تک کہ پانی ٹپکنے لگایا ٹپکنے کے قریب ہوا، پھر اپنے (سر کے) اگلے حصہ سے پچھلے حصہ تک اور پچھلے حصہ سے اگلے حصہ تک مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 124]
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو وضو کر کے دکھلایا جیسے کہ خود انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ جب آپ سر کے مسح کو پہنچے تو آپ نے ایک چلو لیا اور بائیں ہاتھ پر ڈالا اور اس چلو کو سر کے درمیان کیا، حتیٰ کہ پانی کے قطرات گرے یا گرنے کے قریب تھے، پھر سر کے اگلے حصے سے آخر تک اور آخر سے اگلے حصے تک کا مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 11442) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 126
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا، فَحَدَّثَتْنَا أَنَّهُ قَالَ: اسْكُبِي لِي وَضُوءًا، فَذَكَرَتْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ فِيهِ:" فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَوَضَّأَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً، وَوَضَّأَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ بِمُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ثُمَّ بِمُقَدَّمِهِ وَبِأُذُنَيْهِ كِلْتَيْهِمَا ظُهُورِهِمَا وَبُطُونِهِمَا، وَوَضَّأَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا مَعْنَى حَدِيثِ مُسَدَّدٍ.
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس (اکثر) تشریف لایا کرتے تھے تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے وضو کا پانی لاؤ“، پھر ربیع نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کیا اور کہا کہ (پہلے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے تین بار دھوئے، اور چہرے کو تین بار دھویا، کلی کی، ایک بار ناک میں پانی ڈالا اور دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، دو بار سر کا مسح کیا، پہلے سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا، پھر اگلے حصہ سے، پھر اپنے دونوں کانوں کی پشت اور ان کے اندرونی حصہ کا مسح کیا اور دونوں پیر تین تین بار دھوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی حدیث کے یہی معنی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 126]
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لایا کرتے تھے، ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک بار) فرمایا: ”میرے لیے پانی انڈیل کر لاؤ۔“ تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کرنا بیان کیا، اس میں وہ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ تین بار دھوئے، چہرہ تین بار دھویا، کلی کی اور ناک میں ایک بار پانی ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے اور سر کا دو بار مسح کیا، سر کے آخر سے شروع کیا، پھر اگلے حصے کی جانب سے مسح کیا اور دونوں کانوں کا مسح کیا، ان کے باہر سے بھی اور اندر سے بھی، اور اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت مسدد کی روایت کے ہم معنی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 33 (43) (بقولہ في الباب)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 39 (390)، 52 (440)، (تحفة الأشراف: 15837)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/360) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (33)،ابن ماجه (438)
ابن عقيل: ضعيف (يأتي: 128)
وللحديث شاھد ضعيف لشذوذه عند النسائي (99)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17
إسناده ضعيف
ترمذي (33)،ابن ماجه (438)
ابن عقيل: ضعيف (يأتي: 128)
وللحديث شاھد ضعيف لشذوذه عند النسائي (99)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17
حدیث نمبر: 128
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ عِنْدَهَا، فَمَسَحَ الرَّأْسَ كُلَّهُ مِنْ قَرْنِ الشَّعْرِ كُلِّ نَاحِيَةٍ لِمُنْصَبِّ الشَّعْرِ لَا يُحَرِّكُ الشَّعْرَ عَنْ هَيْئَتِهِ".
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس وضو کیا، تو پورے سر کا مسح کیا، اوپر سے سر کا مسح شروع کرتے تھے اور ہر کونے میں نیچے تک بالوں کی روش پر ان کی اصل ہیئت کو حرکت دیے بغیر لے جاتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 128]
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاں وضو کیا تو پورے سر کا مسح کیا، اوپر سے سر کا مسح شروع کرتے تھے، ہر جانب سے بالوں کی لٹوں کے رخ پر ہاتھ پھیرتے تھے، اور آپ بالوں کو ان کی ہیئت سے حرکت نہ دیتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 128]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 15840)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/359، 360) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (390)
محمد بن عجلان مدلس (طبقات المدلسين: 3/98) ولم أجد تصريح سماعه
وعبد اللّٰه بن محمد بن عقيل: ضعيف،ضعفه الجمهور و أخطأ من زعم خلافه وضعفه ھو الراجح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17
إسناده ضعيف
ابن ماجه (390)
محمد بن عجلان مدلس (طبقات المدلسين: 3/98) ولم أجد تصريح سماعه
وعبد اللّٰه بن محمد بن عقيل: ضعيف،ضعفه الجمهور و أخطأ من زعم خلافه وضعفه ھو الراجح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17
حدیث نمبر: 129
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أَنَّ رُبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، قَالَتْ: فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَمَسَحَ مَا أَقْبَلَ مِنْهُ وَمَا أَدْبَرَ وَصُدْغَيْهِ وَأُذُنَيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً".
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا اور اپنی دونوں کنپٹیوں اور دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 129]
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا۔“ وہ کہتی ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح کیا، اگلے حصے کا، پچھلے حصے کا، کنپٹیوں کا اور دونوں کانوں کا ایک بار۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 26 (34) (تحفة الأشراف: 15838)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/359) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (34)،ابن ماجه (441)
ابن عقيل ضعيف (تقدم: 128)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17
إسناده ضعيف
ترمذي (34)،ابن ماجه (441)
ابن عقيل ضعيف (تقدم: 128)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17
حدیث نمبر: 130
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مِنْ فَضْلِ مَاءٍ كَانَ فِي يَدِهِ".
ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے بچے ہوئے پانی سے اپنے سر کا مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 130]
سیدہ ربیع (ربیع بنت معوذ) رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا مسح کیا، اور اسی پانی سے کیا جو ان کے ہاتھوں میں (پہلے سے) بچا ہوا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 130]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (126)، (تحفة الأشراف: 15841) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان بن سعيد الثوري مدلس (طبقات المدلسين بتحقيقي: 2/51،والراجح أنه من المرتبة الثالثة) وعنعن
وابن عقيل ضعيف (تقدم: 128)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17
إسناده ضعيف
سفيان بن سعيد الثوري مدلس (طبقات المدلسين بتحقيقي: 2/51،والراجح أنه من المرتبة الثالثة) وعنعن
وابن عقيل ضعيف (تقدم: 128)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17
حدیث نمبر: 131
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي حُجْرَيْ أُذُنَيْهِ".
ربیع بنت معوذ (ربیع بنت معوذ بن عفراء) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو آپ نے اپنی دونوں انگلیاں (مسح کے لیے) اپنے دونوں کانوں کے سوراخ میں داخل کیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 131]
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں کے سوراخوں میں داخل کیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 131]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (126) وراجع: سنن الترمذی/ الطہارة 52 (33)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 52 (441)، (تحفة الأشراف: 15839) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وله شواهد انظر الحديث الآتي (135)
وله شواهد انظر الحديث الآتي (135)
حدیث نمبر: 132
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ مَرَّةً وَاحِدَةً حَتَّى بَلَغَ الْقَذَالَ وَهُوَ أَوَّلُ الْقَفَا"، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: مَسَحَ رَأْسَهُ مِنْ مُقَدَّمِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ حَتَّى أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ أُذُنَيْهِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ يَحْيَى فَأَنْكَرَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وسَمِعْت أَحْمَدَ يَقُولُ: إِنَّ ابْنَ عُيَيْنَةَ زَعَمُوا أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُهُ وَيَقُولُ: إِيشْ هَذَا طَلْحَةُ؟ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ.
طلحہ کے دادا کعب بن عمرو یامی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر کا ایک بار مسح کرتے دیکھا یہاں تک کہ یہ «قذال» (گردن کے سرے) تک پہنچا۔ مسدد کی روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے حصہ سے پچھلے حصہ تک اپنے سر کا مسح کیا یہاں تک کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے سے نکالا۔ مسدد کہتے ہیں: تو میں نے اسے یحییٰ (یحییٰ بن سعید القطان) سے بیان کیا تو آپ نے اسے منکر کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد (احمد بن حنبل) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ (سفیان) ابن عیینہ (بھی) اس حدیث کو منکر گردانتے تھے اور کہتے تھے کہ «طلحة عن أبيه عن جده» کیا چیز ہے؟ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 132]
جناب طلحہ بن مصرف اپنے والد سے، وہ ان کے دادا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کا مسح ایک بار کرتے تھے حتیٰ کہ (ہاتھ) «قذال» تک لے جاتے تھے“۔ «قذال» گدی کے شروع کو کہتے ہیں۔ جناب مسدد (اپنی روایت میں) کہتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا مسح کیا (سر کے) شروع سے لے کر آخر تک حتیٰ کہ اپنے ہاتھ کانوں کے نیچے سے نکالے“۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد رحمہ اللہ کو سنا، وہ کہتے تھے کہ ”ابن عیینہ رحمہ اللہ اس حدیث کا انکار کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ «طلحة عن أبيه عن جده» یہ کیا اور کیسی سند ہے؟ (یعنی ضعیف ہے)“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 132]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 11127)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/481) (ضعیف)» (اس کا راوی ”مصرف“ مجہول ہے اور لیث بن أبی سلیم ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ليث بن أبي سليم ضعيف مدلس،انظر لضعفه: كتاب الضعفاء للنسائي (511) والتلخيص الحبير (1/ 78 ح79) وغيرھما ولتدليسه: مشاهير علماء الأمصار لابن حبان (ص 146 ت 1153) وقال البوصيري: ضعفه الجمھور (زوائد ابن ماجه: 208) وقال ابن الملقن: وقد ضعفه الجمھور (البدرالمنير: 227/7)
وقال النووي: ’’فھو حديث ضعيف بالإتفاق‘‘ (المجموع شرح المھذب: 1/ 464)!
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17
إسناده ضعيف
ليث بن أبي سليم ضعيف مدلس،انظر لضعفه: كتاب الضعفاء للنسائي (511) والتلخيص الحبير (1/ 78 ح79) وغيرھما ولتدليسه: مشاهير علماء الأمصار لابن حبان (ص 146 ت 1153) وقال البوصيري: ضعفه الجمھور (زوائد ابن ماجه: 208) وقال ابن الملقن: وقد ضعفه الجمھور (البدرالمنير: 227/7)
وقال النووي: ’’فھو حديث ضعيف بالإتفاق‘‘ (المجموع شرح المھذب: 1/ 464)!
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17
حدیث نمبر: 135
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ الطُّهُورُ؟" فَدَعَا بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّاحَتَيْنِ فِي أُذُنَيْهِ وَمَسَحَ بِإِبْهَامَيْهِ عَلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ بَاطِنَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا أَوْ نَقَصَ، فَقَدْ أَسَاءَ وَظَلَمَ، أَوْ ظَلَمَ وَأَسَاءَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وضو کس طرح کیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن میں پانی منگوایا اور اپنے دونوں پہونچوں کو تین بار دھویا، پھر چہرہ تین بار دھویا، پھر دونوں ہاتھ تین بار دھلے، پھر سر کا مسح کیا، اور شہادت کی دونوں انگلیوں کو اپنے دونوں کانوں میں داخل کیا، اور اپنے دونوں انگوٹھوں سے اپنے دونوں کانوں کے اوپری حصہ کا مسح کیا اور شہادت کی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کے اندرونی حصہ کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھلے، پھر فرمایا: ”وضو (کا طریقہ) اسی طرح ہے جس شخص نے اس پر زیادتی یا کمی کی اس نے برا کیا، اور ظلم کیا“، یا فرمایا: ”ظلم کیا اور برا کیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 135]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب) سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! وضو کیسے کیا جاتا ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں پانی منگوایا، پھر اپنے ہاتھ تین بار دھوئے، پھر چہرہ تین بار دھویا، پھر دونوں کلائیاں تین بار دھوئیں، پھر سر کا مسح کیا اور اپنی شہادت کی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں اور انگوٹھوں سے کانوں کے اوپر کا مسح کیا اور شہادت کی انگلیوں سے ان کے اندر کا، پھر اپنے پاؤں تین تین بار دھوئے، پھر فرمایا: ”وضو ایسے ہوتا ہے اور جو کوئی اس سے زیادہ کرے یا کم کرے تو اس نے برا کیا اور ظلم کیا۔“ یا یوں فرمایا: ”ظلم کیا اور برا کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 135]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 105 (140)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 48 (422)، (تحفة الأشراف: 8809)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/180) (حسن صحیح)» (مگر «أو نَقَصَ» کا جملہ شاذ ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح دون قوله أو نقص فإنه شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (417)
عمرو بن شعيب بن محمد بن عبدالله بن عمرو بن العاص عن أبيه عن جده، انظر مقالات للشيخ زبير علي زئي: 3/ 357
مشكوة المصابيح (417)
عمرو بن شعيب بن محمد بن عبدالله بن عمرو بن العاص عن أبيه عن جده، انظر مقالات للشيخ زبير علي زئي: 3/ 357
حدیث نمبر: 137
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتُحِبُّونَ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟" فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَاغْتَرَفَ غَرْفَةً بِيَدِهِ الْيُمْنَى فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ أَخَذَ أُخْرَى فَجَمَعَ بِهَا يَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ أَخَذَ أُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُمْنَى ثُمَّ أَخَذَ أُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ نَفَضَ يَدَهُ ثُمَّ مَسَحَ بِهَا رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً أُخْرَى مِنَ الْمَاءِ فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى وَفِيهَا النَّعْلُ ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدَيْهِ يَدٍ فَوْقَ الْقَدَمِ وَيَدٍ تَحْتَ النَّعْلِ ثُمَّ صَنَعَ بِالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ".
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے کہا: کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے؟ پھر انہوں نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا اور داہنے ہاتھ سے ایک چلو پانی لے کر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر ایک اور چلو پانی لے کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ دھویا، پھر ایک چلو اور پانی لیا اس سے اپنا داہنا ہاتھ دھویا، پھر ایک چلو اور لے کر بایاں ہاتھ دھویا، پھر تھوڑا سا پانی لے کر اپنا ہاتھ جھاڑا، اور اس سے اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا، پھر ایک مٹھی پانی لے کر داہنے پاؤں پر ڈالا جس میں جوتا پہنے ہوئے تھے، پھر اس پر اپنے دونوں ہاتھوں کو اس طرح سے پھیرا کہ ایک ہاتھ پاؤں کے اوپر اور ایک ہاتھ نعل (جوتا) کے نیچے تھا، پھر بائیں پاؤں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 137]
جناب عطاء بن یسار رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہم سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تمہیں دکھلاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کیا کرتے تھے؟“ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے برتن منگوایا، اس میں پانی تھا، تو آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے چلو لیا اور کلی کی اور ناک میں پانی لیا، پھر دوسرا (چلو) لیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو جمع کر لیا اور اپنا چہرہ دھویا، پھر اور چلو لیا اور اپنا دایاں بازو دھویا، پھر اور چلو لیا اور اپنا بایاں بازو دھویا، پھر ایک مٹھی میں پانی لیا اور اپنے ہاتھ کو جھاڑا اور اس سے سر اور کانوں کا مسح کیا، پھر مٹھی میں اور پانی لیا اور اسے اپنے دائیں پاؤں پر چھڑکا جبکہ اس میں جوتا بھی تھا، اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے ملا، (اس طرح گویا کہ ان کو دھویا) ایک ہاتھ پاؤں کے اوپر سے اور ایک ہاتھ جوتے کے نیچے سے اور پھر بائیں پاؤں کے ساتھ بھی ایسے ہی کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 7 (140)، سنن الترمذی/الطھارة 32 (42)، سنن النسائی/الطھارة 64 (80)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 43 (403)، 45 (411)، مسند احمد (1/333، 332، 336) سنن الدارمی/الطھارة 29 (723)، (تحفة الأشراف: 5978) (حسن)» (پاؤں پر مسح کرنے کا ذکر شاذ ہے، مؤلف کے سوا اس کا ذکر کسی اور کے یہاں نہیں ہے، بلکہ بخاری میں”دھویا“ کا لفظ ہے)
وضاحت: ۱؎: یہ روایت باب کے مطابق نہیں کیونکہ اس میں اعضاء وضو کو دو دو بار دھونے کا ذکر نہیں ہے، (ناسخ کی غلطی سے آئندہ باب کی بجائے یہاں درج ہو گئی ہے، یہ وہی حدیث ہے جو نمبر (۱۳۸) پر اگلے باب کے تحت آ رہی ہے)۔
قال الشيخ الألباني: حسن لكن مسح القدم شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
هشام بن سعد: وثقه الجمهور
هشام بن سعد: وثقه الجمهور
حدیث نمبر: 140
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً ثُمَّ لِيَنْثُرْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنی ناک میں پانی ڈالے، پھر جھاڑے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 140]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنی ناک میں پانی لے، پھر اسے جھاڑے (یعنی صاف کرے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 26 (162)، صحیح مسلم/الطھارة 8 (237)، سنن النسائی/الطھارة 70 (86)، موطا امام مالک/الطھارة 1(2)، (تحفة الأشراف: 13820)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 44 (406)، مسند احمد (2/242، 278)، سنن الدارمی/الطھارة 32 (730) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (162) صحيح مسلم (141)
حدیث نمبر: 141
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ قَارِظٍ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَنْثِرُوا مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناک میں پانی ڈال کر اسے دو یا تین بار اچھی طرح سے جھاڑو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 141]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناک جھاڑو (اور صاف کرو) دو بار یا تین بار، خوب اچھی طرح۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 141]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطھارة 44 (408)، (تحفة الأشراف: 6567)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/228) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 145
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ يَعْنِي الرَّبِيعَ بْنَ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ زَوْرَانَ، عَنْ أَنَسٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَأَدْخَلَهُ تَحْتَ حَنَكِهِ فَخَلَّلَ بِهِ لِحْيَتَهُ، وَقَالَ: هَكَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ"، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَالْوَلِيدُ بْنُ زَوْرَانَ: رَوَى عَنْهُ حَجَّاجُ بْنُ حَجَّاجٍ، وَأَبُو الْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو ایک چلو پانی لے کر اسے اپنی ٹھوڑی کے نیچے لے جاتے تھے، پھر اس سے اپنی داڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے: ”میرے رب عزوجل نے مجھے ایسا ہی حکم دیا ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ولید بن زور ان سے حجاج بن حجاج اور ابوالملیح الرقی نے روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 145]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو پانی کا ایک چلو لے کر اپنی ٹھوڑی کے نیچے داخل کرتے اور اس سے داڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے: ”مجھے میرے رب عزوجل نے ایسے ہی حکم دیا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ولید بن زوران سے حجاج بن حجاج اور ابوملیح رقی نے (بھی) روایت کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 145]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 1649)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 50 (431) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
وليد بن زوران: وثقه ابن حبان والبيهقي في معرفة السنن والآثار (37/4) ولكن السند منقطع وللحديث شاھد ضعيف عند الحاكم (149/1 ح 529)
وفيه الزھري مدلس (طبقات المدلسين :102/ 3) وعنعن
(وشاھد آخر معلول: ح 530،انظر علل الحديث: 16)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 18
إسناده ضعيف
وليد بن زوران: وثقه ابن حبان والبيهقي في معرفة السنن والآثار (37/4) ولكن السند منقطع وللحديث شاھد ضعيف عند الحاكم (149/1 ح 529)
وفيه الزھري مدلس (طبقات المدلسين :102/ 3) وعنعن
(وشاھد آخر معلول: ح 530،انظر علل الحديث: 16)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 18
حدیث نمبر: 148
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ يَدْلُكُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ".
مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ وضو کرتے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں کو چھنگلیا (ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی) سے ملتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 148]
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں کو اپنی چھنگلی سے ملتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 30 (40)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 54 (446)، (تحفة الأشراف: 11256)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/229) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (407)
ورواه الليث بن سعد وغيره عن يزيد بن عمرو به عند ابن ابي حاتم في تقدمة الجرح والتعديل، ص 31، 32 والبيهقي: 1/ 76، 77 وعندھما فائدة ھامة
مشكوة المصابيح (407)
ورواه الليث بن سعد وغيره عن يزيد بن عمرو به عند ابن ابي حاتم في تقدمة الجرح والتعديل، ص 31، 32 والبيهقي: 1/ 76، 77 وعندھما فائدة ھامة
حدیث نمبر: 2366
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرو سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 2366]
سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(وضو کرتے ہوئے) ناک میں خوب پانی چڑھاؤ، سوائے اس کے کہ روزے سے ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 2366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (142)، (تحفة الأشراف: 11172) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (788 وسنده صحيح)
أخرجه الترمذي (788 وسنده صحيح)