🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. باب الدفعة من عرفة
باب: عرفات سے لوٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1920
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ. ح وحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ الْمَعْنَى، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ، وَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ"، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَى جَمْعًا، زَادَ وَهْبٌ: ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ، وَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ، فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ"، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا حَتَّى أَتَى مِنًى.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے، آپ پر اطمینان اور سکینت طاری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف اسامہ رضی اللہ عنہ تھے، آپ نے فرمایا: لوگو! اطمینان و سکینت کو لازم پکڑو اس لیے کہ گھوڑوں اور اونٹوں کا دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے انہیں (گھوڑوں اور اونٹوں کو) ہاتھ اٹھائے دوڑتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمع (مزدلفہ) آئے، (وہب کی روایت میں اتنا زیادہ ہے): پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو بٹھایا اور فرمایا: لوگو! گھوڑوں اور اونٹوں کو دوڑانا نیکی نہیں ہے تم اطمینان اور سکینت کو لازم پکڑو۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر میں نے کسی اونٹ اور گھوڑے کو اپنے ہاتھ اٹھائے (دوڑتے) نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ آئے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1920]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو بڑے آرام اور سکون سے چلے۔ اسامہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: لوگو! آرام سے چلو، نیکی گھوڑے اور اونٹ دوڑانے میں نہیں۔ سو میں نے دیکھا کہ (کوئی بھی سواری) اپنے دونوں (اگلے) پاؤں اٹھا کر نہ دوڑ رہی تھی حتیٰ کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے۔ وہب نے مزید کہا: پھر آپ نے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمایا: لوگو! نیکی گھوڑے اور اونٹ دوڑانے میں نہیں، سکون سے چلو۔ اور میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی سواری اپنے دونوں پاؤں اٹھا کر چل رہی ہو۔ حتیٰ کہ آپ منیٰ میں آ گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1920]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:6470)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 22 (1544)، صحیح مسلم/الحج 45 (1282)، سنن الترمذی/الحج 78 (918)، سنن النسائی/الحج 204 (3022)، مسند احمد (1/235، 251، 269، 277، 326، 353، 371) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش والحكم بن عتيبة مدلسان وعنعنا
وحديث البخاري (1678) ومسلم (1293) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1922
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى نَاقَتِهِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ الْإِبِلَ يَمِينًا وَشِمَالًا لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ، وَيَقُولُ: السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ، وَدَفَعَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر (ارکان عرفات سے فراغت کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے سوار کر لیا اور درمیانی چال سے اونٹ ہانکنے لگے، لوگ دائیں اور بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے آپ ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور فرماتے تھے: لوگو! اطمینان سے چلو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے اس وقت لوٹے جب سورج ڈوب گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1922]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر درمیانی چال «الْعَنَقُ» (عنق) سے روانہ ہوئے اور لوگ دائیں بائیں اونٹوں کو پیٹ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے اور فرما رہے تھے: لوگو! سکون کے ساتھ! اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے سورج غروب ہونے کے بعد روانہ ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1922]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الحج 554 (885)، (تحفة الأشراف: 10229)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/72، 75، 76، 81) (حسن)» ‏‏‏‏ (مگر «لا یلتفت» کا لفظ صحیح نہیں ہے، صحیح لفظ «یلتفت» ہے جیسا کہ ترمذی میں ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن دون قوله لا يلتفت والمحفوظ يلتفت وصححه الترمذي
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (885) وانظر الحديث الآتي (1935)
سفيان الثوري مدلس وعنعن
وحديث أحمد (1/ 76) سنده حسن وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1938
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُفِيضُونَ حَتَّى يَرَوْا الشَّمْسَ عَلَى ثَبِيرٍ، فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے لوگ مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے جب تک کہ سورج کو ثبیر ۱؎ پر نہ دیکھ لیتے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے ہی (مزدلفہ سے) چل پڑے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1938]
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہلِ جاہلیت (مزدلفہ سے) اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک کہ کوہِ ثبیر پر سورج کو (طلوع ہوتا) نہ دیکھ لیتے۔ سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور طلوعِ آفتاب سے پہلے ہی وہاں سے روانہ ہو لیے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1938]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحج 100 (1684)، ومناقب الأنصار 26 (3838)، سنن الترمذی/الحج 60 (896)، سنن النسائی/الحج 213 (3050)، سنن ابن ماجہ/المناسک 61 (3022)، (تحفة الأشراف: 10616)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/14، 29، 39، 42، 50، 52)، سنن الدارمی/المناسک 55 (1932) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ثبير: مزدلفہ میں ایک مشہور پہاڑی کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3838)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1944
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے اطمینان و سکون کے ساتھ لوٹے اور لوگوں کو حکم دیا کہ اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو ہاتھ کی دونوں انگلیوں کے سروں کے درمیان آ سکیں اور وادی محسر میں آپ نے اپنی سواری کو تیز کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1944]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مزدلفہ سے) روانہ ہوئے اور بڑے سکون اور آرام سے چلے اور لوگوں کو حکم دیا کہ چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں (مگر) وادی محسر میں سے تیزی سے نکلے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1944]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ الحج 204 (3024)، سنن ابن ماجہ/ المناسک 61 (3023)، (تحفة الأشراف: 2747)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/301، 332، 367، 391)، سنن الدارمی/المناسک 59 (1940) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2611)
رواه مسلم (1299 مختصرًا جدًا) وللحديث شواھد صحيحة ما رواه النسائي (3023)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں