🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
154. باب في سهمان الخيل
باب: گھوڑے کے حصے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2734
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَمَعَنَا فَرَسٌ، فَأَعْطَى كُلَّ إِنْسَانٍ مِنَّا سَهْمًا وَأَعْطَى لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ.
ابو عمرہ کے والد عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم چار آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہمارے ساتھ ایک گھوڑا تھا، تو آپ نے ہم میں سے ہر آدمی کو ایک ایک حصہ دیا، اور گھوڑے کو دو حصے دئیے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2734]
سیدنا ابو عمرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم چار آدمی تھے اور ہمارے پاس گھوڑا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ہر ایک کو ایک ایک حصہ اور گھوڑے کو دو حصے عنایت فرمائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، مسند احمد (4/138)، (تحفة الأشراف: 12072) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو عمرة مجھول الحال والخبر معلل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 99

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2733
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْهَمَ لِرَجُلٍ وَلِفَرَسِهِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ سَهْمًا لَهُ، وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی اور اس کے گھوڑے کو تین حصہ دیا: ایک حصہ اس کا اور دو حصہ اس کے گھوڑے کا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2733]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہد اور اس کے گھوڑے کے لیے تین حصے مقرر فرمائے تھے۔ ایک حصہ مجاہد کا اور دو حصے اس کے گھوڑے کے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2733]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الجھاد 36 (2854)، (تحفة الأشراف: 8111)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد 51 (2863)، المغازي 38 (4228)، صحیح مسلم/الجھاد 17 (1762)، سنن الترمذی/السیر 6 (1554)، مسند احمد (2/2، 62، 72، 80، 143، 152)، سنن الدارمی/السیر 33 (2515) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح بخاري (2863) صحيح مسلم (1762)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3010
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ:" قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ نِصْفَيْنِ، نِصْفًا لِنَوَائِبِهِ وَحَاجَتِهِ، وَنِصْفًا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَسَمَهَا بَيْنَهُمْ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا".
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو دو برابر حصوں میں تقسیم کیا: ایک حصہ تو اپنی حوائج و ضروریات کے لیے رکھا اور ایک حصہ کے اٹھارہ حصے کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 3010]
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو دو حصوں میں تقسیم کیا، ایک حصہ آپ کے اتفاقی اخراجات اور ذاتی ضروریات کے لیے خاص تھا اور آدھا مسلمانوں کے لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان میں اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 3010]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4649)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/2) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد انظر الحديث الآتي (3011)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3012
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى الأَنْصَارِ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ قَسَمَهَا عَلَى سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ سَهْمًا جَمَعَ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِلْمُسْلِمِينَ النِّصْفُ مِنْ ذَلِكَ، وَعَزَلَ النِّصْفَ الْبَاقِيَ لِمَنْ نَزَلَ بِهِ مِنَ الْوُفُودِ وَالأُمُورِ وَنَوَائِبِ النَّاسِ".
بشیر بن یسار جو انصار کے غلام تھے بعض اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر پر غالب آئے تو آپ نے اسے چھتیس حصوں میں تقسیم فرمایا، ہر ایک حصے میں سو حصے تھے تو اس میں سے نصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے ہوا اور باقی نصف آنے والے وفود اور دیگر کاموں اور اچانک مسلمانوں کو پیش آنے والے حادثات و مصیبتوں میں خرچ کرنے کے لیے الگ کر کے رکھ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 3012]
جناب بشیر بن یسار جو کہ انصار کے مولیٰ تھے، کئی اصحابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا تو اس کو کل چھتیس حصوں پر تقسیم کیا، اور ہر حصے میں سو حصے تھے، چنانچہ اس میں سے آدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے تھے اور باقی آدھے اتفاقی اخراجات کے لیے محفوظ رکھے گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفود آتے تھے یا کوئی ہنگامی خرچ ہوتا یا مسلمانوں پر کوئی مشکل آ پڑتی (تو اس مد میں سے لیا جاتا تھا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 3012]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3011)، (تحفة الأشراف: 15535، 18456) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3013
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَسَمَهَا عَلَى سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ سَهْمًا جَمَعَ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ فَعَزَلَ نِصْفَهَا لِنَوَائِبِهِ، وَمَا يَنْزِلُ بِهِ الْوَطِيحَةَ وَالْكُتَيْبَةَ وَمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا، وَعَزَلَ النِّصْفَ الْآخَرَ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ الشِّقَّ وَالنَّطَاةَ وَمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا، وَكَانَ سَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا.
بشیر بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے خیبر اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور غنیمت عطا فرمایا تو آپ نے اس کے (۳۶ چھتیس) حصے کئے اور ہر حصے میں سو حصے رکھے، تو اس کے نصف حصے اپنی ضرورتوں و کاموں کے لیے رکھا اور اسی میں سے وطیحہ وکتیبہ ۱؎ اور ان سے متعلق جائیداد بھی ہے اور دوسرے نصف حصے کو جس میں شق و نطاۃ ۲؎ ہیں اور ان سے متعلق جائیداد بھی شامل تھی الگ کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ان دونوں گاؤں کے متعلقات میں تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 3013]
جناب بشیر بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر عنایت فرما دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھتیس حصوں پر تقسیم کیا۔ ہر حصے میں سو حصے تھے۔ چنانچہ ان میں سے آدھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتفاقی اخراجات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے والے مہمانوں اور وفود کے لیے تھے یعنی قلعہ وطیحہ، کتیبہ اور ان کے ساتھ ملحق اراضی وغیرہ اور باقی آدھے مسلمانوں میں تقسیم کر دیے، یعنی قلعہ شق اور نطاہ اور ان کے مضافات۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ بھی انہی کے ملحقات و مضافات میں تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 3013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3011)، (تحفة الأشراف: 15535، 18456) (صحیح)» ‏‏‏‏ (یہ روایت گرچہ مرسل ہے پچھلی سے تقویت پا کر صحیح ہے، أغلب یہی ہے کہ وہی صحابی یہاں بھی واسطہ ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ دونوں گاؤں کے نام ہیں۔
۲؎: یہ بھی دو گاؤں کے نام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد منھا السابق (3012)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3014
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ قَسَمَهَا سِتَّةً وَثَلَاثِينَ سَهْمًا جَمْعًا، فَعَزَلَ لِلْمُسْلِمِينَ الشَّطْرَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا يَجْمَعُ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةً النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ لَهُ سَهْمٌ كَسَهْمِ أَحَدِهِمْ، وَعَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا وَهُوَ الشَّطْرُ لِنَوَائِبِهِ وَمَا يَنْزِلُ بِهِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ، فَكَانَ ذَلِكَ الْوَطِيحَ وَالْكُتَيْبَةَ وَالسَّلَالِمَ وَتَوَابِعَهَا، فَلَمَّا صَارَتِ الأَمْوَالُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِينَ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ عُمَّالٌ يَكْفُونَهُمْ عَمَلَهَا، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَهُودَ فَعَامَلَهُمْ.
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ نے خیبر کا مال عطا کیا تو آپ نے اس کے کل چھتیس حصے کئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھے یعنی اٹھارہ حصے مسلمانوں کے لیے الگ کر دئیے، ہر حصے میں سو حصے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں کے ساتھ تھے آپ کا بھی ویسے ہی ایک حصہ تھا جیسے ان میں سے کسی دوسرے شخص کا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ حصے (یعنی نصف آخر) اپنی ضروریات اور مسلمانوں کے امور کے لیے الگ کر دیے، اسی نصف میں وطیح، کتیبہ اور سلالم (دیہات کے نام ہیں) اور ان کے متعلقات تھے، جب یہ سب اموال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں آئے تو مسلمانوں کے پاس ان کی دیکھ بھال اور ان میں کام کرنے والے نہیں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو بلا کر ان سے (بٹائی پر) معاملہ کر لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 3014]
جناب بشیر بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر عنایت فرما دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کل چھتیس حصوں میں تقسیم فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھے یعنی اٹھارہ حصے مسلمانوں کے لیے خاص کر دیے۔ ہر حصہ سو حصوں پر مشتمل تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ شریک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ بھی اسی طرح تھا جیسے کہ ایک عام مسلمان کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ حصے اپنے آڑے وقتوں اور مسلمانوں کی ہنگامی ضرورت کے لیے علیحدہ کر دیے تھے اور یہ تھے قلعہ وطیح اور کتیبہ (ایک بستی) اور سلالم اور ان کے مضافات۔ جب یہ اراضی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے قبضے میں آگئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ایسے محنت کش نہ تھے جو ان کے بجائے کام کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو دعوت دی اور ان سے معاملہ طے کر لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 3014]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3011)، (تحفة الأشراف: 15535، 18456) (صحیح)» ‏‏‏‏ (یہ روایت بھی سابقہ روایت سے تقویت پا کر صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (3012)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3020
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فُتِحَتْ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ.
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا (یعنی ان کی محتاجی کا) خیال نہ ہوتا تو جو بھی گاؤں و شہر فتح کیا جاتا اسے میں اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 3020]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہو، تو جو بستی بھی فتح ہو میں اسے تقسیم کر دوں جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 3020]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحرث 14 (2334)، فرض الخمس 14 (3125)، المغازي 38 (4235)، (تحفة الأشراف: 10389)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/31، 32) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2334)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں