🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب فيمن روى أنه، لا يستسعي
باب: جنہوں نے اس حدیث میں محنت کرانے کا ذکر نہیں کیا ان کی دلیل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3948
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ ابْنِ التَّلِبِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا"أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ، فَلَمْ يُضَمِّنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَحْمَدُ: إِنَّمَا هُوَ بِالتَّاءِ يَعْنِي التَّلِبَّ وَكَانَ شُعْبَةُ أَلْثَغُ لَمْ يُبَيِّنِ التَّاءَ مِنَ الثَّاءِ.
تلب بن ثعلبہ تمیمی عنبری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باقی قیمت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ احمد کہتے ہیں: (صحابی کا نام) تلب تائے فوقانیہ سے ہے نہ کہ ثلب ثائے مثلثہ سے اور راوی حدیث شعبہ ہکلے تھے یعنی ان کی زبان سے تاء ادا نہیں ہوتی تھی وہ تاء کو ثاء کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 0502) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ملقام بن تلب مجہول الحال ہیں، اور ان کی یہ روایت سابقہ صحیح روایات کے مخالف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ملقام مستور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3933
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَعْنَى، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ،عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا" أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلَامٍ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ"، زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ: فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ.
اسامہ بن عمیر الہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو نافذ کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3933]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الکبری العتق 17 (4970)، (تحفة الأشراف: 134)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/74، 75) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (3934)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3937
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا فِي مَمْلُوكِهِ، فَعَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَهُ كُلَّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ وَإِلَّا اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے مکمل خلاصی دلائے اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اور شریکوں کے حصوں کے بقدر اس سے محنت کرائی جائے گی، بغیر اسے مشقت میں ڈالے۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3934)، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وانظر الحديث السابق (3934)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3938
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ. ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ أَوْ شَقِيصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، فَخَلَاصُهُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ اسْتُسْعِيَ لِصَاحِبِهِ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: فِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا، فَاسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگر وہ مالدار ہے تو اس پر اس کی مکمل خلاصی لازم ہو گی اور اگر وہ مالدار نہیں ہے تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اس قیمت میں دوسرے شریک کے حصہ کے بقدر اس سے اس طرح محنت کرائی جائے گی کہ وہ مشقت میں نہ پڑے (یہ علی کے الفاظ ہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3938]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3934)، (تحفة الأشراف: 12211) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2527) صحيح مسلم (1503)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3940
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ أُقِيمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ الْعَدْلِ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو اس کے حصہ کے مطابق ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3940]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الشرکة 5 (2491)، 14 (2503)، العتق 4 (2522)، صحیح مسلم/العتق 1 (1501)، الأیمان 12 (1501)، سنن النسائی/البیوع 104 (4703)، سنن ابن ماجہ/العتق 7 (2528)، (تحفة الأشراف: 8328)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العتق 1 (1)، مسند احمد (1/56) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2522) صحيح مسلم (1501)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3943
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا مِنْ مَمْلُوكٍ لَهُ، فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلِّهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ عَتَقَ نَصِيبَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس پر اس کی مکمل آزادی لازم ہے اگر اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اس کی قیمت کو پہنچ سکے، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو صرف اس کا حصہ آزاد ہو گا (اور باقی شرکاء کو اختیار ہو گا چاہیں تو آزاد کریں اور چاہیں تو غلام رہنے دیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3943]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8083)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق 4 (2523)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور 12 (1501)، سنن الترمذی/الأحکام 14 (1346)، سنن النسائی/البیوع 104 (4703) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2523) صحيح مسلم (1501 بعد ح1667)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3946
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ عَتَقَ مِنْهُ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِذَا كَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (مشترک) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو جتنا حصہ باقی بچا ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہو گا بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ غلام کی قیمت کو پہنچ سکے۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3946]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/ العتق 1 (1501)، سنن الترمذی/ الأحکام 14 (1347)، سنن النسائی/ الکبری (4944)، (تحفة الأشراف: 6935)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/34) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1501 بعد ح 1667)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3947
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةً لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ ثُمَّ يُعْتَقُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک شخص اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت ٹھہرائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ پھر وہ غلام آزاد کر دیا جائے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3947]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ العتق 4 (2521)، صحیح مسلم/ العتق 1 (1501)، سنن النسائی/ الکبری (1541)، (تحفة الأشراف: 6788)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/11) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اور اپنا حصہ آزاد کرنے والا اس واجبی قیمت میں سے جتنا حصہ دوسرے شریک کا ہو گا اسے ادا کرے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2521) صحيح مسلم (1501 بعد ح 1667)
مشكوة المصابيح (3405)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں