🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب من كرهه
باب: ریشم کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4051
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هُبَيْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی سے اور قسی ۱؎ پہننے سے اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4051]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا: کہ میں سونے کی انگوٹھی پہنوں یا «الْقَسِيَّ» (ریشمی) لباس اختیار کروں یا سرخ رنگ کا زین پوش استعمال کروں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/ الأدب 45 (2808)، سنن النسائی/ الزینة 43 (5168)، سنن ابن ماجہ/ اللباس 46 (3654)، (تحفة الأشراف: 10304)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/93، 104، 127، 132، 133، 137) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایک ریشمی کپڑا جو مصر میں تیار ہوتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4356)
رواية شعبة عن أبي إسحاق محمولة علي السماع

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4042
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا مَا كَانَ هَكَذَا وَهَكَذَا أُصْبُعَيْنِ وَثَلَاثَةً وَأَرْبَعَةً".
ابوعثمان نہدی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن فرقد کو لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم سے منع فرمایا مگر جو اتنا اور اتنا ہو یعنی دو، تین اور چار انگلی کے بقدر ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4042]
ابو عثمان النہدی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن فرقد کو لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم سے منع فرمایا ہے، الا یہ کہ اس قدر ہو، یعنی دو، تین، چار انگلی کے برابر۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4042]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/اللباس 25 (5828)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، سنن النسائی/الزینة 38 (5314)، سنن ابن ماجہ/ الجہاد 21 (3593) (تحفة الأشراف: 10597)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/15، 36، 43) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5829) صحيح مسلم (2069)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4044
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ، وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ"،
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسی (ایک ریشمی کپڑا) اور معصفر (کسم میں رنگا ہوا کپڑا) اور سونے کی انگوٹھی کے پہننے سے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4044]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ «قَسِّيِّ» پہنا جائے (وہ ریشمی کپڑا جو مصر سے درآمد ہوتا تھا) یا زعفرانی زرد رنگ کے کپڑے پہنے جائیں یا سونے کی انگوٹھی پہنی جائے یا رکوع کی حالت میں قرآن کی قراءت کی جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4044]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 41 (480)، اللباس 4 (2078)، سنن الترمذی/الصلاة 80 (264) واللباس 5 (1725)، 13 (1737)، سنن النسائی/التطبیق 7 (1041)، والزینة 43 (5180)، الزینة من المجتبی 23 (5269، 5270)، سنن ابن ماجہ/اللباس 21 (3602)، 40 (3642)، (تحفة الأشراف: 10179)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 6 (28)، مسند احمد (1/80، 81، 92، 104، 105، 114، 119، 121، 123، 126، 127، 132، 133، 134، 137، 138، 146) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2078)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4057
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي أَفْلَحَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ يَعْنِي الْغَافِقِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ، وَأَخَذَ ذَهَبًا، فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لے کر اسے اپنے داہنے ہاتھ میں رکھا اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4057]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لیا اور اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا اور سونا لیا اور اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑا، پھر فرمایا: بلاشبہ یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزینة 40 (5147)، سنن ابن ماجہ/اللباس 19 (3595)، (تحفة الأشراف: 10183)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/96، 115) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4394)
وله طريق آخر عند النسائي (5148 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4066
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةٍ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَعَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِالْعُصْفُرِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الرَّيْطَةُ عَلَيْكَ؟ فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورًا لَهُمْ، فَقَذَفْتُهَا فِيهِ ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَلَا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ لِلنِّسَاءِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گھاٹی سے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، اس وقت میں کسم میں رنگی ہوئی چادر اوڑھے ہوئے تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تم نے کیسی اوڑھ رکھی ہے؟ میں سمجھ گیا کہ یہ آپ کو ناپسند لگی ہے، تو میں اپنے اہل خانہ کے پاس آیا وہ اپنا ایک تنور سلگا رہے تھے تو میں نے اسے اس میں ڈال دیا پھر میں دوسرے دن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عبداللہ! وہ چادر کیا ہوئی؟ تو میں نے آپ کو بتایا (کہ میں نے اسے تنور میں ڈال دیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے اپنے گھر کی کسی عورت کو کیوں نہیں پہنا دیا کیونکہ عورتوں کو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4066]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گھاٹی سے نیچے اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ میں نے ایک اکہری چادر لی ہوئی تھی جو ہلکے عصفری رنگ سے رنگی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے یہ کیسی چادر اپنے اوپر لی ہوئی ہے؟ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدگی کی وجہ سمجھ گیا۔ پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور وہ اپنا تنور دہکا رہے تھے، تو میں نے اس چادر کو اس میں دے مارا۔ پھر میں اگلے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: عبداللہ! اس چادر کا کیا ہوا؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اسے اپنے گھر والوں میں سے کسی کو کیوں نہ دے دیا؟ عورتوں کو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4066]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/اللباس 21 (3603)، (تحفة الأشراف: 8811)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/164، 196) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
رواه ابن ماجه (3603 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (708)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں