🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب دية الجنين
باب: جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ) کی دیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4579
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، لَمْ يَذْكُرَا أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ کے بچے میں ایک غلام یا ایک لونڈی یا ایک گھوڑے یا ایک خچر کی دیت کا فیصلہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ اور خالد بن عبداللہ نے محمد بن عمرو سے روایت کیا ہے البتہ ان دونوں نے «أو فرس أو بغل» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4579]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین کے سلسلے میں ایک غلام یا لونڈی یا ایک گھوڑا یا خچر ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حماد بن سلمہ اور خالد بن عبداللہ نے محمد بن عمرو سے یہ روایت نقل کی ہے، مگر ان دونوں نے «أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ» یا گھوڑا یا خچر کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (4576)، (تحفة الأشراف: 15078)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/438، 498) (شاذ)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3503)
أخرجه ابن ماجه (2639 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4568
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِ الْمُغِيَرةِ بْنِ شُعْبَةَ:" أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ: كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا صَاحَ وَلَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ؟ فَقَالَ: أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ، فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مار کر اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو قتل کر دیا، وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: ہم اس کی دیت کیوں کر ادا کریں جو نہ رویا، نہ کھایا، نہ پیا، اور نہ ہی چلایا، (اس نے یہ بات مقفّٰی عبارت میں کہی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دیہاتیوں کی طرح مقفّی و مسجّع عبارت بولتے ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غرہ (لونڈی یا غلام) کی دیت کا فیصلہ کیا، اور اسے عورت کے عاقلہ (وارثین) کے ذمہ ٹھہرایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4568]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو عورتیں بنو ہذیل کے ایک آدمی کی زوجیت میں تھیں۔ ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کا بانس دے مارا اور اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو قتل کر دیا۔ وہ لوگ اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ تو دونوں اطراف کے لوگوں میں سے کسی ایک نے کہا: کس طرح دیت دیں ہم اس کی جو نہ رویا، نہ کھایا، نہ پیا اور نہ چلایا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے اندازِ گفتگو پر) فرمایا: کیا یہ دیہاتیوں کی سی سجع ہے؟ الغرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس بچے کی دیت) ایک غلام ہے اور اسے قاتلہ کے وارثوں کے ذمے لگایا کہ وہ اسے ادا کریں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/القسامة 1 (1682)، سنن الترمذی/الدیات 15 (1411)، سنن النسائی/القسامة 33 (4825)، سنن ابن ماجہ/الدیات 7 (2633)، (تحفة الأشراف: 11510)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الدیات 25 (6905-6908)، الاعتصام 13 (7317)، مسند احمد (4 /224، 245، 246، 249)، سنن الدارمی/الدیات 20 (2425) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1682)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4570
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ:" أَنّ عُمَرَ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، فَقَالَ: ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ، فَأَتَاهُ بِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، زَادَ هَارُونُ: فَشَهِدَ لَهُ يَعْنِي ضَرْبَ الرَّجُلِ بَطْنَ امْرَأَتِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، إِنَّمَا سُمِّيَ إِمْلَاصًا لِأَنَّ الْمَرْأَةَ تُزْلِقُهُ قَبْلَ وَقْتِ الْوِلَادَةِ، وَكَذَلِكَ كُلُّ مَا زَلَقَ مِنَ الْيَدِ وَغَيْرِهِ فَقَدْ مَلِصَ.
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، تو عمر نے کہا: میرے پاس اپنے ساتھ اس شخص کو لاؤ جو اس کی گواہی دے، تو وہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو لے کر ان کے پاس آئے۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے تو انہوں نے اس کی گواہی دی یعنی اس بات کی کہ کوئی آدمی عورت کے پیٹ میں مارے جو اسقاط حمل کا سبب بن جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے معلوم ہوا اسقاط حمل کو املاص اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے معنی ازلاق یعنی پھسلانے کے ہیں گویا عورت ولادت سے قبل ہی مار کی وجہ سے حمل کو پھسلا دیتی ہے اسی طرح ہاتھ یا کسی اور چیز سے جو چیز پھسل کر گر جائے تو اس کی تعبیر «مَلِصَ» سے کی جاتی ہے یعنی وہ پھسل گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4570]
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مشورہ کیا کہ اگر کسی عورت کے پیٹ کا بچہ ساقط کر دیا گیا ہو (تو اس میں کیا دیت ہو؟) سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کوئی گواہ لائیے جو آپ کی تائید میں گواہی دے۔ چنانچہ وہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو لے آئے۔ ہارون نے مزید کہا: چنانچہ انہوں نے گواہی دی یعنی اگر کوئی پیٹ والی عورت کو صدمہ پہنچائے (تو اس کی دیت یہی ہے)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوعبید سے مروی ہے کہ اسقاط کو «إِمْلَاصٌ» اس لیے کہتے ہیں کہ عورت بچے کو قبل از وقت پھسلا دیتی ہے، اور ہر وہ چیز جو ہاتھ وغیرہ سے پھسل جائے اسے «مَلَصَ» کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/ القسامة 2 (1689)، سنن ابن ماجہ/ الدیات 11 (2640)، (تحفة الأشراف: 11233، 11529)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/253) (صحیح)» ‏‏‏‏ (ہارون کی زیادتی صحیح نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون زيادة هارون ق
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1683)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4572
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ:" أَنَّهُ سَأَلَ عَنْ قَضِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَامَ إِلَيِه حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ، فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ وَأَنْ تُقْتَلَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: الْمِسْطَحُ هُوَ الصَّوْبَجُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْمِسْطَحُ عُودٌ مِنْ أَعْوَادِ الْخِبَاءِ.
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے متعلق پوچھا تو حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے، اور بولے: میں دونوں عورتوں کے بیچ میں تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مارا تو وہ مر گئی اور اس کا جنین بھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جنین کے سلسلے میں ایک غلام یا لونڈی کی دیت کا، اور قاتلہ کو قتل کر دیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل نے کہا: «مسطح» چوپ یعنی (روٹی پکانے کی لکڑی) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو عبید نے کہا: «مسطح» خیمہ کی لکڑیوں میں سے ایک لکڑی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4572]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کے بارے میں دریافت کیا (جو پیٹ کے بچے کے بارے میں ہوا تھا) تو حمل بن مالک بن نابغہ اٹھا اور کہا: میں دو عورتوں کے درمیان میں تھا (میری دو بیویاں تھیں) تو ایک نے دوسری کو خیمے کا بانس دے مارا اور اس کو اور اس کے پیٹ کے بچے کو مار ڈالا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بچے کے بارے میں ایک غلام ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور اس عورت کو (جو قاتلہ تھی قصاص میں) قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نضر بن شمیل نے کہا کہ: «مِسْطَح» سے مراد وہ لکڑی ہے جس کے ذریعے سے تنور سے روٹی نکالی جاتی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابوعبید نے کہا کہ: «مِسْطَح» خیمے کی لکڑی کو کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/القسامة 33 (4720)، سنن ابن ماجہ/الدیات 11 (2641)، (تحفة الأشراف: 3444)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/364، 4/ 79)، سنن الدارمی/الدیات 21 (2427) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (2641 وسنده صحيح) ورواه النسائي (4743 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4575
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:" أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ قَتَلَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا زَوْجٌ وَوَلَدٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَاقِلَةِ الْقَاتِلَةِ وَبَرَّأَ زَوْجَهَا وَوَلَدَهَا، قَالَ: فَقَالَ: عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ مِيرَاثُهَا لَنَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، مِيرَاثُهَا لِزَوْجِهَا وَوَلَدِهَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کر دیا، ان میں سے ہر ایک کے شوہر بھی تھا، اور اولاد بھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبات پر ٹھہرائی اور اس کے شوہر اور اولاد سے کوئی مواخذہ نہیں کیا، مقتولہ کے عصبات نے کہا: کیا اس کی میراث ہمیں ملے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس کی میراث تو اس کے شوہر اور اولاد کی ہو گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4575]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کر دیا اور ان دونوں میں سے ہر ایک کا شوہر بھی تھا اور بچہ بھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عاقلہ پر ڈالی اور اس قاتلہ کے شوہر اور بیٹے کو اس دیت کی ادائیگی سے بری رکھا۔ تو مقتولہ کے عاقلہ کہنے لگے کہ اس کی میراث ہمارا حق ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس کی وراثت اس کے شوہر اور بیٹے کا حق ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الدیات 25 (2648)، (تحفة الأشراف: 2347) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2648)
مجالد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4576
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةَ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ، فَقَالَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُغْرَمُ دِيَةَ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ لَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں جھگڑا ہوا، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا تو اسے قتل ہی کر ڈالا، تو لوگ مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ نے فیصلہ کیا: جنین کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے، اور عورت کی دیت کا فیصلہ کیا کہ یہ اس کے عصبہ پر ہو گی اور اس دیت کا وارث مقتولہ کی اولاد کو اور ان کے ساتھ کے لوگوں کو قرار دیا۔ حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی نے کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی جان کی دیت کیوں ادا کروں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا، اور نہ چیخا، ایسے کا خون تو لغو قرار دے دیا جاتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے آپ نے یہ بات اس کی اس «سجع» تعبیر کی وجہ سے کہی جو اس نے کی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4576]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں لڑ پڑیں تو ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا اور اسے قتل کر دیا۔ چنانچہ وہ اپنا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ جنین کی دیت میں ایک غلام یا لونڈی ادا کی جائے اور مقتولہ کی وراثت اس کے بیٹے اور اس کے ساتھ دوسرے وارثوں کو دلوائی۔ تو حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھلا اس کا جرمانہ کیونکر بھروں جس نے نہ پیا نہ کھایا، نہ بولا نہ چلایا، ایسا خون تو لغو ہوتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو کاہنوں کا بھائی لگتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اس کی مسجع گفتگو کی وجہ سے فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الطب 46 (5758)، الفرائض 11 (5759)، الدیات 25 (6909)، 26 (6910)، صحیح مسلم/القسامة 11(1681)، سنن النسائی/القسامة 33 (4822)، (تحفة الأشراف: 13320، 15308)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدیات 15 (1410)، سنن ابن ماجہ/الدیات 11 (2639)، موطا امام مالک/العقول 7 (5)، مسند احمد (2/236، 274، 438، 498، 535، 539)، دی/الدیات 21 (2427) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6910) صحيح مسلم (1681)
مشكوة المصابيح (3509)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں