🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب في التخيير بين الأنبياء عليهم الصلاة والسلام
باب: انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4669
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بندے کے لیے درست نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4669]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بندے کو لائق نہیں کہ وہ یوں کہے کہ میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) سیدنا یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأنبیاء 24 (3395)، وتفسیر القرآن 4 (4630)، صحیح مسلم/الفضائل 43 (2377)، (تحفة الأشراف: 5421)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/242، 254، 342، 348) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس میں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنے کو یونس علیہ السلام سے افضل کہے، کیونکہ غیر نبی کبھی کسی بھی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا، یا یہ کہ یونس علیہ السلام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فضیلت دے اس صورت میں آپ کا یہ فرمانا بطور تواضع ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3413) صحيح مسلم (2377)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4668
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبیوں کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4668]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت و ترجیح مت دیا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الخصومات 4 (2412)، الأنبیاء 25 (3398)، الدیات 32 (6917)، صحیح مسلم/الفضائل (2374)، (تحفة الأشراف: 4405)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/31، 33، 40) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس کے یہ معنی نہیں کہ انبیاء فضیلت میں برابر ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اپنی طرف سے ایسا مت کرو، یا مطلب یہ ہے کہ ایک کو دوسرے پر ایسی فضیلت نہ دو کہ دوسرے کی تنقیص لازم آئے، یا یہ ہے کہ نفس نبوت میں سب برابر ہیں، خصائص اور فضائل میں ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں،جیسا کہ اللہ نے فرمایا: «تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2412) صحيح مسلم (2374)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4670
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَقُولَ: إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: کسی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4670]
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: کسی نبی کو لائق نہیں کہ یوں کہے کہ میں سیدنا یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5226)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/205) (صحیح لغیرہ)» ‏‏‏‏ (اس میں محمد بن اسحاق صدوق ہیں، لیکن سابقہ شاہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن إسحاق مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4671
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى، فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ فِي جَانِبِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ ابْنِ يَحْيَى أَتَمُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کے ایک شخص نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو چن لیا، یہ سن کر مسلمان نے یہودی کے چہرہ پر طمانچہ رسید کر دیا، یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو، (پہلا صور پھونکنے سے) سب لوگ بیہوش ہو جائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا، اس وقت موسیٰ علیہ السلام عرش کا ایک کنارا مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں گے، تو مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جو بیہوش ہو گئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے، یا ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے بیہوش ہونے سے محفوظ رکھا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن یحییٰ کی حدیث زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4671]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو منتخب فرمایا۔ تو ایک مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے منہ پر تھپڑ مار دیا۔ وہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت مت دو۔ بلاشبہ (قیامت برپا ہونے پر) جب لوگ بے ہوش کیے جائیں گے تو میں ہی ہوں گا جو سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا اور دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا پایہ پکڑے کھڑے ہوں گے۔ معلوم نہیں وہ بے ہوش ہوئے ہوں گے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے ہوں گے یا یہ ان افراد میں سے ہوں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے ہوشی سے مستثنیٰ رکھا ہو گا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن یحییٰ کی روایت زیادہ مکمل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4671]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الخصومات 1 (2412)، الأنبیاء 32 (2398)، التفسیر 4 (4638)، والرقاق 43 (6517)، التوحید 31 (7472)، صحیح مسلم/الفضائل 42 (2373)، (تحفة الأشراف: 13956)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن 40 (3245)، مسند احمد (2/264) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: چونکہ اس یہودی نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام عالم سے افضل قرار دیا تھا اس لئے مسلمان نے اُسے طمانچہ رسید کر دیا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز سے منع کیا وہ انبیاء کرام علیہم السلام کو ایک دوسرے پر حمیت و عصبیت کی بنا پر فضیلت دینا ہے، ورنہ اس میں شک نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں، آپ نے موسیٰ علیہ السلام کے بے ہوش نہ ہونے وغیرہ کی بات صرف اس لئے فرمائی کہ ہر نبی کو اللہ نے کچھ خصوصیات عنایت فرمائی ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر دوسرے انبیاء کی کسر شان درست نہیں، ہمارے لئے سارے انبیاء علیہ السلام قابل احترام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2411) صحيح مسلم (2377)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں