🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
119. باب افتتاح الصلاة
باب: نماز شروع کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 729
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشِّتَاءِ، فَرَأَيْتُ أَصْحَابَهُ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي ثِيَابِهِمْ فِي الصَّلَاةِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سردی کے موسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ نماز میں (سردی کی وجہ سے) اپنے کپڑوں کے اندر ہی رفع یدین کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 729]
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، سردی کا موسم تھا، میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ وہ کپڑوں کے اندر سے نماز میں اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے (یعنی رفع یدین کرتے تھے)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11777)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/316) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شواهد منھا الحديث السابق (727)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 721
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَأَكْثَرُ مَا كَانَ يَقُولُ: وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، یہاں تک کہ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل لے جاتے، اور جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے (تو بھی اسی طرح کرتے)، اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد بھی۔ سفیان نے (اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد بھی کے بجائے) ایک مرتبہ یوں نقل کیا: اور جب آپ اپنا سر اٹھاتے، اور زیادہ تر سفیان نے: رکوع سے اپنا سر اٹھانے کے بعد کے الفاظ ہی کی روایت کی ہے، اور آپ دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 721]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے (رفع یدین کرتے) حتیٰ کہ آپ کے کندھوں کے برابر آ جاتے، اور جب رکوع کرنا چاہتے (تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، رفع یدین کرتے) اور ایسے ہی رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کرتے۔ اور سفیان نے ایک بار کہا: اور جب اپنا سر اٹھاتے۔ اور اکثر اوقات ان کے الفاظ ہوتے تھے: «وَبَعْدُ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ» یعنی رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کرتے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں کے درمیان ہاتھ نہ اٹھایا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 721]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 83 (735)، 84 (736)، 85 (738)، 86 (739)، صحیح مسلم/الصلاة 9 (390)، سنن الترمذی/الصلاة 76 (255، 256)، سنن النسائی/الافتتاح 1 (875)، 86 (1026)، والتطبیق 19 (1058)، 21 (1060)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 15 (858)، موطا امام مالک/الصلاة 4(16)، مسند احمد (2 /8، 18، 44، 45، 47، 62، 100، 147)، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1285)، 71 (1347)، (تحفة الأشراف: 6816، 6841) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (735، 736، 738) صحيح مسلم (390)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 722
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ، وَهُمَا كَذَلِكَ فَيَرْكَعُ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى تَكُونَ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ وَيَرْفَعُهُمَا فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ يُكَبِّرُهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلَاتُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے (رفع یدین کرتے)، یہاں تک کہ وہ آپ کے دونوں کندھوں کے مقابل ہو جاتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «الله أكبر» کہتے، اور وہ دونوں ہاتھ اسی طرح ہوتے، پھر رکوع کرتے، پھر جب رکوع سے اپنی پیٹھ اٹھانے کا ارادہ کرتے تو بھی ان دونوں کو اٹھاتے (رفع یدین کرتے) یہاں تک کہ وہ آپ کے کندھوں کے بالمقابل ہو جاتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سمع الله لمن حمده» کہتے، اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھ نہ اٹھاتے، اور رکوع سے پہلے ہر تکبیر کے وقت دونوں ہاتھ اٹھاتے، یہاں تک کہ آپ کی نماز پوری ہو جاتی۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 722]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے (رفع یدین کرتے) حتیٰ کہ وہ کندھوں کے برابر آ جاتے۔ پھر «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے اور انہیں ویسے ہی اٹھاتے اور رکوع کرتے، پھر جب اپنی کمر اٹھانا چاہتے تو اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے (رفع یدین کرتے) حتیٰ کہ (ہاتھ) آپ کے کندھوں کے برابر آ جاتے، پھر کہتے «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اور سجدوں میں اپنے ہاتھ نہ اٹھاتے اور رکوع سے پہلے ہر تکبیر میں اپنے ہاتھ اٹھاتے (رفع یدین کرتے)، حتیٰ کہ آپ کی نماز پوری ہو جاتی۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 722]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6816، 6928) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
ورواه ابن أبي أخي الزھري عن الزھري به عند أحمد (2/133، 134) وابن الجارود (178) وسنده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 723
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا لَا أَعْقِلُ صَلَاةَ أَبِي، قَالَ: فَحَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلِ بْنِ حُجْر، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ الْتَحَفَ ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ وَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي ثَوْبِهِ، قَالَ: فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ سَجَدَ وَوَضَعَ وَجْهَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ أَيْضًا رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ"، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، فَقَالَ: هِيَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَهُ مَنْ فَعَلَهُ وَتَرَكَهُ مَنْ تَرَكَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هَمَّامٌ، عَنْ ابْنِ جُحَادَةَ، لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ مَعَ الرَّفْعِ مِنَ السُّجُودِ.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے تکبیر (تحریمہ) کہی تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑا، اور انہیں اپنے کپڑے میں داخل کر لیا، جب آپ نے رکوع کا ارادہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ (چادر سے) نکالے پھر رفع یدین کیا، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کیا تو رفع یدین کیا، پھر سجدہ کیا اور اپنی پیشانی کو دونوں ہتھیلیوں کے بیچ میں رکھا، اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو رفع یدین ۱؎ کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے۔ محمد کہتے ہیں: میں نے حسن بصری سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، کرنے والوں نے ایسا ہی کیا اور چھوڑنے والوں نے اسے چھوڑ دیا۔ أبوداود کہتے ہیں: اس حدیث کو ہمام نے بھی ابن جحادہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 723]
جناب عبدالجبار بن وائل بن حجر بیان کرتے ہیں کہ میں نوعمر لڑکا تھا، اپنے والد کی نماز کو نہ سمجھتا تھا، تو مجھے وائل بن علقمہ نے میرے والد وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، بتایا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا لپیٹ لیا، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو اپنے دائیں سے پکڑا اور اپنے ہاتھوں کو اپنے کپڑے میں کر لیا، کہا کہ جب رکوع کرنا چاہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو (کپڑے سے باہر) نکالتے پھر انہیں اوپر اٹھاتے (رفع یدین کرتے) اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھانا چاہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اسی طرح اٹھاتے (رفع یدین کرتے)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور اپنے چہرے کو اپنی ہتھیلیوں کے درمیان میں رکھا اور جب سجدوں سے سر اٹھاتے تو بھی اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہو گئے۔ محمد (محمد بن جحارہ) نے کہا کہ میں نے یہ حدیث حسن بن ابی الحسن (حسن بصری) سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: یہی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز، جس نے اسے اختیار کیا، اختیار کیا اور جس نے اسے چھوڑ دیا، چھوڑ دیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو ہمام نے ابن جحارہ سے روایت کیا تو اس میں سجدوں سے اٹھ کر رفع یدین کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 723]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 15 (401)، (تحفة الأشراف: 11774، 11788)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 11 (890)، الافتتاح 139 (1103)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 3 (810)، مسند احمد (4/317، 318)، سنن الدارمی/الصلاة 35 (1217)، 92 (1397) (ولیس عند أحد ذکر رفع الیدین مع الرفع من السجود) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مؤلف کے سوا کسی کے یہاں بھی سجدے سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں ہے، اکثر علماء کے نزدیک مؤلف کی یہ روایت منسوخ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
شاذ
وقوله ’’ وإذا رفع رأسه من السجود أيضًا رفع يديه ‘‘ شاذ مخالف لحديث مسلم (401) وغيره ومعناه إن صح: ’’إذا رفع رأسه من سجود الركعة الثانية وأراد أن يقوم من التشھد رفع يديه ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 725
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ، حَدَّثَنِي أَهْلُ بَيْتِي، عَنْ أَبِي، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، أَنَّهُ" رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ التَّكْبِيرَةِ".
عبدالجبار بن وائل کہتے ہیں: مجھ سے میرے گھر والوں نے بیان کیا کہ میرے والد نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکبیر کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 725]
جناب عبدالجبار بن وائل نے کہا کہ مجھ سے میرے اہل خانہ نے میرے والد (وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا، میرے والد نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ وہ تکبیر کے ساتھ ہاتھ اٹھاتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 725]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11791)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/316) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أھل بيت عبدالجبار : مجهولون،كما قال المنذري (عون المعبود 1/ 264)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 726
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، قَالَ:" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ رَأْسَهُ بِذَلِكَ الْمَنْزِلِ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً، وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا: وَحَلَّقَ بِشْرٌ الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز ادا کرتے ہیں؟ (میں نے دیکھا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ اکبر کہا، پھر دونوں ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ وہ دونوں کانوں کے بالمقابل ہو گئے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ کو پکڑا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کا ارادہ کیا تو بھی اسی طرح ہاتھوں کو اٹھایا، پھر دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، پھر رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی انہیں اسی طرح اٹھایا، پھر جب سجدہ کیا تو اپنے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ اس جگہ پہ رکھا، پھر بیٹھے تو اپنا بایاں پیر بچھایا، اور بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھا، اور اپنی داہنی کہنی کو داہنی ران سے جدا رکھا اور دونوں انگلیوں (خنصر، بنصر) کو بند کر لیا اور دائرہ بنا لیا (یعنی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے)۔ بشر بن مفضل بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے شیخ عاصم بن کلیب کو دیکھا وہ اسی طرح کرتے تھے، اور بشر نے انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کا دائرہ بنایا اور انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 726]
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: میں بالضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھوں گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے پڑھتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، قبلے کی طرف رخ کیا اور «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہا، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں کے برابر آ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیا، جب رکوع کرنا چاہا تو اپنے دونوں ہاتھ پہلے کی طرح اٹھائے اور پھر انہیں اپنے گھٹنوں پر رکھا۔ جب رکوع سے سر اٹھایا تو دونوں ہاتھوں کو اسی طرح اٹھایا (یعنی رفع یدین کیا)، جب سجدہ کیا تو اپنا سر زمین پر اپنے ہاتھوں کے درمیان اسی مقام پر رکھا (یعنی سر اور ہاتھوں کا فاصلہ اتنا ہی تھا جتنا کہ رفع یدین کے وقت تھا۔) پھر بیٹھے اور اپنے بائیں پاؤں کو بچھا لیا اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا اور دائیں ہاتھ کی کہنی کو دائیں ران سے علیحدہ اور اونچا رکھا۔ اپنی دو انگلیوں (چھنگلی اور ساتھ والی) کو بند کر لیا اور باقی سے حلقہ بنا لیا۔ (مسدد کہتے ہیں کہ) میں نے اپنے شیخ بشر کو دیکھا کہ انہوں نے انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بنایا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 726]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ الافتتاح 11 (890)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة 3 (810)، (تحفة الأشراف: 11781)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/316، 317، 318، 319) (صحیح) ویأتی ہذا الحدیث عند المؤلف برقم (957)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
صححه ابن خزيمة (480، 714 وسندھما صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 728
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ أُذُنَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَى صُدُورِهِمْ فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ وَعَلَيْهِمْ بَرَانِسُ وَأَكْسِيَةٌ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جس وقت آپ نے نماز شروع کی اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے بالمقابل اٹھایا، پھر میں (ایک زمانہ کے بعد) لوگوں کے پاس آیا تو میں نے انہیں دیکھا کہ وہ نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھ اپنے سینوں تک اٹھاتے اور حال یہ ہوتا کہ ان پر جبے اور چادریں ہوتیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 728]
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز شروع کی تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک اٹھایا۔ کہا کہ میں پھر ان (صحابہ) کے پاس آیا، میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ وہ نماز شروع کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو سینوں تک اٹھاتے تھے اور وہ جبے اور کمبل اوڑھے ہوئے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ السہو 31 (1266)، (تحفة الأشراف: 11783) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شريك عنعن في ھذا المتن وھو مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 730
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَلِمَ فَوَاللَّهِ؟ مَا كُنْتَ بِأَكْثَرِنَا لَهُ تَبَعًا وَلَا أَقْدَمِنَا لَهُ صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلَا يَصُبُّ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ وَيَسْجُدُ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ"، قَالُوا: صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبدالحمید بن جعفر کہتے ہیں کہ مجھے محمد بن عمرو بن عطاء نے خبر دی ہے کہ میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کرام کے درمیان جن میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے کہتے سنا: میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: وہ کیسے؟ اللہ کی قسم آپ ہم سے زیادہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے تھے، نہ ہم سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آئے تھے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں یہ ٹھیک ہے (لیکن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز زیادہ یاد ہے) اس پر لوگوں نے کہا: (اگر آپ زیادہ جانتے ہیں) تو پیش کیجئیے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر سیدھی ہو جاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآت کرتے، پھر «الله أكبر» کہتے، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کر لیتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، اور رکوع میں پیٹھ اور سر سیدھا رکھتے، سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ ہی پیٹھ سے بلند رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور «سمع الله لمن حمده» کہتے، پھر اپنا دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ سیدھا ہو کر انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کرتے پھر «الله أكبر» کہتے، پھر زمین کی طرف جھکتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلووں سے جدا رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنے بائیں پیر کو موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں پیر کی انگلیوں کو نرم رکھتے اور (دوسرا) سجدہ کرتے پھر «الله أكبر» کہتے اور (دوسرے سجدہ سے) اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آ جاتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے پھر جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو «الله أكبر» کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل لے جاتے جس طرح کہ نماز شروع کرنے کے وقت «الله أكبر» کہا تھا، پھر اپنی بقیہ نماز میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب اس سجدہ سے فارغ ہوتے جس میں سلام پھیرنا ہوتا، تو اپنے بائیں پیر کو اپنے داہنے پیر کے نیچے سے نکال کر اپنی بائیں سرین پر بیٹھتے (پھر سلام پھیرتے)۔ اس پر ان لوگوں نے کہا: آپ نے سچ کہا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 730]
جناب محمد بن عمرو بن عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو سنا، انہوں نے اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے دس افراد کی جماعت میں کہا اور ان میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق تم سب سے زیادہ باخبر ہوں۔ انہوں نے کہا: کیسے؟ قسم اللہ کی! تم کوئی ہم سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والے تو نہیں ہو یا ہماری نسبت زیادہ قدیم الصحبت تو نہیں ہو۔ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ صحابہ نے کہا: اچھا تو بیان کرو۔ (ابوحمید رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے، حتیٰ کہ وہ آپ کے کندھوں کے برابر آ جاتے، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی اپنی جگہ پر ٹھیک طرح سے ٹک جاتی۔ پھر آپ قرآت فرماتے۔ پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) حتیٰ کہ دونوں کندھوں کے برابر آ جاتے۔ پھر رکوع کرتے اور اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھتے اور اعتدال و سکون سے رکوع کرتے، نہ سر کو جھکاتے اور نہ اوپر اٹھاتے، پھر رکوع سے سر اٹھاتے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہتے، پھر اپنے ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) حتیٰ کہ کندھوں کے برابر آ جاتے اور خوب اعتدال و سکون سے کھڑے ہوتے۔ پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے اور زمین کی طرف جھکتے اور (سجدے میں) اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھتے۔ پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑ لیتے اور اس کے اوپر بیٹھ جاتے۔ اور سجدے میں اپنے پاؤں کی انگلیاں (قبلہ رخ) موڑ لیتے، پھر (دوسرا) سجدہ کرتے، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہہ کر اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑ کر اس پر بیٹھ جاتے، حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی اپنی جگہ پر لوٹ آتی۔ پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کرتے۔ پھر جب دو رکعتوں سے (تیسری کے لیے) اٹھتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے، حتیٰ کہ آپ کے کندھوں کے برابر آ جاتے جیسے کہ نماز شروع کرتے وقت اٹھائے تھے (یعنی رفع یدین کرتے)۔ پھر بقیہ نماز میں اسی طرح کرتے حتیٰ کہ جب اس سجدہ میں ہوتے جس میں سلام کہنا ہوتا (تو تشہد میں) اپنے بائیں پاؤں کو آگے کر دیتے اور بائیں سرین کے حصے پر بیٹھ جاتے۔ ان سب صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: آپ نے سچ فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی نماز پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 145 (828)، سنن الترمذی/الصلاة 78 (304)، سنن النسائی/التطبیق 6 (1040)، والسہو 2 (1182)، 29 (1236)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 15 (1061)، (تحفة الأشراف: 11897)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/424) سنن الدارمی/الصلاة 70 (1346) (كلهم مختصرًا من سياق المؤلف، وليس عند البخاري ذكر رفع اليدين ما سوى عند التحريمة) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (801)
صححه ابن خزيمة (587، 588 وسندھما صحيح) عبد الحميد بن جعفر وثقه الجمھور ومحمد بن عمرو بن عطاء صرح بالسماع

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 741
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ"، وَيَرْفَعُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الصَّحِيحُ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ لَيْسَ بِمَرْفُوعٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى بَقِيَّةُ أَوَّلَهُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأَسْنَدَهُ وَرَوَاهُ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأَوْقَفَهُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، قَالَ فِيهِ: وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يَرْفَعُهُمَا إِلَى ثَدْيَيْهِ، وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَمَالِكٌ، وَأَيُّوبُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ مَوْقُوفًا، وَأَسْنَدَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَحْدَهُ، عَنْ أَيُّوبَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَيُّوبُ، وَمَالِكٌ الرَّفْعَ: إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ، وَذَكَرَهُ اللَّيْثُ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ فِيهِ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَجْعَلُ الْأُولَى أَرْفَعَهُنَّ؟ قَالَ: لَا سَوَاءً، قُلْتُ: أَشِرْ لِي؟ فَأَشَارَ إِلَى الثَّدْيَيْنِ أَوْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب نماز میں داخل ہوتے تو «الله اكبر» کہتے، اور جب رکوع کرتے اور «سمع الله لمن حمده» کہتے تو رفع یدین کرتے یعنی دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب دونوں رکعتوں سے اٹھتے تو رفع یدین کرتے یعنی دونوں ہاتھ اٹھاتے، اسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح یہی ہے کہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے، مرفوع نہیں ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بقیہ نے اس حدیث کا ابتدائی حصہ عبیداللہ سے روایت کیا ہے، اور اسے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور ثقفی نے بھی اسے عبیداللہ سے روایت کیا ہے مگر ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ٹھہرایا ہے، اس میں یوں ہے: جب آپ دونوں رکعت پوری کر کے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ دونوں چھاتیوں تک اٹھاتے، اور یہی صحیح ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد، مالک، ایوب اور ابن جریج نے موقوفاً روایت کیا ہے، صرف حماد بن سلمہ نے اسے ایوب کے واسطے سے مرفوعاً روایت کیا ہے، ایوب اور مالک نے اپنی روایت میں دونوں سجدوں سے تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے وقت رفع یدین کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے، البتہ لیث نے اپنی روایت میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ابن جریج نے اپنی روایت میں یہ بھی کہا ہے کہ میں نے نافع سے پوچھا: کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلی بار میں ہاتھ زیادہ اونچا اٹھاتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ ہر مرتبہ برابر اٹھاتے تھے۔ میں نے کہا: اشارہ کر کے مجھے بتاؤ تو انہوں نے دونوں چھاتیوں تک یا اس سے بھی نیچے تک اشارہ کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 741]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب نماز شروع کرتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور (ایسے ہی) جب رکوع کو جاتے اور جب (رکوع سے اٹھتے اور) «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے۔ اور جب دو رکعتوں سے (تیسری کے لیے) اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔ اور وہ اپنا یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے، مرفوع حدیث نہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اور بقیہ نے اس حدیث کا پہلا حصہ عبیداللہ سے بیان کیا تو اسے مرفوع ذکر کیا (بغیر اس کے کہ آپ نے دو رکعتوں سے اٹھ کر رفع یدین کیا) مگر عبدالوہاب ثقفی نے عبیداللہ سے روایت کیا تو اسے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف کیا اور اس میں کہا: جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنی چھاتیوں تک اٹھاتے۔ اور یہی صحیح ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ اسے لیث بن سعد، مالک، ایوب اور ابن جریج نے موقوف ہی روایت کیا ہے۔ صرف حماد بن سلمہ نے بواسطہ ایوب مرفوع بیان کیا۔ ایوب اور مالک نے دو سجدوں (یعنی رکعتوں) سے اٹھ کر رفع یدین کا ذکر نہیں کیا، صرف لیث نے ذکر کیا ہے۔ ابن جریج نے اس میں کہا کہ میں نے نافع سے پوچھا: کیا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلی بار رفع یدین میں اپنے ہاتھ زیادہ اونچے اٹھاتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ سب میں برابر ہی اٹھاتے تھے۔ میں نے کہا: مجھے کر کے دکھاؤ، تو انہوں نے چھاتیوں تک اٹھائے یا اس سے ذرا کم ہی۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 741]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 83 (739)، (تحفة الأشراف: 8017، 8396) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ان سندوں سے یہ حدیث موقوف ہے، لیکن حدیث نمبر (۷۲۱) میں اس کے مرفوع ہونے کی صراحت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح بخاري (739)
صححه البغوي في شرح السنة (3/21) وما قال بعض الناس في تعليله فليس بعله قادحة والحمد لله

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 743
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعتیں پڑھ کر (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے، تو «الله اكبر» کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 743]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 743]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7415)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/145)، البخاري في رفع الیدین (25)(صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 744
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ وَكَبَّرَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد فِي حَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ حِينَ وَصَفَ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے اور جب اپنی قرآت پوری کر چکتے اور رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور جب رکوع سے اٹھتے تو بھی اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنے کی حالت میں کبھی بھی نماز میں اپنے دونوں ہاتھ نہیں اٹھاتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر (تیسری) کے لیے اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور «الله اكبر» کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جس وقت انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کی تو کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کر لیتے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت «الله اكبر» کہتے وقت کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 744]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے۔ اور جب اپنی قراءت پوری کر لیتے اور رکوع کرنا چاہتے تو اسی طرح ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور جب رکوع سے اٹھتے تو اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے)۔ اور نماز میں بیٹھے ہوئے ہونے کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع یدین نہ کرتے تھے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے اور «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث، جس میں انہوں نے نماز نبوی کی تفصیل بیان فرمائی ہے اس میں ہے کہ آپ جب دو رکعتوں کے بعد اٹھتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، حتیٰ کہ آپ کے کندھوں کے برابر آ جاتے جیسے کہ شروع نماز کے وقت تکبیر کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 744]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 26 (771)، سنن الترمذی/الدعوات 32 (3421، 3422، 3423)، سنن النسائی/الافتتاح 17(896)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 15(864)، (تحفة الأشراف: 10228)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 4(16)، مسند احمد (1/93) سنن الدارمی/الصلاة 33 (1274) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (584 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 745
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى يَبْلُغَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے جب آپ تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کی لو تک لے جاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 745]
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے تو رفع یدین کرتے، اور جب رکوع کو جاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اپنے ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں کی لوؤں تک پہنچ جاتے، (یا کانوں کے اوپر کے حصے تک پہنچ جاتے تھے)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 9 (391)، سنن النسائی/الافتتاح 4 (881)، 85 (1025)، التطبیق 18(1057)، 36 (1086)، 84 (1144)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 15 (859)، (تحفة الأشراف: 11184)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 84 (737)، مسند احمد (3/436، 437، 5/53)، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1286) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (391)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 747
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ"، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا، فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي، قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا، يَعْنِي الْإِمْسَاكَ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی تو آپ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی اور رفع یدین کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو دونوں ہاتھ ملا کر آپ نے انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھ لیا، جب یہ خبر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: سچ کہا میرے بھائی (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے، پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا یعنی دونوں ہاتھوں سے دونوں گھٹنوں کے پکڑنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 747]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ جب رکوع کیا تو دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر گھٹنوں میں رکھ لیا (یعنی تطبیق کی)۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی تو کہا: میرے بھائی نے سچ کہا۔ ہم یہ عمل کیا کرتے تھے۔ پھر ہمیں اس کا حکم دیا گیا۔ یعنی گھٹنے پکڑنے کا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 747]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/التطبیق 1 (1032)، (تحفة الأشراف: 3907، 9469) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث الآتي (868)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 753
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ لمبے کر کے اٹھاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 753]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے ہاتھ لمبے کر کے اٹھاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 63 (240)، سنن النسائی/الافتتاح 6 (884)، (تحفة الأشراف: 13081)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/375، 434، 500)، سنن الدارمی/الصلاة 32 (1273) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 761
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ وَكَبَّرَ، وَدَعَا نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الدُّعَاءِ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ الشَّيْءَ وَلَمْ يَذْكُرْ: وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، وَزَادَ فِيهِ: وَيَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے (رفع یدین کرتے)، اور جب اپنی قرأت پوری کر چکتے اور رکوع کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے (رفع یدین کرتے)، اور نماز میں بیٹھنے کی حالت میں کسی بھی جگہ رفع یدین نہیں کرتے، اور جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو بھی اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور «الله اكبر» کہتے، اور عبدالعزیز کی سابقہ حدیث میں گزری ہوئی دعا کی طرح کچھ کمی و زیادتی کے ساتھ دعا کرتے، البتہ اس روایت میں: «والخير كله في يديك والشر ليس إليك» کا ذکر نہیں ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے: نماز سے فارغ ہوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑ ھتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وأخرت وما أسررت وأعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت» اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے سارے گناہوں کی مغفرت فرما، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 761]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اونچا کرتے (رفع یدین کرتے) اور قراءت مکمل کر لینے پر جب رکوع کو جاتے تو ایسے ہی کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور رکوع سے اٹھ کر بھی ایسے ہی (رفع یدین) کرتے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں جب بیٹھے ہوئے ہوتے تو ہاتھ نہ اٹھاتے اور جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو اسی طرح رفع یدین کرتے اور «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے اور دعا کرتے جیسے کہ عبدالعزیز کی (سابقہ) حدیث میں بیان ہوا ہے۔ اس میں الفاظ کی کچھ کمی بیشی ہے اور یہ الفاظ ذکر نہیں کیے یعنی «وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ» اور اس روایت پر اضافہ کرتے ہوئے یہ کہا کہ جب نماز سے پھرتے تو یہ دعا کرتے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما دے جو میں نے پہلے کیے، جو بعد میں کیے، جو پوشیدہ کیے جو ظاہر کیے، تو میرا معبود ہے، تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (744)، (تحفة الأشراف: 10228) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
انظر الحديث السابق (744)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 957
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي،" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَكَبَّرَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ، وَحَلَّقَ حَلْقَةً، وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا: وَحَلَّقَ بِشْرٌ الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے تو قبلہ کا استقبال کیا پھر تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہہ کر دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ انہیں پھر اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا پھر اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑا، پھر جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں پھر اسی طرح اٹھایا، (رفع یدین کیا) وہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا اور اپنے بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھا اور اپنی داہنی کہنی کو اپنی داہنی ران سے اٹھائے رکھا اور دونوں انگلیاں (یعنی چھنگلیا اور اس کے قریب کی انگلی) بند کر لی اور (بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے) حلقہ بنا لیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔ اور بشر (راوی) نے بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنا کر اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 957]
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: میں بالضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیسے پڑھتے ہیں؟ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور قبلے کی طرف رخ کیا، «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں کے برابر آ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ کو اپنے دائیں سے پکڑ لیا۔ پھر جب رکوع کا ارادہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اسی طرح اٹھایا (رفع یدین کیا)۔ بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور اپنا بایاں پاؤں بچھا لیا اور اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھ لیا اور دائیں ہاتھ کی کہنی کے کنارے کو اپنی دائیں ران پر رکھا اور دو انگلیوں کو بند کر کے حلقہ بنا لیا۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اس طرح کرتے تھے، جناب بشر رحمہ اللہ نے انگوٹھے اور بیچ کی انگلی سے حلقہ بنایا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے دکھایا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 957]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (726)، (تحفة الأشراف: 11781) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے اور اس کے علاوہ جتنی حدیثیں اس سلسلے میں آئی ہیں،ان سب سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ شروع ہی سے آپ اسی طرح (انگلی کے) اشارہ کی شکل پر بیٹھتے ہی تھے نہ یہ کہ جب أشہدان لاإلہ إلاللہ پڑھتے تب انگلی سے اشارہ کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (911)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں