سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
100. باب : كيف التشهد الأول
باب: پہلے تشہد کی کیفیت کا بیان؟
حدیث نمبر: 1167
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَبِي أُنَيْسَةَ الْجَزَرِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ حَدَّثَهُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْلَمُ شَيْئًا فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولُوا فِي كُلِّ جَلْسَةٍ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم کچھ نہیں جانتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم ہر جلسہ میں «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» کہو۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1167]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔ (پہلے) ہم کچھ نہیں جانتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”ہر جلسے، یعنی تشہد میں کہو: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔““ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1163، (تحفة الأشراف: 9181، 9472) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1163
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، عَنِ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقُولَ إِذَا جَلَسْنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ جب ہم دوسری رکعت میں بیٹھیں تو «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”تمام بزرگیاں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، تمام دعائیں اور صلاتیں اور تمام پاک چیزیں بھی، اے نبی! آپ پر سلامتی ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1163]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی کہ جب ہم دو رکعتوں کے بعد بیٹھیں تو یہ پڑھیں: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام آداب (قولی عبادات)، دعائیں (یا بدنی عبادات) اور اچھے افعال و کلمات (یا مالی عبادات) اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی، رحمت اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے دوسرے تمام نیک بندوں پر سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 99 (289)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 24 (899) مطولاً، (تحفة الأشراف: 9181)، مسند احمد 1/413، 423، ویأتي عند المؤلف برقم: 1167 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1164
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ أَنْ نُسَبِّحَ وَنُكَبِّرَ وَنَحْمَدَ رَبَّنَا وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ فَقَالَ:" إِذَا قَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَقُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَلْيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَلْيَدْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ ہر دو رکعت (کے بعد قعدہ) میں کیا کہیں، سوائے اس کے کہ ہم اپنے رب کی پاکی بیان کریں، اور اس کی بڑائی اور حمد و ثنا کریں، حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر کے فواتح اور خواتم سکھا دئیے ہیں (یعنی وہ ساری باتیں سکھا دی ہیں جن میں خیر و بھلائی ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ہر دو رکعت کے بعد بیٹھو تو کہو: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ اسے جو دعا بھی اچھی لگے اختیار کرے، اور اللہ عزوجل سے دعا کرے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1164]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم (پہلے پہل) نہیں جانتے تھے کہ دو رکعتوں کے بعد (بیٹھ کر) کیا پڑھیں مگر ہم تسبیح، تکبیر اور اپنے رب کی حمد پڑھتے رہتے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نیکی کی ابتدا و انتہا (نیکی کے تمام امور) کی تعلیم دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ہر دو رکعتوں کے بعد بیٹھو تو یہ پڑھو: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام آداب، دعائیں اور اچھے کلمات اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اور اللہ تعالیٰ کے دوسرے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ اور تم میں سے ہر آدمی وہ دعا منتخب کرے جو اسے زیادہ اچھی لگے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے وہ دعا کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 182 (969)، سنن الترمذی/النکاح 17 (1105)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 24 (899)، مسند احمد 1/408، 413، 418، 423، 437، (تحفة الأشراف: 9505) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1165
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ فَأَمَّا التَّشَهُّدُ فِي الصَّلَاةِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَى آخِرِ التَّشَهُّدِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صلاۃ کا تشہد اور حاجت کا تشہد دونوں سکھایا، رہا صلاۃ کا تشہد تو وہ «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1165]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں (پڑھنے کے لیے) تشہد اور دوسری ضروریات کے لیے تشہد سکھایا۔ نماز والا تشہد تو یہ ہے: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی عبادات، بدنی عبادات اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی، رحمت اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1164 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1168
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ الرَّافِقِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ إِذَا صَلَّيْنَا فَعَلَّمَنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ فَقَالَ لَنَا:" قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" قَالَ: عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: زَيْدٌ عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يُعَلِّمُنَا هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ جب ہم صلاۃ پڑھیں تو کیا کہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جامع کلمات سکھائے، آپ نے ہم سے فرمایا: کہو: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ہمیں یہ کلمات اسی طرح سکھاتے تھے جیسے وہ ہمیں قرآن سکھاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1168]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ نماز پڑھیں تو کیا کہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جامع کلمات سکھلائے اور ہم سے فرمایا: ”تم یوں کہو: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» “ علقمہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے دیکھا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ یہ کلمات ہمیں اس طرح سکھاتے جیسے قرآن سکھاتے تھے۔ (لفظ لفظ حفظ کرواتے تھے۔) [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9413) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1169
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَارِثُ بْنُ عَطِيَّةَ وَكَانَ مِنْ زُهَّادِ النَّاسِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قال: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَقُولُ السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُولُوا السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ وَلَكِنْ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے: «السلام على اللہ السلام على جبريل السلام على ميكائيل» تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «السلام على اللہ» نہ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ سراپا سلام ہے بلکہ یوں کہو: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1169]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم (تشہد میں) کہتے: «اَلسَّلَامُ عَلَى اللّٰهِ، اَلسَّلَامُ عَلَىٰ جِبْرِيلَ، اَلسَّلَامُ عَلَىٰ مِيكَائِيلَ» ”اللہ تعالیٰ پر سلام ہو، جبریل پر سلام ہو، میکائیل پر سلام ہو“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ نہ کہو کہ اللہ تعالیٰ پر سلام ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو خود سلامتی کا منبع ہے بلکہ تم یوں کہو: «اَلتَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام آداب، نمازیں اور اچھے کلمات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام، رحمت اور برکات ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔““ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1169]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، وانظر حدیث رقم: 1168) (شاذ) (وحدہ لا شریک لہ…کا اضافہ شاذ ہے)»
قال الشيخ الألباني: شاذ بزيادة وحده لا شريك له
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1170
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ هُوَ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قال: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَقُولُ السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُولُوا السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ وَلَكِنْ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے: «السلام على اللہ السلام على جبريل السلام على ميكائيل» تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «السلام على اللہ» نہ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ سراپا سلام ہے بلکہ یوں کہو: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1170]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو کہتے تھے: «السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ، السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم «السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ» نہ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو خود سلام ہے، بلکہ تم کہو: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1170]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1166 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1171
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، وَحَمَّادٍ، وَمُغِيرَةَ، وأَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِي التَّشَهُّدِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو هَاشِمٍ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشہد میں «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1171]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تشہد کے بارے میں بتلایا: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ابو عبدالرحمن (امام نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (اس روایت میں) ابو ہاشم کا ذکر غریب ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1171]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث منصور وحماد، عن أبي وائل، عن عبداللہ تقدم تخریجہ انظر حدیث رقم: 1166، ولکن حدیث سلیمان بن مہران، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن عبداللہ (صحیح) ٭ابو عبدالرحمن (نسائی) کہتے ہیں: ابو ہاشم غریب ہیں 1؎۔ وضاحت 1؎: یعنی اس روایت میں ان کا ذکر صرف اس سند میں ہے۔»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1172
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قال: حَدَّثَنَا سَيْفٌ الْمَكِّيُّ، قال: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ:" عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ وَكَفُّهُ بَيْنَ يَدَيْهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے اور میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان ہوتی (آپ فرماتے: کہو) «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1172]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تشہد اس طرح سکھایا جس طرح قرآن مجید کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ (جب آپ نے مجھے یہ تشہد سکھایا تو) میری ہتھیلی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں مبارک ہاتھوں کے درمیان تھی: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1172]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإستئذان 28 (6265) مطولاً، صحیح مسلم/الصلاة 16 (402)، مسند احمد 1/414، (تحفة الأشراف: 9338)، صحیح البخاری/الأذان 148 (831)، 150 (835)، الاستئذان 3 (6230)، صحیح مسلم/الصلاة 16 (402)، سنن ابی داود/الصلاة 182 (968)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 24 (899)، (تحفة الأشراف: 9245)، مسند احمد 1/382، 413، 423، 427، 431، 440، سنن الدارمی/الصلاة 84 (1379)، وحدیث مغیرة بن مقسم، عن أبي وائل، عن عبداللہ أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید 5 (7381)، مسند احمد 1/440، (تحفة الأشراف: 9293)، وحدیث یحیی بن دینار، وأبي ہاشم أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 24 (899م1)، (تحفة الأشراف: 9314) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1174
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ الْبَصْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي غَلَّابٍ وَهُوَ يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُمْ صَلَّوْا مَعَ أَبِي مُوسَى، فَقَالَ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمُ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
حطان بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ان لوگوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب امام قاعدے میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کی زبان پہ پہلی دعا یہ ہو: «التحيات لله الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1174]
حطان بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام قعدے میں ہو تو تم میں سے ہر آدمی کی پہلی بات یہ ہونی چاہیے: «التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام آداب اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور تمام اچھے کلمات اور دعائیں بھی اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ تعالیٰ کا سلام، رحمت اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔““ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1174]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 831، 1173 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ان دونوں تشہدوں میں فرق یہ ہے کہ اس دوسری میں «التحیات» کے بعد «للہ» کا اضافہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1175
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَطَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ وَكَانَ يَقُولُ:" التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ سَلَامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے جیسے ہمیں قرآن پڑھنا سکھاتے تھے، آپ کہتے تھے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته سلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1175]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اس طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن سکھاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”بابرکت آداب، تمام اچھے کلمات اور پاکیزہ دعائیں سب اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1175]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 16 (403)، سنن ابی داود/الصلاة 182 (974)، سنن الترمذی/الصلاة 101 (290)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 24 (900)، (تحفة الأشراف: 5750)، مسند احمد 1/292 ویأتی عند المؤلف في السھو 42 (برقم: 1279) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تمام کلمات کے اندر واؤ پوشیدہ ہے، یعنی: «التحیات والمبارکات والصلوات والطیبات للہ» واؤ کو اختصاراً حذف کر دیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1176
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قال: سَمِعْتُ أَيْمَنَ وَهُوَ ابْنُ نَابِلٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا" يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد پڑھنا سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورۃ پڑھنا سکھاتے، فرماتے: «بسم اللہ وباللہ التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أسأل اللہ الجنة وأعوذ باللہ من النار» ۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1176]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اس طرح سکھاتے تھے جس طرح ہمیں قرآن مجید کی سورت سکھاتے تھے: «بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ، التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» ”اللہ کے بابرکت نام اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور توفیق کے ساتھ تمام آداب (یا قولی عبادتیں)، تمام دعائیں اور نمازیں (یا بدنی عبادات) اور تمام اچھے کلمات و افعال (یا مالی عبادات) اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ کی طرف سے سلام، رحمت اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے جنت مانگتا ہوں اور آگ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1176]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 24 (902)، (تحفة الأشراف: 2665)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1282 (ضعیف) (اس کے راوی ’’أیمن‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں، اور کسی نے اس پر ان کی متابعت نہیں کی ہے، دیکھئے اس حدیث پر خود مؤلف کا کلام حدیث رقم: 1282)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (902) وانظر الحديث الآتي (1282) أبو الزبير مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
حدیث نمبر: 1278
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنِ الْأَعْمَشِ , وَمَنْصُورٌ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ التَّشَهُّدُ: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ , السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُولُوا هَكَذَا , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ السَّلَامُ , وَلَكِنْ قُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ , السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نماز میں تشہد کے فرض کئے جانے سے پہلے «السلام على اللہ السلام على جبريل وميكائيل» ”سلام ہو اللہ پر، سلام ہو جبرائیل اور میکائیل پر“ کہا کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس طرح نہ کہو، کیونکہ اللہ تو خود سلام ہے، بلکہ یوں کہو: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی آپ پر اللہ کی جانب سے سلامتی ہو، اور آپ پر اس کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1278]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تشہد فرض ہونے سے پہلے ہم کہا کرتے تھے: «السَّلَامُ عَلَى اللّٰهِ، السَّلَامُ عَلَىٰ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ» ”اللہ پر سلام ہو۔ جبریل و میکائیل پر سلام ہو۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے نہ کہو کیونکہ اللہ عزوجل خود سلام ہے، لیکن یوں کہو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ ……… وَرَسُولُهُ» ”تمام آداب (یا قولی عبادات) اور تمام دعائیں اور نمازیں (یا بدنی عبادات) اور پاکیزہ کلمات (یا مالی عبادات) اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ تعالیٰ کا سلام، رحمت اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔““ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1166، 1171 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان بن عيينة مدلس وعنعن فى هذا اللفظ. والحديث السابق (1171) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331
حدیث نمبر: 1279
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1279]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اس طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن مجید کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1175 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1280
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ وَهُوَ ابْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ السَّلَامُ , فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ , السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ بَعْدَ ذَلِكَ مِنَ الْكَلَامِ مَا شَاءَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل خود سلام ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی (تشہد میں) بیٹھے تو وہ یوں کہے: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی آپ پر سلام ہو، اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر نازل ہوں، سلامتی ہو ہم پر، اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ پھر اس کے بعد اسے اختیار ہے جو چاہے دعا کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1280]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ خود السلام ہے (لہٰذا السلام علی اللہ نہ کہو بلکہ) جب تم میں سے کوئی (قعدے میں) بیٹھے تو یوں کہے: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام آداب، سب دعائیں اور سارے پاکیزہ کلمات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت و برکات نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر اس کے بعد وہ اپنی پسند کے مطابق دعا کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1171 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1282
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيْمَنُ ابْنُ نَابِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ , السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ , وَأَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ أَيْمَنَ بْنَ نَابِلٍ عَلَى هَذِهِ الرِّوَايَةِ , وَأَيْمَنُ عِنْدَنَا لَا بَأْسَ بِهِ , وَالْحَدِيثُ خَطَأٌ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تشہد اسی طرح سکھاتے تھے، جس طرح آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے «بسم اللہ وباللہ التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأن محمدا عبده ورسوله وأسأل اللہ الجنة وأعوذ به من النار» ”اللہ کے نام سے اور اسی کے واسطے سے، تمام قولی فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہو آپ پر، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور میں اللہ سے جنت مانگتا ہوں، اور آگ (جہنم) سے اس کی پناہ چاہتا ہوں۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اس روایت پر ایمن بن نابل کی متابعت کی ہو، ایمن ہمارے نزدیک قابل قبول ہیں، لیکن حدیث میں غلطی ہے، ہم اللہ سے توفیق کے طلب گار ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1282]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس طرح تشہد سکھاتے تھے جیسے ہمیں قرآن مجید کی سورت سکھاتے تھے: «بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ، التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ» ”اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ۔ تمام آداب، دعائیں اور پاکیزہ کلمات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ تعالیٰ کا سلام، رحمت اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے جنت مانگتا ہوں اور جہنم سے اس کی پناہ چاہتا ہوں۔“ امام ابو عبدالرحمٰن نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ کسی دوسرے راوی نے اس روایت میں ایمن بن نابل کی موافقت کی ہو۔ ایمن ہمارے نزدیک معتبر راوی ہے، لیکن یہ روایت درست نہیں۔ اور توفیق اللہ تعالیٰ کی مدد ہی سے ملتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1282]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1176 (ضعیف) (اس کے راوی ’’أیمن‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں اور اس میں وارد اضافہ پر کسی نے ان کی متابعت نہیں کی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (1176) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331
حدیث نمبر: 1299
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ , وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , وَاللَّفْظُ لَهُ , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ , قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ , السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ , فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُولُوا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ , وَلَكِنْ إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ , فَلْيَقُلِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ , عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ , فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ بَعْدُ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ يَدْعُو بِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں بیٹھتے تو کہتے: سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں کی طرف سے، سلام ہو فلاں پر اور فلاں پر، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «السلام على اللہ» نہ کہو، کیونکہ اللہ تو خود ہی سلام ہے، ہاں جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے تو چاہیئے کہ وہ کہے: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين» ”تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو“ کیونکہ جب تم اس طرح کہو گے تو زمین و آسمان میں رہنے والے ہر نیک بندے کو یہ شامل ہو گا، (پھر کہے): «أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ پھر اس کے بعد اپنی پسندیدہ دعا جو بھی چاہے کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1299]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (تشہد میں) بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے: اللہ کے بندوں کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر سلام ہو، فلاں پر سلام اور فلاں پر سلام۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم «السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ» نہ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو خود سلام ہے بلکہ جب تم میں سے کوئی شخص (قعدے میں) بیٹھے تو وہ کہے: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام آداب (قولی عبادات) اور تمام دعائیں (فعلی عبادات) اور تمام اچھے کلمات (مالی عبادات) اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکات ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ جب تم یہ الفاظ کہو گے تو یہ سلام اور دعا آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کے ہر نیک بندے کو پہنچ جائیں گے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر اس کے بعد (درود پڑھ کر) جو (منقول) دعا اسے زیادہ پسند ہو، منتخب کرے اور پڑھے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1171، 1278 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1405
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102، يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1، يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا سورة الأحزاب آية 70 , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا , وَلَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَلَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجة ۱؎ سکھایا، اور وہ یہ ہے: «الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد اور گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شر انگیزیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں“، پھر آپ یہ تین آیتیں پڑھتے: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» ”اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا کہ اس سے ڈرنا چاہیئے، اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا“ (آل عمران: ۱۰۲)۔ «يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا كثيرا ونساء واتقوا اللہ الذي تساءلون به والأرحام إن اللہ كان عليكم رقيبا» ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اور اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے“ (الاحزاب: ۷۰) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سديدا» ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور صحیح و درست بات کہو“ (النساء: ۱)۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابوعبیدہ نے اپنے والد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے، نہ ہی عبدالرحمٰن بن عبداللہ ابن مسعود نے، اور نہ ہی عبدالجبار بن وائل بن حجر نے، (یعنی ان تینوں کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1405]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ضرورت کے موقع پر (یوں) خطبہ سکھایا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ نَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» ”ہر تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں اور اس سے بخشش طلب کرتے ہیں۔ اور اپنے نفس کی شرارتوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے، کوئی اسے گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین آیات پڑھتے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 102] ”اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں جب بھی موت آئے، اسلام ہی کی حالت میں آئے۔“ ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ [سورة النساء: 1] ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان (حضرت آدم علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی (حضرت حواء) کو پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتے توڑنے سے ڈرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔“ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا﴾ [سورة الأحزاب: 70] ”اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سچی بات کرو۔“ امام ابو عبدالرحمٰن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبیدہ نے اپنے والد محترم (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے کوئی روایت نہیں سنی اور اسی طرح حضرت عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود نے بھی اپنے والد محترم سے کوئی روایت نہیں سنی۔ اس طرح عبدالجبار بن وائل نے بھی اپنے والد محترم (حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے کوئی روایت نہیں سنی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 33 (2118)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 17 (1105)، سنن ابن ماجہ/النکاح 19 (1892)، (تحفة الأشراف: 9618)، مسند احمد 1/392، 432، سنن الدارمی/النکاح 20 (2248) (صحیح) (متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ’’ابو عبیدہ‘‘ اور ان کے باپ ”ابن مسعود‘‘ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، دیکھئے البانی کا رسالہ خطبة الحاجہ)»
وضاحت: ۱؎: حاجۃ کا لفظ عام ہے نکاح اور بیع وغیرہ سبھی چیزوں کو شامل ہے، اسی وجہ سے امام شافعی نے بیع و نکاح وغیرہ تمام عقود میں اس خطبہ کے پڑھنے کو مسنون قرار دیا ہے۔ نسائی کی اس سند میں بھی ابوعبیدہ ہیں، مگر ابوداؤد اور دیگر کی سندوں میں ”ابو عبیدہ“ کی جگہ ابوالاحوص ہیں، جن کا سماع ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2118) ترمذي (1105) ابن ماجه (1892) وانظر الحديث الآتي (3279) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332
حدیث نمبر: 3279
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ، وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ، قَالَ:" التَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَيَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حاجت و ضرورت میں تشہد پڑھنے کی تعلیم دی ہے۔ اور «تشہد فی الحاجۃ» یہ ہے کہ ہم (پہلے) پڑھیں: «أن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل اللہ فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» (اور پھر) تین آیات پڑھے (اور ایجاب و قبول کرائے) ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 3279]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز میں تشہد اور دوسری حاجات (خطبہ نکاح وغیرہ) میں تشہد سکھلایا۔ حاجت نکاح وغیرہ والا تشہد یہ ہے: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں اور ہم اس سے بخشش طلب کرتے ہیں اور اپنے نفوس کی شرارتوں سے (بچنے کے لیے) اس کی پناہ میں آتے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین آیات پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 3279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 33 (2118)، سنن الترمذی/النکاح 17 (1105) مطولا، سنن ابن ماجہ/النکاح 19 (1892)، (تحفة الأشراف: 9506)، مسند احمد (1/393، 432) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: وہ تینوں آیات یہ ہیں: «يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا كثيرا ونساء واتقوا الله الذي تسائلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا» ”لوگو! اپنے اس رب سے ڈرو کہ جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کر کے ان دونوں سے مرد اور عورت کثرت سے پھیلا دیے، لوگو! اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے“۔ (النساء: ۱) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مسلمان ہی رہ کر مرو“۔ (آل عمران: ۱۰۲) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما» ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور نپی تلی بات کہو اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گااس نے بڑی مراد پالی“۔ (الاحزاب: ۷۰، ۷۱)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2118) تقدم (1405) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 346
حدیث نمبر: 3280
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق کچھ بات چیت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ خطبہ) ارشاد فرمایا: «إن الحمد لله نحمده ونستعينه من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل اللہ فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أما بعد» ۱؎“ (اور بات آگے بڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 3280]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی مسئلے میں بات چیت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں خطبہ ارشاد فرمایا: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ... أَمَّا بَعْدُ» ”تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ حمد و صلاۃ کے بعد...“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 3280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعہ 13 (868) مطولا، سنن ابن ماجہ/النکاح 19 (1893)، (تحفة الأشراف: 5586)، مسند احمد (1/302، 350) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اسی کے ہم ثناء خواں اور اسی کی مدد کے طلبگار ہیں، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت بخشے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تنہا حقیقی معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گوائی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم