سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب : السرعة بالجنازة
باب: جنازے کو جلد دفنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1915
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جَنَازَةٌ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے (سامنے) سے جنازہ گزرے تو کھڑے ہو جاؤ، (اور) جو (جنازے) کے ساتھ جائے وہ نہ بیٹھے یہاں تک کہ اسے رکھ دیا جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1915]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنازہ تمہارے پاس سے گزرے تو کھڑے ہو جاؤ، پھر جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، وہ جنازہ (زمین پر) رکھے جانے تک نہ بیٹھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1915]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 48 (1310)، صحیح مسلم/الجنائز 24 (959)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 47 (3173)، سنن الترمذی/الجنائز 51 (1043)، (تحفة الأشراف: 4420)، مسند احمد 3/25، 41، 43، 48، 51، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1918، 2000 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1916
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ فَلَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا فَلْيَقُمْ حَتَّى تُخَلِّفَهُ أَوْ تُوضَعَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُخَلِّفَهُ".
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جنازہ دیکھے (اور) اس کے ساتھ جا نہ رہا ہو تو وہ کھڑا رہے یہاں تک کہ (جنازہ) اس سے آگے نکل جائے یا آگے نکلنے سے پہلے رکھ دیا جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1916]
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جنازہ (آتا ہوا) دیکھے اور اس نے جنازے کے ساتھ نہ جانا ہو تو (کم از کم) کھڑا ہو جائے حتیٰ کہ جنازہ اس سے آگے گزر جائے یا گزرنے سے پہلے زمین پر رکھ دیا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1916]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 46 (1307)، 47 (1308)، صحیح مسلم/الجنائز 24 (958)، سنن ابی داود/الجنائز 47 (3172)، سنن الترمذی/الجنائز 51 (1041، 1042)، سنن ابن ماجہ/فیہ 35 (1542)، (تحفة الأشراف: 5041)، مسند احمد 3/445، 446، 447 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1917
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ".
عامر بن ربیعہ عدوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ تم سے آگے نکل جائے، یا رکھ دیا جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1917]
حضرت عامر بن ربیعہ عدوی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ (آتا) دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ حتیٰ کہ جنازہ تم سے آگے گزر جائے یا (زمین پر) رکھ دیا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1917]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1918
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ هِشَامٍ. ح وأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، (اور) جو اس کے پیچھے پیچھے جا رہا ہو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے وہ نہ بیٹھے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1918]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ (آتا) دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، جو شخص جنازے کے ساتھ جائے وہ نہ بیٹھے حتیٰ کہ جنازہ (زمین پر) رکھ دیا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1918]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1915 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1919
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا:" مَا رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهِدَ جَنَازَةً قَطُّ فَجَلَسَ حَتَّى تُوضَعَ".
ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ جنازے کے ساتھ ہوں، (اور) بیٹھ گئے ہوں یہاں تک کہ وہ رکھ دیا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1919]
حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہما دونوں نے فرمایا کہ ہم نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنازے کے ساتھ تشریف فرما ہوں اور جنازہ زمین پر رکھے جانے سے پہلے بیٹھ گئے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1919]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4040، 13059) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1920
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قال: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ. ح وأَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، قال: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ , وَقَالَ عَمْرٌو:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ (لے کر) گزرے، تو آپ کھڑے ہو گئے، اور عمرو بن علی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1920]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے کر گزرے تو آپ کھڑے ہو گئے۔ عمرو (بن علی کی روایت میں یوں ہے، انھوں) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1920]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4088)، مسند احمد 3/47، 53 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1921
أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قال: أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُمْ" كَانُوا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَلَعَتْ جَنَازَةٌ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ مَنْ مَعَهُ فَلَمْ يَزَالُوا قِيَامًا حَتَّى نَفَذَتْ".
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے (اتنے میں) ایک جنازہ نظر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، اور جو ان کے ساتھ تھے وہ بھی کھڑے ہو گئے، تو وہ لوگ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ وہ نکل گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1921]
حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ (ایک دفعہ) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک جنازہ آتا نظر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور جو لوگ آپ کے پاس تھے وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے، پھر سب کھڑے رہے حتیٰ کہ جنازہ آگے گزر گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1921]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11826)، مسند احمد 4/388 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1923
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ هِشَامٍ. ح وأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: مَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيَّةٍ , فَقَالَ:" إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا" , اللَّفْظُ لِخَالِدٍ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک جنازہ ہمارے پاس سے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، اور آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے ہو گئے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ جنازہ (ایک) یہودی عورت کا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت ایک قسم کی ہیبت ہے، تو جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ“، یہ الفاظ خالد کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1923]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ (بعد میں) میں نے آپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو ایک یہودی عورت کا جنازہ تھا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت گھبراہٹ والی چیز ہے، لہٰذا جب تم کوئی جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ۔“ حدیث کے یہ الفاظ خالد راوی کے بیان کردہ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1923]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 49 (1311)، صحیح مسلم/الجنائز 24 (960)، سنن ابی داود/الجنائز 47 (3174)، (تحفة الأشراف: 2386)، مسند احمد 3/319، 334، 354 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1924
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قال: كُنَّا عِنْدَ عَلِيٍّ فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامُوا لَهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: أَمْرُ أَبِي مُوسَى , فَقَالَ:" إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيَّةٍ وَلَمْ يَعُدْ بَعْدَ ذَلِكَ".
ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے (اتنے میں) ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہو گئے، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوموسیٰ اشعری کا حکم ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت کے جنازے کے لیے کھڑے ہوئے تھے، (پھر) اس کے بعد آپ کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1924]
حضرت ابو معمر بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک جنازہ پاس سے گزرا۔ لوگ اس کی وجہ سے کھڑے ہو گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ (تم کیوں کھڑے ہوئے؟) لوگوں نے کہا: یہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی ہدایت ہے۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف ایک یہودی عورت کے جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہوئے تھے، اس کے بعد کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1924]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10185)، مسند احمد 1/141، 142، 4/413 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن أبى نجيح مدلس وعنعن. وله شاهد ضعيف، عند الحميدي (50 بتحقيقي) وأحمد (1/ 141.142) وغيرهما. وحديث مسلم (962 [2227.2230]) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 371
حدیث نمبر: 1925
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمِ ابْنُ عَبَّاسٍ , فَقَالَ الْحَسَنُ:" أَلَيْسَ قَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ , ثُمَّ جَلَسَ".
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ ایک جنازہ حسن بن علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا، تو حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نہیں کھڑے ہوئے، تو حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کا جنازہ (دیکھ کر) کھڑے نہیں ہوئے تھے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہاں، پھر بیٹھے رہنے لگے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1925]
حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرات حسن بن علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے لیکن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کھڑے نہ ہوئے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کہنے لگے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے جنازے کی وجہ سے کھڑے نہیں ہوئے تھے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے مگر پھر بیٹھے بھی رہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3409)، مسند احمد 1/200، 201، 337، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1926، 1927، 1928 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یعنی پھر اس کے بعد کسی جنازے کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1926
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قال: مُرَّ بِجَنَازَةٍ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ , فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمِ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَمَا قَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَامَ لَهَا ثُمَّ قَعَدَ".
اس سند سے بھی ابن سیرین کہتے ہیں کہ حسن بن علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے قریب سے ایک جنازہ گزرا، تو حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نہیں کھڑے ہوئے، تو حسن رضی اللہ عنہ نے ابن عباس سے کہا: کیا اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نہیں ہوئے تھے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کھڑے ہوئے تھے پھر بیٹھے رہنے لگے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1926]
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا کہ حضرات حسن بن علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کھڑے نہ ہوئے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوئے تھے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: کھڑے ہوئے تھے مگر پھر بیٹھے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1926]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: جمہور نے اس سے کھڑے ہونے والی روایت کے منسوخ ہونے پر استدلال کیا ہے، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا کھڑا نہ ہونا بیان جواز کے لیے رہا ہو، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1927
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ مَرَّتْ بِهِمَا جِنَازَةٌ فَقَامَ أَحَدُهُمَا وَقَعَدَ الآخَرُ , فَقَالَ الَّذِي قَامَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَامَ، قَالَ لَهُ الَّذِي جَلَسَ: لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَسَ".
اس سند سے بھی ابن عباس رضی الله عنہما اور حسن بن علی رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان دونوں کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو ان میں سے ایک کھڑے ہو گئے، اور دوسرے بیٹھے رہے، تو جو کھڑے ہو گئے تھے انہوں نے کہا: سنو! اللہ کی قسم! مجھے یہی معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے، تو جو بیٹھے رہ گئے تھے انہوں نے کہا: مجھے (یہ بھی) معلوم ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بعد میں) بیٹھے رہنے لگے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1927]
حضرت ابومجلز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس اور حضرت حسن رضی اللہ عنہما کے قریب سے ایک جنازہ گزرا، ان میں سے ایک کھڑے ہو گئے جبکہ دوسرے بیٹھے رہے۔ کھڑے ہونے والے نے کہا: اللہ کی قسم! میں یقیناً جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے۔ بیٹھے رہنے والے نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! میں بھی یقیناً جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بھی رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1927]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1925 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1928
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ كَانَ جَالِسًا فَمُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ , فَقَامَ النَّاسُ حَتَّى جَاوَزَتِ الْجَنَازَةُ، فَقَالَ الْحَسَنُ:" إِنَّمَا مُرَّ بِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى طَرِيقِهَا جَالِسًا، فَكَرِهَ أَنْ تَعْلُوَ رَأْسَهُ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَامَ".
محمد بن علی الباقر کہتے ہیں کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیٹھے تھے کہ ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ جنازہ گزر گیا، تو حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک یہودی کا جنازہ گزرا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی راستے میں بیٹھے تھے تو آپ نے ناپسند کیا کہ ایک یہودی کا جنازہ آپ کے سر سے بلند ہو تو آپ کھڑے ہو گئے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1928]
حضرت محمد باقر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ گزرا۔ لوگ کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ جنازہ آگے چلا گیا۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: بات اتنی تھی کہ ایک یہودی کا جنازہ گزرا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے راستے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا کہ ایک یہودی کا جنازہ آپ کے سر سے اونچا ہو، اس لیے آپ کھڑے ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1928]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1925 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یہ تاویل حسن رضی الله عنہ کی ہے جو ان کے ذہن میں آئی، لیکن احادیث سے جو بات سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ اس کی وجہ موت کی ہیبت اور اس کی سنگینی تھیں جیسا کہ «إن للموت فزعاً» والی روایت سے ظاہر ہے، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی متعدد وجہیں رہی ہوں، ان میں سے ایک یہ بھی ہو کیونکہ ایک روایت میں ہے: ہم فرشتوں کی تکریم میں کھڑے ہوئے ہیں نہ کہ جنازہ کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1929
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ:" قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے جو آپ کے پاس سے گزرا یہاں تک کہ وہ (نظروں سے) اوجھل ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1929]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم ایک یہودی کے جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہوئے جو پاس سے گزرا تھا حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا (پھر بیٹھے)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1929]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 24 (958، 959)، (تحفة الأشراف: 2818)، مسند احمد 3/295، 346 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2000
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامٍ، وَالْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، وَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدَنَّ حَتَّى تُوضَعَ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، اور جو اس کے ساتھ جائے وہ بھی کھڑا رہے یہاں تک کہ اسے رکھ دیا جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2000]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، وہ نہ بیٹھے حتیٰ کہ جنازہ (زمین پر) رکھ دیا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2000]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1915 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2001
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ وَاقِدٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ الْقِيَامُ عَلَى الْجَنَازَةِ حَتَّى تُوضَعَ , فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ:" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَعَدَ".
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے جنازے کے لیے جب تک رکھ نہ دیا جائے کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) کھڑے رہتے تھے پھر بیٹھنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2001]
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے جنازہ (زمین پر) رکھے جانے تک کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”(پہلے) کھڑے رہتے تھے، مگر بعد میں بیٹھے رہتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2001]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 25 (962)، سنن ابی داود/الجنائز 47 (3175)، سنن الترمذی/الجنائز 52 (1044)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 35 (1544)، (تحفة الأشراف: 10276)، موطا امام مالک/الجنائز 11 (33)، حصحیح مسلم/82، 83، 131، 138 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2002
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقُمْنَا وَرَأَيْنَاهُ قَعَدَ فَقَعَدْنَا".
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے دیکھا آپ کھڑے ہوئے تو ہم (بھی) کھڑے ہوئے، اور بیٹھتے دیکھا تو ہم (بھی) بیٹھنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2002]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہوتے دیکھا تو ہم بھی کھڑے رہے، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھے دیکھا تو ہم بھی بیٹھے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2002]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن