سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
205. باب : الصلوات بتيمم واحد
باب: ایک ہی تیمم سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 323
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے، اگرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 323]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کے لیے ذریعۂ طہارت ہے، خواہ دس سال پانی نہ ملے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 125 (332) مطولاً، سنن الترمذی/فیہ 92 (124) مطولاً، (تحفة الأشراف 11971)، مسند احمد 5/155، 180 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 313
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، قال عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا تَذْكُرُ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ". وَسَلَمَةُ شَكَّ، لَا يَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ، فَقَالَ عُمَرُ: نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ.
عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہا کہ میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا، (کیا کروں؟) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: (غسل کئے بغیر) نماز نہ پڑھو، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ دونوں ایک سریہ (فوجی مہم) میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہیں ملا، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی، اور رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ کر نماز پڑھ لی، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے ہم نے اس کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں سے اپنے چہرہ اور دونوں ہتھیلیوں پر مسح کیا - سلمہ کو شک ہے، وہ یہ نہیں جان سکے کہ اس میں مسح کا ذکر دونوں کہنیوں تک ہے یا دونوں ہتھیلیوں تک - (عمار رضی اللہ عنہ کی بات سن کر) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تم کہہ رہے ہو ہم تمہیں کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 313]
حضرت عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”تحقیق میں جنبی ہو گیا اور پانی نہ پا سکا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تو نماز نہ پڑھ۔“ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اے امیر المومنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ ایک دفعہ میں اور آپ ایک لشکر میں تھے، ہم دونوں جنبی ہو گئے تو ہمیں پانی نہ ملا، آپ نے تو نماز نہ پڑھی لیکن میں اچھی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا اور نماز پڑھ لی، پھر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے اتنا کافی تھا۔“ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں کے ساتھ چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا۔“ سلمہ کو شک ہے، انھیں یاد نہیں کہ (مسح) صرف ہتھیلیوں پر یا کہنیوں تک کیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم تمہیں ذمہ دار بناتے ہیں، اس (روایت) کا جس کے تم ذمہ دار بنے ہو۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التیمم 4 (338)، صحیح مسلم/الحیض 28 (368)، سنن ابی داود/الطھارة، سنن الترمذی/فیہ 110 (144)، سنن ابن ماجہ/فیہ 91 (569)، (تحفة الأشراف 10362)، مسند احمد 4/263، 265، 319، 320، سنن الدارمی/الطہارة66 (772) مختصرًا، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 317، 318، 319، 320 (صحیح)»
وضاحت: ”ہم تمہیں کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں“: مطلب یہ ہے کہ مجھے یہ یاد نہیں اس لیے میں یہ بات نہیں کہہ سکتا تم اپنی ذمہ داری پر اسے بیان کرنا چاہو تو کرو، عمر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما دونوں کی رائے یہ ہے کہ جنبی کے لیے تیمم درست نہیں، ان کے علاوہ باقی تمام صحابہ کرام اور اکثر علماء اور مجتہدین کا قول ہے کہ تیمم محدث (جس کا وضو ٹوٹ گیا ہو) اور جنبی (جسے احتلام ہوا ہو) دونوں کے لیے ہے، اس قول کی تائید کئی مشہور حدیثوں سے ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 314
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قال: أَجْنَبْتُ وَأَنَا فِي الْإِبِلِ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ تَمَعُّكَ الدَّابَّةِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا كَانَ يَجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ التَّيَمُّمُ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اونٹ چرا رہا تھا کہ میں جنبی ہو گیا، اور مجھے پانی نہیں ملا، تو میں نے جانور کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے بس تیمم ہی کافی تھا“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 314]
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اونٹوں میں تھا کہ جنبی ہو گیا۔ مجھے پانی نہ ملا تو مٹی میں اچھی طرح لوٹ پوٹ ہوا جیسے جانور کرتا ہے، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ کو یہ بات بتائی۔ آپ نے فرمایا: ”تجھے اس (جنابت) سے تیمم کافی تھا۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 10368)، مسند احمد 4/263 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ناجیة“ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 315
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قال: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارٍ، قال:" عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُولَاتِ الْجَيْشِ وَمَعَهُ عَائِشَةُ زَوْجَتُهُ فَانْقَطَعَ عِقْدُهَا مِنْ جَزْعِ ظِفَارِ، فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ عِقْدِهَا ذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: حَبَسْتِ النَّاسَ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رُخْصَةَ التَّيَمُّمِ بِالصَّعِيدِ، قَالَ: فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْأَرْضَ ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَلَمْ يَنْفُضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا، فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَمِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الْآبَاطِ".
عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پچھلے پہر اولات الجیش میں اترے، آپ کے ساتھ آپ کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، تو ان کا ظفار کے مونگوں والا ہار ٹوٹ کر گر گیا، تو ان کے اس ہار کی تلاش میں لوگ روک لیے گئے یہاں تک کہ فجر روشن ہو گئی، اور لوگوں کے پاس پانی بالکل نہیں تھا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر ناراض ہوئے، اور کہنے لگے: تم نے لوگوں کو روک رکھا ہے اور حال یہ ہے کہ ان کے پاس پانی بالکل نہیں ہے، تو اللہ عزوجل نے مٹی سے تیمم کرنے کی رخصت نازل فرمائی، عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، اور ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر انہیں بغیر جھاڑے اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مونڈھوں تک اور اپنے ہاتھوں کے نیچے (کے حصہ پر) بغل تک مل لیا ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 315]
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذات الجیش میں پڑاؤ ڈالا جب کہ آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ ان کا ایک ہار جو ظفار کے نگوں کا تھا، وہ ٹوٹ گیا۔ لوگ اس ہار کی تلاش میں روک لیے گئے حتیٰ کہ فجر روشن ہوگئی۔ لوگوں کے پاس پانی نہیں تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر ناراض ہوئے اور فرمایا: ”تم نے سب لوگوں کو روک رکھا ہے جب کہ ان کے پاس پانی نہیں ہے“، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مٹی کے ساتھ تیمم کی رخصت نازل فرما دی۔ تمام مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اٹھے اور زمین پر اپنے ہاتھ مارے۔ پھر انہوں نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور کوئی مٹی وغیرہ نہیں جھاڑی، سو انہوں نے اپنے چہروں اور بازوؤں کو کندھوں تک اور اپنی ہتھیلیوں سے بغلوں تک ہاتھ پھیر لیے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 123 (320)، (تحفة الأشراف 10357) مسند احمد 4/ 263، 264۔ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایسا ان لوگوں نے اس وجہ سے کیا ہو گا کہ ممکن ہے پہلے یہی مشروع رہا ہو، پھر منسوخ ہو گیا ہو، یا ان لوگوں نے اپنے اجتہاد سے بغیر پوچھے ایسا کیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 316
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قال: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ:" تَيَمَّمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتُّرَابِ، فَمَسَحْنَا بِوُجُوهِنَا وَأَيْدِينَا إِلَى الْمَنَاكِبِ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مٹی سے تیمم کیا، تو ہم نے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مونڈھوں تک مسح کیا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 316]
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مٹی سے تیمم کیا۔ ہم نے اپنے چہروں اور ہاتھوں کو کندھوں تک مٹی لگائی۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة، 90 (566) مختصرًا، (تحفة الأشراف 10358)، مسند احمد 4/ 320، 321 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 317
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قال: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، رُبَّمَا نَمْكُثُ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ وَلَا نَجِدُ الْمَاءَ فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا أَنَا، فَإِذَا لَمْ أَجِدِ الْمَاءَ لَمْ أَكُنْ لِأُصَلِّيَ حَتَّى أَجِدَ الْمَاءَ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: أَتَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَيْثُ كُنْتَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا وَنَحْنُ نَرْعَى الْإِبِلَ، فَتَعْلَمُ أَنَّا أَجْنَبْنَا؟ قال: نَعَمْ، أَمَّا أَنَا فَتَمَرَّغْتُ فِي التُّرَابِ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَ، فَقَالَ:" إِنْ كَانَ الصَّعِيدُ لَكَافِيكَ، وَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَبَعْضَ ذِرَاعَيْهِ". فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ شِئْتَ لَمْ أَذْكُرْهُ، قَالَ: وَلَكِنْ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ.
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: امیر المؤمنین! بسا اوقات ہمیں ایک ایک دو دو مہینہ بغیر پانی کے رہنا پڑ جاتا ہے، (تو ہم کیا کریں؟) تو آپ نے کہا: رہا میں تو میں جب تک پانی نہ پا لوں نماز نہیں پڑھ سکتا، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد ہے؟ جب آپ اور ہم فلاں اور فلاں جگہ اونٹ چرا رہے تھے، تو آپ کو معلوم ہے کہ ہم جنبی ہو گئے تھے، کہنے لگے: ہاں، تو رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (اور ہم نے اسے آپ سے بیان کیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا: ”تمہارے لیے مٹی سے اس طرح کر لینا کافی تھا“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری ۱؎، پھر اپنے چہرہ کا اور اپنے دونوں بازووں کے کچھ حصہ کا مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمار! اللہ سے ڈرو، تو انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو میں اسے نہ بیان کروں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ جو تم کہہ رہے ہو ہم تم کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 317]
حضرت عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”اے امیر المؤمنین! بسا اوقات ہم ایک ایک، دو دو مہینے گزار دیتے ہیں اور پانی نہیں ملتا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تو جب پانی نہیں پاتا، نماز نہیں پڑھتا حتیٰ کہ پانی پا لوں۔“ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد ہے کہ جب آپ فلاں جگہ میں تھے اور ہم اونٹ چرا رہے تھے تو آپ کو علم ہے کہ ہم جنبی ہو گئے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں!“ چنانچہ میں تو مٹی میں خوب لتھڑا تھا، پھر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ ہنسے اور فرمایا: ”تحقیق تجھے (اتنی ہی) مٹی کافی تھی۔“ یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر ہتھیلیاں ماریں، پھر ان میں پھونکا، پھر وہ ہاتھ اپنے چہرے اور کچھ بازوؤں پر مل لیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اے عمار! اللہ سے ڈر۔“ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو میں یہ واقعہ ذکر نہ کروں۔“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، ہم تمہیں ذمہ دار بناتے ہیں، اس چیز کا جس کے تم ذمہ دار بنے ہو۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 313 (صحیح) (دون ذراعیہ، والصواب ”کفیہ‘‘ کما في الروایة التالیة)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا پھونک مارنا بھی مسنون ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون الذراعين والصواب كفيه
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 318
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ التَّيَمُّمِ، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ، فَقَالَ عَمَّارٌ: أَتَذْكُرُ حَيْثُ كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ، فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يَكْفِيكَ هَكَذَا، وَضَرَبَ شُعْبَةُ بِيَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَنَفَخَ فِي يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً".
عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے تیمم کے متعلق سوال کیا، تو وہ نہیں جان سکے کہ کیا جواب دیں، عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کو یاد ہے؟ جب ہم ایک سریہ (فوجی مہم) میں تھے، اور میں جنبی ہو گیا تھا، تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے اس طرح کر لینا ہی کافی تھا“، شعبہ نے (تیمم کا طریقہ بتانے کے لیے) اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر مارے، پھر ان میں پھونک ماری، اور ان دونوں سے اپنے چہرہ اور اپنے دونوں ہتھیلیوں پر ایک بار مسح کیا“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 318]
حضرت عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے تیمم کے بارے میں پوچھا تو ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کہیں؟ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”کیا آپ کو یاد ہے جب ہم ایک لشکر میں تھے تو میں جنبی ہو گیا تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں صرف اس طرح کافی تھا۔“”اور شعبہ نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر مارے اور دونوں ہاتھوں میں پھونکا، پھر انہیں چہرے اور ہتھیلیوں پر ایک دفعہ مل لیا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 313 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 319
أخبرنا إسماعيل بن مسعود أنبأنا خالد أنبأنا شعبة عن الحكم سمعت ذرا يحدث عن ابن أبزى عن أبيه قال وقد سمعه الحكم من ابن عبد الرحمن قال أجنب رجل فأتى عمر - رضى الله عنه - فقال إني أجنبت فلم أجد ماء . قال لا تصل . قال له عمار أما تذكر أنا كنا في سرية فأجنبنا فلم نجد ماء فأما أنت فلم تصل وأما أنا فإني تمعكت فصليت ثم أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال " إنما كان يكفيك " . وضرب شعبة بكفيه ضربة ونفخ فيهما ثم دلك إحداهما بالأخرى ثم مسح بهما وجهه . فقال عمر شيئا لا أدري ما هو . فقال إن شئت لا حدثته . وذكر شيئا في هذا الإسناد عن أبي مالك وزاد سلمة قال بل نوليك من ذلك ما توليت .
حکم بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ایک آدمی جنبی ہو گیا، تو وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا (تو میں کیا کروں؟) انہوں نے کہا: (جب تک پانی نہ ملے) نماز نہ پڑھو، اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب ہم لوگ ایک سریہ (فوجی مہم) میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے تھے، تو رہے آپ، تو آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی، اور رہا میں، تو میں نے زمین پر لوٹ پوٹ لیا، پھر نماز پڑھ لی، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا“، شعبہ نے اپنی ہتھیلی (گھٹنوں پر) ایک مرتبہ ماری، اور اس میں پھونک ماری، پھر ایک کو دوسرے سے رگڑا، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے کا مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں ایسی چیز (سن رہا ہوں) جو مجھے معلوم نہیں، تو عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں اسے بیان نہ کروں؟ سلمہ نے اس سند میں ابو مالک سے کچھ اور بھی چیزوں کا ذکر کیا ہے، اور سلمہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ اس سلسلہ میں جو کچھ تم کہہ رہے ہو ہم تم کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 319]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی جنبی ہوگیا، چنانچہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ”تحقیق میں جنبی ہوگیا اور پانی نہ پاسکا۔“ انہوں نے فرمایا: ”تو نماز نہ پڑھ۔“ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”کیا آپ کو یاد نہیں کہ ہم ایک لشکر میں تھے تو ہم جنبی ہوگئے۔ آپ نے تو نماز نہ پڑھی لیکن میں اچھی طرح مٹی میں لتھڑا اور نماز پڑھ لی۔“ پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے یہ بات آپ سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا: ”تجھے اتنا کافی تھا۔“ شعبہ (راویِ حدیث) نے اپنی ہتھیلی ایک دفعہ زمین پر ماری، پھر اس میں پھونک ماری، پھر ایک کو دوسری سے ملا، پھر انہیں اپنے چہرے پر مل لیا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ ذکر کیا جو میں نہیں جانتا تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اگر آپ کہیں تو میں یہ حدیث بیان نہ کروں۔“ سلمہ (راوی) نے ابو مالک سے اس سند میں کچھ بیان کیا ہے، اور سلمہ نے یہ الفاظ زیادہ کہے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم تمہیں اس چیز کا ذمہ دار بناتے ہیں جس کے تم ذمہ دار بنے ہو۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 313 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 320
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِد الْمَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ ثُمَّ صَلَّيْتُ، فَلَمَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يَكْفِيكَ، وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا فَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ". شَكَّ سَلَمَةُ، وَقَالَ: لَا أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ. قَالَ عُمَرُ: نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ. قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ يَقُولُ الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهَ وَالذِّرَاعَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ: مَا تَقُولُ؟ فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ أَحَدٌ غَيْرُكَ، فَشَكَّ سَلَمَةُ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي ذَكَرَ الذِّرَاعَيْنِ أَمْ لَا.
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: میں جنبی ہو گیا ہوں، اور مجھے پانی نہیں ملا (کیا کروں؟) تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: (جب تک پانی نہ ملے) تم نماز نہ پڑھو، اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں؟ جب میں اور آپ دونوں ایک سریہ میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہیں ملا، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی، لیکن میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں نے نماز پڑھ لی، تو جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا“، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنے دونوں ہاتھ مارے، پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا۔ سلمہ نے شک کیا اور کہا: مجھے نہیں معلوم کہ (میرے شیخ ذر نے دونوں کہنیوں تک مسح کا ذکر کیا یا دونوں ہتھیلیوں تک)۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس سلسلہ میں جو تم کہہ رہے ہو اس کی ذمہ داری ہم تمہارے ہی سر ڈالتے ہیں شعبہ کہتے ہیں: سلمہ دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور دونوں بازؤوں کا ذکر کر رہے تھے، تو منصور نے ان سے کہا: یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ کے سوا کسی اور نے بازؤوں کا ذکر نہیں کیا ہے، تو سلمہ شک میں پڑ گئے اور کہنے لگے مجھے نہیں معلوم کہ (ذر نے) بازؤوں کا ذکر کیا یا نہیں؟۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 320]
حضرت عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملتا۔“ انھوں نے فرمایا: ”تو نماز نہ پڑھ۔“ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اے امیر المومنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میں اور آپ ایک لشکر میں تھے، چنانچہ ہم دونوں جنبی ہو گئے اور ہم پانی نہ پا سکے۔ آپ نے تو نماز نہ پڑھی، لیکن میں اچھی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، پھر نماز پڑھ لی۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے آپ سے یہ ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: ”تجھے اتنا کافی تھا۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان میں پھونک ماری اور انہیں اپنے چہرے اور ہتھیلیوں پر مل لیا۔“ سلمہ راوی کو شک ہے اور اس نے کہا: ”میں نہیں جانتا کہ (میرے شیخ ذر نے) اس میں، کہنیوں تک کہا یا ہتھیلیوں تک۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم تمہیں اس چیز کا ذمہ دار بناتے ہیں جس کے تم ذمہ دار بنے ہو۔“ شعبہ نے کہا: (سلمہ راوی) کہتے تھے کہ ہتھیلیوں، چہرے اور کہنیوں کا مسح کیا۔ (یہ سن کر) منصور نے ان سے کہا: ”(غور کرو) تم کیا کہہ رہے ہو؟ تحقیق کہنیوں (پر مسح کرنے) کا ذکر تمہارے سوا کوئی نہیں کرتا۔“ پھر سلمہ کو شک ہوا تو اس نے کہا: ”میں نہیں جانتا کہ اس (ذر) نے کہنیوں کا ذکر کیا یا نہیں۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 313 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 321
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قال: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَوْ لَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ، لِعُمَرَ؟ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ بِالصَّعِيدِ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا، وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ ضَرْبَةً فَمَسَحَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ نَفَضَهُمَا، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ وَبِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ عَلَى كَفَّيْهِ وَوَجْهِهِ". فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَوَ لَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ؟.
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، تو ابوموسیٰ نے کہا: ۱؎ آپ نے عمار رضی اللہ عنہ کی بات جو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہی نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ضرورت سے بھیجا، تو میں جنبی ہو گیا، اور مجھے پانی نہیں ملا، تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے بس اس طرح کر لینا ہی کافی تھا“، اور آپ نے اپنا دونوں ہاتھ زمین پر ایک بار مارا، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا، پھر انہیں جھاڑا، پھر آپ نے اپنی بائیں (ہتھیلی) سے اپنی داہنی (ہتھیلی) پر اور داہنی ہتھیلی سے اپنی بائیں (ہتھیلی) پر مارا، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں اور اپنے چہرے کا مسح کیا، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ عمار رضی اللہ عنہ کی بات سے مطمئن نہیں ہوئے؟۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 321]
حضرت شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ نے سنا نہیں کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام پر بھیجا، میں جنبی ہو گیا اور میں پانی نہ پا سکا تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا اور پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے اس بات کا ذکر آپ سے کیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے اتنا کافی تھا کہ تو ایسے کر لیتا۔“ پھر آپ نے اپنے ہاتھ زمین پر ایک دفعہ مارے، پھر دونوں ہتھیلیوں کو ملایا، پھر انہیں جھاڑا، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں اور دائیں کو بائیں پر ملا، اس طرح اپنی ہتھیلیوں اور چہرے پر انہیں پھیرا۔“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا تجھے علم نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی بات پر قناعت نہ کی۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التیمم7 (346، 345)، 8 (347)، صحیح مسلم/الحیض 28 (368)، سنن ابی داود/الطھارة 123 (321)، مسند احمد 4/264، 265، 396، (تحفة الأشراف 10360) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابوموسیٰ کا کہنا تھا کہ تیمم کا حکم عام ہے، محدث اور جنبی دونوں کو شامل ہے، اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ یہ صرف محدث کے لیے خاص ہے اس پر ابوموسیٰ نے بطور اعتراض ان سے یہ بات کہی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 322
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قال: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، أَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُعْتَزِلًا لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ:" يَا فُلَانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ، قَالَ:" عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو الگ تھلگ بیٹھا دیکھا، اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا؟“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے اور پانی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پانی نہ ملنے پر) ”مٹی کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تمہارے لیے کافی ہے“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 322]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو الگ بیٹھے دیکھا جس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے تجھے کون سی چیز مانع تھی؟“ تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی ہو گیا ہوں اور پانی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مٹی استعمال کر (تیمم کر لے) یہ تجھے کافی ہے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التیمم 6 (344)، 9 (348)، (تحفة الأشراف 10876)، مسند احمد 4/ 334 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 325
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ مُخَارِقًا أَخْبَرَهُمْ، عَنْ طَارِقٍ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يُصَلِّ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" أَصَبْتَ، فَأَجْنَبَ رَجُلٌ آخَرَ فَتَيَمَّمَ وَصَلَّى"، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: نَحْوَ مَا قَالَ لِلْآخَرِ يَعْنِي أَصَبْتَ.
طارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جنبی ہو گیا، اس نے نماز نہیں پڑھی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا، پھر ایک دوسرا آدمی بھی جنبی ہو گیا، تو اس نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، اور آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی ایسا ہی فرمایا جیسا کہ دوسرے سے فرمایا تھا، یعنی تم نے بھی ٹھیک کیا“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 325]
حضرت طارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جنبی ہو گیا (اور اسے پانی نہ ملا) تو اس نے نماز نہ پڑھی۔ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا: ”تو نے ٹھیک کیا۔“ ایک اور آدمی جنبی ہو گیا تو اس نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی۔ وہ آپ کے پاس آیا تو اسے بھی آپ نے وہی کہا جو دوسرے کو کہا تھا، یعنی ”تو نے ٹھیک کیا۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف 4982)، ویاتی عندالمؤلف برقم 435 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح