🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. باب : الاختلاف على سليمان
باب: سلیمان الاعمش سے روایت میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 437
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ فِيهِ:" الْوُضُوءُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے بہت مذی آتی تھی، تو میں نے ایک آدمی کو حکم دیا، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 437]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بہت مذی والا آدمی تھا۔ میں نے ایک آدمی سے کہا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 152
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: قال عَلِيٌّ:" كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكَانَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتِي فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ جَالِسٍ إِلَى جَنْبِي: سَلْهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ فِيهِ: الْوُضُوءُ".
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی ۱؎ آتی تھی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی (فاطمہ رضی اللہ عنہا) میرے عقد نکاح میں تھیں، جس کی وجہ سے میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں شرم محسوس کی، تو میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک آدمی سے کہا: تم پوچھو، تو اس نے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 152]
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے مذی بہت آیا کرتی تھی۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی میرے نکاح میں تھیں، لہٰذا مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، چنانچہ میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک شخص سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ مسئلہ) پوچھو، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے نکلنے سے وضو واجب ہوتا ہے (غسل نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 13 (269)، (تحفة الأشراف: 10178)، مسند احمد 1/125، 129 (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مذی وہ لیس دار پتلا پانی ہے جو جماع کی خواہش سے پہلے شرمگاہ سے نکلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 153
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: قُلْتُ لِلْمِقْدَادِ: إِذَا بَنَى الرَّجُلُ بِأَهْلِهِ فَأَمْذَى وَلَمْ يُجَامِعْ، فَسَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ وَابْنَتُهُ تَحْتِي، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" يَغْسِلُ مَذَاكِيرَهُ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مقداد سے کہا: جب آدمی اپنی بیوی کے پاس جائے، اور مذی نکل آئے، اور جماع نہ کرے تو (اس پر کیا ہے؟) تم اس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھنے سے شرما رہا ہوں، کیونکہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں، چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لیں، اور نماز کی طرح وضو کر لیں۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 153]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا: جب کوئی آدمی اپنی بیوی سے دل لگی کرے اور اسے مذی آ جائے جب کہ اس نے جماع نہیں کیا (تو وہ کیا کرے؟) آپ یہ مسئلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میرے نکاح میں ہے، اس لیے مجھے شرم آتی ہے۔ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرم گاہ وغیرہ دھو لے اور نماز والا وضو کرلے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 83 (208، 209)، (تحفة الأشراف: 10241)، مسند احمد 1/124 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (208) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 154
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ، أَنَّ عَلِيًا، قال:" كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِهِ عِنْدِي، فَقَالَ: يَكْفِي مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ".
عائش بن انس سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو میں نے آپ کی صاحبزادی جو میرے عقد نکاح میں تھیں کی وجہ سے عمار بن یاسر کو حکم دیا کہ وہ (اس بارے میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں، (چنانچہ انہوں نے پوچھا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو کافی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 154]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے مذی بہت آیا کرتی تھی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے میرے نکاح میں ہونے کی وجہ سے میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلے کی بابت پوچھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس (مذی) سے وضو کافی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10156) (منکر) (مقداد کی جگہ عمار بن یاسر کا ذکر منکر ہے، کیوں کہ اس سے پہلے کی صحیح حدیثوں مں مقداد کا ذکر آیا ہے)»
قال الشيخ الألباني: منكر بذكر عمار
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 155
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا أُمَيَّةُ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَنَّ رَوْحَ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُجَيْحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَ عَمَّارًا أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الْمَذْيِ، فَقَالَ: يَغْسِلُ مَذَاكِيرَهُ وَيَتَوَضَّأُ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں سوال کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لیں، اور وضو کر لیں۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 155]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں پوچھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرم گاہ وغیرہ دھو لے اور وضو کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3550) (منکر) (مقداد کی جگہ عمار بن یاسر کا ذکر منکر ہے، کیوں کہ اس سے پہلے کی صحیح حدیثوں مں مقداد کا ذکر آیا ہے، کما تقدم)»
قال الشيخ الألباني: منكر والمحفوظ أن المأمور المقداد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 156
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَرْوَزِيُّ، عَنْ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ مَاذَا عَلَيْهِ؟ فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کریں جو اپنی بیوی سے قریب ہو اور اس سے مذی نکل آئے، تو اس پر کیا واجب ہے؟ (وضو یا غسل) کیونکہ میرے عقد نکاح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی (فاطمہ رضی اللہ عنہا) ہیں، اس لیے میں (خود) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے شرما رہا ہوں، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایسا پائے تو اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 156]
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں پوچھیں جو اپنی بیوی سے قریب ہوتا ہے تو اس سے مذی نکلتی ہے، تو اس پر کیا واجب ہے؟ چونکہ آپ کی بیٹی میرے نکاح میں ہے، اس لیے مجھے یہ پوچھتے ہوئے شرم آتی ہے، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی یہ صورت حال پائے تو وہ اپنی شرم گاہ دھو لے اور نماز والا وضو کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 83 (207)، سنن ابن ماجہ/فیہ 70 (505)، (تحفة الأشراف: 11544)، موطا امام مالک/الطہارة 13 (53)، مسند احمد 6/4، 5 ویأتی عند المؤلف برقم: 441 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (207) ابن ماجه (505) وانظر الحديث الآتي (441) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 157
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعَلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، قال: سَمِعْتُ مُنْذِرًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، قال:" اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ فِيهِ: الْوُضُوءُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے مذی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود پوچھنے میں شرم محسوس کی، تو مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو واجب ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 157]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے شرم آتی تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں پوچھوں، چنانچہ میں نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے کہا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 51 (132)، الوضوء 34 (178)، صحیح مسلم/الحیض 4 (303)، (تحفة الأشراف: 10264)، مسند احمد 1/80، 82، 103، 124، 140، ولہ طرق أخری عن علی۔ انظر الأرقام: 436-441 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 193
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، وَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا شخص تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب مذی دیکھو تو اپنا ذکر دھو لو، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لو، اور جب پانی (منی) کودتا ہوا نکلے تو غسل کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 193]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ مجھے مذی بہت زیادہ آتی تھی تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مذی دیکھو تو اپنے عضو (وغیرہ) کو دھو لو اور نماز والا وضو کرو لیکن جب تم زور سے منی نکالو تو غسل کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 83 (206) مطولاً، (تحفة الأشراف: 10079)، مسند احمد 1/ 109، 125، 145 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 194
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَائِدَةَ، ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَتَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، وَإِذَا رَأَيْتَ فَضْخَ الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو میں نے ۱؎، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مذی دیکھو تو وضو کر لو، اور اپنا ذکر دھو لو، اور جب پانی (منی) کو کودتے دیکھو، تو غسل کرو ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 194]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے مذی بہت زیادہ آتی تھی، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مذی دیکھو تو اپنے عضو کو دھو کر وضو کرلو اور جب تم زور سے منی نکالو تو غسل کرلو۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 194]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 10079) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مقداد یا عمار کے واسطہ سے پوچھا، جیسا کہ حدیث نمبر: ۱۵۲، ۱۵۷ میں گزر چکا ہے۔ ۲؎: منی کا ذکر افادئہ مزید کے لیے ہے ورنہ جواب مذی کے ذکر ہی پر پورا ہو چکا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 256
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَمْرٌو: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ". زَادَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ: وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (اور عمرو کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) جب کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے تو وضو کرتے، اور عمرو نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 256]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں کھانے یا سونے کا ارادہ فرماتے تو وضو فرما لیتے تھے، اور عمرو نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں کہ نماز والا وضو فرما لیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 6 (305)، سنن ابی داود/الطھارة 89 (224)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 103 (591)، (تحفة الأشراف: 15926)، مسند احمد 6/126، 143، 191، 192، 235، 260، 273، سنن الدارمی/الطہارة 73 (784)، الأطمة 36 (2123) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 257
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ غَسَلَ يَدَيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کرتے، اور جب کھانے کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھو لیتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 257]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ کرتے تو وضو فرماتے اور جب کھانے کا ارادہ کرتے تو ہاتھ دھو لیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 6 (305)، سنن ابی داود/الطھارة 88 (223)، سنن ابن ماجہ/فیہ 99 (584)، 104 (593)، (تحفة الأشراف: 17769)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 25 (286)، 27 (288)، مسند احمد 6/36، 102، 200، 279، سنن الدارمی/الطہارة 73 (784)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 258، 259 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کبھی تو بیان جواز کے لیے دونوں ہاتھ دھونے پر اکتفا کرتے اور کبھی مکمل وضو کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 258
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ، قَالَتْ: غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ يَأْكُلُ أَوْ يَشْرَبُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے اور آپ جنبی ہوتے تو وضو کرتے، اور جب کھانے یا پینے کا ارادہ کرتے، تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر کھاتے یا پیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 258]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو وضو فرماتے اور جب کھانے یا پینے کا ارادہ فرماتے تو اپنے ہاتھ دھوتے، پھر کھاتے پیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 17769) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 259
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے تو اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 259]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے اور جنبی ہوتے تو سونے سے پہلے نماز والا وضو فرما لیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 257 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 260
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قال: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، قال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی بحالت جنابت سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ وضو کر لے (تو سو سکتا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 260]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گزارش کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بشرطیکہ وضو کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 6 (306)، سنن الترمذی/الطھارة 88 (120)، (تحفة الأشراف: 8178، 10552)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 27 (289)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 99 (585)، مسند احمد 2/ 17، 35، 36، 44، 102 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 261
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: ذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ نَمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ وہ رات میں جنبی ہو جاتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کر لو اور اپنا عضو مخصوص دھو لو، پھر سو جاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 261]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا کہ (کبھی) میں رات کو جنبی ہو جاتا ہوں (تو کیا کروں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی شرم گاہ دھو لو، وضو کر لو، پھر سو جاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 261]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 27 (290)، صحیح مسلم/الحیض 6 (306)، سنن ابی داود/الطھارة 87 (221)، (تحفة الأشراف: 7224)، موطا امام مالک/الطہارة 19 (76)، مسند احمد 1/50، 46، 56، 64، 75، 116، 2/64 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 349
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ:" مَا لَكِ؟ أَنَفِسْتِ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارا مقصد صرف حج کرنا تھا، جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ کیا تم حائضہ ہو گئی ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر مقدر کر دیا ہے ۱؎، اب تم وہ سارے کام کرو، جو حاجی کرتا ہے، البتہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 349]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ ہم صرف حج ہی کی نیت رکھتے تھے۔ جب ہم سرف مقام میں پہنچے تو مجھے حیض شروع ہو گیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھیں کیا ہوا؟ حیض شروع ہو گیا؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے۔ تم وہی کرو جو حاجی کریں مگر طواف نہ کرنا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 291 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آدم زادیوں میں حواء بھی داخل ہیں اس لیے کہ آدم زاویوں سے عورتوں کی نوع مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 436
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: تَذَاكَرَ عَلِيٌّ، وَالْمِقْدَادُ، وَعَمَّارٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ إِنِّي امْرُؤٌ مَذَّاءٌ وَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ مِنِّي فَيَسْأَلُهُ أَحَدُكُمَا، فَذَكَرَ لِي أَنَّ أَحَدَهُمَا وَنَسِيتُهُ سَأَلَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ الْمَذْيُ إِذَا وَجَدَهُ أَحَدُكُمْ فَلْيَغْسِلْ ذَلِكَ مِنْهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ أَوْ كَوُضُوءِ الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ علی، مقداد اور عمار رضی اللہ عنہم نے آپس میں بات کی، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے بہت مذی آتی ہے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس کے بارے میں) پوچھنے سے شرماتا ہوں، اس لیے کہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں، تو تم دونوں میں سے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے (عطاء کہتے ہیں:) ابن عباس رضی اللہ عنہا نے مجھ سے ذکر کیا کہ ان دونوں میں سے ایک نے (میں اس کا نام بھول گیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مذی ہے، جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے اپنے جسم سے دھو لے، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے، راوی کو شک ہے «وضوئه للصلاة» کہا یا «كوضوء الصلاة» کہا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 436]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ حضرت علی، حضرت مقداد اور حضرت عمار رضی اللہ عنہم آپس میں باتیں کر رہے تھے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تحقیق مجھے مذی بہت آتی ہے اور مجھے یہ مسئلہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے شرم آتی ہے کیونکہ آپ کی صاحبزادی میرے نکاح میں ہے، اس لیے تم میں سے کوئی آپ سے (یہ مسئلہ) پوچھے۔ (عطاء نے کہا:) ابن عباس نے مجھے بتایا کہ ان دونوں میں سے کسی نے آپ سے پوچھا۔۔۔ میں اس کا نام بھول گیا۔۔۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مذی کو پائے تو اسے اپنے جسم (شرمگاہ وغیرہ) سے دھو دے اور نماز والا وضو کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 4 (303)، (تحفة الأشراف 10195)، مسند احمد 1/110، وعبداللہ بن أحمد، ویأتی عندالمؤلف برقم (437، 439، 440) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 438
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، قال: سَمِعْتُ مُنْذِرًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ فِيهِ:" الْوُضُوءُ". الِاخْتِلَافُ عَلَى بُكَيْرٍ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مذی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے شرما رہا تھا، تو میں نے مقداد کو حکم دیا، انہوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 438]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی۔ تو میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 157 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف کا مقصود اس حدیث کی روایت کے سلسلہ میں سلیمان الاعمش کے تلامذہ کے باہمی اختلاف کو واضح کرنا ہے کہ یہی حدیث محمد بن حاتم کی سند میں عبیدہ نے اسے بواسطہ «اعمش عن حبیب بن ابی ثابت عن سعید بن جبیر عن ابن عباس عن علی» اور بعد والی حدیث محمد بن عبدالٔاعلی کی سند میں شعبہ نے بواسطہ «اعمش عن منذر عن محمد بن علی عن علی» روایت کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 440
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قال: أَرْسَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْمِقْدَادَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْمَذْيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَغْسِلُ ذَكَرَهُ ثُمَّ لِيَتَوَضَّأْ".
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مقداد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ وہ آپ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھیں جو مذی پاتا ہو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لے، پھر وضو کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 440]
حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں پوچھیں جو مذی پاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنا ذکر (عضو خاص) دھولے، پھر وضو کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 436، و بإرسالہ تفرد المؤلف۔ (’’سلیمان بن یسار‘‘ اور ’’علی رضی اللہ عنہ“ کے درمیان سند میں انقطاع ہے) (صحیح بما قبلہ وبما بعدہ)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 441
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنَ الْمَرْأَةِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ، فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق پوچھیں کہ جب وہ عورت سے قریب ہوتا ہو تو اسے مذی نکل آتی ہو، چونکہ میرے عقد نکاح میں آپ کی صاحبزادی ہیں اس لیے میں پوچھنے سے شرما رہا ہوں، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے چاہیئے کہ اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے، اور اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 441]
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کریں کہ جب وہ اپنی بیوی کے قریب جاتا ہے تو اس سے مذی نکلتی ہے، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میرے نکاح میں ہے، اس لیے مجھے خود آپ سے پوچھتے ہوئے شرم آتی ہے۔ چنانچہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی یہ صورت پائے تو وہ اپنی شرم گاہ دھوئے اور نماز والا وضو کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 156 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پہلی حدیث میں مخرمہ بن بکیر نے اسے بواسطہ بکیر عن سلیمان بن یسار عن ابن عباس روایت کیا ہے، اور اس میں شرمگاہ پر پانی چھڑکنے کا ذکر ہے، اور دوسری حدیث میں لیث بن سعد نے بکیر عن سلیمان بن یسار مرسلاً بغیر ابن عباس کے واسطہ کے روایت کیا ہے، اور اس میں شرمگاہ کے دھونے کا ذکر ہے، تیسری روایت کی سند میں بکیر کا ذکر نہیں ہے، غالباً مصنف نے اسے نضح والی روایت کی تائید میں یا دونوں روایتوں کی تقویت کے لیے ذکر کیا ہے کیونکہ ان دونوں روایتوں میں انقطاع ہے، پہلی میں اس لیے کہ مخرمہ کا سماع اپنے باپ سے نہیں اور دوسری مرسل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (156) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 323

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں