صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1M. باب الأمر بالنفساء إذا نفسن:
باب: عورتوں کے لیے اس حکم کا بیان جب وہ نفاس کی حالت میں ہوں۔
حدیث نمبر: 294
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: خَرَجْنَا لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، قَالَ: مَا لَكِ، أَنُفِسْتِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:"إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ"، قَالَتْ: وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ..
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے سنا، کہا میں نے قاسم سے سنا۔ وہ کہتے تھے میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ آپ فرماتی تھیں کہ ہم حج کے ارادہ سے نکلے۔ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی اور اس رنج میں رونے لگی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں کیا ہو گیا۔ کیا حائضہ ہو گئی ہو۔ میں نے کہا، ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دیا ہے۔ اس لیے تم بھی حج کے افعال پورے کر لو۔ البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ (سرف ایک مقام مکہ سے چھ سات میل کے فاصلہ پر ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 294]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ ہم سب مدینہ منورہ سے صرف حج کے ارادے سے نکلے، چنانچہ جب ہم مقام سرف پر پہنچے تو مجھے حیض آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کیا ہوا؟ کیا حیض آ گیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ امر تو اللہ تعالیٰ نے بناتِ آدم پر لکھ دیا ہے، لہٰذا تم وہ تمام کام کرو جو حاجی کرتا ہے، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 294]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 305
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا جِئْنَا سَرِفَ طَمِثْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ قُلْتُ: لَوَدِدْتُ وَاللَّهِ أَنِّي لَمْ أَحُجَّ الْعَامَ، قَالَ: لَعَلَّكِ نُفِسْتِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِنَّ ذَلِكِ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے اس طرح نکلے کہ ہماری زبانوں پر حج کے علاوہ اور کوئی ذکر ہی نہ تھا۔ جب ہم مقام سرف پہنچے تو مجھے حیض آ گیا۔ (اس غم سے) میں رو رہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا کاش! میں اس سال حج کا ارادہ ہی نہ کرتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید تمہیں حیض آ گیا ہے۔ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے مقرر کر دی ہے۔ اس لیے تم جب تک پاک نہ ہو جاؤ طواف بیت اللہ کے علاوہ حاجیوں کی طرح تمام کام انجام دو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 305]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بایں حالت نکلے کہ ہم حج کے علاوہ کسی چیز کا ذکر نہ کرتے تھے۔ جب ہم مقام سرف پر پہنچے تو مجھے حیض آ گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کیوں رو رہی ہو؟“ میں نے عرض کیا: کاش میں امسال حج کا ارادہ ہی نہ کرتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تمہیں حیض آ گیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تو اللہ تعالیٰ نے تمام بناتِ آدم پر لکھ دیا ہے، اس لیے تم وہ تمام افعال کرتی رہو جو حاجی کرتا ہے، البتہ بیت اللہ کا طواف نہیں کرنا تاآنکہ تم پاک ہو جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 305]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 316
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" أَهْلَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَكُنْتُ مِمَّنْ تَمَتَّعَ وَلَمْ يَسُقْ الْهَدْيَ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا حَاضَتْ وَلَمْ تَطْهُرْ حَتَّى دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ لَيْلَةُ عَرَفَةَ وَإِنَّمَا كُنْتُ تَمَتَّعْتُ بِعُمْرَةٍ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَمْسِكِي عَنْ عُمْرَتِكِ فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْتُ الْحَجَّ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي نَسَكْتُ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، کہا ہم سے ابن شہاب زہری نے عروہ کے واسطہ سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کیا، میں تمتع کرنے والوں میں تھی اور ہدی (یعنی قربانی کا جانور) اپنے ساتھ نہیں لے گئی تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے متعلق بتایا کہ پھر وہ حائضہ ہو گئیں اور عرفہ کی رات آ گئی اور ابھی تک وہ پاک نہیں ہوئی تھیں۔ اس لیے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! آج عرفہ کی رات ہے اور میں عمرہ کی نیت کر چکی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے سر کو کھول ڈال اور کنگھا کر اور عمرہ کو چھوڑ دے۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر میں نے حج پورا کیا۔ اور لیلۃ الحصبہ میں عبدالرحمٰن بن ابوبکر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا۔ وہ مجھے اس عمرہ کے بدلہ میں جس کی نیت میں نے کی تھی تنعیم سے (دوسرا) عمرہ کرا لائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 316]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں احرام باندھا تو میں ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے حج تمتع کی نیت کی تھی اور اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہیں لائے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ انہیں حیض آ گیا اور شب عرفہ تک پاک نہ ہو سکیں، تب انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عرفہ کی رات ہے اور میں نے عمرے کا احرام باندھ کر تمتع کا ارادہ کیا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنا سر کھول کر کنگھی کر لو اور اپنے عمرے کے اعمال کو موقوف کر دو۔“ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، اور جب میں حج سے فارغ ہو گئی تو آپ نے شب محصب (میرے بھائی) عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو وہ، میرے اس عمرے کے بدلے جس کا میں نے احرام باندھا تھا، مجھے مقام تنعیم سے عمرہ کرا لائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 316]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 317
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهْلِلْ، فَإِنِّي لَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، فَأَهَلَّ بَعْضُهُمْ بِعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ بَعْضُهُمْ بِحَجٍّ، وَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَشَكَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِحَجٍّ، فَفَعَلْتُ حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ أَرْسَلَ مَعِي أَخِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَخَرَجْتُ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِي"، قَالَ هِشَامٌ: وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَوْمٌ وَلَا صَدَقَةٌ.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ حماد نے ہشام بن عروہ کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے فرمایا ہم ذی الحجہ کا چاند دیکھتے ہی نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا دل چاہے تو اسے عمرہ کا احرام باندھ لینا چاہیے۔ کیونکہ اگر میں ہدی ساتھ نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا۔ اس پر بعض صحابہ نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا۔ میں بھی ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ مگر عرفہ کا دن آ گیا اور میں حیض کی حالت میں تھی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمرہ چھوڑ اور اپنا سر کھول اور کنگھا کر اور حج کا احرام باندھ لے۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ یہاں تک کہ جب حصبہ کی رات آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا۔ میں تنعیم میں گئی اور وہاں سے اپنے عمرہ کے بدلے دوسرے عمرہ کا احرام باندھا۔ ہشام نے کہا کہ ان میں سے کسی بات کی وجہ سے بھی نہ ہدی واجب ہوئی اور نہ روزہ اور نہ صدقہ۔ (تنعیم حد حرم سے قریب تین میل دور ایک مقام کا نام ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 317]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم ہلالِ ذی الحجہ کے قریب حج کے لیے روانہ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص عمرے کا احرام باندھنا چاہے، وہ عمرے کا احرام باندھ لے اور اگر میں خود ہدی (قربانی کا جانور) نہ لایا ہوتا تو عمرے ہی کا احرام باندھتا۔“ چنانچہ کچھ لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا اور کچھ نے حج کا، اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ مجھے عرفے کا دن بحالتِ حیض آیا، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرہ ترک کر دو اور اپنے سر کے بال کھول کر کنگھی کر لو، پھر حج کا احرام باندھ لو۔“ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ جب وادیِ محصب میں پڑاؤ کی رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو بھیجا، میں (ان کے ساتھ) تنعیم تک گئی اور وہاں سے فوت شدہ عمرے کی جگہ دوسرا احرام باندھا۔ ہشام (راوی) کہتے ہیں کہ ان سب باتوں میں نہ قربانی لازم ہوئی، نہ روزہ رکھنا پڑا اور نہ صدقہ ہی دینا پڑا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 317]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 319
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيُحْلِلْ، وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى فَلَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ بِنَحْرِ هَدْيِهِ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ، قَالَتْ: فَحِضْتُ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلَّا بِعُمْرَةٍ، فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِحَجٍّ وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ، فَفَعَلْتُ ذَلِكَ حَتَّى قَضَيْتُ حَجِّي، فَبَعَثَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مَكَانَ عُمْرَتِي مِنَ التَّنْعِيمِ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے عقیل بن خالد سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سفر میں نکلے، ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا، پھر ہم مکہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی ساتھ نہ لایا ہو تو وہ حلال ہو جائے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور وہ ہدی بھی ساتھ لایا ہو تو وہ ہدی کی قربانی سے پہلے حلال نہ ہو گا۔ اور جس نے حج کا احرام باندھا ہو تو اسے حج پورا کرنا چاہیے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں حائضہ ہو گئی اور عرفہ کا دن آ گیا۔ میں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں اپنا سر کھول لوں، کنگھا کر لوں اور حج کا احرام باندھ لوں اور عمرہ چھوڑ دوں، میں نے ایسا ہی کیا اور اپنا حج پورا کر لیا۔ پھر میرے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا اور مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے چھوٹے ہوئے عمرہ کے عوض تنعیم سے دوسرا عمرہ کروں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 319]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجۃ الوداع کے لیے روانہ ہوئے۔ ہم میں سے کسی نے عمرے کا احرام باندھا اور کسی نے حج کا۔ جب ہم مکہ مکرمہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور وہ قربانی کا جانور ساتھ نہیں لایا تو وہ (عمرہ کرنے کے بعد) حلال ہو جائے۔ اور جس نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور ہدی کا جانور ساتھ لایا ہے تو وہ ہدی کی قربانی سے پہلے حلال نہیں ہو گا۔ اور جس نے صرف حج کا احرام باندھا ہے اسے اپنے حج کو پورا کرنا ہو گا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے حیض آ گیا اور یوم عرفہ تک اسی حالت میں رہی۔ چونکہ میں نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنا سر کھول کر کنگھی کر لوں، پھر حج کا احرام باندھ لوں اور عمرے کو ترک کر دوں۔ میں نے ایسا ہی کیا تا آنکہ میں نے اپنا حج پورا کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو روانہ کیا اور مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے ترک کردہ عمرے کے بدلے تنعیم سے دوسرا عمرہ کروں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 319]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 328
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ؟ فَقَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَاخْرُجِي".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم سے، انہوں نے اپنے باپ ابوبکر سے، انہوں نے عبدالرحمٰن کی بیٹی عمرہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو (حج میں) حیض آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شاید کہ وہ ہمیں روکیں گی۔ کیا انہوں نے تمہارے ساتھ طواف (زیارت) نہیں کیا۔ عورتوں نے جواب دیا کہ کر لیا ہے۔ آپ نے اس پر فرمایا کہ پھر نکلو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 328]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید وہ ہمیں (مدینہ) جانے سے باز رکھے گی۔ کیا اس نے تمہارے ساتھ طواف (زیارت) نہیں کر لیا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ رخت سفر باندھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 328]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1516
وَقَالَ أَبَانُ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهَا أَخَاهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمَرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ وَحَمَلَهَا عَلَى قَتَبٍ , وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: شُدُّوا الرِّحَالَ فِي الْحَجِّ فَإِنَّهُ أَحَدُ الْجِهَادَيْنِ.
اور ابان نے کہا ہم سے مالک بن دینار نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی عبدالرحمٰن کو بھیجا اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنعیم سے عمرہ کرایا اور پالان کی پچھلی لکڑی پر ان کو بٹھا لیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حج کے لیے پالانیں باندھو کیونکہ یہ بھی ایک جہاد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1516]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ روانہ کیا تو حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو مقام تنعیم سے عمرہ کرایا اور انہیں اپنے پیچھے کجاوے پر ہی سوار کر لیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حج کے لیے پالان باندھو کیونکہ یہ بھی ایک جہاد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1516]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1518
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْتَمَرْتُمْ وَلَمْ أَعْتَمِرْ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، اذْهَبْ بِأُخْتِكَ، فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ، فَأَحْقَبَهَا عَلَى نَاقَةٍ فَاعْتَمَرَتْ".
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایمن بن نابل نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انھوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ لوگوں نے تو عمرہ کر لیا لیکن میں نہ کر سکی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمٰن اپنی بہن کو لے جا اور انہیں تنعیم سے عمرہ کرا لا۔ چنانچہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اونٹ کے پیچھے بٹھا لیا اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ ادا کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1518]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ سب لوگوں نے عمرہ کر لیا ہے لیکن میں نہیں کر سکی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”اپنی ہمشیرہ کو لے جاؤ اور انہیں مقام تنعیم سے عمرہ کراؤ۔“ چنانچہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اونٹ کے پیچھے پالان پر بٹھا لیا اور اس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ مکمل کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1518]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1556
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ: هَذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ، قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى، وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابن شہاب سے خبر دی، انہیں عروہ بن زبیر نے، ان سے نبی کریم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم حجتہ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ پہلے ہم نے عمرہ کا احرام باندھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی ہو تو اسے عمرہ کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھ لینا چاہئے۔ ایسا شخص درمیان میں حلال نہیں ہو سکتا بلکہ حج اور عمرہ دونوں سے ایک ساتھ حلال ہو گا۔ میں بھی مکہ آئی تھی اس وقت میں حائضہ ہو گئی، اس لیے نہ بیت اللہ کا طواف کر سکی اور نہ صفا اور مروہ کی سعی۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا سر کھول ڈال، کنگھا کر اور عمرہ چھوڑ کر حج کا احرام باندھ لے۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا پھر جب ہم حج سے فارغ ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم بھیجا۔ میں نے وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا (اور عمرہ ادا کیا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس عمرہ کے بدلے میں ہے۔ (جسے تم نے چھوڑ دیا تھا) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جن لوگوں نے (حجۃ الوداع میں) صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف صفا اور مروہ کی سعی کر کے حلال ہو گئے۔ پھر منیٰ سے واپس ہونے پر دوسرا طواف (یعنی طواف الزیارۃ) کیا لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا تھا، انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا یعنی طواف الزیارۃ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1556]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے، پہلے ہم نے عمرے کا احرام باندھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی ہے اسے عمرے کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھ لینا چاہیے، پھر ایسا شخص حج اور عمرہ دونوں سے فراغت کے بعد ہی حلال ہوگا۔“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میں مکہ مکرمہ آئی تو بحالت حیض تھی، اس لیے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی نہ کر سکی۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سر کے بال کھول کر ان میں کنگھی کر لو اور عمرے کو چھوڑ کر صرف حج کی نیت کر لو۔“ میں نے تعمیلِ حکم کی۔ پھر جب ہم حج سے فارغ ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے بھائی حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تنعیم بھیجا تو میں نے وہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے اس ترک کردہ عمرے کے بدلے میں ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جن لوگوں نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر کے حلال ہو گئے، پھر منیٰ سے واپسی کے بعد انہوں نے دوسرا طواف (زیارت) کیا۔ لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرے کا ایک ساتھ احرام باندھا تھا انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1556]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1560
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَلَيَالِي الْحَجِّ وَحُرُمِ الْحَجِّ، فَنَزَلْنَا بِسَرِفَ، قَالَتْ: فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ مَعَهُ هَدْيٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلَا، قَالَتْ: فَالْآخِذُ بِهَا وَالتَّارِكُ لَهَا مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالَتْ: فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَكَانُوا أَهْلَ قُوَّةٍ، وَكَانَ مَعَهُمُ الْهَدْيُ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الْعُمْرَةِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ يَا هَنْتَاهُ؟ , قُلْتُ: سَمِعْتُ قَوْلَكَ لِأَصْحَابِكَ فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ، قَالَ: وَمَا شَأْنُكِ، قُلْتُ: لَا أُصَلِّي، قَالَ: فَلَا يَضِيرُكِ، إِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَكِيهَا، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فِي حَجَّتِهِ حَتَّى قَدِمْنَا مِنًى فَطَهَرْتُ، ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ مِنًى فَأَفَضْتُ بِالْبَيْتِ، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَتْ مَعَهُ فِي النَّفْرِ الْآخِرِ حَتَّى نَزَلَ الْمُحَصَّبَ وَنَزَلْنَا مَعَهُ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ افْرُغَا، ثُمَّ ائْتِيَا هَا هُنَا فَإِنِّي أَنْظُرُكُمَا حَتَّى تَأْتِيَانِي، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا فَرَغْتُ وَفَرَغْتُ مِنَ الطَّوَافِ، ثُمَّ جِئْتُهُ بِسَحَرَ، فَقَالَ: هَلْ فَرَغْتُمْ؟، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَآذَنَ بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ فَارْتَحَلَ النَّاسُ، فَمَرَّ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ ضَيْرُ مِنْ ضَارَ يَضِيرُ ضَيْرًا"، وَيُقَالُ: ضَارَ يَضُورُ ضَوْرًا وَضَرَّ يَضُرُّ ضَرًّا.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر حنفی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے افلح بن حمید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے مہینوں میں حج کی راتوں میں اور حج کے دنوں میں نکلے۔ پھر سرف میں جا کر اترے۔ آپ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا جس کے ساتھ ہدی نہ ہو اور وہ چاہتا ہو کہ اپنے احرام کو صرف عمرہ کا بنا لے تو اسے ایسا کر لینا چاہئے لیکن جس کے ساتھ قربانی ہے وہ ایسا نہ کرے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے اس فرمان پر عمل کیا اور بعض نے نہیں کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعض اصحاب جو استطاعت و حوصلہ والے تھے (کہ وہ احرام کے ممنوعات سے بچ سکتے تھے۔) ان کے ساتھ ہدی بھی تھی، اس لیے وہ تنہا عمرہ نہیں کر سکتے تھے (پس انہوں نے احرام نہیں کھولا) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ (اے بھولی بھالی عورت! تو) رو کیوں رہی ہے؟ میں نے عرض کی کہ میں نے آپ کے اپنے صحابہ سے ارشاد کو سن لیا، اب تو میں عمرہ نہ کر سکوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے کہا میں نماز پڑھنے کے قابل نہ رہی (یعنی حائضہ ہو گئی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ آخر تم بھی تو آدم کی بیٹیوں کی طرح ایک عورت ہو اور اللہ نے تمہارے لیے بھی وہ مقدر کیا ہے جو تمام عورتوں کے لیے کیا ہے۔ اس لیے (عمرہ چھوڑ کر) حج کرتی رہ اللہ تعالیٰ تمہیں جلد ہی عمرہ کی توفیق دیدے گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بیان کیا کہ ہم حج کے لیے نکلے۔ جب ہم (عرفات سے) منیٰ پہنچے تو میں پاک ہو گئی۔ پھر منٰی سے جب میں نکلی تو بیت اللہ کا طواف الزیارۃ کیا۔ آپ نے بیان کیا کہ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب واپس ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی محصب میں آن کر اترے۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھہرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بلا کر کہا کہ اپنی بہن کو لے کر حرم سے باہر جا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ پھر عمرہ سے فارغ ہو کر تم لوگ یہیں واپس آ جاؤ، میں تمہارا انتظار کرتا رہوں گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق) چلے اور جب میں اور میرے بھائی طواف سے فارغ ہو لیے تو میں سحری کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ فارغ ہو لیں؟ میں نے کہا ہاں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے سفر شروع کر دینے کے لیے کہا۔ سفر شروع ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس ہو رہے تھے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ جو «لايضيرک» ہے وہ «ضار يضير ضيراا» سے مشتق ہے ضار يضور ضورا» بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور جس روایت میں «لايضرک» ہے وہ «ضر يضر ضرا» سے نکلا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1560]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کے مہینوں، حج کی راتوں اور حج کے احرام میں روانہ ہوئے، پھر ہم نے مقام سرف میں پڑاؤ کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تم میں سے جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو اور اس احرام سے عمرہ کرنا چاہتا ہو تو ایسا کر سکتا ہے مگر جس کے پاس قربانی کا جانور ہو وہ ایسا نہ کرے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بعض نے اس حکم سے فائدہ اٹھایا اور کچھ اس سے قاصر رہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین صاحبِ حیثیت تھے اور ان کے پاس قربانی کے جانور تھے وہ عمرہ نہیں کر سکتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بھولی بھالی! کیوں رو رہی ہو؟“ میں نے عرض کیا: حضور! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ گفتگو سنی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے کی ہے اور میں عمرہ نہیں کر سکتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ عرض کیا: میں نماز کے قابل نہیں رہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ضرر نہیں، آخر تم بھی دیگر بناتِ آدم کی طرح ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقدر میں وہی کچھ لکھا ہے جو دوسری عورتوں کے لیے ہے۔ تم اپنے حج کے احرام میں رہو، شاید اللہ تعالیٰ تمہیں عمرہ نصیب کر دے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم حج کے لیے روانہ ہوئے حتیٰ کہ جب منیٰ میں آئے تو میں حیض سے پاک ہوگئی۔ پھر میں منیٰ سے روانہ ہوئی اور غسل کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا۔ فرماتی ہیں: پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کوچ کے دوسرے دن وہاں سے روانہ ہوئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محصب میں پڑاؤ کیا۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ وہاں ٹھہرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اپنی ہمشیرہ کو حرم سے باہر لے جاؤ تاکہ وہ وہاں سے عمرے کا احرام باندھے، پھر عمرے سے فارغ ہو کر تم لوگ یہیں واپس آ جاؤ میں یہاں تمہارا منتظر ہوں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم حرم سے باہر گئے حتیٰ کہ میں (عمرے) اور طواف سے فارغ ہوگئی۔ پھر علی الصبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عمرے سے فارغ ہو چکے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین میں کوچ کا اعلان کیا تو لوگ چل پڑے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف متوجہ ہو کر راہِ سفر اختیار فرمائی۔ لفظ «لَا يَضُرُّكِ» «ضَارَ يَضِيرُ ضَيْراً» سے یا «ضَارَ يَضُورُ ضَوْراً» اور «ضَرَّ يَضُرُّ ضَرّاً» سے مشتق بھی کہا گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1560]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1561
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نُرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَحِلَّ، فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ فَأَحْلَلْنَ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَحِضْتُ، فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ؟ , قَالَ: وَمَا طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ، قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ مَوْعِدُكِ كَذَا وَكَذَا، قَالَتْ صَفِيَّةُ: مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَهُمْ، قَالَ: عَقْرَى حَلْقَى أَوَ مَا طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَتْ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: لَا بَأْسَ، انْفِرِي، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَكَّةَ، وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہم حج کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ ہماری نیت حج کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ جب ہم مکہ پہنچے تو (اور لوگوں نے) بیت اللہ کا طواف کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ جو قربانی اپنے ساتھ نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے۔ چنانچہ جن کے پاس ہدی نہ تھی وہ حلال ہو گئے۔ (افعال عمرہ کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہدی نہیں لے گئی تھیں، اس لیے انہوں نے بھی احرام کھول ڈالے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں حائضہ ہو گئی تھیں اس لیے بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی (یعنی عمرہ چھوٹ گیا اور حج کرتی چلی گئی) جب محصب کی رات آئی، میں نے کہا یا رسول اللہ! اور لوگ تو حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں لیکن میں صرف حج کر سکی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ہم مکہ آئے تھے تو تم طواف نہ کر سکی تھی؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم تک چلی جا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ (پھر عمرہ ادا کر) ہم لوگ تمہارا فلاں جگہ انتظار کریں گے اور صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے میں بھی آپ (لوگوں) کو روکنے کا سبب بن جاؤں گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «عقرى حلقى» کیا تو نے یوم نحر کا طواف نہیں کیا تھا؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں میں تو طواف کر چکی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں چل کوچ کر۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے جاتے ہوئے اوپر کے حصہ پر چڑھ رہے تھے اور میں نشیب میں اتر رہی تھی یا یہ کہا کہ میں اوپر چڑھ رہی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس چڑھاؤ کے بعد اتر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1561]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (مدینہ سے) روانہ ہوئے تو صرف حج کرنے کا ارادہ تھا لیکن جب ہم نے مکہ مکرمہ پہنچ کر کعبہ کا طواف کر لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”جو شخص قربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آیا ہو وہ احرام کھول دے“، چنانچہ جو لوگ قربانی ساتھ نہ لائے تھے وہ احرام سے باہر ہو گئے۔ چونکہ آپ کی ازواج مطہرات بھی قربانی کا جانور ہمراہ نہ لائی تھیں، اس لیے انہوں نے بھی احرام کھول دیے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں حالتِ حیض میں تھی، اس لیے میں نے طواف نہ کیا۔ جب وادیِ محصب میں ٹھہرنے کی رات تھی تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگ تو عمرہ اور حج کر کے لوٹیں گے اور میں صرف حج کر کے واپس جا رہی ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”جن راتوں میں ہم مکہ مکرمہ آئے تھے کیا تم نے طواف نہیں کیا تھا؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تم اپنے بھائی (عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہما) کے ساتھ مقامِ تنعیم جاؤ اور عمرے کا احرام باندھ کر اس کی تکمیل کرو، اس کے بعد فلاں جگہ پر آ جانا۔“ ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرا خیال ہے کہ میری وجہ سے لوگوں کو رکنا پڑے گا۔ آپ نے فرمایا: «عَقْرَى حَلْقَى!» ”کیا تو نے قربانی کے دن طواف نہیں کیا تھا؟“ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیوں نہیں، یعنی میں نے طوافِ زیارت کیا تھا، آپ نے فرمایا: ”پھر کوئی حرج نہیں روانہ ہو جاؤ۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی جبکہ آپ مکہ جا رہے تھے اور میں واپس آ رہی تھی یا میں مکہ کو جا رہی تھی اور آپ واپس آ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1561]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1562
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لَمْ يَحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالاسود محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے۔ کچھ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، کچھ نے حج اور عمرہ دونوں کا اور کچھ نے صرف حج کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلے) صرف حج کا احرام باندھا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ بھی شریک کر لیا، پھر جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ دونوں کا، ان کا احرام دسویں تاریخ تک نہ کھل سکا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1562]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (مدینہ منورہ سے) روانہ ہوئے تو ہم میں سے بعض نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا اور بعض حضرات نے حج اور عمرے دونوں کا اور کچھ لوگوں نے صرف حج کی نیت سے احرام باندھا تھا۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کرنے کی نیت کی تھی اور اسی کا احرام باندھا تھا، چنانچہ جنہوں نے صرف حج کا یا حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھا تھا وہ یومِ نحر سے پہلے احرام کی پابندیوں سے آزاد نہ ہو سکے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1562]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1638
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا، فَقَدِمْتُ بمكة وَأَنَا حَائِضٌ، فَلَمَّا قَضَيْنَا حَجَّنَا أَرْسَلَنِي مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ، فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى، وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے خبر دی، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ حجتہ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ سے) نکلے اور ہم نے عمرہ کا احرام باندھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور ہو وہ حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھے۔ ایسے لوگ دونوں کے احرام سے ایک ساتھ حلال ہوں گے۔ میں بھی مکہ آئی تھی لیکن مجھے حیض آ گیا تھا۔ اس لیے جب ہم نے حج کے کام پورے کر لیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمٰن کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا۔ میں نے وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے اس عمرہ کے بدلہ میں ہے (جسے تم نے حیض کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا) جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا انہوں نے سعی کے بعد احرام کھول دیا اور دوسرا طواف منٰی سے واپسی پر کیا لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھا تھا انہوں نے صرف ایک طواف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1638]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے اور عمرے کا احرام باندھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی ہے وہ حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھے، پھر وہ احرام کی پابندی سے آزاد نہیں ہو گا تاآنکہ وہ انہیں پورا کرے۔“ میں جب مکہ مکرمہ آئی تو حالت حیض میں تھی۔ جب ہم نے حج مکمل کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تنعیم بھیجا۔ وہاں سے میں نے عمرہ مکمل کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے پہلے عمرے کا بدل ہے۔“ جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا انہوں نے طواف کیا اور احرام کی پابندی سے آزاد ہو گئے، پھر انہوں نے منیٰ سے واپس آنے کے بعد ایک اور طواف کیا۔ اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھا تھا انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1638]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1650
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" قَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , قَالَتْ: فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: افْعَلِي كَمَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے، انہیں ان کے باپ نے اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے انہوں نے فرمایا کہ میں مکہ آئی تو اس وقت میں حائضہ تھی۔ اس لیے بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی اور نہ صفا مروہ کی سعی۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ نے فرمایا کہ جس طرح دوسرے حاجی کرتے ہیں تم بھی اسی طرح (ارکان حج) ادا کر لو ہاں بیت اللہ کا طواف پاک ہونے سے پہلے نہ کرنا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1650]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب میں حج کے لیے مکہ آئی تو میں حیض سے تھی، اس لیے میں بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی نہ کرسکی۔ فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیگر حاجیوں کی طرح ارکان حج ادا کرتی رہو لیکن بیت اللہ کا طواف نہ کرو حتیٰ کہ حیض سے پاک ہوجاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1650]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1709
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا والمروة أَنْ يَحِلَّ، قَالَتْ: فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ" , قَالَ يَحْيَى: فَذَكَرْتُهُ لِلْقَاسِمِ، فَقَالَ: أَتَتْكَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے بتلایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے لیے) نکلے تو ذی قعدہ میں سے پانچ دن باقی رہے تھے ہم صرف حج کا ارادہ لے کر نکلے تھے، جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جن لوگوں کے ساتھ قربانی نہ ہو وہ جب طواف کر لیں اور صفا و مروہ کی سعی بھی کر لیں تو حلال ہو جائیں گے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ قربانی کے دن ہمارے گھر گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ (لانے والے نے بتلایا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے یہ قربانی کی ہے، یحییٰ نے کہا کہ میں نے عمرہ کی یہ حدیث قاسم سے بیان کی انہوں نے کہا عمرہ نے یہ حدیث ٹھیک ٹھیک بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1709]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم پچیس ذوالقعدہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ طیبہ سے روانہ ہوئے۔ ہمارا صرف حج کرنے کا ارادہ تھا۔ جب ہم مکہ مکرمہ کے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”جس کے ساتھ قربانی نہیں ہے وہ جب بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر چکے تو احرام کھول دے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ قربانی کے دن ہمارے سامنے گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے پوچھا: یہ گوشت کیسا ہے؟ لانے والے نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے۔ راوی حدیث یحییٰ بن سعید نے اس حدیث کا ذکر قاسم سے کیا تو اس نے کہا: عمرہ نے یہ حدیث ٹھیک ٹھیک بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1709]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1720
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، وَلَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بالبيت، ثُمَّ يَحِلُّ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقِيلَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ" , قَالَ يَحْيَى: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ، فَقَالَ: أَتَتْكَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن ہلال نے بیان کیا، کہا مجھ سے عمرہ نے بیان کیا، کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ ہم مدینہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تھے، ہمارا ارادہ صرف حج ہی کا تھا، پھر جب مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ بیت اللہ کا طواف کر کے حلال ہو جائیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پھر ہمارے پاس بقر عید کے دن گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس وقت معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے۔ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے اس حدیث کا قاسم بن محمد سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ عمرہ نے تم سے ٹھیک ٹھیک حدیث بیان کر دی ہے۔ (ہر دو احادیث سے مقصد باب ظاہر ہے) کہ قربانی کا گوشت کھانے اور بطور توشہ رکھنے کی عام اجازت ہے، خود قرآن مجید میں «فكلوا منها» کا صیغہ موجود ہے کہ اسے غرباء مساکین کو بھی تقسیم کرو اور خود بھی کھاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1720]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ماہ ذوالقعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ہم نے صرف حج کا ارادہ کیا تھا۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”جس کے ہمراہ قربانی نہیں ہے وہ جب بیت اللہ کا طواف کرلے تو احرام کھول دے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہمارے پاس قربانی کے دن گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ بتایا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے اسے ذبح کیا ہے۔ راویِ حدیث یحییٰ نے کہا کہ میں نے اس حدیث کا ذکر جناب قاسم سے کیا تو انہوں نے کہا: عمرہ نے یہ حدیث تم سے ٹھیک ٹھیک بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1720]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1733
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَضْنَا يَوْمَ النَّحْرِ، فَحَاضَتْ صَفِيَّةُ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا حَائِضٌ، قَالَ: حَابِسَتُنَا هِيَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَاضَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ: اخْرُجُوا" , وَيُذْكَرُ عَنْ الْقَاسِمِ وَعُرْوَةَ وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَفَاضَتْ صَفِيَّةُ يَوْمَ النَّحْرِ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے اعرج نے انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہم نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کیا لیکن صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہی چاہا جو شوہر اپنی بیوی سے چاہتا ہے، تو میں نے کہا یا رسول اللہ! وہ حائضہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اس نے تو ہمیں روک دیا پھر جب لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! انہوں نے دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر چلے چلو۔ قاسم، عروہ اور اسود سے بواسطہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت ہے کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا نے دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1733]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کیا۔ جب ہم نے دسویں تاریخ کو طوافِ افاضہ کیا تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو حیض آگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے اس چیز کا ارادہ کیا جو شوہر اپنی بیوی سے کرتا ہے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے تو حیض آگیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہمیں مدینہ واپس جانے سے روک دے گی؟“ انہوں نے عرض کیا کہ انہوں (صفیہ رضی اللہ عنہا) نے قربانی کے دن طوافِ زیارت کر لیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کوچ کرو۔“ قاسم، عروہ اور اسود سے ذکر کیا جاتا ہے، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے قربانی کے دن طوافِ زیارت کر لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1733]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1757
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاضَتْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: أَحَابِسَتُنَا هِيَ , قَالُوا إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ قَالَ فَلَا إِذًا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے، انہیں ان کے والد نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا (حجۃ الوداع کے موقع پر) حائضہ ہو گئیں تو میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو یہ ہمیں روکیں گی، لوگوں نے کہا کہ انہوں نے طواف افاضہ کر لیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کوئی فکر نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1757]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ ہمیں روک لے گی؟“ انہوں نے عرض کیا کہ انہوں نے طوافِ زیارت کر لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ یعنی سفر کا آغاز کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1757]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1762
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلَمْ يَحِلَّ، وَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَطَافَ مَنْ كَانَ مَعَهُ مِنْ نِسَائِهِ وَأَصْحَابِهِ وَحَلَّ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَحَاضَتْ هِيَ فَنَسَكْنَا مَنَاسِكَنَا مِنْ حَجِّنَا، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ لَيْلَةُ النَّفْرِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ أَصْحَابِكَ يَرْجِعُ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ غَيْرِي، قَالَ: مَا كُنْتِ تَطُوفِينَ بِالْبَيْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا؟ , قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَاخْرُجِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ وَمَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا، فَخَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، وَحَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَقْرَى حَلْقَى، إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا، أَمَا كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟ قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَلَا بَأْسَ، انْفِرِي، فَلَقِيتُهُ مُصْعِدًا عَلَى أَهْلِ بِمَكَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ، وَقَالَ: مُسَدَّدٌ قُلْتُ: لَا" تَابَعَهُ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، فِي قَوْلِهِ لَا.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہماری نیت حج کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ) پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام نہیں کھولا کیونکہ آپ کے ساتھ قربانی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے اور دیگر اصحاب نے بھی طواف کیا اور جن کے ساتھ قربانی نہیں تھیں انہوں نے (اس طواف و سعی کے بعد) احرام کھول دیا لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئی تھیں، سب نے اپنے حج کے تمام مناسک ادا کر لیے تھے، پھر جب لیلۃ حصبہ یعنی روانگی کی رات آئی تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام ساتھی حج اور عمرہ دونوں کر کے جا رہے ہیں صرف میں عمرہ سے محروم ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اچھا جب ہم آئے تھے تو تم (حیض کی وجہ سے) بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی تھیں؟ میں نے کہا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم چلی جا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ (اور عمرہ کر) ہم تمہارا فلاں جگہ انتظار کریں گے، چنانچہ میں اپنے بھائی (عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ) کے ساتھ تنعیم گئی اور وہاں سے احرام باندھا۔ اسی طرح صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا بھی حائضہ ہو گئی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (ازراہ محبت) فرمایا «عقرى حلقى»، تو، تو ہمیں روک لے گی، کیا تو نے قربانی کے دن طواف زیارت نہیں کیا تھا؟ وہ بولیں کہ کیا تھا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کوئی حرج نہیں، چلی چلو۔ میں جب آپ تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے بالائی علاقہ پر چڑھ رہے تھے اور میں اتر رہی تھی یا یہ کہا کہ میں چڑھ رہی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتر رہے تھے۔ مسدد کی روایت میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر) ہاں کے بجائے نہیں ہے، اس کی متابعت جریر نے منصور کے واسطہ سے ”نہیں“ کے ذکر میں کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1762]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ہمارا صرف حج کرنے کا ارادہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی لیکن آپ نے احرام نہ کھولا کیونکہ آپ کے ہمراہ قربانی تھی۔ آپ کے ساتھ آپ کی بیویاں اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ انہوں نے بھی طواف کیا۔ جن کے پاس قربانی نہ تھی انہوں نے احرام کھول دیا۔ دریں اثنا اسے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو) حیض آگیا چنانچہ ہم نے مناسک حج ادا کیے۔ جب روانگی کی رات آئی تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے علاوہ آپ کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حج اور عمرہ کرکے واپس جا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن راتوں ہم مکہ مکرمہ آئے تھے کیا تم نے اس وقت بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے ساتھ مقام تنعیم جاؤ اور وہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کرلو، فراغت کے بعد فلاں جگہ پر آجاؤ۔“ چنانچہ میں حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تنعیم چلی گئی۔ وہاں سے عمرے کا احرام باندھا۔ اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو حیض آگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ” «عَقْرَى حَلْقَى» ”بانجھ اور سرمنڈائی!“ کیا تو ہمیں روک لے گی؟ کیا تو نے قربانی کے دن بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، یعنی طواف کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کوئی حرج نہیں، رخت سفر باندھو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عمرے سے فراغت کے بعد میری جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو مکہ کے بالائی علاقے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چڑھ رہے تھے اور میں نشیب میں اتر رہی تھی یا اس کے برعکس میں اوپر چڑھ رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اتر رہے تھے۔ راوی حدیث مسدد نے کہا کہ روایت مذکورہ میں لفظ «لَا» ”نہیں“ ہے۔ جریر نے منصور سے لفظ «لَا» روایت کرنے میں مسدد کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1762]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1771
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ، فَقَالَتْ: مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَقْرَى حَلْقَى، أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ؟ قِيلَ: نَعَمْ، قَالَ: فَانْفِرِي"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَزَادَنِي مُحَمَّدٌ.
ہم سے عمرو بن حفص نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مکہ سے روانگی کی رات صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ تھیں، انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے میں ان لوگوں کے روکنے کا باعث بن جاؤں گی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «عقرى حلقى» کیا تو نے قربانی کے دن طواف الزیارۃ کیا تھا؟ اس نے کہا کہ جی ہاں کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1771]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو روانگی کی رات حیض آگیا تو انہوں نے کہا: میرے خیال کے مطابق میں تمہارے کوچ میں رکاوٹ بنوں گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عَقْرَىٰ حَلْقَىٰ» ”بانجھ اور حلق کے درد والی!“ ”کیا اس نے قربانی کے دن طوافِ زیارت کیا تھا؟“ عرض کیا گیا: ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رختِ سفر باندھو اور روانہ ہو جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1771]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1772
حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ النَّفْرِ حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَلْقَى عَقْرَى، مَا أُرَاهَا إِلَّا حَابِسَتَكُمْ، ثُمَّ قَالَ: كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟ , قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَانْفِرِي، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَكُنْ حَلَلْتُ، قَالَ: فَاعْتَمِرِي مِنَ التَّنْعِيمِ، فَخَرَجَ مَعَهَا أَخُوهَا فَلَقِينَاهُ مُدَّلِجًا، فَقَالَ: مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا".
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا، محمد بن سلام نے (اپنی روایت میں) یہ زیادتی کی ہے کہ ہم سے محاضر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حجتہ الوداع) میں مدینہ سے نکلے تو ہماری زبانوں پر صرف حج کا ذکر تھا۔ جب ہم مکہ پہنچ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھول دینے کا حکم دیا (افعال عمرہ کے بعد جن کے ساتھ قربانی نہیں تھی) روانگی کی رات صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا «عقرى حلقى» ایسا معلوم ہوتا کہ تم ہمیں روکنے کا باعث بنو گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا قربانی کے دن تم نے طواف الزیارۃ کر لیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلی چلو! (عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے متعلق کہا کہ) میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے احرام نہیں کھولا ہے آپ نے فرمایا کہ تم تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھ لو (اور عمرہ کر لو) چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کے بھائی گئے (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا کہ ہم رات کے آخر میں واپس لوٹ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہم تمہار انتظار فلاں جگہ کریں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1772]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ سے نکلے تو ہماری زبانوں پر صرف حج کا ذکر تھا۔ جب ہم مکہ پہنچ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھول دینے کا حکم دیا۔ اور جب روانگی کی رات تھی تو حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو حیض آگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «حَلْقَىٰ عَقْرَىٰ» ! میرا خیال ہے کہ وہ تمہیں سفر سے روک دے گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے قربانی کے دن طوافِ زیارت کیا تھا؟“ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر سفر پر روانہ ہو جاؤ۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حلال نہیں ہوئی (میں نے حج کا احرام نہیں کھولا ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مقام تنعیم سے احرام باندھ کر عمرہ کر لو۔“ چنانچہ ان کے ساتھ ان کے بھائی حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے آخری حصے میں ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم تمہارا انتظار فلاں جگہ پر کریں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1772]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1783
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحَجَّةِ، فَقَالَ لَنَا: مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، قَالَتْ: فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَظَلَّنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَشَكَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ارْفُضِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِي".
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے نکلے تو ذی الحجہ کا چاند نکلنے والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی حج کا احرام باندھنا چاہتا ہے تو وہ حج کا باندھ لے اور اگر کوئی عمرہ کا باندھنا چاہتا ہے تو وہ عمرہ کا باندھ لے۔ اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم میں بعض نے تو عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا احرام باندھا۔ میں بھی ان لوگوں میں تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، لیکن عرفہ کا دن آیا تو میں اس وقت حائضہ تھی، چنانچہ میں نے اس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر عمرہ چھوڑ دے اور سر کھول دے اور اس میں کنگھا کر لے پھر حج کا احرام باندھا لینا۔ (میں نے ایسا ہی کیا) جب محصب میں قیام کی رات آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو میرے ساتھ تنعیم بھیجا، وہاں سے میں نے عمرہ کا احرام اپنے اس عمرہ کے بدلہ میں باندھا (جس کو توڑ ڈالا تھا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1783]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس وقت روانہ ہوئے جب ذوالحجہ کا چاند طلوع ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”تم میں سے جو حج کا احرام باندھنا چاہتا ہے، وہ حج کا احرام باندھ لے اور جو عمرے کا احرام باندھنا پسند کرتا ہے وہ عمرے کا احرام باندھ لے۔ اگر میں نے قربانی ساتھ نہ لی ہوتی تو میں بھی عمرے کا احرام باندھتا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم میں سے بعض نے عمرے کا احرام باندھا اور کچھ نے حج کا احرام باندھ لیا اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ عرفہ کا دن آیا تو مجھے حیض آ گیا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرہ چھوڑ کر اپنے سر کے بال کھول دو اور کنگھی کر لو، پھر حج کا احرام باندھ لو۔“ جب محصب کی رات تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو تنعیم بھیجا تو میں نے گزشتہ عمرے کے بجائے اور عمرے کا احرام باندھ لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1783]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1786
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحَجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِحَجَّةٍ فَلْيُهِلَّ، وَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، فَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ، وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَكَّةَ، فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ , وَأَنَا حَائِضٌ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعِي عُمْرَتَكِ , وَانْقُضِي رَأْسَكِ , وَامْتَشِطِي , وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَرْدَفَهَا، فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا، فَقَضَى اللَّهُ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا، وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَدَقَةٌ وَلَا صَوْمٌ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد عروہ نے خبر دی کہا کہ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی انہوں نے کہا کہ ذی الحجہ کا چاند نکلنے والا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے حج کے لیے چلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا باندھ لے اور جو حج کا باندھنا چاہے وہ حج کا باندھ لے، اگر میں اپنے ساتھ قربانی نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا ہی احرام باندھتا، چنانچہ بہت سے لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور بہتوں نے حج کا۔ میں بھی ان لوگوں میں تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ مگر میں مکہ میں داخل ہونے سے پہلے حائضہ ہو گئی، عرفہ کا دن آ گیا اور ابھی میں حائضہ ہی تھی، اس کا رونا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمرہ چھوڑ دے اور سر کھول لے اور کنگھا کر لے پھر حج کا احرام باندھ لینا، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، اس کے بعد جب محصب کی رات آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ عبدالرحمٰن کو تنعیم بھیجا وہ مجھے اپنی سواری پر پیچھے بٹھا کر لے گئے وہاں سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے (چھوڑے ہوئے) عمرے کے بجائے دوسرے عمرہ کا احرام باندھا اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کا بھی حج اور عمرہ دونوں ہی پورے کر دیئے نہ تو اس کے لیے انہیں قربانی لانی پڑی نہ صدقہ دینا پڑا اور نہ روزہ رکھنا پڑا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1786]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس وقت (سفر حج پر) روانہ ہوئے جب ذوالحجہ کا چاند طلوع ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاہے وہ عمرے کا احرام باندھ لے اور جو شخص حج کا احرام باندھنا پسند کرے وہ اس کا احرام باندھ لے اور اگر میں نے قربانی ساتھ نہ لی ہوتی تو میں عمرے کا احرام باندھتا۔“ چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین میں سے بعض نے عمرے کا احرام باندھا اور کچھ نے حج کا احرام باندھا۔ اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے مجھے حیض آ گیا اور مجھے یوم عرفہ نے اسی حالت میں پا لیا کہ میں بحالت حیض تھی۔ میں نے اس بات کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرہ چھوڑ دو۔ سر کے بال کھول کر ان میں کنگھی کرو اور حج کا احرام باندھ لو۔“ میں نے ایسا ہی کیا۔ جب محصب کی رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ انہوں نے انہیں اپنی سواری کے پیچھے بٹھا لیا تو انہوں نے پہلے عمرے کے بدلے دوسرے عمرے کا احرام باندھا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کا حج اور عمرہ پورا کر دیا اور اس میں کوئی چیز قربانی، صدقہ اور روزہ وغیرہ نہ تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1786]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1787
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَنِ ابْنِ عَوْنٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَا: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ، وَأَصْدُرُ بِنُسُكٍ، فَقِيلَ لَهَا: انْتَظِرِي، فَإِذَا طَهُرْتِ فَاخْرُجِي إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي، ثُمَّ ائْتِينَا بِمَكَانِ كَذَا، وَلَكِنَّهَا عَلَى قَدْرِ نَفَقَتِكِ أَوْ نَصَبِكِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے اور دوسری (روایت میں) ابن عون، ابراہیم سے روایت کرتے ہیں اور وہ اسود سے، انہوں نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! لوگ تو دو نسک (حج اور عمرہ) کر کے واپس ہو رہے ہیں اور میں نے صرف ایک نسک (حج) کیا ہے؟ اس پر ان سے کہا گیا کہ پھر انتظار کریں اور جب پاک ہو جائیں تو تنعیم جا کر وہاں سے (عمرہ کا) احرام باندھیں، پھر ہم سے فلاں جگہ آ ملیں اور یہ کہ اس عمرہ کا ثواب تمہارے خرچ اور محنت کے مطابق ملے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1787]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگ دو عبادتیں (حج و عمرہ) کر کے واپس جائیں گے جبکہ میں صرف ایک عبادت (حج) کر کے واپس جا رہی ہوں؟ تو ان سے کہا گیا: ”آپ انتظار کریں، جب حیض سے پاک ہو جائیں تو تنعیم جا کر عمرے کا احرام باندھیں، پھر فلاں جگہ ہمارے پاس آئیں، لیکن عمرے کا ثواب تمہارے خرچ یا تمہاری مشقت کے مطابق دیا جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1787]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1788
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَحُرُمِ الْحَجِّ، فَنَزَلْنَا سَرِفَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَا، وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ذَوِي قُوَّةٍ الْهَدْيُ، فَلَمْ تَكُنْ لَهُمْ عُمْرَةً فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ , قُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ لِأَصْحَابِكَ مَا قُلْتَ فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ، قَالَ: وَمَا شَأْنُكِ؟ قُلْتُ: لَا أُصَلِّي، قَالَ: فَلَا يَضِرْكِ، أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ كُتِبَ عَلَيْكِ مَا كُتِبَ عَلَيْهِنَّ، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَكِهَا، قَالَتْ: فَكُنْتُ حَتَّى نَفَرْنَا مِنْ مِنًى، فَنَزَلْنَا الْمُحَصَّبَ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: اخْرُجْ بِأُخْتِكَ الْحَرَمَ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ افْرُغَا مِنْ طَوَافِكُمَا أَنْتَظِرْكُمَا هَا هُنَا، فَأَتَيْنَا فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: فَرَغْتُمَا، قُلْتُ: نَعَمْ، فَنَادَى بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ فَارْتَحَلَ النَّاسُ، وَمَنْ طَافَ بالبيت قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ خَرَجَ مُوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے افلح بن حمید نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حج کے مہینوں اور آداب میں ہم حج کا احرام باندھ کر مدینہ سے چلے اور مقام سرف میں پڑاؤ کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی نہ ہو اور وہ چاہے کہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ میں بدل دے تو وہ ایسا کر سکتا ہے، لیکن جس کے ساتھ قربانی ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب میں سے بعض مقدور والوں کے ساتھ قربانی تھی، اس لیے ان کا (احرام صرف) عمرہ کا نہیں رہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ رو کیوں رہی ہو؟ میں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے جو کچھ فرمایا میں سن رہی تھی، اب تو میرا عمرہ رہ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ میں نے کہا کہ میں نماز نہیں پڑھ سکتی (حیض کی وجہ سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، تو بھی آدم کی بیٹیوں میں سے ایک ہے، اور جو ان سب کے مقدر میں لکھا ہے وہی تمہارا بھی مقدر ہے۔ اب حج کا احرام باندھ لے شاید اللہ تعالیٰ تمہیں عمرہ بھی نصیب کرے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے حج کا احرام باندھ لیا پھر جب ہم (حج سے فارغ ہو کر اور) منی سے نکل کر محصب میں اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو بلایا اور ان سے کہا کہ اپنی بہن کو حد حرم سے باہر لے جا (تنعیم) تاکہ وہ وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ لیں، پھر طواف و سعی کرو ہم تمہارا انتظار یہیں کریں گے۔ ہم آدھی رات کو آپ کی خدمت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا فارغ ہو گئے؟ میں نے کہا ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اپنے اصحاب میں کوچ کا اعلان کر دیا۔ بیت اللہ کا طواف وداع کرنے والے لوگ صبح کی نماز سے پہلے ہی روانہ ہو گئے اور مدینہ کی طرف چل دیئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1788]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم حج کے مہینوں میں اور حج کے اوقات میں احرام باندھ کر روانہ ہوئے۔ جب ہم نے مقامِ سرف پر پڑاؤ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں اور وہ اسے عمرے کے احرام میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تو کر لے اور جس کے ساتھ قربانی کا جانور ہے اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے اہل ثروت کے پاس قربانی کے جانور تھے، لہٰذا ان کے لیے یہ الگ عمرہ نہ ہوا۔ اس دوران میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: ”کیوں رو رہی ہو؟“ میں نے عرض کیا کہ آپ نے جو بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمائی ہے اسے میں نے سن لیا ہے، لیکن میں عمرے سے روک دی گئی ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”ایسا کیوں ہے؟“ میں نے کہا: میں نماز پڑھ سکتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے اس بات کا کوئی نقصان نہیں، آخر تم بھی تو آدم علیہ السلام کی بیٹیوں میں سے ہو، تیرے مقدر میں وہی چیز لکھی گئی ہے جو ان کے مقدر میں لکھی گئی ہے۔ لہٰذا تم اپنے حج کے احرام میں رہو، عنقریب اللہ تمہیں عمرہ نصیب کرے گا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں اسی حالت میں رہی یہاں تک کہ جب ہم منیٰ سے روانہ ہوئے اور وادی محصب میں پڑاؤ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اپنی ہمشیرہ کو حرم سے باہر لے جاؤ، وہاں سے وہ عمرے کا احرام باندھے، پھر جب طواف سے فارغ ہو جاؤ تو واپس آؤ، میں تمہارا انتظار کرتا ہوں۔“ ہم آدھی رات کو آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم فارغ ہو گئے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چلنے کا حکم دیا تو لوگوں نے کوچ کی تیاری کر لی اور ان لوگوں نے بھی کوچ کیا جنہوں نے نماز فجر سے پہلے بیت اللہ کا طواف کر لیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 1788]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2952
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، وَلَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا، فَقَالَ: نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ"، قَالَ يَحْيَى: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: أَتَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا امام مالک سے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ سے (حجۃ الوداع کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم اس وقت نکلے جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ ہفتہ کے دن ہمارا مقصد حج کے سوا اور کچھ بھی نہ تھا۔ جب ہم مکہ سے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو جب وہ بیت اللہ کے طواف اور صفا اور مروہ کی سعی سے فارغ ہو جائے تو احرام کھول دے۔ (پھر حج کے لیے بعد میں احرام باندھے) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ دسویں ذی الحجہ کو ہمارے یہاں گائے کا گوشت آیا، میں نے پوچھا کہ گوشت کیسا ہے؟ تو بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے جو گائے قربانی کی ہے یہ اسی کا گوشت ہے۔ یحییٰ نے بیان کیا کہ میں نے اس کے بعد اس حدیث کا ذکر قاسم بن محمد سے کیا تو انہوں نے بتایا کہ قسم اللہ کی! عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے تم سے یہ حدیث ٹھیک ٹھیک بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 2952]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (حج کے لیے) اس وقت روانہ ہوئے جب ذوالقعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ اس وقت حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا۔ جب ہم مکے کے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ جب بیت اللہ کے طواف اور صفا و مروہ کی سعی سے فارغ ہو تو احرام کھول دے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دس ذوالحجہ کو ہمارے ہاں گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے دریافت کیا: ”یہ گوشت کیسا ہے؟“ ہمیں بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے کی قربانی دی ہے (یہ اس کا گوشت ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 2952]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2984
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ أَصْحَابُكَ بِأَجْرِ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَلَمْ أَزِدْ عَلَى الْحَجِّ، فَقَالَ لَهَا:" اذْهَبِي وَلْيُرْدِفْكِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَنْ يُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ، فَانْتَظَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى مَكَّةَ حَتَّى جَاءَتْ".
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن اسود نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ کے اصحاب حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس جا رہے ہیں اور میں صرف حج کر پائی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ (عمرہ کر آؤ) عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ (عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی) تمہیں اپنی سواری کے پیچھے بٹھا لیں گے۔ چنانچہ آپ نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تنعیم سے (احرام باندھ کر) عائشہ رضی اللہ عنہا کو عمرہ کرا لائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عرصہ میں مکہ کے بالائی علاقہ پر ان کا انتظار کیا۔ یہاں تک کہ وہ آ گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 2984]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو حج اور عمرہ دونوں کا ثواب لے کر واپس جا رہے ہیں جبکہ میں صرف حج ہی کر پائی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ، تمہارے بھائی عبد الرحمن رضی اللہ عنہ تمہیں اپنی سواری کے پیچھے بٹھا لیں گے۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں تنعیم سے عمرہ کرائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوران مکہ کے بالائی علاقے میں ان کا انتظار کیا حتیٰ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عمرہ کر کے واپس آگئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 2984]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4395
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا"، فَقَدِمْتُ مَعَهُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ"، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ:" هَذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ"، قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى، وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ ہم نے عمرہ کا احرام باندھا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ ہدی ہو وہ عمرہ کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھ لے اور جب تک دونوں کے ارکان نہ ادا کر لے احرام نہ کھولے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب مکہ آئی تو مجھ کو حیض آ گیا۔ اس لیے نہ بیت اللہ کا طواف کر سکی اور نہ صفا اور مروہ کی سعی کر سکی۔ میں نے اس کی شکایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سر کھول لے اور کنگھا کر لے۔ اس کے بعد حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ چھوڑ دو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر جب ہم حج ادا کر چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (میرے بھائی) عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تنعیم سے (عمرہ کی) نیت کرنے کے لیے بھیجا اور میں نے عمرہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس چھوٹے ہوئے عمرہ کی قضاء ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جن لوگوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ انہوں نے بیت اللہ کے طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کے بعد احرام کھول دیا۔ پھر منیٰ سے واپسی کے بعد انہوں نے دوسرا طواف (حج کا) کیا، لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھا تھا، انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 4395]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا۔ پھر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی ہے وہ حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھے اور اس وقت تک محرم رہے جب تک حج اور عمرے دونوں سے فارغ نہ ہو جائے۔“ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ پہنچی تو مجھے حیض آ چکا تھا، اس لیے میں نے نہ بیت اللہ کا طواف کیا اور نہ صفا و مروہ کے درمیان سعی ہی کر سکی، اس بات کا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”سر کے بال کھول دو اور ان میں کنگھی کر لو، نیز عمرہ ترک کر کے حج کا احرام باندھ لو۔“ چنانچہ میں نے حسبِ ارشاد ایسا ہی کر لیا۔ جب ہم نے حج کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تنعیم کی طرف بھیجا تو میں نے وہاں سے عمرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (تنعیم) تمہارے احرام باندھنے کی جگہ ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جن لوگوں نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، پھر انہوں نے عمرے کا احرام کھول دیا، پھر حج کے افعال کر کے منیٰ سے واپس آنے کے بعد ایک اور طواف کیا۔ اور جنہوں نے حج اور عمرے دونوں کا اکٹھا احرام باندھا تھا، انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 4395]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4401
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُمَا، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاضَتْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَحَابِسَتُنَا هِيَ"، فَقُلْتُ: إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلْتَنْفِرْ".
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ سے عروہ بن زبیر اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ صفیہ رضی اللہ عنہا حجۃ الوداع کے موقع پر حائضہ ہو گئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا ابھی ہمیں ان کی وجہ سے رکنا پڑے گا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو مکہ لوٹ کر طواف زیارت کر چکی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے چلنا چاہئیے (طواف وداع کی ضرورت نہیں)۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 4401]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ ہمیں روکنے والی ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! وہ طوافِ افاضہ کر چکی ہے۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چاہیے کہ وہ اب کوچ کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 4401]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4408
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى يَوْمِ النَّحْرِ". حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، وَقَالَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، مِثْلَهُ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالاسود محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے لیے) نکلے تو کچھ لوگ ہم میں سے عمرہ کا احرام باندھے ہوئے تھے، کچھ حج کا اور کچھ عمرہ اور حج دونوں کا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حج کا احرام باندھا تھا۔ جو لوگ حج کا احرام باندھے ہوئے تھے یا جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا، وہ قربانی کے دن حلال ہوئے تھے۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، پھر یہی حدیث بیان کی۔ اس میں یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع (کے لیے ہم نکلے) ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ہم سے امام مالک نے بیان کیا، اسی طرح جو پہلے مذکور ہوا۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، پھر یہی حدیث بیان کی۔ اس میں یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع (کے لیے ہم نکلے) ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ہم سے امام مالک نے بیان کیا، اسی طرح جو پہلے مذکور ہوا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 4408]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے تو کچھ لوگ ہم میں سے عمرے کا احرام باندھے ہوئے تھے اور کچھ صرف حج کا جبکہ کچھ حضرات نے حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کی نیت کی تھی۔ جو لوگ صرف حج کا احرام باندھے ہوئے تھے یا جنہوں نے حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھا تھا وہ قربانی کے دن حلال ہوئے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 4408]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5329
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ، إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً، فَقَالَ لَهَا:" عَقْرَى أَوْ حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا، أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَانْفِرِي إِذًا".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع میں) کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمہ کے دروازے پر غمگین کھڑی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ «عقرى» یا (فرمایا راوی کو شک تھا) «حلقى» معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمیں روک دو گی، کیا تم نے قربانی کے دن طواف کر لیا ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 5329]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر پریشان کھڑی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «عَقْرَىٰ» یا فرمایا «حَلْقَىٰ»، تو ہمیں روک دے گی۔ کیا تو نے قربانی کے دن طواف کر لیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کوچ کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 5329]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5548
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَحَاضَتْ بِسَرِفَ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَكَّةَ، وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ:" مَا لَكِ أَنَفِسْتِ؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ"، فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟، قَالُوا: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ بِالْبَقَرِ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (حجۃ الوداع کے موقع پر) ان کے پاس آئے وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے مقام سرف میں حائضہ ہو گئی تھیں۔ اس وقت آپ رو رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے کیا تمہیں حیض کا خون آنے لگا ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ تم حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج ادا کر لو بس بیت اللہ کا طواف نہ کرو، پھر جب ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 5548]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے مقام سرف پر حائضہ ہو چکی تھیں اور وہ رو رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟ کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے مقدر میں لکھ دی ہے، تم حاجیوں کی طرح اعمالِ حج ادا کرو مگر بیت اللہ کا طواف نہ کرو۔“ جب منیٰ میں تھے تو میرے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، میں نے کہا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 5548]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5559
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ:" مَا لَكِ أَنَفِسْتِ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، اقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ"، وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مقام سرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے، کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ اس لیے حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج انجام دو صرف کعبہ کا طواب نہ کرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 5559]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”مقام سرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟ کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو اللہ تعالیٰ نے بناتِ آدم کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ اس بنا پر تو دوسرے حاجیوں کی طرح تمام اعمالِ حج ادا کر، صرف بیت اللہ کا طواف نہ کر۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی دی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 5559]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6157
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ، فَرَأَى صَفِيَّةَ عَلَى باب خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً لِأَنَّهَا حَاضَتْ، فَقَالَ: عَقْرَى حَلْقَى , لُغَةٌ لِقُرَيْشٍ إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا، ثُمَّ قَالَ: أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ، يَعْنِي الطَّوَافَ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَانْفِرِي إِذًا".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حکم بن عتیبہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج سے) واپسی کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازہ پر رنجیدہ کھڑی ہیں کیونکہ وہ حائضہ ہو گئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا «عقرى حلقى» (یہ قریش کا محاورہ ہے) اب تم ہمیں روکو گی! پھر دریافت فرمایا کیا تم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کر لیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، فرمایا کہ پھر چلو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 6157]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج سے واپسی کا ارادہ کیا تو خیمے کے دروازے پر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو بہت غمناک دیکھا کیونکہ انہیں حیض آگیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ” «عَقْرَى حَلْقَى» ”کاٹی مونڈی۔۔۔ یہ قریش کا محاورہ ہے۔۔۔۔“ اب تم ہمیں روکنا چاہتی ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے قربانی کے دن طوافِ زیارت کر لیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ایسا ہے تو پھر سفر کا آغاز کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 6157]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7229
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَحَلَلْتُ مَعَ النَّاسِ حِينَ حَلُّوا".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ رضی اللہ عنہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجتہ الوداع کے موقع پر) فرمایا ”اگر مجھ کو اپنا حال پہلے سے معلوم ہوتا جو بعد کو معلوم ہوا تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور عمرہ کر کے دوسرے لوگوں کی طرح بھی احرام کھول ڈالتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 7229]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے پہلے معلوم ہو جاتا جو بعد میں معلوم ہوا تو اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور جس وقت لوگوں نے احرام کھولا میں بھی ان کے ساتھ ضرور احرام کھول دیتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحيض/حدیث: 7229]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة