قرآن مجيد
سورة الحجر
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
1 |
الر۔ یہ کامل کتاب اور واضح قرآن کی آیات ہیں۔
|
|
2 |
بہت بار چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش! وہ کسی طرح کے مسلم ہوتے۔
|
|
3 |
انھیں چھوڑ دے، وہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور انھیں امید غافل رکھے، پھر جلدی جان لیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
4 |
اور ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر اس حال میں کہ اس کے لیے ایک مقرر لکھا ہوا وقت تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
5 |
کوئی امت اپنے مقرر وقت سے نہ آگے بڑھتی ہے اور نہ وہ پیچھے رہتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
6 |
اور انھوں نے کہا اے وہ شخص جس پر یہ نصیحت نازل کی گئی ہے! بے شک توُ تو دیوانہ ہے۔
|
|
7 |
تو ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لے آتا، اگر تو سچوں میں سے ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
8 |
ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت وہ مہلت دیے گئے نہیں ہوتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
9 |
بے شک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
10 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ سے پہلے اگلے لوگوں کے گروہوں میں رسول بھیجے ۔
|
|
11 |
اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا تھا مگر وہ اس کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
12 |
اسی طرح ہم یہ بات مجرموں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
13 |
وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور یقینا (یہی) پہلے لوگوں کا طریقہ گزرا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
14 |
اور اگر ہم ان پر آسمان سے کوئی دروازہ کھول دیں، پس وہ دن بھر اس میں چڑھتے رہیں۔
|
|
15 |
تو یقینا کہیں گے کہ بات یہی ہے کہ ہماری آنکھیں سختی سے باندھ دی گئی ہیں، بلکہ ہم جادو کیے ہوئے لوگ ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
16 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے آسمان میں کئی برج بنائے اور اسے دیکھنے والوں کے لیے مزین کر دیا ہے۔
|
|
17 |
اور ہم نے اسے ہر مردود شیطان سے محفوظ کر دیا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
18 |
مگر جو سنی ہوئی بات چرا لے تو ایک روشن شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
19 |
اور زمین، ہم نے اسے پھیلا دیا اور اس میں پہاڑ رکھے اور اس میں ہر نپی تلی چیز اگائی۔
|
ابن کثیر ↑
|
20 |
اور ہم نے تمھارے لیے اس میں روزیاں بنائی ہیں اور ان کے لیے بھی جنھیں تم ہرگز روزی دینے والے نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
21 |
اور کوئی بھی چیز نہیں مگر ہمارے پاس اس کے کئی خزانے ہیں اور ہم اسے نہیں اتارتے مگر ایک معلوم اندازے سے۔
|
|
22 |
اور ہم نے ہوائوں کو بار آور بناکر بھیجا، پھر ہم نے آسمان سے پانی اتارا، پس ہم نے تمھیں وہ پلانے کے لیے عطا فرمایا اور تم ہرگز اس کا ذخیرہ کرنے والے نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
23 |
اور بے شک ہم، یقینا ہم ہی زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی وارث ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
24 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے ان لوگوں کو جان رکھا ہے جو تم میں سے بہت آگے جانے والے ہیں اور بلاشبہ ہم نے ان کو بھی جان رکھا ہے جو بہت پیچھے آنے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
25 |
اور بے شک تیرا رب ہی انھیں اکٹھا کرے گا۔ یقینا وہ کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
26 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے تھی۔
|
|
27 |
اور جانّ (یعنی جنوں) کو اس سے پہلے لُو کی آگ سے پیدا کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
28 |
اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا بے شک میں ایک بشر ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے ہوگی۔
|
|
29 |
تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گر جاؤ۔
|
ابن کثیر ↑
|
30 |
تو فرشتوں نے سب کے سب نے، تمام نے سجدہ کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
31 |
مگر ابلیس، اس نے انکار کر دیا کہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
32 |
فرمایا اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ توسجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہیں ہوتا؟
|
ابن کثیر ↑
|
33 |
اس نے کہا میں کبھی ایسا نہیں کہ اس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کیا ہے، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
34 |
فرمایا پھر اس سے نکل جا ، کیونکہ یقینا تو مردود ہے۔
|
|
35 |
اور بے شک تجھ پر قیامت کے دن تک خاص لعنت ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
36 |
اس نے کہا اے میرے رب! پھر مجھے اس دن تک مہلت دے جب وہ اٹھائے جائیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
37 |
فرمایا تو بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
38 |
ایسے وقت کے دن تک جو معلوم ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
39 |
اس نے کہا اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں ضرور ہی ان کے لیے زمین میں مزین کروں گا اور ہر صورت میں ان سب کو گمراہ کردوں گا۔
|
|
40 |
مگر ان میں سے تیرے وہ بندے جو خالص کیے ہوئے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
41 |
فرمایا یہ راستہ ہے جو مجھ تک سیدھا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
42 |
بے شک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں، مگر جو گمراہوں میں سے تیرے پیچھے چلے۔
|
ابن کثیر ↑
|
43 |
اور بلاشبہ جہنم ضرور ان سب کے وعدے کی جگہ ہے۔
|
|
44 |
اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک تقسیم کیا ہوا حصہ ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
45 |
بے شک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔
|
|
46 |
اس میں سلامتی کے ساتھ بے خوف ہوکر داخل ہوجاؤ۔
|
ابن کثیر ↑
|
47 |
اور ہم ان کے سینوں میں جو بھی کینہ ہے نکال دیں گے، بھائی بھائی بن کر تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
|
|
48 |
اس میں انھیں نہ کوئی تھکاوٹ چھوئے گی اور نہ وہ اس سے کبھی نکالے جانے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
49 |
میرے بندوں کو خبر دے دے کہ بے شک میں ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والاہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
50 |
اور یہ بھی کہ بے شک میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|