قرآن مجيد
سورة يس
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
51 |
اور صور میں پھونکا جائے گا تو اچانک وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف تیزی سے دوڑ رہے ہوں گے۔
|
|
52 |
کہیں گے ہائے ہمار ی بربادی! کس نے ہمیں ہماری سونے کی جگہ سے اٹھا دیا؟ یہ وہ ہے جو رحمان نے وعدہ کیا اور رسولوں نے سچ کہا تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
53 |
نہیں ہوگی مگر ایک ہی چیخ، تو اچانک وہ سب ہمارے پاس حاضر کیے ہوئے ہوں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
54 |
پس آج کسی جان پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا اور نہ تمھیں اس کے سوا کوئی بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
55 |
بے شک جنت کے رہنے والے آج ایک شغل میں خوش ہیں۔
|
|
56 |
وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
57 |
ان کے لیے اس میں بہت پھل ہے اور ان کے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو وہ طلب کریں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
58 |
سلام ہو۔ اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بے حد مہربان ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
59 |
اور الگ ہو جاؤ آج اے مجرمو!
|
|
60 |
کیا میں نے تمھیں تاکیدنہ کی تھی اے اولاد آدم! کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، یقینا وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
61 |
اور یہ کہ میری عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
62 |
اور بلاشبہ یقینا اس نے تم میں سے بہت سی مخلوق کو گمراہ کر دیا۔ تو کیا تم نہیں سمجھتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
63 |
یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے۔
|
|
64 |
آج اس میں داخل ہو جاؤ، اس کے بدلے جو تم کفر کیا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
65 |
آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اوران کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں اس کی گواہی دیں گے جو وہ کمایا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
66 |
وَ لَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلٰۤی اَعۡیُنِہِمۡ فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰی یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۶۶﴾
اور اگر ہم چاہیں تو یقینا ان کی آنکھیں مٹا دیں، پھر وہ راستے کی طرف بڑھیں تو کیسے دیکھیں گے؟
|
ابن کثیر ↑
|
67 |
اور اگر ہم چاہیں تو یقینا ان کی جگہ ہی پر ان کی صورتیں بدل دیں، پھر نہ وہ (آگے) چل سکیں اور نہ واپس آئیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
68 |
اور جسے ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے بناوٹ میں الٹا کر دیتے ہیں، تو کیا یہ نہیں سمجھتے۔
|
|
69 |
اور ہم نے نہ اسے شعر سکھایا ہے اور نہ وہ اس کے لائق ہے۔ وہ تو سراسر نصیحت اور واضح قرآن کے سوا کچھ نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
70 |
تاکہ اسے ڈرائے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر بات ثابت ہو جائے۔
|
ابن کثیر ↑
|
71 |
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان چیزوں میں سے جنھیں ہمارے ہاتھوں نے بنایا، ان کے لیے مویشی پیدا کیے، پھر وہ ان کے مالک ہیں۔
|
|
72 |
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان چیزوں میں سے جنھیں ہمارے ہاتھوں نے بنایا، ان کے لیے مویشی پیدا کیے، پھر وہ ان کے مالک ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
73 |
اور ان کے لیے ان میں کئی فائدے اور پینے کی چیزیں ہیں۔ تو کیا وہ شکر نہیں کرتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
74 |
اور انھوں نے اللہ کے سوا کئی معبود بنالیے، تاکہ ان کی مدد کی جائے۔
|
|
75 |
وہ ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتے اور یہ ان کے لشکر ہیں، جو حاضر کیے ہوئے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
76 |
پس ان کی بات تجھے غم زدہ نہ کرے، بے شک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
77 |
اور کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے ایک قطرے سے پیدا کیا تو اچانک وہ کھلا جھگڑنے والا ہے۔
|
|
78 |
اور اس نے ہمارے لیے ایک مثال بیان کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، اس نے کہا کون ہڈیوں کو زندہ کرے گا، جب کہ وہ بوسیدہ ہوں گی؟
|
ابن کثیر ↑
|
79 |
کہہ دے انھیں وہ زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی مرتبہ پیدا کیا اور وہ ہر طرح کا پیدا کرنا خوب جاننے والا ہے۔
|
|
80 |
وہ جس نے تمھارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی، پھر یکایک تم اس سے آگ جلا لیتے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
81 |
اور کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس پر قادر نہیں کہ ان جیسے اور پیدا کر دے؟ کیوں نہیں اور وہی سب کچھ پیدا کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
|
|
82 |
اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
83 |
سو پاک ہے وہ کہ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کی کامل بادشاہی ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
|
ابن کثیر ↑
|