قرآن مجيد
سورة الصافات
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
1 |
قسم ہے ان (جماعتوں) کی جو صف باندھنے والی ہیں! خوب صف باندھنا۔
|
|
2 |
پھر ان کی جو ڈانٹنے والی ہیں! زبردست ڈانٹنا۔
|
ابن کثیر ↑
|
3 |
پھر ان کی جو ذکر کی تلاوت کرنے والی ہیں!
|
ابن کثیر ↑
|
4 |
کہ بے شک تمھارا معبود یقینا ایک ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
5 |
جو آسمانوں اور زمین کا اوران دونوں کے درمیان کی چیزوں کا رب اور تمام مشرقوں کا رب ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
6 |
بے شک ہم نے ہی آسمان دنیا کو ایک انوکھی زینت کے ساتھ آراستہ کیا، جو ستارے ہیں۔
|
|
7 |
اور ہر سرکش شیطان سے خوب محفوظ کر نے کے لیے۔
|
ابن کثیر ↑
|
8 |
وہ اوپر کی مجلس کی طرف کان نہیں لگا سکتے اور ہر طرف سے ان پر (شہاب)پھینکے جاتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
9 |
بھگانے کے لیے اور ان کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
10 |
مگر جو کوئی اچانک اچک کر لے جائے تو ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
11 |
سو ان سے پوچھ کیا یہ پیدا کرنے کے اعتبار سے زیادہ مشکل ہیں، یا جنھیں ہم پیدا کر چکے؟ بے شک ہم نے انھیں ایک چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔
|
|
12 |
بلکہ تو نے تعجب کیا اور وہ مذاق اڑاتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
13 |
اور جب انھیں نصیحت کی جائے وہ قبول نہیں کرتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
14 |
اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو خوب مذاق اڑاتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
15 |
اور کہتے ہیں یہ صاف جادو کے سوا کچھ نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
16 |
کیا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہو چکے تو کیا واقعی ہم ضرور اٹھائے جانے والے ہیں؟
|
ابن کثیر ↑
|
17 |
اور کیا ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟
|
ابن کثیر ↑
|
18 |
کہہ دے ہاں! اور تم ذلیل ہو گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
19 |
سو وہ بس ایک ہی ڈانٹ ہوگی، تو یکایک وہ دیکھ رہے ہوں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
20 |
اور کہیں گے ہائے ہماری بربادی! یہ تو جزا کا دن ہے۔
|
|
21 |
یہی فیصلے کا دن ہے، جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
22 |
اکٹھا کرو ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا اور ان کے جوڑوں کو اور جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
23 |
اللہ کے سوا، پھر انھیں جہنم کی راہ کی طرف لے چلو۔
|
ابن کثیر ↑
|
24 |
اور انھیں ٹھہراؤ، بے شک یہ سوال کیے جانے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
25 |
کیا ہے تمھیں ، تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟
|
ابن کثیر ↑
|
26 |
بلکہ آج وہ بالکل فرماں بردار ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
27 |
اور ان کے بعض بعض کی طرف متوجہ ہوں گے، ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔
|
|
28 |
کہیں گے بے شک تم ہمارے پاس قَسَم کی راہ سے آتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
29 |
وہ کہیں گے بلکہ تم ایمان والے نہ تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
30 |
اور ہمارا تم پر کوئی غلبہ نہ تھا، بلکہ تم (خود) حد سے بڑھنے والے لوگ تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
31 |
سو ہم پر ہمارے رب کی بات ثابت ہوگئی۔ بے شک ہم یقینا چکھنے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
32 |
سو ہم نے تمھیں گمراہ کیا، بے شک ہم خود گمراہ تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
33 |
پس بے شک وہ اس دن عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہوں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
34 |
بے شک ہم مجرموں کے ساتھ ایسے ہی کیا کرتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
35 |
بے شک وہ ایسے لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو تکبر کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
36 |
اور کہتے تھے کیا واقعی ہم یقینا اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی خاطر چھوڑ دینے والے ہیں؟
|
ابن کثیر ↑
|
37 |
بلکہ وہ حق لے کر آیا ہے اور اس نے تمام رسولوں کی تصدیق کی ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
38 |
بلاشبہ تم یقینا دردناک عذاب چکھنے والے ہو۔
|
|
39 |
اور تمھیں صرف اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
40 |
مگر اللہ کے خالص کیے ہوئے بندے۔
|
ابن کثیر ↑
|
41 |
یہی لوگ ہیں جن کے لیے مقرر رزق ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
42 |
کئی قسم کے پھل اور وہ عزت بخشے گئے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
43 |
نعمت کے باغوں میں۔
|
ابن کثیر ↑
|
44 |
تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
45 |
ان پر صاف بہتی ہوئی شراب کا جام پھرایا جائے گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
46 |
جو سفید ہو گی، پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی۔
|
ابن کثیر ↑
|
47 |
نہ اس میں کوئی درد سر ہوگا اور نہ وہ اس سے مدہوش کیے جائیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
48 |
اور ان کے پاس نگاہ نیچے رکھنے والی، موٹی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی۔
|
ابن کثیر ↑
|
49 |
جیسے وہ چھپا کر رکھے ہوئے انڈے ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
50 |
پھر ان کے بعض بعض کی طرف متوجہ ہوں گے، ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔
|