قرآن مجيد
سورة النجم
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
1 |
قسم ہے ستا رے کی جب وہ گرے!
|
|
2 |
کہ تمھارا ساتھی (رسول) نہ راہ بھولا ہے اور نہ غلط راستے پر چلا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
3 |
اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
4 |
وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
5 |
اسے نہایت مضبوط قوتوں والے (فرشتے) نے سکھایا۔
|
|
6 |
جو بڑی طاقت والا ہے، سو وہ بلند ہوا۔
|
ابن کثیر ↑
|
7 |
اس حال میں کہ وہ آسمان کے مشرقی کنارے پر تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
8 |
پھر وہ نزدیک ہوا، پس اتر آیا۔
|
|
9 |
پھر وہ دو کمانوں کے فاصلے پر ہو گیا، بلکہ زیادہ قریب۔
|
ابن کثیر ↑
|
10 |
پھر اس نے وحی کی اس (اللہ) کے بندے کی طرف جو وحی کی۔
|
ابن کثیر ↑
|
11 |
دل نے جھوٹ نہیں بولا جو اس نے دیکھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
12 |
پھر کیا تم اس سے جھگڑتے ہو اس پر جو وہ دیکھتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
13 |
حالانکہ بلاشبہ یقینا اس نے اسے ایک اور بار اترتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
14 |
آخری حد کی بیری کے پاس۔
|
ابن کثیر ↑
|
15 |
اسی کے پاس ہمیشہ رہنے کی جنت ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
16 |
جب اس بیری کو ڈھانپ رہا تھا جو ڈھانپ رہا تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
17 |
نہ نگاہ ادھر ادھر ہوئی اور نہ حد سے آگے بڑھی۔
|
ابن کثیر ↑
|
18 |
بلاشبہ یقینا اس نے اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
19 |
پھر کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا۔
|
|
20 |
اور تیسری ایک اور (دیوی) منات کو۔
|
ابن کثیر ↑
|
21 |
کیا تمھارے لیے لڑکے ہیں اور اس کے لیے لڑکیاں؟
|
ابن کثیر ↑
|
22 |
یہ تو اس وقت نا انصافی کی تقسیم ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
23 |
یہ (بت) چند ناموں کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں، جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، ان کی کوئی دلیل اللہ نے نازل نہیں فرمائی۔ یہ لوگ صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو ان کے دل چاہتے ہیں اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی۔
|
|
24 |
یا انسان کے لیے وہ (میسر) ہے جو وہ آرزو کرے۔
|
ابن کثیر ↑
|
25 |
سو اللہ ہی کے لیے پچھلا اور پہلا جہان ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
26 |
اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں کہ ان کی سفارش کچھ کام نہیں آتی مگر اس کے بعد کہ اللہ اجازت دے جس کے لیے چاہے اور (جسے) پسند کرے۔
|
ابن کثیر ↑
|
27 |
بے شک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یقینا وہ فرشتوں کے نام عورتوں کے ناموں کی طرح رکھتے ہیں۔
|
|
28 |
حالانکہ انھیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور بے شک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔
|
ابن کثیر ↑
|
29 |
سو اس سے منہ پھیرلے جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑا اور جس نے دنیا کی زندگی کے سوا کچھ نہ چاہا۔
|
ابن کثیر ↑
|
30 |
یہ علم میں ان کی انتہا ہے، یقینا تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے اسے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور وہی زیادہ جاننے والا ہے اسے جو راستے پر چلا۔
|
ابن کثیر ↑
|
31 |
اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے، تاکہ وہ ان لوگوں کو جنھوں نے برائی کی، اس کا بدلہ دے جو انھوں نے کیا اور ان لوگوں کو جنھوں نے بھلائی کی، بھلائی کے ساتھ بدلہ دے۔
|
|
32 |
وہ لوگ جو بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں مگر صغیرہ گناہ، یقینا تیرا رب وسیع بخشش والا ہے، وہ تمھیں زیادہ جاننے والا ہے جب اس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں بچے تھے۔ سو اپنی پاکیزگی کا دعویٰ نہ کرو ، وہ زیادہ جاننے والا ہے کہ کون بچا۔
|
ابن کثیر ↑
|
33 |
پھر کیا تو نے دیکھا اسے جس نے منہ موڑ لیا۔
|
|
34 |
اور تھوڑا سا دیا اور رک گیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
35 |
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے؟ پس وہ دیکھ رہا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
36 |
یا اسے اس بات کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
37 |
اور ابراہیم کے (صحیفوں میں) جس نے (عہد) پورا کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
38 |
کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان ) کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔
|
ابن کثیر ↑
|
39 |
اور یہ کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔
|
ابن کثیر ↑
|
40 |
اور یہ کہ اس کی کوشش جلد ہی اسے دکھائی جائے گی۔
|
ابن کثیر ↑
|
41 |
پھر اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا، پورا بدلہ۔
|
ابن کثیر ↑
|
42 |
اور یہ کہ تیرے رب ہی کی طرف آخر پہنچنا ہے۔
|
|
43 |
اور یہ کہ حقیقت یہ ہے کہ اسی نے ہنسایا اور رلایا۔
|
ابن کثیر ↑
|
44 |
اور یہ کہ حقیقت یہ ہے کہ اسی نے موت دی اور زندگی بخشی۔
|
ابن کثیر ↑
|
45 |
اور یہ کہ اسی نے دو قسمیں نر اور مادہ پیدا کیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
46 |
ایک قطرے سے، جب وہ ٹپکایا جاتا ہے۔
|
|
47 |
اور یہ کہ اسی کے ذمہ دوسری دفعہ پیدا کرنا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
48 |
اور یہ کہ اسی نے غنی کیا اور خزانہ بخشا۔
|
ابن کثیر ↑
|
49 |
اور یہ کہ وہی شعریٰ (ستارے) کارب ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
50 |
اور یہ کہ اسی نے پہلی قوم عاد کو ہلاک کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|