🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآنی آیات
قرآن پاک لفظ دُونِهِ کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر
لفظ
آیت
21
دُونِهِ
ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ [22-الحج:62]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یہ سب اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی یہ پکارتے ہیں وه باطل ہے اور بیشک اللہ ہی بلندی واﻻ کبریائی واﻻ ہے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
یہ اس لئے کہ خدا ہی برحق ہے اور جس چیز کو (کافر) خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور اس لئے خدا رفیع الشان اور بڑا ہے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
یہ اس لیے کہ اللہ ہی ہے جو حق ہے اور (اس لیے) کہ اس کے سوا وہ جسے بھی پکارتے ہیں وہی باطل ہے اور (اس لیے)کہ اللہ ہی بے حد بلند ہے، بہت بڑا ہے۔
22
دُونِهِ
وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيَاةً وَلَا نُشُورًا [25-الفرقان:3]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
ان لوگوں نے اللہ کے سوا جنہیں اپنے معبود ٹھہرا رکھے ہیں وه کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وه خود پیدا کئے جاتے ہیں، یہ تو اپنی جان کے نقصان نفع کا بھی اختیارنہیں رکھتے اور نہ موت وحیات کے اور نہ دوباره جی اٹھنے کے وه مالک ہیں

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور (لوگوں نے) اس کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں۔ اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اُٹھ کھڑے ہونا

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور انھوں نے اس کے سوا کئی اور معبود بنا لیے، جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں اور اپنے لیے نہ کسی نقصان کے مالک ہیں اور نہ نفع کے اور نہ کسی موت کے مالک ہیں اور نہ زندگی کے اور نہ اٹھائے جانے کے۔
23
دُونِهِ
إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [29-العنكبوت:42]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جنہیں وه اس کے سوا پکار رہے ہیں، وه زبردست اور ذی حکمت ہے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ ہی ہو خدا اُسے جانتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
یقینا اللہ جانتا ہے جسے وہ اس کے سوا پکارتے ہیں کوئی بھی چیز ہو اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
24
دُونِهِ
هَذَا خَلْقُ اللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ بَلِ الظَّالِمُونَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ [31-لقمان:11]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یہ ہے اللہ کی مخلوق اب تم مجھے اس کے سوا دوسرے کسی کی کوئی مخلوق تو دکھاؤ (کچھ نہیں)، بلکہ یہ ﻇالم کھلی گمراہی میں ہیں

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
یہ تو خدا کی پیدائش ہے تو مجھے دکھاؤ کہ خدا کے سوا جو لوگ ہیں اُنہوں نے کیا پیدا کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
یہ ہے اللہ کی مخلوق، تو تم مجھے دکھائو کہ ان لوگوں نے جو اس کے سوا ہیں کیا پیدا کیا ہے؟ بلکہ ظالم لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔
25
دُونِهِ
ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ [31-لقمان:30]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یہ سب (انتظامات) اس وجہ سے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور اس کے سوا جن جن کو لوگ پکارتے ہیں سب باطل ہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بلندیوں واﻻ اور بڑی شان واﻻ ہے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں اور یہ کہ خدا ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ اس کے سوا وہ جس کو پکارتے ہیں وہی باطل ہے اور یہ کہ اللہ ہی بے حد بلند، بے حد بڑا ہے۔
26
دُونِهِ
اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ مَا لَكُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا شَفِيعٍ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ [32-السجدة:4]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے آسمان وزمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا کر دیا پھر عرش پر قائم ہوا، تمہارے لئے اس کے سوا کوئی مددگار اور سفارشی نہیں۔ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو چیزیں ان دونوں میں ہیں سب کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ اس کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ سفارش کرنے والا۔ کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے؟

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی ہر چیز کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا، اس کے سواتمھارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی سفارش کرنے والا۔ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
27
دُونِهِ
يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ [35-فاطر:13]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
وه رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور آفتاب وماہتاب کو اسی نے کام میں لگا دیا ہے۔ ہر ایک میعاد معین پر چل رہا ہے۔ یہی ہے اللہ تم سب کا پالنے واﻻ اسی کی سلطنت ہے۔ جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو وه تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
وہی رات کو دن میں داخل کرتا اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا ہے۔ ہر ایک ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے اسی کی بادشاہی ہے۔ اور جن لوگوں کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی تو (کسی چیز کے) مالک نہیں

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا، ہر ایک ایک مقرر وقت تک چل رہا ہے۔ یہی اللہ تمھاراپروردگار ہے، اسی کی بادشاہی ہے اور جن کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے مالک نہیں۔
28
دُونِهِ
أَأَتَّخِذُ مِنْ دُونِهِ آلِهَةً إِنْ يُرِدْنِ الرَّحْمَنُ بِضُرٍّ لَا تُغْنِ عَنِّي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا وَلَا يُنْقِذُونِ [36-يس:23]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
کیا میں اسے چھوڑ کر ایسوں کو معبود بناؤں کہ اگر (اللہ) رحمٰن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے اور نہ وه مجھے بچا سکیں

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
کیا میں ان کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤں؟ اگر خدا میرے حق میں نقصان کرنا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی فائدہ نہ دے سکے اور نہ وہ مجھ کو چھڑا ہی سکیں

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
کیا میں اس کے سوا ایسے معبود بنا لوں کہ اگر رحمان میرے بارے میں کسی نقصان کا ارادہ کرے تو ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے بچائیں گے۔
29
دُونِهِ
أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ [39-الزمر:3]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا۔

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
دیکھو خالص عبادت خدا ہی کے لئے (زیبا ہے) اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ہیں۔ (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنا دیں۔ تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں خدا ان میں ان کا فیصلہ کر دے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو جو جھوٹا ناشکرا ہے ہدایت نہیں دیتا۔

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
خبردار! خالص دین صرف اللہ ہی کا حق ہے اوروہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا اور حمایتی بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں، اچھی طرح قریب کرنا۔ یقیناً اللہ ان کے درمیان اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا ہو، بہت ناشکرا ہو۔
30
دُونِهِ
فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُمْ مِنْ دُونِهِ قُلْ إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلَا ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ [39-الزمر:15]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
تم اس کے سوا جس کی چاہو عبادت کرتے رہو کہہ دیجئے! کہ حقیقی زیاں کار وه ہیں جو اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو قیامت کے دن نقصان میں ڈال دیں گے، یاد رکھو کہ کھلم کھلا نقصان یہی ہے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
تو تم اس کے سوا جس کی چاہو پرستش کرو۔ کہہ دو کہ نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈالا۔ دیکھو یہی صریح نقصان ہے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
تو تم اس کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو ۔کہہ دے بے شک اصل خسارہ اٹھانے والے تو وہ ہیں جنھوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ سن لو! یہی صریح خسارہ ہے۔