قرآنی آیات
قرآن پاک لفظ
أَنْزَلَ
کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر |
لفظ |
آیت |
31 |
أَنْزَلَ |
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ مَاذَا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ قَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ [16-النحل:24]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
ان سے جب دریافت کیا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا ہے؟ تو جواب دیتے ہیں کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور جب ان سے کہاجاتا ہے تمھارے رب نے کیا چیز اتاری ہے؟ تو کہتے ہیں پہلے لوگوں کی بے اصل کہانیاں ہیں۔
|
32 |
أَنْزَلَ |
وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا مَاذَا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ قَالُوا خَيْرًا لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ [16-النحل:30]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور پرہیز گاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا ہے؟ تو وه جواب دیتے ہیں کہ اچھے سے اچھا۔ جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے، اور یقیناً آخرت کا گھر تو بہت ہی بہتر ہے، اور کیا ہی خوب پرہیز گاروں کا گھر ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور (جب) پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ بہترین (کلام) ۔ جو لوگ نیکوکار ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے۔ اور آخرت کا گھر تو بہت ہی اچھا ہے۔ اور پرہیز گاروں کا گھر بہت خوب ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور جو لوگ ڈر گئے ان سے کہا گیا کہ تمھارے رب نے کیا نازل فرمایا؟ تو انھوں نے کہا بہترین بات، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے بھلائی کی اس دنیا میں بڑی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو کہیں بہتر ہے اور یقینا وہ ڈرنے والوں کا اچھا گھر ہے۔
|
33 |
أَنْزَلَ |
وَاللَّهُ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ [16-النحل:65]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور اللہ آسمان سے پانی برسا کر اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کر دیتا ہے۔ یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سنیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور خدا ہی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا۔ بےشک اس میں سننے والوں کے لیے نشانی ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور اللہ نے آسمان سے کچھ پانی نازل کیا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کر دیا۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا ایک نشانی ہے جو سنتے ہیں۔
|
34 |
أَنْزَلَ |
قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنْزَلَ هَؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بَصَائِرَ وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا فِرْعَوْنُ مَثْبُورًا [17-الإسراء:102]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
موسیٰ نے جواب دیا کہ یہ تو تجھے علم ہوچکا ہے کہ آسمان وزمین کے پروردگار ہی نے یہ معجزے دکھانے، سمجھانے کو نازل فرمائے ہیں، اے فرعون! میں تو سمجھ رہا ہوں کہ تو یقیناً برباد وہلاک کیا گیا ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا ان کو کسی نے نازل نہیں کیا۔ (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اس نے کہا بلاشبہ یقینا تو جان چکا ہے کہ انھیں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نہیں اتارا، اس حال میں کہ واضح دلائل ہیں اور یقینا میں تو اے فرعون! تجھے ہلاک کیا ہوا سمجھتا ہوں۔
|
35 |
أَنْزَلَ |
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجًا [18-الكهف:1]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا اور اس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے اپنے بندے (محمدﷺ) پر (یہ) کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی (اور پیچیدگی) نہ رکھی
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں کوئی کجی نہ رکھی۔
|
36 |
أَنْزَلَ |
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَتُصْبِحُ الْأَرْضُ مُخْضَرَّةً إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ [22-الحج:63]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برساتا ہے، پس زمین سرسبز ہو جاتی ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ مہربان اور باخبر ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا آسمان سے مینہ برساتا ہے تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے۔ بےشک خدا باریک بین اور خبردار ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو زمین سرسبز ہو جاتی ہے۔ بے شک اللہ نہایت باریک بین، ہر چیز سے باخبر ہے۔
|
37 |
أَنْزَلَ |
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ [31-لقمان:21]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی وحی کی تابعداری کرو تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو جس طریق پر اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اسی کی تابعداری کریں گے، اگرچہ شیطان ان کے بڑوں کو دوزخ کےعذاب کی طرف بلاتا ہو
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اُس کی پیروی کرو۔ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی؟)
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور کیا اگرچہ شیطان انھیں بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو؟
|
38 |
أَنْزَلَ |
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ ثَمَرَاتٍ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهَا وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ [35-فاطر:27]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
کیا آپ نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے مختلف رنگتوں کے پھل نکالے اور پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں سفید اور سرخ کہ ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاه
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے مینہ برسایا۔ تو ہم نے اس سے طرح طرح کے رنگوں کے میوے پیدا کئے۔ اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کے قطعات ہیں اور (بعض) کالے سیاہ ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ کئی پھل نکالے، جن کے رنگ مختلف ہیں اور پہاڑوں میں سے کچھ سفید اور سرخ قطعے ہیں، جن کے رنگ مختلف ہیں اور کچھ سخت کالے سیاہ ہیں۔
|
39 |
أَنْزَلَ |
قَالُوا مَا أَنْتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا وَمَا أَنْزَلَ الرَّحْمَنُ مِنْ شَيْءٍ إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا تَكْذِبُونَ [36-يس:15]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
ان لوگوں نے کہا کہ تم تو ہماری طرح معمولی آدمی ہو اور رحمٰن نے کہا کوئی چیز نازل نہیں کی۔ تم نرا جھوٹ بولتے ہو
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
وہ بولے کہ تم (اور کچھ) نہیں مگر ہماری طرح کے آدمی (ہو) اور خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم محض جھوٹ بولتے ہو
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
انھوں نے کہا تم ہمارے جیسے بشر ہی تو ہو اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی، تم تو محض جھوٹ ہی کہہ رہے ہو۔
|
40 |
أَنْزَلَ |
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ [39-الزمر:21]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اسے زمین کی سوتوں میں پہنچاتا ہے، پھر اسی کے ذریعہ سے مختلف قسم کی کھیتیاں اگاتا ہے پھر وه خشک ہو جاتی ہیں اور آپ انہیں زرد رنگ دیکھتے ہیں پھر انہیں ریزه ریزه کر دیتا ہے، اس میں عقل مندوں کے لئے بہت زیاده نصیحت ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا آسمان سے پانی نازل کرتا پھر اس کو زمین میں چشمے بنا کر جاری کرتا پھر اس سے کھیتی اُگاتا ہے جس کے طرح طرح کے رنگ ہوتے ہیں۔ پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو دیکھتے ہو (کہ) زرد (ہوگئی ہے) پھر اسے چورا چورا کر دیتا ہے۔ بےشک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر اسے چشموں کی صورت زمین میں چلایا، پھر وہ اس کے ساتھ کھیتی نکالتا ہے، جس کے رنگ مختلف ہیں،پھر وہ پک کر تیار ہو جاتی ہے، پھر تو اسے دیکھتا ہے پیلی ہونے والی، پھر وہ اسے چورا بنا دیتا ہے، بے شک اس میں عقلوں والوں کے لیے یقینا بڑی نصیحت ہے۔
|