🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. بَابُ: الْقَوَدِ بِغَيْرِ حَدِيدَةٍ
باب: تلوار کے بجائے کسی اور چیز سے قصاص لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4783
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ يَهُودِيًّا رَأَى عَلَى جَارِيَةٍ أَوْضَاحًا , فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ، فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ:" أَقَتَلَكِ فُلَانٌ؟" , فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا: أَنْ لَا، فَقَالَ:" أَقَتَلَكِ فُلَانٌ؟" , فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا: أَنْ لَا، قَالَ:" أَقْتَلَكِ فُلَانٌ؟" , فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا: أَنْ نَعَمْ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَتَلَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو زیور پہنے دیکھا تو اسے پتھر سے مار ڈالا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی، اس میں کچھ جان باقی تھی، آپ نے فرمایا: کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟ (شعبہ نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ) اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟ (شعبہ نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ) اس نے کہا: نہیں، پھر آپ نے فرمایا: کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟ (پھر شعبہ نے سر کے اشارے سے کہا کہ) اس نے کہا: ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور دو پتھروں کے درمیان کچل کر اسے مار ڈالا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4783]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کے کانوں میں بالیاں دیکھیں تو (ان کو حاصل کرنے کے لیے) اس نے لڑکی کو ایک پتھر سے مار ڈالا، اس بچی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس میں کچھ جان باقی تھی، آپ نے اس سے پوچھا: تجھے فلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: فلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ نے پھر (تیسری بار) اس سے پوچھا: کیا تجھے فلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے سر کے اشارے سے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلا بھیجا اور اسے دو پتھروں کے درمیان قتل کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4783]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 24 (5295 تعلیقًا)، الدیات 4 (6877)، 5 (6879)، صحیح مسلم/الحدود 3 (1672)، سنن ابی داود/الدیات 10 (4529)، سنن ابن ماجہ/الدیات 24 (2666)، (تحفة الأشراف: 1631)، مسند احمد (3/171، 203) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی سے تلوار کی بجائے پتھروں سے اس کا سر کچل کر قصاص لیا، اس سے ثابت ہوا کہ قصاص صرف تلوار ہی سے ضروری نہیں ہے (جیسا کہ حنفیہ کا قول ہے) بلکہ یہ تو ارشاد ربانی کے مطابق ہے «وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به» (سورة النحل: 126) «فاعتدوا عليه بمثل ما اعتدى عليكم» (سورة البقرة: 194) حنفیہ حدیث «لا قود إلا بالسیف» یعنی: قصاص صرف تلوار ہی سے ہے سے استدلال کرتے ہیں، حالانکہ یہ حدیث ہر طریقے سے ضعیف ہے، بلکہ بقول امام ابوحاتم منکر ہے (کذا فی نیل الا ٔوطار والإرواء رقم ۲۲۲۹)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4784
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً إِلَى قَوْمٍ مِنْ خَثْعَمَ فَاسْتَعْصَمُوا بِالسُّجُودِ , فَقُتِلُوا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ الْعَقْلِ، وَقَالَ:" إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا".
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ خثعم کے کچھ لوگوں کی طرف (فوج کی) ایک ٹکڑی بھیجی، تو انہوں نے سجدہ کر کے اپنے کو بچانا چاہا، پھر بھی وہ سب قتل کر دئیے گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آدھی دیت ادا کی ۱؎ اور فرمایا: میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرک کے ساتھ رہے ۲؎، پھر آپ نے فرمایا: سنو! (مسلمان اور کافر اس حد تک دور رہیں کہ) ان دونوں کو ایک دوسرے کی آگ نظر نہ آئے ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4784]
حضرت قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خثعم قبیلے کی طرف ایک لشکر بھیجا، وہ سجدے میں پڑ گئے تاکہ جان بچا سکیں لیکن وہ بھی مارے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نصف دیت ادا فرمائی اور فرمایا: میں ہر اس مسلمان سے لا تعلق ہوں جو کافروں میں رہتا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! مسلمان اور کافر اتنے دور رہیں کہ انہیں ایک دوسرے کی آگ نظر نہ آئے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4784]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 105 (2645)، سنن الترمذی/السیر 43 (1604، 1605)، (تحفة الأشراف: 3227، 19233) (صحیح مرسلاً وموصولاً) (یہ حدیث ابوداود اور ترمذی وغیرہ میں قیس بن ابی حازم نے جریر بن عبداللہ سے روایت کی ہے، لیکن قیس کے شاگردوں کی ایک جماعت نے قیس کے بعد جریر رضی الله عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ مرسلا ہی روایت کی ہے، امام بخاری نے بھی مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے، مگر موصول کی بھی صحیح متابعات موجود ہیں جیسا کہ علامہ البانی نے ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو: الإروائ: 1207)»
وضاحت: ۱؎: آدھی دیت کا حکم دیا اور باقی آدھی کفار کے ساتھ رہنے سے ساقط ہو گئی کیونکہ کافروں کے ساتھ رہ کر اپنی ذات کو انہوں نے جو فائدہ پہنچایا درحقیقت یہ ایک جرم تھا اور اسی جرم کی پاداش میں آدھی دیت ساقط ہو گئی۔ ۲؎: اس جملہ کی توجیہ میں تین اقوال وارد ہیں۔ ایک مفہوم یہ ہے کہ دونوں کا حکم یکساں نہیں ہو سکتا، دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دارالاسلام کو دارالکفر سے علاحدہ کر دیا ہے لہٰذا مسلمان کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ وہ کافروں کے ملک میں ان کے ساتھ رہے، تیسرا یہ کہ مسلمان مشرک کی خصوصیات اور علامتوں کو نہ اپنائے اور نہ ہی چال ڈھال اور شکل و صورت میں ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرے۔ ۳؎: اس حدیث کا اس باب سے کوئی تعلق نہیں، ممکن ہے اس سے پہلے والے باب کی حدیث ہو اور نساخ کے تصرف سے اس باب کے تحت آ گئی ہو، اور اس حدیث کا مصداق ساری دنیا کے مسلمان نہیں ہیں کہ وہ ہر ملک میں کافروں سے الگ سکونت اختیار کریں، اس زمانہ میں تو یہ ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے، اس کا مصداق ایسے علاقے ہیں جہاں اسلامی حکومت ہو، اور سارے حالات و اختیارات مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوں، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء راشدین وغیرہ کے عہدوں میں تھا، اور آج سعودیہ اور دیگر مسلم ممالک میں ہے، بعض مسلم ممالک کے اندر بھی موجودہ حالات میں الگ تھلگ رہائش مشکل ہے، «لايكلف الله نفسا إلا وسعها» (سورة البقرة: ۲۸۶)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (1605) السند مرسل،وروي متصلاً بالسند الضعيف،،إسماعيل بن أبى خالد مدلس وعنعن. وللحديث شواهد ضعيف،ة. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں