مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1176. حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26611
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26611]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5634، م: 2065
حدیث نمبر: 26612
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ مَرْوَانَ، قَالَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ , قَالَ: فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ: " نَهَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي كَتِفًا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً" , وقَالَ أَبِي: لَمْ يَسْمَعْ سُفْيَانُ مِنْ أَبِي عَوْنٍ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال آگئے اور نبی علیہ السلا پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26612]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26613
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: " إِذَا رَأَتْ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ" , قَالَتْ: قُلْتُ: فَضَحْتِ النِّسَاءَ، وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا إِذًا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا یہ بتائے کہ اگر عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جب کہ وہ پانی دیکھے اس پر حضرت ام سلمہ ہنسنے لگیں اور کہنے لگیں کہ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر بچہ اپنی ماں کے مشابہ کیوں ہوتا ہے؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26613]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 282، م: 313
حدیث نمبر: 26614
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، سَمِعْتُهُ مِنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: " شُغِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے بعد کی دو رکعتیں نہیں پڑھ سکے تھے، سو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عصر کے بعد پڑھ لی تھیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس سے پہلے تو آپ یہ نماز نہیں پڑھتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دراصل بنوتمیم کا وفد آگیا تھا جس کی وجہ سے ظہر کے بعد کی جو دو رکعتیں میں پڑھتا تھا وہ رہ گئی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26614]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف على بن يحيى، وهو حسن الحديث
حدیث نمبر: 26615
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ، فَقَالَ:" لَيَّةً، لَا لَيَّتَيْنِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو وہ دوپٹہ اوڑھ رہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ایک ہی مرتبہ لپیٹنا دو مرتبہ نہیں (تاکہ مردوں کے عمامے کے ساتھ مشابہت نہ ہوجائے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26615]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة وهب مولى أبى أحمد
حدیث نمبر: 26616
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ، قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَزِلَّ أَوْ نَضِلَّ، أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ، أَوْ نَجْهَلَ، أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے، اللہ کے نام سے میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اے اللہ! ہم اس بات سے آپ کی پناہ میں آتے ہیں کہ پھسل جائیں یا گمراہ ہوجائیں یا ظلم کریں یا کوئی ہم پر ظلم کرے یا ہم کسی سے جہالت کا مظاہرہ کریں یا کوئی ہم سے جہالت کا مظاہرہ کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26616]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، الشعبي لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26617
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ، فَقَالَ:" لَيَّةً، لَا لَيَّتَيْنِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو وہ دوپٹہ اوڑھ رہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ایک ہی مرتبہ لپیٹنا دو مرتبہ نہیں (تاکہ مردوں کے عمامے کے ساتھ مشابہت نہ ہوجائے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26617]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة وهب مولى أبى أحمد
حدیث نمبر: 26618
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ تَحْتَكِمُونَ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، وَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ پیش کردے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں (اس لئے یاد رکھو) میں جس شخص کی بات تسلیم کر کے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لو کہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہا ہوں لہذا اسے چاہئے کہ اسے نہ لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26618]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1713
حدیث نمبر: 26619
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِيّاَيِ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو , وَالْقَاسِمَ أَخْبَرَاهُ , أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُخْبِرُ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّها لَمَّا قَدِمَتْ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَتْهُمْ أَنَّهَا ابْنَةُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَكَذَّبُوهَا، وَيَقُولُونَ: مَا أَكْذَبَ الْغَرَائِبَ، حَتَّى أَنْشَأَ نَاسٌ مِنْهُمْ إِلَى الْحَجِّ، فَقَالُوا: مَا تَكْتُبِينَ إِلَى أَهْلِكِ؟ فَكَتَبَتْ مَعَهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ يُصَدِّقُونَهَا، فَازْدَادَتْ عَلَيْهِمْ كَرَامَةً , قَالَتْ: فَلَمَّا وَضَعْتُ زَيْنَبَ، جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَنِي، فَقُلْتُ: مَا مِثْلِي نُكِحَ، أَمَّا أَنَا، فَلَا وَلَدَ فِيَّ، وَأَنَا غَيُورٌ، وَذَاتُ عِيَالٍ، فَقَالَ:" أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ، فَيُذْهِبُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا الْعِيَالُ، فَإِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ" , فَتَزَوَّجَهَا، فَجَعَلَ يَأْتِيهَا فَيَقُولُ:" أَيْنَ زُنَابُ؟" حَتَّى جَاءَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَوْمًا، فَاخْتَلَجَهَا، وَقَالَ: هَذِهِ تَمْنَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ تُرْضِعُهَا، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَيْنَ زُنَابُ؟" , فَقَالَتْ: قَرِيبَةُ ابْنَةِ أَبِي أُمَيَّةَ وَوَافَقَهَا عِنْدَهَا أَخَذَهَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي آتِيكُمْ اللَّيْلَةَ" , قَالَتْ: فَقُمْتُ، فَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ كَانَتْ فِي جَرٍّ، وَأَخْرَجْتُ شَحْمًا فَعَصَدْتُهُ لَهُ. قَالَتْ: فَبَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَصْبَحَ، فَقَالَ حِينَ أَصْبَحَ: " إِنَّ لَكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً، فَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، فَإِنْ أُسَبِّعْ لَكِ، أُسَبِّعْ لِنِسَائِي" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ مدینہ منورہ آئیں تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ ابوامیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہیں لیکن لوگوں نے ان کی بات تسلیم نہ کی اور کہنے لگے کہ یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے پھر کچھ لوگ حج کے لئے روانہ ہونے لگے تو ان سے کہا کہ تم اپنے گھر والوں کو کچھ لکھنا چاہتی ہو؟ انہوں نے ایک خط لکھ کر ان کے ذریعے بھجوادیا وہ لوگ جب مدینہ واپس آئے تو حضرت ام سلمہ کی تصدیق کرنے لگے اور ان کی عزت میں اضافہ ہوگیا وہ کہتی ہیں کہ جب میرے یہاں زینب پیدا ہوچکی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں آئے اور مجھے پیغام نکاح دیا، میں نے عرض کیا کہ میری جیسی عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے؟ میری عمر زیادہ ہوگئی ہے میں غیور بہت ہوں اور صاحب عیال بھی ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے عمر میں بڑا ہوں رہی غیرت تو اللہ اسے دور کردے گا اور رہے بچے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کرلیا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26619]
حکم دارالسلام: بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالحميد بن عبدالله والقاسم بن محمد
حدیث نمبر: 26620
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو , وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَاهُ , أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَتْ: فَوَضَعْتُ ثِفَالِي، فَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنَ الشَّعِيرِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26620]
حکم دارالسلام: بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالحميد بن عبدالله والقاسم بن محمد