مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
38. في الكلام إذا صعد الإمام المنبر وخطب
امام کے منبر پر چڑھ جانے اور خطبہ دینے کے دوران گفتگو کا حکم
ترقیم عوامۃ: 5345 ترقیم الشثری: -- 5408
٥٤٠٨ - حدثنا ابو داود الطيالسي عن إبراهيم عن نافع عن سعيد بن ابي هند عن حميد (بن) (١) عبد الرحمن قال: إذا قال الرجل يوم الجمعة والإمام يخطب انصت فقد لغا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عن).
حدثنا ابو داود الطيالسي، عن إبراهيم، عن نافع، عن سعيد بن ابي هند، عن حميد بن عبد الرحمن، قال: " إذا قال الرجل يوم الجمعة والإمام يخطب: انصت فقد لغا"
حمید بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”جب کوئی شخص جمعہ کے دن، اس حال میں کہ امام خطبہ دے رہا ہو، (کسی سے) کہے: «أَنْصِتْ» ”خاموش ہو جاؤ“، تو یقیناً اس نے لغو کام (بیہودہ حرکت) کی۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5408]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5408، ترقيم محمد عوامة 5345)
ترقیم عوامۃ: 5346 ترقیم الشثری: -- 5409
٥٤٠٩ - حدثنا علي بن مسهر عن داود بن ابي هند عن (بكر) (١) بن عبد الله عن علقمة بن عبد الله قال: قدمنا المدينة يوم الجمعة فامرت اصحابي ان يرتحلوا ثم اتيت المسجد فجلست قريبا من ابن عمر فجاء رجل من اصحابي فجعل يحدثني والإمام يخطب فقلنا: كذا وكذا، (فلما) (٢) (اكثر) (٣) قلت له: اسكت فلما قضينا الصلاة ذكرت ذلك لابن عمر فقال: اما انت فلا جمعة لك واما صاحبك فحمار (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (داود).
(٢) في [أ]: سقط (فلما).
(٣) في [هـ]: (كثرت).
(٤) صحيح.
حدثنا حدثنا علي بن مسهر، عن داود بن ابي هند، عن بكر بن عبد الله، عن علقمة بن عبد الله، قال:" قدمنا المدينة يوم الجمعة فامرت اصحابي ان يرتحلوا، ثم اتيت المسجد فجلست قريبا من ابن عمر فجاء رجل من اصحابي فجعل يحدثني والإمام يخطب فقلنا كذا وكذا فلما اكثر، قلت له: اسكت، فلما قضينا الصلاة ذكرت ذلك لابن عمر" فقال:" اما انت فلا جمعة لك، واما صاحبك فحمار"
علقمہ بن عبداللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم جمعہ کے دن مدینہ منورہ پہنچے تو میں نے اپنے ساتھیوں کو رختِ سفر باندھنے کا حکم دیا، پھر میں مسجد میں آیا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے قریب بیٹھ گیا، اسی دوران میرا ایک ساتھی آیا اور مجھ سے باتیں کرنے لگا جبکہ امام خطبہ دے رہا تھا، ہم نے آپس میں کچھ گفتگو کی، پھر جب اس نے بہت زیادہ باتیں کیں تو میں نے اسے کہا: ”خاموش ہو جاؤ۔“ جب ہم نماز مکمل کر چکے تو میں نے اس بات کا تذکرہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”رہی بات تمہاری، تو تمہارا جمعہ ضائع ہو گیا اور جہاں تک تمہارے اس ساتھی کا تعلق ہے، تو وہ گدھا ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5409]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5409، ترقيم محمد عوامة 5346)
ترقیم عوامۃ: 5347 ترقیم الشثری: -- 5410
٥٤١٠ - حدثنا هشيم قال اخبرنا داود بن ابي هند عن الشعبي ان ابا ذر او الزبير ابن العوام سمع احدهما من النبي ﷺ يقرؤها وهو على المنبر يوم (الجمعة) (١) (قال) (٢) : فقال لصاحبه: متى انزلت هذه الآية قال: فلما قضى صلاته قال له عمر بن الخطاب: لا جمعة لك فاتى النبي ﷺ فذكر ذلك له قال فقال:"صدق عمر" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (جمعة).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) مرسل.
حدثنا هشيم ، قال: اخبرنا داود بن ابي هند ، عن الشعبي , ان ابا ذر او الزبير بن العوام :" سمع احدهما من النبي صلى الله عليه وسلم آية يقراها وهو على المنبر يوم الجمعة، قال: فقال لصاحبه: متى انزلت هذه الآية؟، قال: فلما قضى صلاته، قال له عمر بن الخطاب: لا جمعة لك، فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له، قال: فقال: صدق عمر"
شعبی سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر یا سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما میں سے کسی ایک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن منبر پر (کسی آیت کی) تلاوت کرتے ہوئے سنا، تو انہوں نے (دورانِ خطبہ) اپنے ساتھی سے پوچھا: ”یہ آیت کب نازل ہوئی؟“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”تمہارے لیے کوئی جمعہ نہیں (یعنی تمہارا ثواب ضائع ہو گیا)“، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر نے سچ کہا۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5410]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5410، ترقيم محمد عوامة 5347)
ترقیم عوامۃ: 5348 ترقیم الشثری: -- 5411
٥٤١١ - حدثنا ابن نمير عن مجالد عن عامر عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"من تكلم يوم الجمعة والإمام يخطب فهو كالحمار يحمل اسفارا، والذي يقول له انصت ليست له جمعة" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لحال مجالد، أخرجه أحمد (٢٠٣٣)، والبزار (٦٤٤)، والرامهرمزي في الأمثال ص ٩١، والطبراني (١٥٦٣).
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جمعہ کے دن اس وقت گفتگو کی جب امام خطبہ دے رہا ہو، تو وہ اس گدھے کی مانند ہے ﴿يَحْمِلُ أَسْفَارًا﴾ ”جو بہت سی کتابیں لادے ہوئے ہو“ [سورة الجمعة: 5] اور جس شخص نے (بات کرنے والے سے) یہ کہا کہ ”خاموش ہو جاؤ“ تو اس کے لیے بھی جمعہ (کا ثواب) نہیں ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5411]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5411، ترقيم محمد عوامة 5348)
ترقیم عوامۃ: 5349 ترقیم الشثری: -- 5412
٥٤١٢ - حدثنا ابو اسامة عن مجالد عن عامر عن جابر قال: قال سعد لرجل يوم الجمعة: لا صلاة لك (قال: فذكر ذلك الرجل للنبي ﷺ فقال: يا رسول الله إن سعدا قال: لا صلاة لك) (١) ، فقال النبي ﷺ:"لم يا سعد؟" فقال: إنه تكلم وانت تخطب فقال:"صدق سعد" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه البزار كما في كشف الاستار (١/ ٣٠٨)، وأبو يعلى كما في المقصد (ص: ٣٨٥).
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن ایک شخص سے کہا: ”تمہاری کوئی نماز نہیں ہے“، (راوی کہتے ہیں کہ) اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! سعد نے مجھ سے کہا ہے کہ تمہاری کوئی نماز نہیں ہے“، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے سعد! تم نے اسے ایسا کیوں کہا؟“ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اس شخص نے اس وقت کلام کیا تھا جب آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سعد نے سچ کہا ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5412]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5412، ترقيم محمد عوامة 5349)
ترقیم عوامۃ: 5350 ترقیم الشثری: -- 5413
٥٤١٣ - حدثنا وكيع عن مسعر عن إبراهيم السكسكي قال: سمعت ابن ابي اوفى قال: ثلاث (١) من سلم منهن غفر له ما بينه وبين الجمعة الاخرى: من ان يحدث (حدثا) (٢) لا يعني اذى (٣) من بطنه، او ان يتكلم او ان يقول صه (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [د]: ورد (ثلاثة).
(٢) في [هـ]: (حدثنا)، وفي [ب]: (حديثًا).
(٣) في [ب]: (إذا) وفي [جـ]: (كلمة غير واضحة).
(٤) حسن؛ إبراهيم صدوق.
حدثنا حدثنا وكيع، عن مسعر، عن إبراهيم السكسكي، قال: سمعت ابن ابي اوفى ، قال: " ثلاث من سلم منهن، غفر له ما بينه وبين الجمعة الاخرى من ان يحدث حدثا لا يعني اذى من بطنه، او ان يتكلم، او ان يقول: صه"
ابراہيم سكسکی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: ”تین کام ایسے ہیں کہ جو شخص ان سے محفوظ رہا، اس کے اس جمعہ اور اگلے جمعہ کے درمیانی گناہ معاف کر دیے جائیں گے: (اول) یہ کہ وہ دورانِ خطبہ حدث (بے وضو ہونا) کرے، اور اس سے مراد پیٹ کی کسی ایسی بیماری یا تکلیف (کی وجہ سے بے اختیار خارج ہونے والی ریاح) نہیں ہے جس پر انسان کا بس نہ چلے، یا (دوم) یہ کہ وہ گفتگو کرے، یا (سوم) یہ کہ وہ (کسی کو خاموش کرانے کے لیے) «صَهْ» (خاموش ہو جاؤ) کہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5413]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5413، ترقيم محمد عوامة 5350)
ترقیم عوامۃ: 5351 ترقیم الشثری: -- 5414
٥٤١٤ - حدثنا ابو بكر قال حدثنا غندر عن شعبة عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي هريرة قال: إذا قال يوم الجمعة والإمام يخطب صه فقد لغا (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ ورد مرفوعًا، انظر: ما سبق برقم [٥٤١٥].
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا غندر، عن شعبة، عن الاعمش، عن ابي صالح , عن ابي هريرة ، قال: " إذا قال يوم الجمعة والإمام يخطب: صه فقد لغا"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر کسی شخص نے جمعہ کے دن اس حال میں کہ امام خطبہ دے رہا ہو (کسی کو) کہا: «صه» ”خاموش ہو جاؤ“، تو یقیناً اس نے لغو حرکت کی۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5414]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5414، ترقيم محمد عوامة 5351)