🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

77. في الرجل (يكون) له المرأة (فتقول): اقسم لي
اگر کوئی عورت مرد سے کہے کہ مجھے طلاق نہ دے بلکہ میں اپنا حق چھوڑتی ہوں تو اس کا کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 16726 ترقیم الشثری: -- 17269
١٧٢٦٩ - حدثنا ابن (عيينة) (١) عن الزهري عن سعيد بن المسيب ان رافع بن خديج كانت تحته نجت محمد بن مسلمة فكره من امرها إما كبرا او (إما غيره) (٢) فاراد ان يطلقها فقالت: لا تطلقني واقسم (لي) (٣) ما شئت فجرت السنة بذلك فنزلت: ﴿وإن امراة خافت من بعلها نشوزا او إعراضا﴾ [النساء: ١٢٨] (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عتبة).
(٢) في [هـ]: (أو غيره).
(٣) في [أ، ب، ط]: ما بين القوسين ساقطة.
(٤) مرسل؛ سعيد تابعي، أخرجه الشافعي في المسند ١/ ٢٦٠، والبيهقي ٧/ ٧٥، وعبد الرزاق (١٠٦٥٣)، والحاكم ٢/ ٣٠٨، وابن أبي حاتم في التفسير (٦٠٤٤)، وابن جرير ٥/ ٣٠٩، وعبد الرزاق في التفسير ١/ ١٧٥، ومالك في المدونة ٥/ ٣٣٥، والواحدي ص ٢١٦.

حدثنا ابن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب: ان رافع بن خديج، كانت تحته بنت محمد بن مسلمة، فكره من امرها إما كبرا او غيره، فاراد ان يطلقها، فقالت:" لا تطلقني واقسم لي ما شئت فجرت السنة بذلك" فنزلت: وإن امراة خافت من بعلها نشوزا او إعراضا سورة النساء آية 128
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ کی بیٹی حضرت رافع بن خدیج کے نکاح میں تھیں۔ رافع بن خدیج کو ان کا ادھیڑ پن یا کوئی اور چیز بری لگی تو انہوں نے انہیں طلاق دینے کا ارادہ کرلیا۔ لیکن خاتون نے کہا کہ آپ مجھے طلاق نہ دیں بلکہ میرے لئے جو چاہیں حق میں سے تقسیم کرلیں۔ اس کے بعد سے یہ دستور بن گیا اور قرآن مجید کی آیت نازل ہوئی: اگر عورت کو اپنے خاوند سے برائی یا بےنیازی کا خدشہ ہو۔ (الخ) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17269]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17269، ترقيم محمد عوامة 16726)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 16727 ترقیم الشثری: -- 17270
١٧٢٧٠ - حدثنا عبدة عن هشام عن (ابيه) (١) عن عائشة: ﴿وإن امراة خافت من بعلها نشوزا او إعراضا﴾ الآية، قالت: نزلت هذه (الآية) (٢) في (المراة) (٣) ⦗٢٩٥⦘ (تكون) (٤) عند الرجل فتطول صحبتها فيريد ان يطلقها فتقول: لا تطلقني (وامسكني) (٥) وانت في حل مني فنزلت هذه الآية فيهما (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [جـ، ز، ك]: ما بين القوسين ساقط.
(٣) في [ط]: (للمرأة).
(٤) في [ب]: (يكون).
(٥) في [ط]: (وسكنى).
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٤٥٠)، ومسلم (٣٠١٩).

حدثنا عبدة، عن هشام، عن عائشة ، وإن امراة خافت من بعلها نشوزا او إعراضا سورة النساء آية 128 الآية، قالت: نزلت هذه الآية في المراة تكون عند الرجل فتطول صحبتها فيريد ان يطلقها، فتقول:" لا تطلقني وامسكني وانت في حل مني فنزلت هذه الآية فيهما"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قرآن مجید کی یہ آیت:: اگر عورت کو اپنے خاوند سے برائی یا بےنیازی کا خدشہ ہو۔ (الخ) اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی جو ایک طویل عرصے سے ایک آدمی کی بیوی تھی۔ وہ آدمی اس عورت کو طلاق دینا چاہتا تھا۔ لیکن اس عورت کا کہنا تھا کہ مجھے طلاق نہ دو اپنے پاس رکھو۔ اور میں تم سے کسی حق کا مطالبہ نہ کروں گی۔ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17270]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17270، ترقيم محمد عوامة 16727)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 16728 ترقیم الشثری: -- 17271
١٧٢٧١ - حدثنا ابن مهدي عن حرب بن شداد عن يحيى بن ابي كثير قال: (حدثنا) (١) (ابو) (٢) النجاشي مولى رافع بن خديج: إن رافع بن (خديج) (٣) تزوج امراة على امراته فقال لامراته (الاولى) (٤) : إن شئت ان (امسكك) (٥) ولا اقسم لك وإن شئت طلقتك، فاختارت (ان) (٦) يمسكها ولا يطلقها (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ز، هـ]: (نا).
(٢) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (ابن).
(٣) في [س]: (جريج).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [أ، جـ، ز]: (أمسك).
(٦) سقط من: [ط].
(٧) صحيح.

حدثنا حدثنا ابن مهدي، عن حرب بن شداد، عن يحيى بن ابي كثير، قال: نا ابو النجاشي مولى رافع بن خديج، ان رافع بن خديج ، تزوج امراة على امراته، فقال لامراته الاولى:" إن شئت ان امسكك ولا اقسم لك , وإن شئت طلقتك، فاختارت ان يمسكها ولا يطلقها"
حضرت ابو نجاشی فرماتے ہیں کہ حضرت رافع بن خدیج نے ایک عورت سے شادی کی اور اپنی پہلی بیوی سے کہا کہ اگر تم چاہو میں تمہیں طلاق نہیں دیتا البتہ تمہیں تمہاری تقسیم کا حصہ نہ ملے گا۔ اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں طلاق دے دیتا ہوں اس عورت نے اس بات کو اختیار کیا وہ اسے اپنے نکاح میں باقی رکھیں طلاق نہ دیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17271]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17271، ترقيم محمد عوامة 16728)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 16729 ترقیم الشثری: -- 17272
١٧٢٧٢ - حدثنا ابن مهدي عن (حرب) (١) بن شداد عن يحيى بن ابي كثير عن محمد بن إبراهيم بن الحارث ان بنت عبد الله بن جعفر كانت تحت رجل من قريش فخيرها (بين) (٢) ان يمسكها ولا يقسم لها وبين ان يطلقها فاختارت ان يمسكها ولا يطلقها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، س، ز، ط، ك]: (حريث).
(٢) سقط من: [أ، ب، ز، ك].

حدثنا ابن مهدي، عن حرب بن شداد، عن يحيى بن ابي كثير، عن محمد بن إبراهيم بن الحارث: ان بنت عبد الله بن جعفر ," كانت تحت رجل من قريش، فخيرها بين ان يمسكها ولا يقسم لها وبين ان يطلقها، فاختارت ان يمسكها ولا يطلقها"
حضرت ابراہیم بن حارث فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن جعفر کی صاحبزادی ایک قریشی شخص کے نکاح میں تھیں۔ اس آدمی نے انہیں اختیار دیا کہ اگر وہ اس کے نکاح میں رہنا چاہیں تو رہیں البتہ انہیں ان کی تقسیم کا حصہ نہ ملے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ طلاق لے لیں۔ انہوں نے نکاح کے باقی رکھنے کا اختیار کیا اور طلاق لینے سے انکار کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17272]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17272، ترقيم محمد عوامة 16729)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 16730 ترقیم الشثری: -- 17273
١٧٢٧٣ - حدثنا عبد الوهاب عن ايوب عن محمد عن (عبيدة) (١) قال: (سالته) (٢) عن هذه الآية: ﴿وإن امراة خافت من بعلها نشوزا او إعراضا﴾ قال: هو (الرجل) (٣) تكون له المراة قد خلا من (سنها) (٤) فيصالحها (من حقها على شيء) (٥) فهو له ما رضيت (فإذا) (٦) كرهت (فلها ان يعدل عليها) (٧) او يرضيها (من) (٨) حقها او يطلقها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ، س، ط]: (عبدة).
(٢) في [هـ، س]: (سألت).
(٣) في [هـ]: (رجل).
(٤) في [هـ]: (سهمها)، وفي [ط]: (من سها).
(٥) في [أ، ب]: (على شيء من حقها).
(٦) في [ز]: (وإذا).
(٧) في [أ]: بياض.
(٨) في [هـ]: (عن).

حدثنا عبد الوهاب، عن ايوب، عن محمد، عن عبيدة، قال: سالت عن هذه الآية: وإن امراة خافت من بعلها نشوزا او إعراضا سورة النساء آية 128 قال:" هو رجل تكون له المراة قد خلا من سنها فيصالحها من حقها على شيء فهو له ما رضيت، فإذا كرهت فلها ان يعدل عليها او يرضيها عن حقها او يطلقها"
حضرت محمد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں سوال کیا: اگر عورت کو اپنے خاوند سے برائی یا بےنیازی کا خدشہ ہو۔ (الخ) انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس کی کوئی بیوی ہو اور وہ اسے چھوڑنا چاہتا ہو، لیکن وہ اس سے اس بات پر صلح کرلے کہ عورت اپنا حق چھوڑ دے گی۔ اور اگر عورت اپنا حق چھوڑنے پر راضی نہ ہو تو چاہے تو اپنا حق پورا پورا لے یا اس سے طلاق لے لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17273]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17273، ترقيم محمد عوامة 16730)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 16731 ترقیم الشثری: -- 17274
١٧٢٧٤ - حدثنا ابو الاحوص عن سماك عن خالد بن عرعرة عن علي قال: اتاه رجل يستفتيه في: ﴿وإن امراة خافت من بعلها نشوزا او إعراضا﴾ فقال: هي المراة تكون عند الرجل (فتنبو) (١) عيناه من (دمامتها) (٢) او فقرها او (سوء) (٣) خلقها فتكره فراقه فإن وضعت له من حقها شيئا حلت له وإن جعلت من ايامها (شيئا) (٤) فلا حرج (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ص]: (فتسوء)، وفي [هـ]: (فتسوأ).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (ذمامها)، وفي [ب، ز]: (دمامها).
(٣) في [أ، ط]: (هو).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) حسن؛ خالد وسماك صدوقان.

حدثنا حدثنا ابو الاحوص، عن سماك، عن خالد بن عرعرة، عن علي ، قال: اتاه رجل يستفتيه في: امراة خافت من بعلها نشوزا او إعراضا سورة النساء آية 128، فقال:" هي المراة تكون عند الرجل فتسوء عيناه من دمامها او فقرها او سوء خلقها فتكره فراقه، فإن وضعت له من حقها شيئا حلت له , وإن جعلت من ايامها شيئا فلا حرج"
حضرت خالد بن عرعرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ اگر عورت کو اپنے خاوند سے برائی یا بےنیازی کا خدشہ ہو تو وہ کیا کرے؟ انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جس کا خاوند اس کی بداخلاقی، تنگدستی اور نامناسب رویہ سے تنگ ہو اور وہ اسے چھوڑنا چاہے لیکن بیوی اس سے الگ ہونے پر راضی نہ ہو۔ اگر عورت اپنے مہر میں سے کوئی مقدار اس کے لئے چھوڑ دے تو مرد کے لئے حلال ہے اور اگر عورت اپنے حق سے دستبردار ہوجائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17274]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17274، ترقيم محمد عوامة 16731)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 16732 ترقیم الشثری: -- 17275
١٧٢٧٥ - حدثنا ابن نمير عن هشام بن عروة عن ابيه ان سودة لما اسنت وهبت يومها لعائشة حتى لقيت الله (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ عروة تابعي، وانظر: ما بعده.
حدثنا حدثنا ابن نمير، عن هشام بن عروة، عن ابيه:" ان سودة لما اسنت وهبت يومها لعائشة حتى لقيت الله".
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بہت عمر رسیدہ ہوگئیں تو انہوں نے اپنے حصے کا دن ہمیشہ کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لئے ہبہ کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17275]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17275، ترقيم محمد عوامة 16732)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 16733 ترقیم الشثری: -- 17276
١٧٢٧٦ - حدثنا عقبة بن خالد عن هشام بن عروة عن ابيه عن عائشة بمثله (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٢١٢)، ومسلم (١٤٦٣).
حدثنا عقبة بن خالد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة ، بمثله
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17276]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17276، ترقيم محمد عوامة 16733)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 16734 ترقیم الشثری: -- 17277
١٧٢٧٧ - حدثنا جرير عن منصور عن (١) ابي رزين في قوله تعالى: ﴿ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء﴾ [الاحزاب: ٥١] ، وكان ممن آوى عائشة وام سلمة وزينب وحفصة (٢) فكان (قسمتهن) (٣) من نفسه وماله (فيهن) (٤) سواء، وكان ممن ارجى سودة وجويرية وام حبيبة وميمونة وصفية فكان يقسم لهن ما شاء، وكان اراد ان يفارقهن فقلن له: اقسم لنا من نفسك ما شئت ودعنا نكون على حالنا (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ط، هـ]: زيادة (ابن).
(٢) في [ز]: زيادة (ميمونة وصفية).
(٣) سقط من: [س، ط]، وفي [هـ]: (يقسم).
(٤) في [جـ، هـ]: (منهن).
(٥) مرسل؛ أبو رزين تابعي، وهو مسعود بن مالك الأسدي.

حدثنا جرير ، عن منصور ، عن ابي رزين ، في قوله تعالى: ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء سورة الاحزاب آية 51" وكان ممن آوى عائشة، وام سلمة، وزينب، وحفصة، فكان يقسم من نفسه وماله منهن سواء، وكان ممن ارجى سودة، وجويرية، وام حبيبة، وميمونة، وصفية، فكان يقسم لهن ما شاء وكان اراد ان يفارقهن، فقلن له: اقسم لنا من نفسك ما شئت ودعنا نكون على حالنا"
حضرت ابو رزین قرآن مجید کی آیت: ان میں سے آپ جسے چاہیں چھوڑ دیں اور جسے چاہے ساتھ رکھ لیں (الاحزاب: ٥١) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس آیت کے بعد حضور 5 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا، حضرت زینب رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو رکھنا چاہتے۔ ان کا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ کے جسم میں برابر ہوتا۔ جنھیں آپ چھوڑنا چاہتے تھے وہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا، حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ آپ ان کے لیے جو چاہتے تقسیم فرماتے۔ جب آپ نے انہیں چھوڑنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے حضور 5 سے فرمایا کہ آپ ہمارے لئے جو چاہیں حصہ مقرر فرما دیں اور ہمیں ہمارے حال پر چھوڑدیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17277]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17277، ترقيم محمد عوامة 16734)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں