مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
182. من قال: هو أحق برجعتها ما لم تغتسل من الحيضة الثالثة
جن حضرات کے نزدیک آدمی اس وقت تک رجوع کاحق رکھتا ہے جب تک عورت تیسرے حیض سے غسل نہ کرلے
ترقیم عوامۃ: 19226 ترقیم الشثری: -- 19986
١٩٩٨٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا حفص بن غياث عن الاعمش عن إبراهيم عن (عمر) (١) وعبد الله انهما قالا: من طلق امراته فهو احق برجعتها ما لم تغتسل من (حيضتها) (٢) الثالثة (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عمرو).
(٢) في [س]: (الحيضة).
(٣) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عمر وابن مسعود.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق دینے کے بعد آدمی اس وقت تک رجوع کا حق رکھتا ہے جب تک عورت تیسرے حیض سے غسل نہ کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19986]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19986، ترقيم محمد عوامة 19226)
ترقیم عوامۃ: 19227 ترقیم الشثری: -- 19987
١٩٩٨٧ - [حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن جعفر عن ابيه عن علي وابن عباس قالا: هو احق بها ما لم تغتسل من حيضتها الثالثة] (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [أ، ب، جـ، س، ز، ط، ك، هـ].
(٢) أثر علي منقطع، وأثر ابن عباس صحيح.
حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث، عن جعفر، عن ابيه، عن علي وابن عباس قالا: " هو احق برجعتها ما لم تغتسل من حيضتها الثالثة"
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ طلاق دینے کے بعد آدمی اس وقت تک رجوع کا حق رکھتا ہے جب تک عورت تیسرے حیض سے غسل نہ کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19987]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19987، ترقيم محمد عوامة 19227)
ترقیم عوامۃ: 19228 ترقیم الشثری: -- 19988
١٩٩٨٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم عن الاسود عن عمر وعبد الله قالا: هو احق بها (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق دینے کے بعد آدمی اس وقت تک رجوع کا حق رکھتا ہے جب تک عورت تیسرے حیض سے غسل نہ کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19988]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19988، ترقيم محمد عوامة 19228)
ترقیم عوامۃ: 19229 ترقیم الشثری: -- 19989
١٩٩٨٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن عيينة عن منصور (عن) (١) إبراهيم عن ⦗٣٩٤⦘ علقمة عن عمر (و) (٢) عبد الله قالا: هو احق بها حتى تغتسل من الحيضة الثالثة (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (بن).
(٢) في [س]: (عن).
(٣) صحيح.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق دینے کے بعد آدمی اس وقت تک رجوع کا حق رکھتا ہے جب تک عورت تیسرے حیض سے غسل نہ کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19989]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19989، ترقيم محمد عوامة 19229)
ترقیم عوامۃ: 19230 ترقیم الشثری: -- 19990
١٩٩٩٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا إسماعيل بن عياش عن (عبيد الله) (١) (الكلاعي) (٢) عن مكحول ان ابا بكر وعمر وعليا وابن مسعود وابا الدرداء وعبادة ابن الصامت و (عبد الله) (٣) بن قيس الاشعري كانوا يقولون في الرجل يطلق امراته تطليقة او تطليقتين: إنه احق بها ما لم تغتسل من (حيضتها) (٤) الثالثة، يرثها وترثه ما دامت في العدة (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عبد اللَّه)، وفي [أ، ب، جـ، س، ط، ك]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [س]: (الكاعي).
(٣) في [س، ط]: (عبيد اللَّه).
(٤) في [س]: (حيضة).
(٥) منقطع؛ مكحول لم يدركهم.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا إسماعيل بن عياش، عن عبيد الله الكلاعي، عن مكحول، ان ابا بكر ، وعمر ، وعليا ، وابن مسعود ، وابا الدرداء ، وعبادة بن الصامت ، وعبد الله بن قيس الاشعري ، كانوا يقولون في الرجل يطلق امراته تطليقة او تطليقتين:" إنه احق بها ما لم تغتسل من حيضتها الثالثة , يرثها وترثه ما دامت في العدة".
حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت ابو دردائ، حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت عبد اللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ م فرمایا کرتے تھے کہ ایک یا دو طلاقیں دینے کے بعد آدمی اس وقت تک رجوع کا حق رکھتا ہے جب تک عورت تیسرے حیض کا غسل نہ کرلے۔ جب تک وہ عدت میں ہے وہ دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19990]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19990، ترقيم محمد عوامة 19230)
ترقیم عوامۃ: 19231 ترقیم الشثری: -- 19991
١٩٩٩١ - حدثنا ابو بكر قال: نا إسماعيل بن عياش عن عبيد الله بن (عبيد) (١) عن مكحول قال: قال (ابن) (٢) عمر: إن دخل عليها المغتسل قبل ان تفيض عليها الماء فهو احق بها (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (عبيدة)، وفي [جـ، ز، ك]: (عبيد).
(٢) سقط من: [ز، ع].
(٣) منقطع؛ مكحول لا يروي عن ابن عمر.
حدثنا ابو بكر، قال: نا إسماعيل بن عياش، عن عبيد الله بن عبيد، عن مكحول، قال: قال ابن عمر :" إن دخل عليها المغتسل قبل ان تفيض عليها الماء ؛ فهو احق بها".
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت کے غسل خانے میں جانے کے بعدپانی ڈالنے سے پہلے وہ رجوع کرلے تو وہ اس کا حقدار ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19991]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19991، ترقيم محمد عوامة 19231)
ترقیم عوامۃ: 19232 ترقیم الشثری: -- 19992
١٩٩٩٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا سفيان بن عيينة عن الزهري عن سعيد بن ⦗٣٩٥⦘ المسيب عن علي قال: هو احق بها (حتى) (١) تغتسل من الحيضة الثالثة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ما لم).
(٢) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: نا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن علي ، قال:" هو احق بها حتى تغتسل من الحيضة الثالثة"
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق دینے کے بعد آدمی اس وقت تک رجوع کا حق رکھتا ہے جب تک عورت تیسرے حیض سے غسل نہ کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19992]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19992، ترقيم محمد عوامة 19232)
ترقیم عوامۃ: 19233 ترقیم الشثری: -- 19993
١٩٩٩٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن ابن عجلان عن مكحول عن سعيد بن المسيب قال: (لو) (١) ان رجلا دخل على امراته وهي تغتسل فقال: قد راجعتك، فقالت: (كذبت) (٢) ، كذبت، و (صبت) (٣) الماء على راسها كان احق بها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، س]: (قالوا).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [أ، ب]: (صببت).
حدثنا ابو بكر، قال: نا يحيى بن سعيد، عن ابن عجلان، عن مكحول، عن سعيد بن المسيب، قال: " لو ان رجلا دخل على امراته وهي تغتسل، فقال: قد راجعتك، فقالت: كذبت كذبت , وصبت الماء على راسها ؛ كان احق بها"
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس اس وقت جائے جب وہ تیسرے حیض سے فارغ ہونے کے بعد غسل کرنے لگی ہو اور اس سے کہے کہ میں نے تجھ سے رجوع کی، اور وہ عورت کہے کہ تو نے جھوٹ بولا، تو نے جھوٹ بولا اور اپنے سر پر پانی ڈال لے تو بھی وہ شخص اس عورت کا زیادہ حقدار ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19993]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19993، ترقيم محمد عوامة 19233)
ترقیم عوامۃ: 19234 ترقیم الشثری: -- 19994
١٩٩٩٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا عباد بن العوام عن (جويبر) (١) عن الضحاك بن مزاحم ان امراة تزوجت شابا فطلقها تطليقة او تطليقتين قال: فاتاها وهي تغتسل من الحيضة الثالثة فقال: يا فلانة! إني قد راجعتك، فقالت: كذبت! ليس ذلك (إليك) (٢) فارتفعوا إلى (السلطان) (٣) عمر بن الخطاب وعنده عبد الله بن مسعود فقال عمر: ما ترى يا ابا عبد الرحمن؟ قال: فقال: انشدك بالله هل كنت (لطمته) (٤) بالماء؟ قالت: ما فعلت! قال: فقال: خذ بيدها (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (جبير).
(٢) في [س]: (عليك).
(٣) في [جـ]: سقطت.
(٤) في [س]: (لطيمته).
(٥) منقطع ضعيف جدًا؛ الضحاك لم يدرك عمر، وجويبر متروك.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا عباد بن العوام، عن جويبر، عن الضحاك بن مزاحم، ان امراة تزوجت شابا فطلقها تطليقة او تطليقتين، قال: فاتاها وهي تغتسل من الحيضة الثالثة، فقال: يا فلانة , إني قد راجعتك , فقالت: كذبت , ليس ذلك إليك، فارتفعوا إلى السلطان ؛ عمر بن الخطاب وعنده عبد الله بن مسعود , فقال عمر: ما ترى يا ابا عبد الرحمن؟ قال: فقال:" انشدك بالله! هل كنت لطمت بالماء؟ قالت: ما فعلت!، قال: فقال: خذ بيدها"
حضرت ضحاک بن مزاحم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عورت نے کسی نوجوان سے شادی کی۔ اس نوجوان نے اسے ایک یا دو طلاقیں دے دیں۔ پھر وہ اس کے پاس اس وقت آیا جب وہ عورت تیسرے حیض کا غسل کررہی تھی۔ اور اس سے کہا کہ اے فلانی! میں نے تجھ سے رجوع کیا۔ اس عورت نے کہا کہ تو نے جھوٹ بولا! تو ایسا کر ہی نہیں سکتا۔ پھر یہ مقدمہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پیش ہوا۔ ان کے پاس حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ اے ابو عبدالرحمن! آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے عورت کو قسم دے کر پوچھا کہ کیا تو نے اپنے جسم پر پانی ڈال لیا تھا؟ اس نے کہا نہیں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نوجوان سے فرمایا کہ اس کا ہاتھ پکڑکر لے جا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19994]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19994، ترقيم محمد عوامة 19234)