مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
183. ما قالوا في الرجل يطلق امرأته (فيعلمها) الطلاق ثم يراجعها ولا يعلمها الرجعة حتى تزوج
ایک شخص اپنی بیوی کو اعلانیہ طلاق دے اورپھر رجوع کرلے لیکن عورت کو رجوع کا علم نہ ہو اور وہ شادی کرلے تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 19235 ترقیم الشثری: -- 19995
١٩٩٩٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن إسماعيل بن ابي خالد عن الحكم ان ابا (كنف) (١) طلق امراته (ولم يعلمها) (٢) ، (فاشهد) (٣) (على) (٤) رجعتها، قال: فقال (له) (٥) عمر: إن ادركتها قبل ان (تتزوج) (٦) فانت احق بها (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (كف).
(٢) كذا في النسخ.
(٣) في [جـ]: (وأشهد).
(٤) سقط من: [س].
(٥) سقط من: [جـ، ز، ك].
(٦) في [س]: (تزوج).
(٧) منقطع؛ الحكم لم يدرك عمر.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن إسماعيل بن ابي خالد، عن الحكم، ان ابا كنف طلق امراته ولم يعلمها , فاشهد على رجعتها، قال: فقال له عمر:" إن ادركتها قبل ان تتزوج ؛ فانت احق بها"
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو کنف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو اطلاع دیئے بغیر طلاق دی اور پھر اطلاع دیئے بغیر رجوع کرلیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ اگر تم اس کے شادی کرنے سے پہلے اسے پالو تو تم ہی اس کے حقدار ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19995]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19995، ترقيم محمد عوامة 19235)
ترقیم عوامۃ: 19236 ترقیم الشثری: -- 19996
١٩٩٩٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن شعبة عن الحكم قال: قال علي: إذا طلقها ثم اشهد على رجعتها فهي امراته اعلمها او لم يعلمها (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ الحكم لم يدرك عليًا.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن شعبة، عن الحكم، قال: قال علي :" إذا طلقها ثم اشهد على رجعتها ؛ فهي امراته اعلمها , او لم يعلمها"
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر رجوع پر کسی کو گواہ بنا لے تو وہ اپنی بیوی کا زیادہ حقدار ہے اس کا اعلان کرے یا نہ کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19996]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19996، ترقيم محمد عوامة 19236)
ترقیم عوامۃ: 19237 ترقیم الشثری: -- 19997
١٩٩٩٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا محمد بن فضيل (عن مطرف) (١) عن الشعبي عن عمير بن يزيد قال: كنت قاعدا عند شريح، فجاء رجل يخاصم امراة (فقالت) (٢) : طلقني ولم يعلمني الرجعة حتى مضت عدتي، وتزوجت ودخل بي زوجي فقال شريح: الا اعلمتها الرجعة كما اعلمتها الطلاق؟ فلم يردها عليه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ك]: (قال).
حدثنا ابو بكر، قال: نا محمد بن فضيل، عن مطرف، عن الشعبي، عن عمير بن يزيد، قال: كنت قاعدا عند شريح فجاء رجل يخاصم امراة , فقالت: طلقني , ولم يعلمني الرجعة حتى مضت عدتي , وتزوجت ودخل بي زوجي؟ فقال شريح:" الا اعلمتها الرجعة كما اعلمتها الطلاق؟ فلم يردها عليه"
حضرت عمیر بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کا جھگڑا لے کرآیا۔ عورت کہتی تھی کہ اس نے مجھے طلاق دی، لیکن رجوع کا نہ بتایا، یہاں تک کہ میری عدت گزر گئی اور میں نے شادی کرلی۔ میرے خاوند نے مجھ سے دخول بھی کرلیا۔ حضرت شریح رحمہ اللہ نے اس آدمی سے کہا کہ جیسے تم نے اسے طلاق کا بتایا تھا رجوع کا کیوں نہ بتایا؟! پھر آپ نے عورت اسے واپس نہ کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19997]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19997، ترقيم محمد عوامة 19237)
ترقیم عوامۃ: 19238 ترقیم الشثری: -- 19998
١٩٩٩٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا حفص عن ابن جريج عن عمرو عن جابر بن زيد قال: إذا طلقها ثم (١) لم يخبرها بالرجعة حتى تنقضي العدة، فتزوجت، فدخل بها الزوج الثاني فلا شيء له.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة (طلق).
حدثنا ابو بكر، قال: نا حفص، عن ابن جريج، عن عمرو، عن جابر بن زيد، قال: " إذا طلقها ثم لم يخبرها بالرجعة حتى تنقضي العدة , فتزوجت , فدخل بها الزوج الثاني ؛ فلا شيء له"
حضرت جابر بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اسے رجوع کی اطلاع نہ دی یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی اور اس نے شادی کرلی اور دوسرے خاوند نے اس سے دخول بھی کرلیا تو پہلے کو کچھ نہیں ملے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19998]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19998، ترقيم محمد عوامة 19238)
ترقیم عوامۃ: 19239 ترقیم الشثری: -- 19999
١٩٩٩٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء في رجل طلق امراته ثم راجعها، فكتمها الرجعة حتى انقضت عدتها، قال: إن (ادركها) (١) قبل ان (تتزوج) (٢) فهو احق بها، وإلا (فهو ضيع) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ز، ط، ك]: (تزوج).
(٣) في [س]: (فوضع).
حدثنا ابو بكر، قال: نا ابن نمير، عن عبد الملك، عن عطاء في رجل طلق امراته، ثم راجعها فكتمها الرجعة، حتى انقضت عدتها، قال:" إن ادركها قبل ان تتزوج فهو احق بها , وإلا فهو ضيع!"
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر اس سے رجوع کرلیا لیکن رجوع کو خفیہ رکھا یہاں تک کہ عورت کی عدت گزر گئی۔ تو اگر عورت کے نکاح کرنے سے پہلے اس نے عورت کو پالیا تو وہ اسکی بیوی ہوگی اور اگر عورت نے شادی کرلی تو اس کی رجوع ضائع ہوگئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19999]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19999، ترقيم محمد عوامة 19239)
ترقیم عوامۃ: 19240 ترقیم الشثری: -- 20000
٢٠٠٠٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبدة عن سعيد عن ابي معشر عن إبراهيم ان ابا (كنف) (١) طلق امراته ثم سافر وراجعها وكتب إليها بذلك واشهد على ذلك فلم (يبلغها) (٢) الكتاب حتى انقضت العدة فتزوجت المراة فركب إلى عمر فقص عليه القصة فقال: انت احق بها ما لم يدخل بها (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في المغرب في ترتيب المعرب ٢/ ٢٣٤ أنه بفتحتين.
(٢) في [س، ع، هـ]: (أدركها).
(٣) منقطع، إبراهيم لم يدرك عمر.
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوکنف رحمہ اللہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر سفر پر چلے گئے اور بیوی سے رجوع کرلیا۔ اس کی طرف خط بھی لکھا اور اس رجوع پر گواہ بھی بنا لئے۔ عورت کو ان کا خط نہیں ملا اور عدت کے پورا ہونے پر اس نے شادی کرلی۔ ابو کنف رحمہ اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ عرض کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم اس عورت کے اس وقت تک زیادہ حقدار ہو جب تک وہ اس سے دخول نہ کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20000]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20000، ترقيم محمد عوامة 19240)
ترقیم عوامۃ: 19241 ترقیم الشثری: -- 20001
٢٠٠٠١ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبدة (عن) (١) سعيد عن (عمر) (٢) بن عامر عن حماد عن إبراهيم ان عليا كان يقول: هو احق بها، دخل بها او ⦗٣٩٨⦘ لم يدخل (بها) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (بن).
(٢) في [س، ط]: (عمرو).
(٣) سقط من: [ف].
(٤) منقطع، إبراهيم لم يدرك عليًا.
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اس صورت میں پہلا خاوند زیادہ حقدار ہے خواہ دوسرادخول کرے یا نہ کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20001]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20001، ترقيم محمد عوامة 19241)
ترقیم عوامۃ: 19242 ترقیم الشثری: -- 20002
٢٠٠٠٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبدة عن سعيد عن عمر عن حماد عن إبراهيم انه كان يرى ذلك.
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ کی رائے بھی یہی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20002]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20002، ترقيم محمد عوامة 19242)
ترقیم عوامۃ: 19243 ترقیم الشثری: -- 20003
٢٠٠٠٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا محمد بن بشر قال: (نا) (١) إسماعيل قال: سمعت الحكم بن (عتيبة) (٢) يذكر عن ابي كنف انه طلق امراته ثم راجعها ولم يعلمها الرجعة فتزوجت فركب في ذلك إلى عمر فقال: ارجع، إن وجدتها لم (ياتها) (٣) زوجها الذي نكحت فهي امراتك، فرجع (فلم) (٤) يجدها اتت زوجها فقبضها (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (ثنا).
(٢) في [جـ]: (عتبة)، وفي [أ، ط]: (عيينة)، وفي [ب]: (عنية)، وسقط من: [س].
(٣) في [س، هـ]: (تأتها)، وفي [أ، ب، جـ، ط]: (تأت)؛ وفي [ز]: (يأت).
(٤) في [س]: (ولم).
(٥) منقطع؛ الحكم لم يدرك عمر.
حضرت حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو کنف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر ان سے رجوع کرلیا لیکن رجوع کی اطلاع انہیں نہ دی۔ پھر ان کی بیوی نے شادی کرلی۔ ابو کنف رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ تم اپنی بیوی کے پاس جاؤ اور اگر ان کا خاوند ان کے قریب نہیں گیا تو وہ تمہاری بیوی ہے۔ وہ گئے اور دیکھا کہ ان کے خاوند ابھی ان کے قریب نہ گئے تھے۔ لہٰذا ابو کنف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حاصل کرلیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20003]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20003، ترقيم محمد عوامة 19243)
ترقیم عوامۃ: 19244 ترقیم الشثری: -- 20004
٢٠٠٠٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا حماد بن خالد عن بن ابي ذئب عن الزهري عن سعيد بن المسيب في رجل طلق امراته [ثم بعث إليها بالرجعة فلم تاتها الرجعة حتى تزوجت قال: بانت منه، وإن (ادركتها) (١) الرجعة] (٢) قبل ان تزوج فهي امراته.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ع، هـ]: (أدركها).
(٢) سقط ما بين المعكوفين من: [ز].
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر اسے رجوع کا پیغام بھیجا۔ لیکن رجوع کا پیغام ملنے سے پہلے وہ شادی کرچکی تھی تو وہ عورت بائنہ ہوجائے گی اور اگر شادی کرنے سے پہلے رجوع کا پیغام ملا تو وہ اسی کی بیوی رہے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20004]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20004، ترقيم محمد عوامة 19244)