🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. ما قالوا في أكل الضب
گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24827 ترقیم الشثری: -- 25930
٢٥٩٣٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) الاعمش عن زيد ابن وهب عن عبد الرحمن بن حسنة قال: كنت مع رسول الله ﷺ في سفر فاصبنا ضبابا، فكانت القدور تغلي، فقال رسول الله ﷺ حمل:"ما هذا؟" فقلنا: اصبناها، قال:"إن امة من بني إسرائيل (مسخت) (٢) ، وانا اخشى ان تكون هذه" قال: (فاكفاناها) (٣) وإنا لجياع (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز]: (نا).
(٢) في [ط]: (مسحت).
(٣) في [ح]: (فكفاناها).
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٧٧٥٩)، وابن حبان (٥٢٦٦)، وأبو يعلى (٩٣١)، والبزار (١١٢٧١/ كشف)، والطحاوي ٤/ ١٩٧، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ٤٣٦، والبيهقي ٩/ ٣٢٥.

حضرت عبد الرحمن بن حسنہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھا۔ ہمیں کچھ گوہ ملیں۔ چناچہ ہانڈیاں (گوہ کے ساتھ) اُبلنے لگیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھاـ۔ یہ کیا ہے؟ ہم نے جواب دیا۔ ہمیں کچھ گوہ مل گیی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ مسخ کر دئیے گئے تھے۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ وہی نہ ہو۔ راوی کہتے ہیں۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہانڈیوں کو الٹوا دیا جبکہ ہم سخت بھوکے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 25930]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25930، ترقيم محمد عوامة 24827)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24828 ترقیم الشثری: -- 25931
٢٥٩٣١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا عبيد الله بن عمر عن نافع (عن) (١) ابن عمر قال: سئل رسول الله ﷺ وهو على المنبر عن الضب فقال: لا آكله ولا احرمه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٥٣٦)، ومسلم (١٩٤٣)، كما أخرجه أحمد (٤٦١٩).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا گوہ کے بارے میں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبرپر تھے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں گوہ کو کھاتا ہوں اور نہ حرام کہتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 25931]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25931، ترقيم محمد عوامة 24828)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24829 ترقیم الشثری: -- 25932
٢٥٩٣٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) داود بن ابي هند عن ابي نضرة عن ابي سعيد الخدري قال: جاء رجل إلى رسول الله ﷺ فقال: إنا بارض مضبة فما تامرني؟ فقال رسول الله ﷺ:"إن امة من بني إسرائيل مسخت دوابا، ولا ادري في اي الدواب هي، فلم يامر ولم ينه" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (أنا)، وفي [جـ]: (ن).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٥١)، وأحمد (١١١٤٤).

حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک آدمی حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا۔ ہم لوگ ایسی زمین میں رہائش پذیر ہیں جہاں گوہ بہت زیادہ ہیں۔ پس آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ جانوروں کی طرف مسخ کئے گئے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کن جانوروں کی طرف مسخ ہوئے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نہ کھانے کا حکم دیا اور نہ اس کو گوہ سے منع فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 25932]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25932، ترقيم محمد عوامة 24829)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24830 ترقیم الشثری: -- 25933
٢٥٩٣٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن زيد بن وهب عن البراء بن عازب عن ثابت بن وديعة قال: اتي رسول الله ﷺ بضب فقال:"امة مسخت"، والله اعلم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٧٩٦١)، وأبو داود (٣٧٩٥)، وابن ماجه (٣٢٣٨)، والطيالسي (١٢٢٠)، والدارمي ٢/ ٩٢، والنسائي ٧/ ٢٠٠، والطحاوي ٤/ ١٩٨، وابن قانع في معرفة الصحابة ١/ ١٢٧، والطبراني (١٣٦٣)، والبيهقي (٩/ ٤٢٥).
حضرت ثابت بن ودیعہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک گوہ لائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک قوم مسخ ہوئی تھی۔ واللہ اعلم۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 25933]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25933، ترقيم محمد عوامة 24830)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24831 ترقیم الشثری: -- 25934
٢٥٩٣٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (عبيد) (١) بن (سعيد) (٢) عن سفيان عن منصور عن إبراهيم عن الاسود عن عائشة قالت: اهدي إلى رسول الله ﷺ ضب فلم ياكل منه قالت: (فقلت) (٣) يا رسول الله! الا اطعمه السؤال قال:"لا تطعمي ⦗٣٩٤⦘ السؤال (ما لا) (٤) تاكلين منه" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [ز]: (سعد).
(٣) في [ز]: (قلت).
(٤) في [جـ]: (إلا مما).
(٥) معلول، صوابه عن حماد عن إبراهيم عن عائشة أخطأ فيه عبيد، وأخرجه الطحاوي ٤/ ٢٠١، والطبراني في الأوسط (٥١١٢)، وأبو يعلى (٤٤٦١)، ورواه بإثبات حماد بدل منصور: أحمد (٢٤٧٣٦)، وابن أبي حاتم في العلل ٢/ ١١، والبيهقي ٩/ ٣٢٥، وإسحاق (١٧٥٨)، والطحاوي ٤/ ٢٠١.

حضرت اسود، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گوہ ہدیہ کی گئی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے نہ کھایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں یہ مانگنے والوں کو نہ کھلا دوںـ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مانگنے والوں کو بھی وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 25934]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25934، ترقيم محمد عوامة 24831)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24832 ترقیم الشثری: -- 25935
٢٥٩٣٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن ابي زياد عن يزيد بن الاسم عن ميمونة زوج النبي ﷺ قالت: اهدي لنا ضب (فصنعته) (١) فدخل (عليها) (٢) رجلان من قومها فاتحفتهما به، فدخل رسول الله ﷺ (٣) وهما (ياكلان) (٤) فوضع يده ثم رفعها (فقال:"ما هذا؟" قالت: ضب اهدي لي فصنعته فطرحه فذهبا) (٥) (ليطرحا) (٦) ما في ايديهما فقال ﷺ (٧) :"كلا فإنكما اهل نجد تاكلونها، وإنا اهل (المدينة) (٨) نعافها" (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (يصعيه)، وفي [أ، ح]: (بضبعيه).
(٢) في [ط]: (عليه).
(٣) سقطت في: [ط].
(٤) في [ز، جـ]: (آكلان).
(٥) ما بين القوسين سقط في: [جـ، ز].
(٦) في [جـ، ز]: (فطرحا).
(٧) في [جـ، ز]: زيادة (رسول اللَّه ﷺ).
(٨) في مصادر التخريج (تهامة).
(٩) ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه أبو يعلى (٧٠٨٤)، وإسحاق (٢٠٣٤)، والطبراني ٢٤/ ٤٨، وانظر: المطالب العالية (٢٣٢٣)، وأخرجه مرسلًا: ابن جرير في مسند عمر من تهذيب الآثار (٢٥١).

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمیں ہدیہ میں ایک گوہ دی گئی۔ میں نے اس کو تیار کیا۔ پھر حضرت میمونہ کے پاس ان کی قوم کے دو افراد آئے تو حضرت میمونہ نے یہ گوہ ان کو تحفۃً پیش کردی۔ اس دوران جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر تشریف لائے جبکہ یہ دونوں حضرات (اس کو) کھا رہے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک رکھا پھر اس کو اٹھا لیا۔ اس پر ان دونوں کے ہاتھ میں جو لقمہ تھا اس کو انہوں نے نیچے رکھ دیا۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: تم کھاؤ۔ کیونکہ تم دونوں اہل نجد ہو۔ تم اس کو کھاتے ہو۔ لیکن ہم اہل مدینہ ہیں۔ ہمیں اس سے گھن آتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 25935]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25935، ترقيم محمد عوامة 24832)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24833 ترقیم الشثری: -- 25936
٢٥٩٣٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا ابو عوانة قال: حدثنا عبد الملك بن عمير عن حصين رجل من بني (فزارة) (١) عن سمرة بن جندب قال: اتى (النبي) (٢) ﷺ اعرابي وهو يخطب فقطع عليه خطبته فقال: يا رسول الله! كيف تقول في الضب؟ قال:"إن امة من بني إسرائيل مسخت، فلا ادري اي الدواب مسخت" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (فزازة).
(٢) في [ز]: (نبي اللَّه).
(٣) حسن؛ حصين صدوق، أخرجه أحمد (٢٠٢٠٩)، والطحاوي ٤/ ١٩٧، والبزار (١٢١٦/ كشف)، والطبراني (٦٧٨٨).

حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ اس نے آپ کے خطبہ کو کاٹ کر پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گوہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ کردیا گیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سے جانور کی طرف مسخ ہوا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 25936]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25936، ترقيم محمد عوامة 24833)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24834 ترقیم الشثری: -- 25937
٢٥٩٣٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن يزيد بن الاسم قال: دعانا عروس بالمدينة، فقرب إلينا ثلاثة عشر ضبا، فآكل وتارك، فلقيت ابن عباس من الغد فاخبرته، فاكثر القوم حوله حتى قال بعضهم: قال رسول الله ﷺ (١) :" (لا آكله) (٢) ولا انهى عنه، ولا احله ولا احرمه"، فقال ابن عباس: (فبئسما) (٣) قلتم، إنما بعث رسول الله ﷺ محلا ومحرما (٤) بينما هو عند ميمونة وعنده الفضل بن عباس وخالد بن الوليد وامراة اخرى، إذ قرب إليهم خوان عليه لحم، فلما اراد رسول الله ﷺ ان ياكل، قالت له ميمونة: إنه لحم ضب، فكف يده وقال:"إن هذا اللحم لم آكله قط" وقال لهم:"كلوا" فاكل منه الفضل ابن عباس وخالد بن الوليدل والمراة، وقالت ميمونة: لا آكل إلا من شيء ياكل منه رسول الله ﷺ (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [ط]: (للالكه).
(٣) في [ط]: (فسئل).
(٤) في [هـ]: زيادة (إن رسول اللَّه ﷺ).
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٤٨)، وأحمد (٢٦٨٤)، وأصله في البخاري (٢٥٧٥).

حضرت یزید بن اصم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مدینہ میں ایک ولیمہ میں دعوت تھی۔ ہمیں تیرہ عد د گوہ پیش کی گئیں۔ پس کچھ لوگوں نے کھا لیں اور کچھ نے نہ کھائیں۔ پھر میں اگلے دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملا اور میں نے انہیں یہ بات بتائی۔ بہت سے لوگ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے گرد تھے ان میں سے کچھ نے کہا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں، میں اس کو حلال کرتا ہوں اور نہ ہی اس کو حرام قرار دیتا ہوں۔ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم نے بُری گفتگو کی ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تو بعثت ہی حلال اور حرام کرنے والے کے طور پر ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت میمونہ کے پاس تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حضرت فضل بن عباس، حضرت خالد بن ولید اور ایک دوسری عورت بھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دسترخوان بڑھایا گیا جس پر گوشت تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس کو) کھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ یہ گوہ کا گوشت ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا۔ میں یہ گوشت کبھی نہیں کھاؤں گا۔ اور لوگوں سے کہا۔ تم کھاؤ۔ چناچہ حضرت فضل ابن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت خالد بن ولید اور اس عورت نے (اس کو) کھایا۔ اور حضرت میمونہ نے فرمایا: میں تو اس چیز کو کھاؤں گی جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تناول فرمائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 25937]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25937، ترقيم محمد عوامة 24834)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24835 ترقیم الشثری: -- 25938
٢٥٩٣٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن (الزبرقان) (١) قال: اهدي لشقيق بن سلمة ضب مشوي، فاكلت منه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (الزبوقان).
حضرت زبرقان سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت شقیق بن سلمہ کو بھنی ہوئی گوہ ہدیہ کی گئی اور میں نے بھی اس میں سے کھایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 25938]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25938، ترقيم محمد عوامة 24835)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24836 ترقیم الشثری: -- 25939
٢٥٩٣٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: خرج رسول الله ﷺ مخرجا، فاصابتهم مجاعة فاتاه رجل ومعه ضباب، فاهداها للنبي ﷺ فنظر إليها فقال:"مسخ (سبط) (١) من بني إسرائيل دواب في الارض"، فلم (ياكل) (٢) ولم ينه عنه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (سبطه).
(٢) في [أ]: (يأكله).
(٣) مرسل؛ إبراهيم ليس من الصحابة.

حضرت ابراہیم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر پر نکلے۔ اس میں صحابہ کرام کو سخت بھوک نے آلیا۔ پس ایک صاحب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے پاس بہت سی گوہ تھیں۔ انہوں نے وہ گوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدیہ کردیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: بنو اسرائیل کا ایک طبقہ زمین کے جانوروں میں مسخ ہوگیا تھاْ ‘ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نہ خود کھایا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے منع کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 25939]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25939، ترقيم محمد عوامة 24836)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں