🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. من قال: يشفع القرآن لصاحبه يوم القيامة
جو کہے: قرآن اپنے پڑھنے والے کی قیامت کے دن شفاعت کرے گا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30667 ترقیم الشثری: -- 32039
٣٢٠٣٩ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا محمد بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده قال: سمعت رسول الله ﷺ (يقول) (١) :"يمثل القرآن يوم القيامة رجلا فيؤتى بالرجل قد حمله فخالف (٢) امره فيتمثل خصما له فيقول: يا رب حملته إياي فشر حامل: تعدى حدودي، وضيع فرائضي، وركب معصيتي، وترك طاعتي، فما يزال يقذف عليه بالحجج حتى يقال: فشانك به (فياخذ بيده) (٣) ، فما يرسله حتى يكبه على (صخرة) (٤) في النار، ويؤتى برجل صالح قد كان حمله وحفظ امره فيتمثل خصما (٥) دونه فيقول: يا رب حملته إياي فخير ⦗٤٢٦⦘ حامل حفظ حدودي، وعمل بفرائضي، واجتنب معصيتي، واتبع طاعتي، فما يزال يقذف له بالحجج حتى يقال: شانك به، (فياخذ) (٦) بيده فما يرسله حتى يلبسه حلة الاستبرق (ويعقد) (٧) عليه تاج الملك، ويسقيه كاس الخمر" (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (قال).
(٢) زاد في [أ، ب، ط]: (في).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط].
(٤) في [هـ]: (منخره).
(٥) في [أ، س، ط، هـ]: زيادة (له).
(٦) كذا في: [جـ، ك]، وفي باقي النسخ: (فيأخذه).
(٧) في [ك]: (ويقعد).
(٨) حسن؛ شعيب وابن إسحاق صدوقان، وقد صرح ابن إسحاق بالسماع عند البخاري في خلق أفعال العباد ص ٧٤، وأخرجه ابن قتيبة في تأويل مختلف الحديث (٢٥٨)، والخطيب في اقتضاء العلم العمل (١١٢)، وأبو يعلى في المسند الكبير كما في المطالب (٣٤٩١)، والبزار كما في كشف الأستار (٢٣٣٧).

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے: قیامت کے دن قرآن کو ایک آدمی کی شکل دی جائے گی پھر حامل قرآن کو لایا جائے گا۔ جس نے اس کے حکم کی مخالفت کی پھر وہ اس کے مدمقابل خصم کی شکل اختیار کرے گا اور کہے گا: اے میرے رب! آپ نے اس پر میری ذمہ داری ڈالی پس بہت بُرا ذمہ دار ہے! اس نے میری حدود کی خلاف ورزی کی۔ اور میرے فرائض کو ضائع کیا۔ اور میری نافرمانی کرتا رہا۔ اور میری اطاعت کو چھوڑ دیا، پس وہ مسلسل اس کے خلاف دلائل بیان کرے گا یہاں تک کہ کہا جائے گا۔ تو نے ٹھیک بیان کیا۔ پھر وہ اس کا ہاتھ پکڑے گا اور اس کو نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ اوندھے منہ جہنم میں ایک چٹان پر پھینک دے گا۔ اور ایک نیک آدمی کو لایا جائے گا جس نے اس کی ذمہ داری اٹھائی اور اس کے حکم کی حفاظت کی، پھر قرآن اس کے حق میں خصم کی شکل اختیار کرے گا، اور کہے گا! اے میرے رب! تو نے اس پر میری ذمہ داری ڈالی پس بہت اچھا ذمہ دار ہے: اس نے میری حدود کی حفاظت کی اور میرے فرائض پر عمل کیا۔ اور مردی نافرمانی سے اجتناب کیا۔ اور میرے حکم کی پیروی کی، پس وہ مسلسل اس کے حق میں دلائل بیان کرتا رہے گا یہاں تک کہ کہا جائے گا، تو نے ٹھیک بیان کیا۔ پھر وہ اس کا ہاتھ پکڑے گا۔ پھر اس کو نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ اس کو نفیس قسم کا جوڑا پہنائے گا۔ اور اس کے سر پر بادشاہ کا تاج رکھے گا۔ او اسے شراب کا پیالہ پلائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32039]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32039، ترقيم محمد عوامة 30667)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30668 ترقیم الشثری: -- 32040
٣٢٠٤٠ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا (بشير) (١) بن المهاجر قال: حدثني عبد الله بن بريدة عن ابيه قال: كنت عند رسول الله ﷺ فسمعته يقول:"إن القرآن يلقى صاحبه يوم القيامة حين ينشق عنه قبره كالرجل (الشاحب) (٢) يقول له: هل تعرفني؟ فيقول: ما اعرفك، فيقول له: انا صاحبك القرآن الذي اظماتك في (الهواجر) (٣) (واسهرت) (٤) ليلك، وإن (كل) (٥) تاجر من وراء تجارته، وإنك اليوم من وراء كل تجارة، قال: فيعطى الملك بيمينه والخلد بشماله، ويوضع على راسه تاج الوقار، ويكسى والداه حلتين، لا يقوم لهما اهل (الدنيا) (٦) ، فيقولان: بم كسينا هذا؟ قال: فيقال لهما: باخذ ولدكما القرآن، ثم يقال له: اقرا ⦗٤٢٧⦘ واصعد في درج الجنة وغرفها، فهو في صعود ما دام يقرا هذا (كان) (٧) او (ترتيلا) " (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (بشر).
(٢) في [أ، ب، ط]: (بياض).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [ك]: (وأسهرني).
(٥) في [أ، ب، ط]: (كان).
(٦) في [أ، ب]: (الدني). سقط من: [أ، ب، ط].
(٧) سقط من: [أ، ب، ط].
(٨) ضعيف؛ لضعف بشير بن المهاجر، أخرجه أحمد (٢٢٩٥٠)، وابن ماجه (٣٧٨١)، والحاكم ١/ ٥٦٠، والدارمي (٣٣٩١)، وابن عدي ٢/ ٤٥٤، والبغوي (١١٩٠)، وأبو عبيد في فضائل القرآن ص ٨٤، وابن نصر في قيام الليل (٢٠٢)، وابن الضريس في فضائل القرآن (٩٩)، والبزار (٢٣٠٢/ كشف)، والعقيلي ١/ ١٤٤، والبيهقي في الشعب (١٩٨٩)، والواحدي في الوسيط ١/ ٤١١، والآجري في أخلاق أهل القرآن (٢٤).

حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: قرآن قیامت کے دن دبلے آدمی کی صورت میں اپنے ساتھی سے ملے گا جب اس کی قبر پھٹے گی۔ اسے کہے گا: کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ وہ شخص کہے گا: میں تمہیں نہیں پہچانتا پھر وہ اس شخص کو کہے گا: میں تیرا ساتھی قرآن ہوں جس نے تجھے شدید گرمی میں پیاسا رکھا اور تیری راتوں میں تجھے جگایا۔ اور یقینا ہر تاجر کو اس کی تجارت کا نفع ملتا ہے۔ لہٰذا تجھے آج تجارت کا نفع ملے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے دائیں ہاتھ میں بادشاہت دے دی جائے گی، اور اس کے بائیں ہاتھ میں ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی دے دی جائے گی۔ اور اس کے سر پر عزت کا تاج پہنایا جائے گا۔ اور اس کے والدین کو دو خوبصورت جوڑے پہنائے جائیں گے۔ جس کا ساری دنیا والے مقابلہ نہیں کرسکتے۔ وہ دونوں کہیں گے۔ کس وجہ سے ہمیں یہ کپڑے پہنائے گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! ان دونوں سے کہا جائے گا! تمہارے بچہ کے قرآن حفظ کرنے کی وجہ سے۔ پھر اس حافظ قرآن سے کہا جائے گا: پڑھو اور جنت کے درجوں اور اس کے بالا خانوں میں چڑھتے جاؤ۔ پس وہ جب تک پڑھتا رہے گا آہستہ ہو یا تیز وہ بلند ہوتا رہے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32040]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32040، ترقيم محمد عوامة 30668)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30669 ترقیم الشثری: -- 32041
٣٢٠٤١ - حدثنا زيد بن الحباب قال: (حدثنا) (١) موسى بن عبيدة (الربذي) (٢) قال: حدثنا سعيد بن ابي سعيد المقبري عن (٣) عثمان بن الحكم عن كعب انه قال: يمثل القرآن لمن كان يعمل به في الدنيا يوم القيامة كاحسن صورة رآها؛ (٤) (احسنه) (٥) وجها، و (اطيبه) (٦) ريحا فيقوم بجنب صاحبه، (فكلما) (٧) جاءه روع هدا (روعه) (٨) وسكنه، وبسط له امله، فيقول له: جزاك الله خيرا من صاحب، فما احسن صورتك واطيب ريحك، فيقول له: اما تعرفني (تعال) (٩) اركبني، فطالما ركبتك في الدنيا، انا عملك، إن عملك كان حسنا، فترى صورتي حسنة، ⦗٤٢٨⦘ وكان طيبا فترى ريحي طيبة، فيحمله فيوافي به الرب ﵎ فيقول: يا ر (ب) (١٠) هذا فلان -وهو اعرف به منه- قد (شغلته) (١١) في (ايامه) (١٢) في حياته (في) (١٣) الدنيا اظمات نهاره واسهرت ليله، فشفعني فيه، فيوضع تاج الملك على راسه، ويكسى حلة الملك، فيقول: يا رب، (قد كنت) (١٤) ارغب له عن هذا، وارجو له منك افضل من هذا، فيعطى الخلد بيمينه والنعمة بشماله، فيقول: يا رب، إن كل تاجر قد دخل على اهله من تجارته، فيشفع في اقاربه، (وإن) (١٥) كان كافرا مثل له عمله في اقبح (صورة) (١٦) (رآها) (١٧) و (انتنه) (١٨) ، فكلما جاءه روع زاده روعا فيقول: قبحك الله من صاحب، فما اقبح (صورتك) (١٩) وما انتن ريحك، فيقول: من انت؟ فيقول: اما تعرفني، انا عملك (إنه) (٢٠) كان قبيحا فترى (صورتي) (٢١) قبيحة، وكان منتنا فترى ريحي منتنة، فيقول: تعال (حتى) (٢٢) اركبك، فطالما ركبتني في الدنيا، فيركبه فيوافي به الله، فلا يقيم له وزنا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (حدثني).
(٢) في [أ، ب، ط]: (الزيدي).
(٣) في [ك]: زيادة (أبي).
(٤) في [هـ]: زيادة (و).
(٥) في [هـ]: (أحسنها).
(٦) في [ط، هـ]: (أطيبها).
(٧) في [أ، ب، جـ، ط]: (فلما).
(٨) تكررت في: [ب].
(٩) في [ك]: (تعلى).
(١٠) سقط من: [جـ].
(١١) في [ك]: (أشغلته).
(١٢) في [جـ]: (أيامته).
(١٣) سقط من: [جـ، ك].
(١٤) سقط من: [ك].
(١٥) في [جـ، ك]: (وإذا).
(١٦) في [ع]: (سورة)، وفي [هـ]: (صورته).
(١٧) في [أ]: (رواها).
(١٨) في [هـ]: (أنتنها).
(١٩) في [ك]: (سورتك).
(٢٠) في [أ، هـ]: (إن عملك).
(٢١) في [ك]: (سورتك).
(٢٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].

حضرت عثمان بن حکم فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا: جو شخص دنیا میں قرآن کے احکامات پر عمل کرتا تھا قیامت کے دن اس کے قرآن پڑھنے کو ایک خوبصورت چہرے والے کی شکل دے دی جائے گی جس کو وہ شخص دیکھ سکے گا۔ وہ چہرے کے اعتبار سے خوبصورت ترین ہوگا اور خوشبو کے اعتبار سے پاکیزہ ترین ہوگا۔ پھر وہ قرآن اپنے ساتھی کے پہلو میں کھڑا ہوجائے گا۔ اور جو بھی خوف زدہ کرنے والی چیز اس کے پاس آئے گی وہ اس کے خوف کو دور کرے گا اور اس کو تسکین پہنچائے گا۔ اور اس کے لیے اس کی امید کو کشادہ کرے گا۔ وہ شخص اس کو کہے گا! اللہ اس ساتھی کو بہترین جزا دے۔ تیری صورت کتنی حسین ہے اور تیری خوشبو کتنی پاکیزہ ہے؟! تو وہ قرآن اس کو کہے گا! کیا تو مجھے نہیں پہچانتا؟ آؤ مجھ پر سوار ہو جاؤ۔ پس دنیا میں میں تجھ پر سوار تھا اور میں تیرا عمل تھا۔ یقینا تیرا عمل اچھا تھا اس لیے تو نے آج میری اچھی شکل دیکھی۔ اور تیری عمل پاکیزہ تھا اس لیے آج تو نے میری پاکیزہ خوشبو دیکھی۔ پھر وہ اس شخص کو سوار کرے گا اور اپنے رب کے پاس لے جائے گا اور کہے گا: اے میرے رب! یہ فلاں شخص ہے۔ حالانکہ اللہ اس سے زیادہ اس کو پہچانتے ہیں۔ تحقیق میں نے اس کو دنیا کی زندگی میں مصروف رکھا۔ میں نے اس کو دن میں پیاسا رکھا۔ اور میں نے رات کو اس کو جگایا۔ پس آپ اس کے بارے میں میری شفاعت کو قبول کیجئے۔ پھر اس شخص کے سر پر بادشاہ کا تاج پہنا دیا جائے گا۔ اور اسے بادشاہ کا جوڑا پہنایا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا! اے میرے رب! میں اس سے کہیں زیادہ اس کو مرغوب تھا۔ اور میں تجھ سے اس شخص کے لیے اس سے بھی زیادہ فضل کی امید کرتا ہوں تو پھر اس شخص کے دائیں ہاتھ میں ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی عطا کردی جائے گی، پھر وہ قرآن کہے گا: اے میرے رب! یقینا ہر تاجر اپنی تجارت کا نفع اپنے گھر والوں کو بھی دیتا ہے۔ پھر اس شخص کے رشتہ داروں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ اور جب کوئی شخص کافر ہو تو اس صورت میں اس کے عمل کو بد ترین شکل والے آدمی کی صورت دے دی جاتی ہے جسے وہ دیکھ سکے گا، اور جس کی بو انتہائی بد بودار ہوگی۔ پس جب بھی کوئی خوف زدہ کرنے والی چیز اس کے پاس آتی ہے تو یہ اس کے خوف میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ پھر کافر شخص کہے گا! اللہ تجھ جیسے ساتھی کو مزید برا کرے تو کتنا بد صورت شکل والا اور کتنی بری بدبو والا ہے؟! پھر وہ کہے گا: تو کون ہے؟ وہ کہے گا! کیا تو مجھے نہیں پہچانتا؟ یقینا میں تیرا عمل ہوں۔ بیشک تیرا عمل برا تھا اس لیے تو مجھے بدصورت دیکھ رہا ہے، اور تر ا عمل بدبودار تھا اس لیے تو بھی مجھے انتہائی بد بودار شکل میں دیکھ رہا ہے۔ پھر وہ کہے گا! آؤ یہاں تک کہ میں تم پر سوار ہوں پس تو دنیا میں مجھ پر سوار تھا۔ پھر وہ اس شخص پر سوار ہو کر اسے اللہ کے سامنے لے جائے گا اور وہ اس کو کوئی اہمیت نہیں دے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32041]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32041، ترقيم محمد عوامة 30669)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30670 ترقیم الشثری: -- 32042
٣٢٠٤٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن ابي صالح عن ابي هريرة قال: نعم الشفيع القرآن (١) يوم القيامة، قال: يقول: يا رب (قد) (٢) كنت امنعه شهوته في الدنيا فاكرمه، قال: فيلبس حلة الكرامة، قال: فيقول: (اي) (٣) رب زده، قال: فيحلى حلة الكرامة، فيقول: اي رب زده قال: فيكسى تاج الكرامة، قال: فيقول: (اي) (٤) رب زده، قال: فيرضى (عنه) (٥) فليس بعد ﵁ شيء (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (لصاحبه).
(٢) في [ك]: (في).
(٣) في [ك]: (يا).
(٤) في [ط، هـ]: (يا).
(٥) في [هـ]: (منه).
(٦) صحيح؛ عاصم بن أبي النجود ثقة في غير زر وشقيق.

حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا: قرآن بہترین شفاعت کرنے والا ہوگا قیامت کے دن، راوی کہتے ہیں: قرآن کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس کو دنیا میں نفسانی شہوات سے روکے رکھا پس تو اس کا اعزازو اکرام فرما۔ پھر اس شخص کو عزت و شرافت کا لباس پہنایا جائے گا، پھر قرآن کہے گا: اے میرے رب! اور اضافہ فرما۔ پھر اس شخص کو عزت و شرافت کے زیور پہنائے جائیں گے، پھر قرآن کہے گا: اے میرے رب! اور اضافہ فرما۔ تو پھر اس شخص کو عزت و شرافت کا تاج پہنایا جائے گا۔ پھر قرآن کہے گا: اے میرے رب! اور اضافہ فرما۔ تو اللہ اس سے راضی ہوجائیں گے۔ اور اللہ کی رضا کے بعد کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32042]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32042، ترقيم محمد عوامة 30670)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30671 ترقیم الشثری: -- 32043
٣٢٠٤٣ - حدثنا ابن فضيل عن الحسن بن (عبيد الله) (١) عن المسيب بن رافع عن ابي صالح قال: يشفع القرآن لصاحبه (٢) فيكسى حلة الكرامة فيقول: (٣) رب زده، فإنه.. (فإنه) (٤) ، قال: فيكسى تاج الكرامة، قال: فيقول: اي رب زده فإنه.. (فإنه) (٥) فيقول: رضاي.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: زيادة (يوم القيامة).
(٣) في [ط، هـ]: زيادة (أي).
(٤) في [هـ]: (فاته)، وسقط من: [أ، ب، ط].
(٥) في [هـ]: (فاته)، وسقط من: [أ، ب، ط].

حضرت مسیب بن رافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابو صالح نے ارشاد فرمایا: قرآن اپنے پڑھنے والے کے حق میں شفاعت کرے گا، پھر اس شخص کو عزت و شرافت کا لباس پہنا دیا جائے گا، پھر قرآن کہے گا: میرے رب! اور اضافہ فرما۔ پھر وہ اس پڑھنے والے کی بارہا خوبیاں بیان کرے گا، راوی فرماتے ہیں: پھر اس شخص کو عزت و شرافت کا تاج پہنایا دیا جائے گا۔ پھر وہ قرآن کہے گا: اے میرے رب! اور اضافہ فرما: بیشک وہ شخص تو ایسا اور ایسا تھا، پس اللہ فرمائیں گے: وہ میری رضا کا حقدار ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32043]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32043، ترقيم محمد عوامة 30671)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30672 ترقیم الشثری: -- 32044
٣٢٠٤٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن مجاهد انه قال: القرآن يشفع لصاحبه يوم القيامة يقول: يا رب جعلتني في جوفه (فاسهرت) (١) ليله ومنعته ⦗٤٣٠⦘ عن كثير من شهواته، ولكل عامل من عمله عمالة فيقال له: ابسط يدك قال: فتملا من رضوان فلا (سخط) (٢) عليه بعده، ثم يقال له: اقرا وارقه قال: فيرفع له بكل آية درجة، ويزاد بكل آية حسنة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (سهرت).
(٢) في [هـ]: (يسخط).

حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا: قرآن قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے لیے شفاعت کرے گا، کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے اس کے سینہ میں رکھا پس میں نے اس کو رات میں جگایا، اور میں نے اسے بہت سی خواہشات سے روکے رکھا۔ اور ہر مزدور کے لیے اس کے کام کی مزدوری ہوتی ہے۔ پھر اس شخص سے کہا جائے گا! اپنا ہاتھ پھیلاؤ۔ راوی کہتے ہیں: پھر اس کے ہاتھ کو اللہ کی رضا اور خوشنودی سے بھر دیا جائے گا جس کے بعد وہ کبھی ناراض نہیں ہوگا، پھر اس حافظ قرآن سے کہا جائے گا: پڑھتا جا اور چڑھتا جا۔ پھر ہر آیت کے بدلہ ایک درجہ بلند کردیا جائے گا، اور ایک نیکی کا ہر آیت کے ساتھ مزید اضافہ کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32044]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32044، ترقيم محمد عوامة 30672)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30673 ترقیم الشثری: -- 32045
٣٢٠٤٥ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة قال: قال منصور: حدثت عن مجاهد قال: يجيء القرآن يوم القيامة بين يدي صاحبه حتى إذا انتهيا إلى ربهما قال القرآن: يا رب، إنه ليس من عامل إلا له من عمالته، نصيب، وإنك جعلتني في جوفه فكنت انهاه عن (شهواته) (١) قال: فيقال له: ابسط يمينك، قال: فتملا من رضوان الله، ثم يقال له: ابسط شمالك، فتملا من رضوان الله، فلا يسخط (الله) (٢) عليه بعد ذلك ابدا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (شهوته).
(٢) سقط من: [أ، ط، هـ].

حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن قرآن اپنے پڑھنے والے کے سامنے جوان مرد کی شکل میں آئے گا یہاں تک کہ دونوں اپنے رب کے پاس پہنچیں گے، قرآن کہے گا: اے پروردگار! بیشک ہر مزدور کے لیے اس کی مزدوری کے عوض اجرت ملتی ہے، اور یقینا تو نے مجھے اس کے سینہ میں رکھا پس میں نے اس کو خواہشات سے باز رکھا، راوی فرماتے ہیں: پس اس شخص کو کہا جائے گا: اپنا دایاں ہاتھ کشادہ کر پس اس کو اللہ کی رضا مندی سے بھر دیا جائے گا، پھر اس شخص کو کہا جائے گا، اپنا بایاں ہاتھ کشادہ کر پھر اس کو اللہ کی رضا مندی و خوشنودی سے بھر دیا جائے گا، پھر اس کے بعد اللہ اس پر کبھی ناراضگی کا اظہار نہیں فرمائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32045]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32045، ترقيم محمد عوامة 30673)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30674 ترقیم الشثری: -- 32046
٣٢٠٤٦ - حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد في قوله: ﴿والذي جاء بالصدق وصدق به﴾ [الزمر: ٣٣] ، قال: الذين يجيئون بالقرآن يوم القيامة فيقولون: هذا الذي اعطيتمونا (قد اتبعنا) (١) ما فيه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (قد اتبعوا)، وفي [هـ]: (فاتبعنا).
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے اللہ کے اس قول (اور وہ شخص جو لایا سچی بات اور اس کی تصدیق کی) کے بارے میں فرمایا: وہ لوگ جو قیامت کے دن قرآن لائیں گے، اور کہیں گے: یہ ہے وہ چیز جو آپ نے ہمیں عطا کی۔ تحقیق ہم نے اس میں بیان کردہ تعلیمات کی اتباع کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32046]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32046، ترقيم محمد عوامة 30674)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30675 ترقیم الشثری: -- 32047
٣٢٠٤٧ - حدثنا عبيدة بن (حميد عن) (١) منصور عن ابي جعفر عن زاذان قال: يقال: إن القرآن شافع مشفع و (ماحل) (٢) مصدق.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [أ، ط]: (ماجل).

حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ حضرت زاذان نے ارشاد فرمایا: کہا جاتا ہے: قرآن ایسا سفارشی ہے جس کی سفارش قبول کی جاتی ہے، اور اپنے پڑھنے والے کا دفاع کرنے والا ہے جس کی بات کی تصدیق کی جاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32047]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32047، ترقيم محمد عوامة 30675)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30676 ترقیم الشثری: -- 32048
٣٢٠٤٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا همام قال: حدثنا عاصم بن بهدلة ⦗٤٣١⦘ عن الشعبي عن ابن مسعود قال: يجيء القرآن يوم القيامة فيشفع لصاحبه، فيكون (له) (١) (قائدا) (٢) إلى الجنة، ويشهد عليه (فيكون) (٣) سائقا له إلى النار (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك، ط]: (قائد)، وفي [جـ]: (قادة).
(٢) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٣) في [ك]: (يكون).
(٤) منقطع؛ الشعبي لم يسمع عن ابن مسعود.

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن قرآن آئے گا اور اپنے ساتھی کے حق میں شفاعت کرے گا پس وہ اس کا راہنما بن جائے گا جنت کی طرف یا پھر قرآن اس کے برخلاف گواہی دے گا پس وہ اس کو جہنم کی طرف ہانک کرلے جانے والا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 32048]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32048، ترقيم محمد عوامة 30676)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں