مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد
زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
ترقیم عوامۃ: 35491 ترقیم الشثری: -- 37069
٣٧٠٦٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل عن عامر قال: (و) (١) ربما قال (٢) : قال اصحابنا عن ابي ذر قال: (اوصاني) (٣) خليلي بسبع: حب المساكين، وان ادنو منهم، وان انظر إلى من اسفل مني، ولا انظر إلى من فوقي، وان اصل رحمي وإن جفاني، وان اكثر من لا حول ولا قوة إلا بالله، وان اتكلم بمر الحق لا تاخذني في الله لومة لائم، وان لا اسال الناس شيئا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) أي: إسماعيل بن أبي خالد.
(٣) سقط من: [ز].
(٤) منقطع، أصحاب الشعبي لم يدركوا أبا ذر، أخرجه أحمد (٢١٤١٥)، والطبراني في الكبير (١٦٤٩)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٣٥٤)، وابن حبان (٤٤٩)، والبيهقي ١٠/ ٩١، والبزار (٣٩٦٦)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٥٩، وهناد في الزهد (١٠١٣).
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے دوست نے مجھے سات باتوں کی وصیت کی۔ مساکین سے محبت کرنے اور مجھے ان کے قریب ہونے کی وصیت کی۔ اور یہ بات کہ میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھوں اور اپنے سے اوپر والے کو نہ دیکھوں اور یہ کہ میں رشتہ داروں سے صلہ رحمی کروں اگرچہ وہ میرے ساتھ جفا کریں اور یہ کہ میں لا حول ولا قوۃ الا باللہ کثرت سے پڑھوں اور یہ کہ میں کڑوا سچ بھی کہہ دوں اور یہ کہ اللہ کے معاملہ میں مجھے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ ہو اور یہ کہ میں لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کروں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37069]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37069، ترقيم محمد عوامة 35491)
ترقیم عوامۃ: 35492 ترقیم الشثری: -- 37070
٣٧٠٧٠ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن (الجريري) (١) عن ابي نضرة قال: اكل رسول الله ﷺ وناس من اصحابه اكلة من خبز (شعير) (٢) لم ينخل بلحم، وشربوا من جدول، وقال: (هذه) (٣) اكلة من النعيم تسئلون عنها يوم القيامة (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (الحريري).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (الشعير).
(٣) في [س]: (هذا).
(٤) مرسل؛ أبو نضرة المنذر بن مالك تابعي، وأخرجه ابن جرير ٣٠/ ٢٨٨.
حضرت ابونضرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے ان چھنے جو کی روٹی گوشت کے ساتھ کھائی اور نہر کا پانی پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کھانا بھی نعمتوں میں سے ہے۔ قیامت کے دن تم سے اس کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37070]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37070، ترقيم محمد عوامة 35492)
ترقیم عوامۃ: 35493 ترقیم الشثری: -- 37071
٣٧٠٧١ - حدثنا وكيع عن علي بن علي بن رفاعة عن الحسن قال: كان رسول الله ﷺ في مسير له فنزل منزلا (جرزا) (١) (مجدبا) (٢) ، وامر اصحابه فنزلوا، قال: ثم امرهم ان يجمعوا، فجعل الرجل يجيء بالصغير إلى الصغير والكبير إلى الكبير والشيء (إلى الشيء) (٣) حتى جمعوا (سوادا) (٤) عظيما فقال رسول الله ﷺ:"هذه مثل اعمالكم يا بني آدم في الخير والشر" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: لا نبات فيها، وفي [أ، ب، ع]: (حرزًا)، وفي [س]: (جرزًا)، وفي [هـ]: (حزنًا).
(٢) في [ب]: (مجذبًا).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) في [أ، ب]: (سودًا).
(٥) مرسل؛ الحسن تابعي.
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا ایک ایسی جگہ پر جو قحط زدہ اور بےآب وگیاہ تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ م کو بھی اترنے کا حکم دیا۔ پس وہ بھی اتر گئے۔ راوی کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جمع ہونے کا حکم فرمایا۔ راوی کہتے ہیں پس آدمی نے چھوٹے کو چھوٹے کی طرف اور بڑے کو بڑے کی طرف اور ایک چیز کو دوسری چیز کی طرف لانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ایک بہت بڑا جم غفیر جمع ہوگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بنی آدم! یہ شر اور خیر میں تمہارے اعمال کی مثال ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37071]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37071، ترقيم محمد عوامة 35493)
ترقیم عوامۃ: 35494 ترقیم الشثری: -- 37072
٣٧٠٧٢ - حدثنا ابو خالد وعيسى بن يونس عن ابن عون عن نافع عن ابن عمر قال: ذكر النبي ﷺ ﴿يوم يقوم الناس (لرب العالمين) (١) ﴾ [المطففين: ٦] :"يحبسون حتى يبلغ الرشح آذانهم" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (للحساب).
(٢) صحيح لغيره؛ أخرجه البخاري (٦٥٣١)، ومسلم (٢٨٦٢).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کا ذکر فرمایا جب سب لوگ رب العالمین کے پاس کھڑے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان سے حساب لیا جائے گا یہاں تک کہ ان کے کانوں تک پسینہ پہنچ جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37072]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37072، ترقيم محمد عوامة 35494)
ترقیم عوامۃ: 35495 ترقیم الشثری: -- 37073
٣٧٠٧٣ - حدثنا وكيع عن عمر بن ذر (قال) (١) : قال ابي: قال رسول الله ﷺ:" [إن الله (عند) (٢) لسان كل قائل، فلينظر عبد ماذا يقول" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، س].
(٢) في [أ، ب، هـ]: (عنده).
(٣) مرسل؛ ذر بن عبد اللَّه المرهبي تابعي؛ وأخرجه ابن المبارك في الزهد (٣٦٧)، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ٣٥٢، والقضاعي في مسند الشهاب (١١٨)، والخطيب في تاريخ بغداد ٩/ ٣٢٨، والبيهقي في الشعب (٥٠٣٣)، وابن أبي عاصم في الزهد (٣٢).
حضرت عمر بن ذر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ہر بولنے والے کی زبان کے پاس اللہ تعالیٰ ہے۔ پس بندہ کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا کہتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37073]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37073، ترقيم محمد عوامة 35495)
ترقیم عوامۃ: 35496 ترقیم الشثری: -- 37074
٣٧٠٧٤ - حدثنا عبدة بن سليمان عن إسماعيل (بن) (١) ابي خالد عن (سعد) (٢) الطائي انه بلغه ان رسول الله ﷺ قال] (٣) :"ما من مؤمن يطعم مؤمنا جائعا إلا (اطعمه) (٤) الله من ثمار الجنة، (و) (٥) ما من مؤمن يسقي مؤمنا على ظما إلا سقاه الله من رحيق مختوم، وما من مؤمن يكسو مؤمنا عاريا إلا كساه الله من خضر الجنة" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عن).
(٢) في [ع]: (ربيعة).
(٣) ما بين المعكوفين سقط من: [ب].
(٤) في [س]: (أطعم).
(٥) سقط من: [س].
(٦) مرسل؛ سعد الطائي من تابعي التابعين، أخرجه مرسلًا هناد (٦٥٨)، وورد من حديث سعد الطائي عن عطية العوفي عن أبي سعيد مرفوعًا، أخرجه أحمد (١١١٠١)، والبيهقي في الشعب (٣٣٧٠).
حضرت سعد طائی سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بھی بندۂ مومن کسی مومن کو کھانا نہیں کھلاتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھلوں میں سے کھلائے گا اور کوئی بھی بندہ مومن کسی مومن کو پیاس کی وجہ سے پانی نہیں پلاتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو خالص شراب پلائیں گے اور کوئی بھی مومن کسی مومن کو جو ننگا ہو کپڑا نہیں پہناتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا سبز لباس پہنائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37074]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37074، ترقيم محمد عوامة 35496)
ترقیم عوامۃ: 35497 ترقیم الشثری: -- 37075
٣٧٠٧٥ - حدثنا وكيع عن (زياد) (١) بن (ابي) (٢) (مسلم) (٣) عن صالح ابي ⦗٢٦٩⦘ الخليل قال: ما رئي رسول الله ﷺ ضاحكا (او) (٤) متبسما منذ نزلت: ﴿افمن هذا الحديث تعجبون (٥٩) وتضحكون﴾ [النجم: ٥٩ - ٦٠] (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (زيد).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب]: (أسلم).
(٤) في [س]: (و).
(٥) مرسل؛ صالح من تابعي التابعين، وأخرجه الثعلبي ٩/ ١٥٨، ووكيع في الزهد (٣٦)، وهناد (٤٧٣).
حضرت ابوالخلیل صالح سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب سے یہ آیت نازل ہوئی: ”تو کیا تم اسی بات پر حیرت کرتے ہو اور (اس کا مذاق بنا کر) ہنستے ہو“ اس کے بعد جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہنستے ہوئے یا مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37075]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37075، ترقيم محمد عوامة 35497)
ترقیم عوامۃ: 35498 ترقیم الشثری: -- 37076
٣٧٠٧٦ - حدثنا وكيع عن عبد الله بن سعيد بن ابي هند عن ابيه عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس: الفراغ والصحة" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٤١٢)، وأحمد (٢٣٤٠).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں مبتلا ہیں: صحت اور فراغت۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37076]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37076، ترقيم محمد عوامة 35498)
ترقیم عوامۃ: 35499 ترقیم الشثری: -- 37077
٣٧٠٧٧ - حدثنا وكيع عن اسامة بن زيد عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:" (اسالوا) (١) الله علما نافعا، وتعوذوا بالله من علم لا ينفع" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (سلوا).
(٢) حسن؛ أسامة بن زيد صدوق، أخرجه ابن ماجه (٣٨٤٣)، وأبو يعلى (١٩٢٧)، وعبد بن حميد (١٠٩٣)، والبيهقي في الشعب (١٧٨١)، وبنحوه أخرجه النسائي (٧٨٦٧)، وابن حبان (٨٢)، والطبراني في الأوسط (١٣١٥).
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے علم نافع کا سوال کرو اور اللہ تعالیٰ سے اس علم سے پناہ مانگو جو نفع نہ دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37077]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37077، ترقيم محمد عوامة 35499)
ترقیم عوامۃ: 35500 ترقیم الشثری: -- 37078
٣٧٠٧٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زياد بن فياض عن ابي عبد الرحمن قال: قال رسول الله ﷺ:"لا آمركم ان (تكونوا) (١) قسيسين (ورهبانا) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (يكونوا).
(٢) في [هـ]: (ورهبابًا).
(٣) مرسل؛ أبو عبد الرحمن هو السلمي تابعي، أخرجه ابن جرير ٧/ ٩.
حضرت ابوعبد الرحمن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہیں یہ حکم نہیں دیتا کہ تم علم دوست عالم (محض) اور تارک دنیا درویش بن جاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37078]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37078، ترقيم محمد عوامة 35500)