مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد
زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
ترقیم عوامۃ: 35501 ترقیم الشثری: -- 37079
٣٧٠٧٩ - حدثنا حفص بن غياث عن هشام عن الحسن قال: قال رسول الله ⦗٢٧٠⦘ ﷺ:"إن الله لا يقبل عمل عبد حتى يرضى عنه" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ الحسن تابعي.
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ بندہ کا عمل قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ اس سے راضی ہوجائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37079]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37079، ترقيم محمد عوامة 35501)
ترقیم عوامۃ: 35502 ترقیم الشثری: -- 37080
٣٧٠٨٠ - حدثنا بن نمير قال: حدثنا هشام عن الحسن قال: قال رسول الله ﷺ:"العلم علمان: علم في القلب فذاك العلم النافع، وعلم على اللسان فتلك حجة الله على عباده" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ الحسن تابعي، وأخرجه المروزي في زوائد زهد ابن المبارك (١١٦١)، وابن عبد البر في الجامع (١١٥٠)، وورد مقطوعًا من كلام الحسن، أخرجه الدارمي (٣٦٤)، وورد من حديث الحسن عن أنس، أخرجه ابن الجوزي في العلل (٨٩)، وأبو الشيخ في طبقات أصبهان ٤/ ١٠١، وورد من حديث الحسن عن جابر أخرجه الخطيب ٤/ ٣٤٦، وابن الجوزي (٨٨).
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: علم، دو طرح کے علم ہیں: ایک علم دل میں ہوتا ہے، یہی علم نافع ہے۔ اور ایک علم زبان پر ہوتا ہے، سو یہ خدا کی اپنے بندوں پر حجت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37080]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37080، ترقيم محمد عوامة 35502)
ترقیم عوامۃ: 35503 ترقیم الشثری: -- 37081
٣٧٠٨١ - حدثنا عبد الله بن نمير عن موسى بن مسلم الطحان عن عمرو بن مرة عن ابي جعفر المدائني رفعه قال: يا عجبا كل العجب لمصدق بدار الخلود وهو يسعى لدار الغرور، يا عجبا كل العجب (للمختال) (١) الفخور، وإنما خلق من (نطفة) (٢) ثم يعود جيفة، وهو بين ذلك لا يدري ما يفعل به (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (المختال).
(٢) في [س]: (النطفة).
(٣) مرسل؛ أبو جعفر تابعي متروك، اسمه عبد اللَّه بن مسور، أخرجه القضاعي في مسند الشهاب (٥٩٥)، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ٩٦، وابن أبي الدنيا في ذم الدنيا (١٤).
حضرت ابوجعفر مدائنی سے روایت ہے وہ اس کو مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہائے تعجب! پورا تعجب ہے اس آدمی پر جو دارالخلود … جنت … کی تصدیق کرتا ہے لیکن محنت وہ دارالغرور … دنیا … کے لیے کرتا ہے۔ ہائے تعجب! پورا تعجب ہے اس شخص پر جو فخر وتکبر کرتا ہے جبکہ وہ محض نطفہ کی پیداوار ہے پھر وہ مردار ہوجائے گا۔ اور اس دوران بھی وہ نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37081]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37081، ترقيم محمد عوامة 35503)
ترقیم عوامۃ: 35504 ترقیم الشثری: -- 37082
٣٧٠٨٢ - حدثنا وكيع عن (سفيان عن) (١) ابي سنان عن عبد الله بن الحارث ان النبي ﵊ حج على رحل فاجتنح به، فقال:" (لبيك) (٢) إن العيش عيش الآخرة" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [س]: (فبينك).
(٣) مرسل؛ عبد اللَّه بن الحارث تابعي.
حضرت عبداللہ بن حارث سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا سواری پر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دونوں ہاتھوں پر اوندھا ہو کر تکیہ کی طرح سہارا کیا اور ارشاد فرمایا: میں حاضر ہوں یقینا زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37082]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37082، ترقيم محمد عوامة 35504)
ترقیم عوامۃ: 35505 ترقیم الشثری: -- 37083
٣٧٠٨٣ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن رجل من جهينة قال: قال رسول الله ﷺ:"خير ما اعطي المؤمن (١) خلق حسن، وشر ما اعطي الرجل (قلب) (٢) سوء في صورة حسنة" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة (من).
(٢) في [هـ]: (قلت).
(٣) مجهول؛ لجهالة الجهني وعدم قيام الدليل على أنه صحابي، وأخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٢٩٢٧)، وأبو يعلى ومسدد كما في المطالب (٢٥٧٤)، والأصبهاني في الترغيب ١/ ٤٩٥، والبيهقي في الشعب (٧٩٩٢).
قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کو عطا ہونے والی چیزوں میں سے بہترین چیز اچھا اخلاق ہے۔ اور آدمی کو ملنے والی چیزوں میں سے بدترین چیز خوبصورت شکل میں برا دل ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37083]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37083، ترقيم محمد عوامة 35505)
ترقیم عوامۃ: 35506 ترقیم الشثری: -- 37084
٣٧٠٨٤ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن ابي خالد عن الشعبي قال: لما قدم معاذ إلى اليمن خطب الناس فحمد الله واثنى عليه وقال: (انا) (١) (رسول) (٢) رسول الله ﷺ (٣) (إليكم) (٤) ان تعبدوا الله (لا) (٥) تشركوا به شيئا، وتقيموا الصلاة، وتؤتوا الزكاة، وإنما هو الله وحده والجنة والنار (٦) ، (إقامة) (٧) فلا (ظعن) (٨) وخلود فلا موت (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (إني).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [س]: (عليكم).
(٥) في [أ، ب]: (ولا).
(٦) في [أ، ب، س]: زيادة (لا).
(٧) سقط من: [س].
(٨) في [هـ]: (طعن).
(٩) منقطع؛ الشعبي لم يلق معاذًا، أخرجه ابن المبارك في الزهد (١٥٦٦).
حضرت شعبی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت معاذ یمن کی طرف تشریف لائے انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا پس اللہ کی تعریف کی اور ثنا بیان کی اور آپ نے فرمایا: میں تمہاری طرف اللہ کے رسول 5 کا قاصد ہوں یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کرو اور تم نماز کو قائم کرو اور تم زکوٰۃ کو ادا کرو۔ اس لیے کہ وہ اللہ اکیلا ہی ہے اور جنت وجہنم ٹھہرنے کی جگہ ہیں پس (وہاں سے) کوچ نہیں کرنا اور ہمیشہ کی جگہ ہے۔ پس (وہاں) موت نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37084]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37084، ترقيم محمد عوامة 35506)
ترقیم عوامۃ: 35507 ترقیم الشثری: -- 37085
٣٧٠٨٥ - حدثنا حفص بن (غياث) (١) عن الاعمش (عن) (٢) ابي إسحاق ⦗٢٧٢⦘ عن ابي الاحوص عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"إن الإسلام بدا (غريبا، وسيعود (٣) كما بدا) (٤) ، فطوبى للغرباء قيل ومن الغرباء؟ قال: النزاع من القبائل" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (الغياث).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ، ب]: زيادة (غريبًا).
(٤) سقط من: [ط، هـ].
(٥) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس، أخرجه أحمد (٣٧٨٤)، والترمذي (٢٦٢٩)، وابن ماجه (٣٩٨٨)، وأبو يعلى (٤٩٧٥)، والدارمي ٢/ ٣١١، والطبراني (١٠٠٨١)، والشاشي (٧٢٩)، والآجري في الغرباء (١)، والبيهقي في الزهد (٢٠٦)، وابن عدي ٣/ ١١٣٠، والسهمي في تاريخ جرجان (٣٣٩)، وابن المبارك في الزهد (ص ٥٤٥)، والطحاوي في شرح المشكل (٦٨٦).
حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بیشک اسلام نے غربت کی حالت میں ظہور و آغاز کیا تھا اور عنقریب یہ اپنے ظہور و آغاز کی حالت کی طرف عود کرے گا۔ پس غرباء کو خوشخبری ہو۔ عرض کیا گیا غرباء کون ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مختلف قبائل سے نکالے ہوئے لوگ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37085]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37085، ترقيم محمد عوامة 35507)
ترقیم عوامۃ: 35508 ترقیم الشثری: -- 37086
٣٧٠٨٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا عبد الرحمن بن إبراهيم قال: حدثنا العلاء عن ابيه عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إن الدين بدا غريبا وسيعود كما كان فطوبى للغرباء" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ عبد الرحمن بن إبراهيم نزيل كرمان ضعيف، وأخرجه أحمد (٩٠٥٤)، ومسلم (١٤٥)، وابن ماجه (٣٩٨٦).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک دین کا آغاز غربت کی حالت میں ہوا ہے اور عنقریب یہ پہلی حالت میں عود کر جائے گا۔ پس غرباء کے لیے خوشخبری ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37086]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37086، ترقيم محمد عوامة 35508)
ترقیم عوامۃ: 35509 ترقیم الشثری: -- 37087
٣٧٠٨٧ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن يحيى بن سعيد عن إبراهيم (بن) (١) المغيرة (او ابن) (٢) (ابي المغيرة) (٣) (قال) (٤) : قال رسول الله صلى الله عليه (وسلم) (٥) :"طوبى للغرباء"، قيل: ومن الغرباء؟ قال:"قوم يصلحون حين يفسد الناس" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عن).
(٢) في [ع]: (وابن).
(٣) سقط من: [س].
(٤) سقط من: [س].
(٥) سقط من: [س].
(٦) مرسل، وإبراهيم مجهول.
حضرت ابراہیم بن مغیرہ … یا ابن ابی مغیرہ … سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خوشخبری ہو غرباء کے لیے“ پوچھا گیا غرباء کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے فساد کے وقت اصلاح کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37087]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37087، ترقيم محمد عوامة 35509)
ترقیم عوامۃ: 35510 ترقیم الشثری: -- 37088
٣٧٠٨٨ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن ليث عن مجاهد قال: قال رسول الله ﷺ:"إن الإسلام بدا غريبا وسيعود كما بدا فطوبى للغرباء" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل ضعيف؛ مجاهد تابعي، وليث ضعيف، أخرجه أبو نعيم في الفتن (٥٠٧)، وورد من حديث مجاهد عن ابن عباس مرفوعًا، أخرجه الطبراني في الأوسط (٥٨٠٦)، والكبير (١١٠٤٧)، وفي العلل ٨/ ٢٢٧، إشار لرواية مجاهد عن أبي هريرة له.
حضرت مجاہد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک اسلام کا آغاز غربت کی حالت میں ہوا تھا اور یہ عنقریب اپنے آغاز والی حالت کی طرف عود کرے گا۔ پس غرباء کے لیے خوش خبری ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37088]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37088، ترقيم محمد عوامة 35510)