مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد
زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
ترقیم عوامۃ: 35481 ترقیم الشثری: -- 37059
٣٧٠٥٩ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن حجاج (عن ابي) (١) جعفر قال: قال رسول الله ﷺ:"اشد الاعمال ثلاثة: ذكر الله على كل حال، والإنصاف من نفسك، والمواساة في المال" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (زيد).
(٢) مرسل؛ أبو جعفر تابعي، أخرجه هناد (١٠٤٨)، وابن المبارك في الزهد (٧٤٤)، وأبو نعيم في الحلية ٣/ ١٨٣، وأخرجه موقوفًا أبو نعيم في الحلية ١/ ٨٥ عن أبي جعفر عن أبيه عن جده عن علي.
حضرت ابوجعفر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اعمال میں سے شدید اعمال تین ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں ذکر کرنا۔ اور اپنے نفس سے انصاف کرنا اور مال میں مؤاسات کرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37059]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37059، ترقيم محمد عوامة 35481)
ترقیم عوامۃ: 35482 ترقیم الشثری: -- 37060
٣٧٠٦٠ - حدثنا حفص عن هشام عن الحسن قال: قال رسول الله ﷺ:"إن الله لا يقبل عمل عبد حتى يرضى عنه" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ الحسن تابعي.
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کسی بندے کا عمل قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ اس سے راضی ہوجائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37060]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37060، ترقيم محمد عوامة 35482)
ترقیم عوامۃ: 35483 ترقیم الشثری: -- 37061
٣٧٠٦١ - حدثنا ابو اسامة عن ابن ابي عروبة عن قتادة قال: كان النبي ﷺ إذا قرا: ﴿وإذ اخذنا من النبيين ميثاقهم ومنك ومن نوح﴾ [الاحزاب: ٧] قال:"بدء بي في ⦗٢٦٤⦘ (الخير) (١) وكنت آخرهم في البعث" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (الخبر).
(٢) مرسل؛ قتادة تابعي.
حضرت قتادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب { وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِیِّینَ مِیثَاقَہُمْ وَمِنْک وَمِنْ نُوحٍ } کی تلاوت کرتے تو فرماتے تھے: میرے ذریعہ سے خیر کا آغاز کیا گیا اور بعثت میں میں ان میں سے آخری ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37061]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37061، ترقيم محمد عوامة 35483)
ترقیم عوامۃ: 35484 ترقیم الشثری: -- 37062
٣٧٠٦٢ - حدثنا يحيى بن يمان عن هشام عن الحسن قال: قال رسول الله ﷺ:" (كلفوا) (١) من الاعمال ما تطيقون فإن احدكم لا يدري ما مقدار اجله" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ع]: (أكلفوا).
(٢) مرسل؛ الحسن تابعي.
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اعمال میں اتنی مشقت برداشت کرو جتنی طاقت تم میں ہو، اس لیے کہ تم میں سے کوئی یہ بات نہیں جانتا کہ اس کی اجل کا وقت کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37062]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37062، ترقيم محمد عوامة 35484)
ترقیم عوامۃ: 35485 ترقیم الشثری: -- 37063
٣٧٠٦٣ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن حجاج عن مكحول قال: بلغني ان رسول الله ﷺ قال:"ما اخلص عبد اربعين صباحا إلا ظهرت (ينابيع) (١) (الحكمة) (٢) من قلبه على لسانه" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (ينانيع).
(٢) في [ع]: (الحكم).
(٣) مرسل؛ مكحول تابعي.
حضرت مکحول سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جو چالیس صبح خالص کردے مگر یہ کہ حکمت کے چشمے اس کے دل سے اس کی زبان پر ظاہر ہوجاتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37063]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37063، ترقيم محمد عوامة 35485)
ترقیم عوامۃ: 35486 ترقیم الشثری: -- 37064
٣٧٠٦٤ - حدثنا محمد بن بشر (قال: حدثنا) (١) : محمد بن عمرو قال: حدثنا صفوان بن سليم عن محمود بن لبيد قال: لما نزلت هذه السورة على رسول الله ﷺ: ﴿الهاكم التكاثر (١) حتى زرتم المقابر﴾ حتى بلغ: ﴿لتسالن يومئذ عن النعيم﴾ (قالوا) (٢) : اي رسول الله (٣) عن اي نعيم نسال (إنما هما الاسودان: الماء والتمر (٤) ، ⦗٢٦٥⦘ وسيوفنا على رقابنا والعدو حاضر، فعن اي نعيم نسال؟) (٥) قال:"إن ذلك سيكون" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ب]: (قال).
(٣) في [س]: زيادة ﷺ.
(٤) في [س]: زيادة (قالوا).
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) مضطرب؛ رواه محمد بن عمرو مرة كذا، ومرة عن يحيى بن عبد الرحمن عن ابن الزبير عن أبيه، ومرة عن أبي سلمة عن أبي هريرة، أخرجه أحمد (٢٣٦٤٠)، وابن جرير في التفسير ٣٠/ ٢٨٨، والواحدي في الوسيط ٤/ ٥٤٩، وهناد في الزهد (٧٦٨)، والبيهقي في الشعب (٤٥٩٨).
حضرت محمود بن لبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ سورة { أَلْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ حَتَّی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۔ تا۔ ثم لَتُسْأَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیمِ } نازل ہوئی تو لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول 5! ہم سے کون سی نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا؟ یہ صرف دو ہی … نعمتیں … ہیں۔ پانی اور کھجور۔ جبکہ ہماری تلواریں ہماری گردنوں پر ہیں اور دشمن حاضر ہے۔ تو پھر کون سی نعمتوں کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا؟ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ حالات عنقریب آجائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37064]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37064، ترقيم محمد عوامة 35486)
ترقیم عوامۃ: 35487 ترقیم الشثری: -- 37065
٣٧٠٦٥ - حدثنا عبدة بن سليمان عن الإفريقي عن (مسلم) (١) القرشي عن سعيد بن المسيب قال: سمعته يقول: قال رسول الله ﷺ:"إذا احسن (٢) (العبد) (٣) فالزق الله به البلاء فإن الله يريد ان يصافيه" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وفي مصادر التخريج: (نهشل)، وانظر: التاريخ الكبير ٨/ ١١٥، والجرح والتعديل ٨/ ٤٩٥، والثقات ٧/ ٥٤٣.
(٢) في [أ، ب]: زيادة (اللَّه).
(٣) في [أ، ب]: (للعبد).
(٤) مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي، وأخرجه هناد في الزهد (٤٠١)، والبيهقي في الشعب (٩٧٩٠)، وأبو العرب في المحن (ص ٣٠٠).
حضرت مسلم قرشی، حضرت سعید بن مسیب کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب بندہ اچھا بن جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ آزمائشوں کو لگا دیتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ وہ اس کو خوب صاف کردیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37065]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37065، ترقيم محمد عوامة 35487)
ترقیم عوامۃ: 35488 ترقیم الشثری: -- 37066
٣٧٠٦٦ - حدثنا عبدة عن الإفريقي عن (سعد) (١) بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:" (الفقر) (٢) (ازين) (٣) للمؤمن من عذار حسن على خد الفرس" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ع]: (سعيد).
(٢) في [س، ز]: (للفقر).
(٣) في [أ، ب، ط، هـ]: (زين).
(٤) مرسل؛ سعد بن سعود ليس صحابيًا، أخرجه هناد (٥٨٨)، ووكيع في الزهد (١٣١)، وابن المبارك (٥٦٨)، والبيهقي في الشعب (١٠٥٠٩)، والحربي في الغريب ١/ ٢٦٧.
حضرت سعد بن مسعود سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: البتہ فقر مومن کو اس سے بڑھ کر زینت دیتا ہے جتنا کہ گھوڑے کی رخسار پر خوبصورت لگام۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37066]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37066، ترقيم محمد عوامة 35488)
ترقیم عوامۃ: 35489 ترقیم الشثری: -- 37067
٣٧٠٦٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا هشام عن الحسن قال: كان النبي ⦗٢٦٦⦘ ﷺ تاخذه العبادة حتى يخرج على الناس كانه (الشن) (١) البالي (٢) ، وكان اصبح الناس، فقيل: (يا) (٣) رسول الله (٤) اليس قد غفر الله لك؟ قال:"افلا اكون عبدا شكورا" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (السن).
(٢) أي: القربة القديمة.
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [س]: زيادة ﷺ.
(٥) مرسل، الحسن تابعي، أخرجه ابن سعد ٢/ ٢٠٩، والبيهقي في الشعب (١٤٩٨).
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (اللہ کی) عبادت اس طرح سے مصروف کرتی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لاتے تو گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت پرانے مشکیزہ کی طرح ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔ چناچہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کردیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا میں شکر کرنے والا بندہ نہ بنوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37067]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37067، ترقيم محمد عوامة 35489)
ترقیم عوامۃ: 35490 ترقیم الشثری: -- 37068
٣٧٠٦٨ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن بن عجلان عن زيد بن اسلم قال: قال رسول الله ﷺ:"إنما يدخل الله الجنة من يرجوها، وإنما يجنب النار من يخشاها، وإنما يرحم الله من يرحم" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ زيد بن أسلم تابعي، وورد من طريق زيد عن ابن عمر مرفوعًا، أخرجه أبو نعيم في صفة الجنة (٣١)، والبيهقي في الشعب (٧٧٨)، وابن رجب في التخويف من النار (ص ١٥).
حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جنت میں صرف اس کو داخل کریں گے جو جنت کی امید رکھتا ہو اور اللہ تعالیٰ جہنم سے صرف اس کو بچائیں گے جو اس سے خوف کھاتا ہو اور اللہ تعالیٰ صرف اسی پر رحم کریں گے جو رحم کرتا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37068]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37068، ترقيم محمد عوامة 35490)