مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
8. كلام عمر بن الخطاب ﵁
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا کلام
ترقیم عوامۃ: 35593 ترقیم الشثری: -- 37171
٣٧١٧١ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن سليم بن حنظلة عن عمر بن الخطاب (انه) (١) كان يقول: اللهم إني اعوذ بك ان (تاخذني) (٢) على غرة، او (تذرني) (٣) في غفلة، او تجعلني من الغافلين (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (لأنه).
(٢) في [ب]: (يأخذاني).
(٣) في [ب]: (تذري).
(٤) ضعيف؛ لضعف ليث بن أبي سليم، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٥٤، وابن فضيل في الدعاء (٧٣).
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے۔ اے اللہ! میں آپ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ مجھے دھوکہ لگ جائے یا میں غفلت میں پڑا رہوں یا آپ مجھے غافلین میں ڈال دیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37171]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37171، ترقيم محمد عوامة 35593)
ترقیم عوامۃ: 35594 ترقیم الشثری: -- 37172
٣٧١٧٢ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن شقيق عن يسار بن نمير قال: (والله) (١) ما (تحلت) (٢) لعمر الدقيق قط إلا وانا له عاص (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (وائد).
(٢) في [أ، س]: (تخلت)، وفي [جـ]: (فاتخلت).
(٣) صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٣/ ٣١٩، وابن المبارك في الزهد (٥٨٢)، وهناد (١٨٩).
حضرت یسار بن نمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے کبھی آٹا نہیں چھانا مگر یہ کہ میں نے ان کی (اس معاملہ میں) نافرمانی کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37172]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37172، ترقيم محمد عوامة 35594)
ترقیم عوامۃ: 35595 ترقیم الشثری: -- 37173
٣٧١٧٣ - حدثنا وكيع (عن) (١) هشام بن عروة عن ابي (الليث) (٢) الانصاري قال: قال عمر: املكوا العجين، فهو (احد) (٣) (الطحنين) (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (قال).
(٢) في [س]: (ليث).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [س]: (الطحينين)، وفي [جـ]: (الطحنتين)، والمراد: احسنوا صنع العجين يكثر الخبز لديكم.
(٥) مجهول؛ لجهالة أبي الليث، وفي غريب الحديث لأبي عبيد ٣/ ٣٢٩: (يروى عن هشام عن أبي ليث مولى الأنصاري عن سعيد بن المسيب عن عمر)، وأخرجه عبد الرزاق (٥٣٨٣)، وقال: (عن هشام عن أبيه عن عمر)، وكذا ورد في عمدة القاري ٦/ ٣٠٤.
حضرت ابواللیث انصاری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: آٹے کو خوب اچھی طرح گوندھو کیونکہ یہ بھی ایک طرح کا پیسنا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37173]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37173، ترقيم محمد عوامة 35595)
ترقیم عوامۃ: 35596 ترقیم الشثری: -- 37174
٣٧١٧٤ - حدثنا محمد بن مروان عن يونس قال كان الحسن ربما ذكر عمر فيقول: والله ما كان باولهم إسلاما ولا بافضلهم نفقة في سبيل الله، ولكنه غلب الناس بالزهد في (الدنيا) (١) و (الصرامة) (٢) في امر الله، (ولا يخاف) (٣) في (الله) (٤) لومة لائم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الدني).
(٢) في [س]: (الحرامة).
(٣) في [س]: (ولا يخافني).
(٤) سقط من: [س].
حضرت یونس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن جب کبھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے تو کہتے خدا کی قسم! یہ صحابہ کرام میں سے اسلام لانے میں اول نہ تھے۔ اور بقیہ صحابہ رضی اللہ عنہ م سے راہ خدا میں خرچ کے معاملہ میں بھی افضل نہ تھے لیکن پھر بھی یہ صحابہ رضی اللہ عنہ م میں سب پر دنیا سے بےرغبتی، خدا کے حکم میں پختہ عزمی کی وجہ سے غالب تھے۔ اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37174]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37174، ترقيم محمد عوامة 35596)
ترقیم عوامۃ: 35597 ترقیم الشثری: -- 37175
٣٧١٧٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا مالك بن دينار عن الحسن قال: ما ادهن عمر حتى قتل إلا بسمن او إهالة او زيت مقتت (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ الحسن لا يروي عن عمر، أخرجه ابن سعد ٢/ ٣١٩.
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شہید ہونے تک سوائے گھی، چکناہٹ اور مخلوط زیتون کے تیل کے کسی تیل سے نہیں لگایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37175]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37175، ترقيم محمد عوامة 35597)
ترقیم عوامۃ: 35598 ترقیم الشثری: -- 37176
٣٧١٧٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا هشام عن الحسن قال: كان عمر بن الخطاب يمر بالآية في ورده فتخنقه فيبكي حتى يسقط، (حتى) (١) يلزم بيته حتى يعاد، يحسبونه مريضا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (ثم).
(٢) منقطع؛ الحسن لا يروي عن عمر، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٥١.
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہاپنے ورد میں ایک آیت پر سے گزرتے تو آپ رضی اللہ عنہ کی ہچکی بندھ جاتی۔ آپ اس قدر روتے کہ گرجاتے۔ یہاں تک کہ آپ گھر کے ہو کے رہ جاتے آپ کی عیادت کی جاتی۔ لوگ آپ کو مریض خیال کرنے لگتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37176]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37176، ترقيم محمد عوامة 35598)
ترقیم عوامۃ: 35599 ترقیم الشثری: -- 37177
٣٧١٧٧ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: كان عمر يمشي في طريق ومعه عبد الله بن عمر فراى جارية مهزولة تطيش مرة وتقوم اخرى، فقال: (هابؤس) (١) لهذه هاه، من يعرف تياه، فقال عبد الله: هذه والله إحدى بناتك، قال: بناتي؟ قال: نعم، قال: من هي؟ قال: بنت عبد الله بن عمر، قال: (ويلك) (٢) يا عبد الله (بن عمر) (٣) اهلكتها هزلا، قال: ما نصنع، منعتنا ما عندك، ⦗٣٠٨⦘ فنظر إليه فقال: ما عندي؟ عزك ان تكسب لبناتك كما تكسب الاقوام، لا والله، مالك عندي إلا سهمك مع المسلمين (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (يابؤس).
(٢) في [س]: (واللَّه).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) منقطع؛ الحسن لا يروي عن عمر، أخرجه الخطابي في غريب الحديث ٢/ ١٢٢.
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ راستہ میں چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک کمزور سی بچی کو دیکھا جو کبھی اٹھتی اور کبھی گرتی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہائے، اس کی بدحالی۔ ہائے! اس کو کون جانتا ہے؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ خدا کی قسم! یہ آپ کی ہی ایک بچی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ میری بچیوں میں سے۔ حضرت عبداللہ نے کہا جی ہاں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کون ہے؟ حضرت عبداللہ نے کہا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی بچی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اے عبداللہ بن عمر! تم اس کو کمزوری سے ہلاک کرو گے۔ عبداللہ نے کہا ہم کیا کریں جو کچھ آپ کے پاس ہے اس کو آپ نے ہم سے روک رکھا ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور فرمایا: میرے پاس کیا ہے؟ تمہیں یہ بات شاق گزرتی ہے کہ جس طرح دیگر لوگ اپنی بیٹیوں کے لیے کماتے ہیں تم بھی اپنی بیٹیوں کے لیے کماؤ۔ نہیں، خدا کی قسم! میرے پاس تمہارے لیے دیگر مسلمانوں کے ساتھ (برابر کا) حصہ ہی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37177]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37177، ترقيم محمد عوامة 35599)
ترقیم عوامۃ: 35600 ترقیم الشثری: -- 37178
٣٧١٧٨ - حدثنا وكيع عن جعفر بن برقان عن رجل لم يكن يسميه عن عمر بن الخطاب انه قال في خطبته: حاسبوا انفسكم قبل ان تحاسبوا، وزنوا انفسكم قبل ان توزنوا، وتزينوا للعرض الاكبر يوم تعرضون لا يخفى منكم خافية (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لإبهام شيخ جعفر، وقد أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٥٢، وابن الجوزي في ذم الهوى (ص ٤٠)، والقصاص ١/ ٢١١، وسموه ثابت بن الحجاج، كما أخرجه ابن المبارك في الزهد (٣٠٦)، وابن عساكر ٤٤/ ٣١٤، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ١٨٣.
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا: تم لوگ اپنے نفسوں کا خود ہی حساب لو قبل اس کے کہ ان کا حساب لیا جائے اور اپنے نفسوں کا وزن ہونے سے قبل ہی ان کا خود وزن کرلو۔ اور عرض اکبر کے لیے خوب صورت ہوجاؤ۔ جس دن تم پیش کیے جاؤ گے تم میں سے کوئی چیز مخفی نہ رہے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37178]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37178، ترقيم محمد عوامة 35600)
ترقیم عوامۃ: 35601 ترقیم الشثری: -- 37179
٣٧١٧٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا محمد بن (عمرو) (١) قال: حدثنا ابو سلمة (٢) (قال) (٣) : قال سعد: اما والله ما كان باقدمنا إسلاما ولا اقدمنا هجرة ولكن قد عرفت (باي) (٤) شيء فضلنا كان ازهدنا في (الدنيا) (٥) -يعني: عمر بن الخطاب (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عمر).
(٢) في [ع]: زيادة (ابن عبد الرحمن).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [س]: (وبأي).
(٥) في [أ]: (الدنى).
(٦) منقطع؛ أبو سلمة لم يدرك سعدًا، أخرجه أبو نعيم في أخبار أصبهان ١/ ١٠٩، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ١٦٧.
حضرت ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت سعد نے فرمایا: خدا کی قسم! وہ ہم میں سے قدیم الاسلام نہیں تھے اور نہ ہی ہم میں قدیم الہجرت تھے۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ کس چیز کی وجہ سے ہم پر فضیلت پاگئے۔ وہ دنیا کے معاملہ میں ہم سب سے زیادہ زاہد تھے۔ حضرت سعد کی مراد، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37179]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37179، ترقيم محمد عوامة 35601)
ترقیم عوامۃ: 35602 ترقیم الشثری: -- 37180
٣٧١٨٠ - حدثنا ابو خالد الاحمر وابن إدريس وابن عيينة عن ابن عجلان (١) بكير بن عبد الله بن الاشج عن (معمر) (٢) بن ابي (حبيبة) (٣) عن عبيد الله بن ⦗٣٠٩⦘ عدي بن الخيار قال: قال عمر: إن العبد إذا [تواضع لله رفع الله حكمته، وقال: انتعش نعشك الله، فهو في نفسه صغير وفي (انفس) (٤) الناس كبير] (٥) ، (و) (٦) إن العبد إذا تعظم وعدا طوره (وهصه) (٧) الله إلى الارض وقال: اخسا اخساك الله، فهو في نفسه كبير، وفي انفس الناس صغير، حتى لهو احقر عنده من خنزير (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة (اللَّه).
(٢) في [ع]: (عمر).
(٣) في [جـ، س]: (حبة)، وفي [ب]: (حبنة).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) سقط من: [أ].
(٧) في [ع]: (وهظة)، وفي [هـ]: (رهصة).
(٨) حسن؛ ابن عجلان صدوق، وأخرجه موقوفًا ابن حبان في روضة العقلاء (ص ٥٩)، والبيهقي في الشعب (٨١٣٩)، وابن شبه في تاريخ المدينة (١٢٦٨)، وأخرجه مرفوعًا الطبراني في الأوسط (٨٣٠٧).
حضرت عبید اللہ بن عدی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیشک بندہ جب اللہ کے لیے تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی شان بلند کردیتے ہیں اور فرماتے ہیں: اٹھ کھڑا ہو، اللہ تجھے بلند کرے۔ پس یہ آدمی اپنے آپ میں چھوٹا ہوتا ہے اور لوگوں کے ہاں بڑا ہوتا ہے۔ اور بیشک بندہ بڑائی اختیار کرتا ہے اور اپنی حد کو تجاوز کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو زمین پر پٹخ دیتے ہیں اور فرماتے ہیں: ذلیل ہوجا۔ اللہ نے تجھے ذلیل کیا۔ پس یہ آدمی اپنے آپ میں بڑا ہوتا ہے اور لوگوں کے ہاں چھوٹا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ لوگوں کے ہاں خنزیر سے بھی حقیر ہوجاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37180]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37180، ترقيم محمد عوامة 35602)